بائبل کی سچائیاں


ہمارے جدید ترین کالم   |   
موضوع کے مطابق   |    تمام کالم   |    سبسکرائب   |    ہوم   

 

 

 

 

نشان زد کریں اور دوسروں کو شریک کریں

 

 

  PDF version (printer friendly)

 

 

قیدی روحیں

 

 

        کچھ عرصہ قبل مجھے ایک مطالعہ کرنے والے کی جانب سے 1پطرس3باب 19آیت کے حوالے سے ایک سوال آیا تھا۔آیئے اس حوالے کو 18اور20آیات کے ساتھ پڑھتے ہیں:

 

1پطرس3باب18تا20آیت:
”اس لئے کہ مسیح نے بھی یعنی راستباز نے ناراستوں کے لئے گناہوں کے باعث ایک بار دکھ اٹھایا تا کہ ہم کو خدا کے پاس پہنچائے۔ وہ جسم کے اعتبار سے تو مارا گیا لیکن روح کے اعتبار سے زندہ کیا گیا۔ اسی میں اس نے جاکر ان قیدی روحوں میں منادی کی۔ جو اس اگلے زمانہ میں نافرمان تھیں جب خدا نوح کے وقت میں تحمل کر کے ٹھہرا رہا تھا اور وہ کشتی تیار ہو رہی تھی جس پر سوار ہو کر تھوڑے سے آدمی یعنی آٹھ جانیں پانی کے وسیلہ سے بچیں۔“

 

        یہ ”قیدی روحیں “کیا ہیں؟ بہت سے لوگ اس حوالے میں لفظ”روحوں“ کو پڑھتے ہوئے اپنے ذہن میں اس کا ترجمہ ان مردوں کے حوالے سے کرتے ہیں جو قید میں (روح کی صورت) زندہ ہیں۔تاہم، ایسی فہم خدا کے کلام میں نہیں پائی جاتی، اور اس لئے خدا کا کلام مردہ لوگوں، غیر جی اٹھے انسانوں کے لئے”روح “ کا لفظ استعمال نہیں کرتا۔ یہ جاننے کےلئے کہ یہ قیدی روحیں کیا ہیں اور 1پطرس3باب کی درج بالا آیات میں بیان کردہ موضوع کے بارے میں بائبل کے حوالہ جات کو سمجھنے کےلئے ہمیں بائبل کو کھولنا ہوگا تا کہ یہ دیکھا جائے کہ بائبل اس لفظ کو کس طرح استعمال کرتی ہے۔کیونکہ 1پطرس3باب19آیت جس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے خدا کا کلام صرف ایک بار اس کا ذکر نہیں کرتا بلکہ چار مختلف موامات پر اس کا ذکر ہوتا ہے۔ مگر سب سے پہلے ۔ آیئے دیکھیں کہ یہ قیدی روحیں کیا ہو سکتیں ہیں ۔ جیسا کہ ہم نے پہلے ہی کہا کہ یہ مردہ لوگ نہیں ہو سکتے۔ اس حقیقت کے باوجود کہ ہماری موجودہ نسل لفظ رو ح کو ان مردوں کےلئے استعمال کرتی ہے جو بنا جی اٹھے کہیں نہ کہیں زندہ تصور کئے جاتے ہیں، بائبل اس لفظ کو ان معنوں میں استعمال نہیں کرتی۔ تاہم یہ اس لفظ کو روحانی ہستی کے طور پر استعمال کرتی ہے۔ جیسے کہ عبرانیوں 1باب13اور14آیت کہتی ہے:

 

عبرانیوں1باب13اور14آیت:
”لیکن اس نے فرشتوں میں سے کسی کے بارے میں کب کہا کہ تو میری داہنی طرف بیٹھ جب تک میں تیرے دشمنوں کو تیرے پاﺅں کے تلے کی چوکی نہ کر دوں؟ کیا وہ سب خدمتگذار روحیں نہیں جو نجات کی میراث پانے والوں کی خاطر خدمت کو بھیجی جاتی ہیں؟“

 

اور چند آیات پہلے:

 

عبرانیوں1باب7آیت:
”اور فرشتوں کی بابت کہتا ہے کہ وہ اپنے فرشتوں کو ہوائیں اور اپنے خادموں کو آگ کے شعلے بناتا ہے۔“

 

        فرشتے خدا کی طرف سے خلق کئے گئے تھے اور یہ روحانی ہیں۔وہ ”روحیں “ ہیں تو کیا یہ ”قیدی روحیں“ قید میں گرائے ہوئے فرشتے ہو سکتے ہیں؟ ہم دیکھیں گے کہ جی ہاں ایسا ہی ہے۔لیکن آیئے پہلے کچھ پسمنظر کی معلومات دیکھیں۔ ہم نے دیکھا کہ فرشتے روحانی ہیں۔ اگر چہ سب کو خدا نے خلق کیا مگر وہ سب خدا کے ساتھ نہ رہے۔ ان میں سے چند نے خدا کے خلاف بغاوت کی اور اپنے عہدے سے برخاست ہوگئے۔سب سے بڑا گرایا گیا فرشتہ شیطان یا ابلیس ہے۔ دو حوالہ جات جو اس بغاوت اور گناہ کے بارے میں بتاتے ہیں وہ یہ ہیں:

         حزقی ایل  28باب11تا19آیت اور یسعیاہ 14باب3باب23آیت، درج بالا 1پطرس 3باب19آیت اس گناہ کا ذکر نہیں کرتا۔ 1پطرس 3باب20آیت ”نوح کے زمانے“ کا وقت متعن کرتی ہے۔ ابلیس نے اس سے بہت پہلے بغاوت کی تھی جب ہم اسے باغِ عدن میں کام کرتا دیکھتے ہیں۔ اس کے علاوہ، وہ اور اس کے ساتھی فرشتے اب قید میں نہیں ہیں ۔ اس کی بجائے ”ہوا کا شہزادہ“ اور اس کے اور اسکے ساتھی فرشتوں کو ”ا س نسل کی تاریکی کے حکام اور مالک یا اختیار والے“ اور آسمانی مقاموں پر بدی کے روحانی کے لشکر کہا گیا ہے۔ بدی کے روحانی لشکر ظاہری طور پر بدکار روحیں ہیں۔اور یہی گرائے گئے فرشتے ہیں، جو کہ اب آسمانی مقاموں میں سرگرم ہیں۔ پس 1پطرس3باب19آیت شیطان کے گناہ کی بات نہیں کرتی بلکہ فرشتوں کی ایک اور بغاوت کا ذکر کرتی ہے جو ”نوح کے زمانے میں“ طوفان سے پہلے وقع پذیر ہوئی تھی۔یہ گرائے گئے فرشتے قید میں ڈال دیئے گئے اور ہم ان کے بارے میں مزید 2پطرس اوریہوداہ کے خط میں پڑھیں گے۔ لیکن پہلے آیئے پیدائش6باب پر چلتے ہیں، طوفان سے قبل۔ ہم یہاں فرشتوں کے گناہ کے حوالے سے مزید وضاحت پائیں گے۔

 

پیدائش6باب1تا8آیت:
”جب روی زمین پر آدمی بہت بڑھنے لگے اور ان کے بیٹیاں پیدا ہوئیں تو خدا کے بیٹوں نے آدمی کی بیٹیوں کو دیکھا کہ وہ خوبصورت ہیں اور جن کو انہوں نے چنا ان سے بیاہ کر لیا۔ تب خداوند نے کہا کہ میری روح انسان کے ساتھ ہمیشہ مذاحمت نہیں کرتی رہے گی کیونکہ وہ بھی تو بشر ہے تو بھی اسکی عمر ایک سو بیس برس کی ہوگی۔ ان دنوں مین زمین پر جبار تھے اور بعد میں جب خدا کے بیٹے انسان کی بیٹیوں کے پاس گئے تو ان کےلئے ان سے اولاد ہوئی۔ یہی قدیم زمانے کے سورما ہیں جو بڑے نامور ہوئے ہیں۔اور خداوند نے دیکھا کہ زمین پر انسان کی بدی بہت بڑھ گئی اور اس کے دل کے تصور اور خیال سدا برے ہی ہوتے ہیں۔ تب خداوند زمین پر انسان کو پیدا کرنے سے ملول ہوا اور دل میں غم کیا۔ اور خداوند نے کہا کہ میں انسان کو جسے میں نے پیدا کیا روی زمین پر سے مٹاڈالوں گا۔ انسان سے لیکر حیوان اور رینگنے والے جاندار اور ہوا کے پرندوں تک کیونکہ میں ان کے بنانے سے ملول ہوں ۔ مگر نوح خداوند کی نظر میں مقبول ہوا۔“

 

        جب زمین پر آدمی بڑھنے لگے تو کچھ ہوا تھا۔ ” خدا کے بیٹوں “نے آدمی کی بیٹیوں کو دیکھا اور ان میں سے بیویاں چنیں۔دیکھیں 1آیت آدمیوں ، آدمی کی بیٹیوں اور خدا کے بیٹوں میں متیاز ظاہر کرتی ہے۔ ”خدا کے بیٹوں ے آدمی کی بیٹیوں کو دیکھا“، ہم یہ پڑھتے ہیں۔ خدا کے بیٹے کون تھے؟ اگر چہ نئے عہد نامے میں ایمانداروں کو یسوع مسیح پر اور اس کے مردو ں سے جی اٹھنے پر ایمان لانے کے باعث خدا کے بیٹے اور بیٹیاں بننے کا ختیار دیا گیا تھا، مگر یہ ایسی چیز نہیں تھی جو پرانے عہد نامہ میں بھی دستیاب ہوتی۔ پیدائش6 با کے علاوہ پرانہ عہد نامہ میں ”خدا کے بیٹوں کی اصطلاح مزید 3بار استعمال کی گئی ہے۔ تمام موقعوں پر یہ روحانی فرشتوں کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ آیئے یہ استعمالات دیکھیں جو سب کے سب ایوب کی کتاب میں سے ہیں۔

 

ایوب1باب6آیت:
”اور ایک دن خدا کے بیٹے آئے کہ خداوند کے حضور حاضر ہوں اور ان کے درمیان شیطان بھی آیا۔“

 

        اور اس سے بالکل ملتے جلتے حوالہ میں : ایوب 2باب1آیت:

 

”پھر ایک دن خدا کے بیٹے آئے کہ خداوند کے حضور حاضر ہوں اور شیطان بھی ان کے درمیان آیا کہ خداوند کے آگے حاضر ہو۔“

 

        خدا کے فرشتے جنہوں نے خود کو خدا کے حضور پیش کیا یقیناً فرشتے تھے۔

 

اسی طرح ایوب38باب6اور7آیت بھی زمین کے بارے میں بات کرتے ہوئے:

 

”کس چیز پر اس کی بنیاد ڈالی گئی؟ یا کس نے اس کے کونے کا پتھر بٹھایا جب صبح کے ستارے مل کر گاتے تھے اور خدا کے سب بیٹے خوشی سے للکارتے تھے؟“

 

        ایوب 38باب7آیت وہ بیان دیتی ہے جو زمین کی تخلیق کا حوالہ دیتا ہے جب کوئی انسان موجود نہ تھا۔ مگر خد ا کے بیٹے ، فرشتے، موجود تھے اور خوشی سے للکارتے تھے۔

 

        مختصراً پیدائش6باب1آیت کے لوگ انسان نہیں تھے۔ ورنہ انہیں آدمیوں کی بیٹیوں کے متوازی نہ رکھا جاتا ۔ کسی بھی آدمی کےلئے عورت سے شادی کرنا اور بچے پیدا کرنا غلط یا عجیب بات نہ تھی اور نہ ہے۔ مگر پیدائش6باب میں یہ نہیںہوا تھا۔ ہم نے پیدائش 6بابمین دیکھا کہ غیر انسان، فرشتے، خدا کے بیٹے نہ کہ آدمیوں کے بیٹوں نے ، آدمیوں کی بیٹیوںکو دیکھا انہیں چاہا اور مزید یہ کہ ان سے اولاد پیدا کی۔ جیسا کہ بائبل ہمیں پیدائش 6باب4آیت میں بتاتی ہے کہ اس ملاپ کا نتیجہ سورما تھے، ایسی نسل جسے خدا نے خلق نہیں کیا اور نہ ہی انہیں خلق کرنے کا ارادہ کیا تھا بلکہ یہ آدمیوں اور فرشتوں کے درمیان بدی کے باہمی ملاپ کی پیداوار تھے۔ ان دنوں میں نوح ہوتا تھا۔ یہ ”نوح کا زمانہ“ تھا اور ان دنوں کے بارے میں 1پطرس 3باب19آیت بات کرتی ہے۔

 

        اسی واقعہ کے بارے میں ہمارے پاس نئے عہد نامہ میں مزید حوالہ جات ہیں۔ آیئے انہیں دیکھتے ہیں، 2پطرس2باب4،5اور 9آیت سے شروع کرتے ہیں:

 

2پطرس2باب4،5اور9آیت:
”کیونکہ جب خدا نے گناہ کرنے والے فرشتوں کو نہ چھوڑا بلکہ جہنم میں بھیج کر تاریک غاروں میں ڈال دیا تاکہ عدالت کے دن تک حراست میں رہیں۔اور نہ پہلی دنیا کو چھوڑا بلکہ بے دین دنیا پر طوفا ن بھیج کر راستبازی کی منادی کرے والے نوح کو مع سات آدمیوں کے بچا لیا۔۔۔ تو خداوند دینداروں کو آزمائش سے نکال لینا اور بدکاروں کو عدالت کے دن تک سزا میں رکھنا جانتا ہے۔“

 

        فقرہ ”جہنم مین ڈال دیا گیا“ یونانی متن میں ایک لفظ فعل ταρταρόω  (tartaroo) ہے اور اس کا مطلب ہے کہ ”Tartarus میں ڈال دیا“۔ جیسا کہ Bullingerکہتا ہے:

 

Tartarusایک یونانی لفظ ہے جو Septuagintaمیں کہیں اورا ستعمال نہیں کیا گیا۔ ہومر(Homer) اسے ایک خفیہ راز کے طور پر بیان کرتا ہےہومر کا Tartarus طینان یا سورما کی قید ہے جس نے Zeusکے خلاف بغاوت کی“(The Companion Bible, Appendix 131) ۔

 

 اورVineبھی اس کو واضح کرتا ہے:

 ” 2پطرس2باب4آیت میں فعل Tartaroo جس کا ترجمہ ”جہنم میں ڈال دیا“کیا گیا ہے ، Tartarus کے ساتھ الحاق کو ظاہر کرتا ہے ، جو نہ تو Sheol،نہ Hades،اور نہ ہی جہنم ہے۔مگر وہ جگہ جہاں وہ فرشتے جن کے خاص گناہ کا تذکرہ اس حوالہ میں کیا گیا ہے محدود ہیںکہ ”عدالت تک حراست میں رہیں“؛ اور اس جگہ کا نام تاریک غار بیان کیا گیا ہے“(Vineکی لغت۔ صفحہ، 553)۔

 

        اسلئے Tartarus کو قید کے طورپر سمجھا جانا چاہئے اور اس قید میں، جیسے پطرس نے کہا، ان فرشتوں کو ڈالا گیا تھا جنہوں نے گناہ کیا، تاکہ عدالت تک حراست میں رہیں۔ وہ تاریک غاروں میں ڈال دیئے گئے تا کہ عدالت کے دن تک حراست میں رہیں۔ دیکھیں کہ 2پطرس کے حوالے کے بعد نوح اور طوفان کا حوالہ آتا ہے۔ یہ اتفاقیہ نہیں ہے کہ یہ دونوں واقعات ایک دوسرے سے منسلک ہیں اور ایک دوسرے سے زیادہ عرصے کے وقفے میں وقوع پذیر ہوئے۔ لیکن آیئے یہوداہ کی گواہی بھی دیکھیں جو اسی موضوع کی بات کرتا ہے:

 

یہوداہ6اور7آیت:
”اور جن فرشتوں نے اپنی حکومت کو قائم نہ رکھا بلکہ اپنے خاص مقام کو چھوڑ دیا ان کو اس نے دائمی قید میں تاریکی کے اندر روزِ عظیم کی عدالت تک رکھا ہے۔اس طرح سدوم اور عمورہ اور ان کے آس پاس کے شہر جو ان کی طرح حرامکاری میں پڑ گئے اور غیر جسم کی طرف راغب ہوئے ہمیشہ کی آگ کی سزاءمیں گرفتار ہو کر جای عبرت ٹھہرے۔“

 

        یہوداہ اسی بغاوت کی بات کر رہا ہے جس کے بارے میں پطرس اور پیدائشی کی کتاب نے بات کی۔نوح کے دنوں میں فرشتوں نے، ”اپنا خاص مقام چھوڑ دیا“ اور ” غیر جسم“ ، آدمی کی بیٹیوں کی طرف راغب ہوگئے۔ نتیجتاً کیا ہوا؟ اب وہ” اب وہ دائمی قید میں تاریکی کے اندر روزِ عظیم کی عدالت تک رہیں گے۔“ یہ وہ قید ، Tartarusہے جس کے بارے میں پطرس اپنے خطوط میں بات کرتا ہے۔ کنگ جیمز ورژنکہتی ہے کہ ان گرائے گئے فرشتوں، گرائی گئی روحوں قیدی روحوں کو یسوع تعلیم دینے کو گیا۔نیا کنگ جیمز ورژن اس کا ترجمہ کرتی ہے کہ،”منادی کی“ اب آگے یہ نہیں بتاتا کہ اس نے کیا منادی کی۔ مگر مٰن اس سے اتفاق کرتا ہوں جو Vineاپنی لغت میں کہتا ہے، جب وہ لفظ Kerusso کی بات کرتا ہے، اس کاترجمہ 1پطرس3باب 19آیت میں ”منادی کی“ کے طور پر کیا گیا ہے۔

 

 ”1پطرس3باب19آیت میں ، ممکنہ حوالہ خبروں کو پورا کرنا نہیں ہے بلکہ قیدی روحوں میں جا کر منادی کرنے اور اس کے جی اٹھنے کے بعد مسیح کا کام ہے۔“(نئے عہد نامے کی Vineلغت، صفحہ 883دلیل شامل کی گئی ہے)۔

 

         اس لئے ختم کرتے ہوئے، جب ہم 1پطرس 3باب19آیت میں پڑھتے ہیں کہ یسوع مسیح قیدی روحوں کے پاس گیا اور ان کو منادی کی، تو ہمیں اس اس طرح سمجھن اچاہئے کہ یہ قید میں ، غیر جی اٹھے ، مردہ لوگ تھے اور یسوع ان کے پاس خوشخبری کی منادی کرنے گیا۔خدا کا کلام 1پطرس3باب19آیت میں مردہ لوگوں کے بارے میں بات نہیں کرتابلکہ ان فرشتوں کے بارے میں جو قید میں ، Tartarus میں تاریک غاروں میں ہمیشہ کےلئے بند تھے۔ کیوں؟ اس کام کے سبب جو انہوں نے نوح کے زمانے میں کیا، اپنے خاص مقام کو چھوڑ کر ، خود کو حوامکاری میں ڈالتے ہوئے، ”غیر جسم “ ،آدمیوں کی بیٹیوں، کی طرف راغب ہوئے۔

 

تسسوس کولچوگلو

اردو  Fahim Qaiser, Napoleon Zaki :

 

 

 حوالہ:

 

E. W. Bullinger: The Companion Bible, 1990, Kregel Publications, Grand Rapids, Michigan