بائبل کی سچائیاں


ہمارے جدید ترین کالم   |   
موضوع کے مطابق   |    تمام کالم   |    سبسکرائب   |    ہوم   

 

 

 

 

نشان زد کریں اور دوسروں کو شریک کریں

 

 

  PDF version (printer friendly)

 

 

 

من اور خدا کے کلام کے حوالے سے

 

        جب میں دوبارہ خروج کی کتاب کا مطالعہ کر رہا تھا تو میں من کے بارے میں مزید حیران ہو گیا تھا جو میں نے پہلے بھی غور کیا تھا۔   میں آپ کے ساتھ چند خیالات بانٹنا چاہتا ہوں:

          آسمانی روٹی کا پہلا وجود خروج 16باب4آیت میں ہے: ”تب خداوند نے موسیٰ سے کہا کہ میں آسمان سے تم لوگوں کےلئے روٹیاں برساﺅں گا۔   سو یہ لوگ نکل نکل کر فقط ایک ایک دن کا حصہ ہر روز بٹور لیا کریں کہ اس سے میں ان کی آزمائش کروں گا کہ وہ میری شریت پر چلیں گے کہ نہیں۔ 

        خدا نے بیابان میں کھانے کی ضرورت پوری کرنے کا وعدہ کیا تھا۔   جو روٹی خدا نے مہیا کی وہ بیابان میں بیکری وغیرہ سے تیار نہیں کی گئی تھی بلکہ یہ براہِ راست آسمان سے وہاں اتری جہاں لوگ تھے۔  اس کے ساتھ ساتھ وہ اس کو اسی طرح بھی کھا سکتے تھے،  اور اسے دوبارہ بھی پکا سکتے تھے۔  خدا نے اس بات کو واضح کیا کہ وہ ان کے ہر روز کی روٹی کو مہیا کرتا ہے، مگر انہیں ہر روز باہر جا کر وہ روٹیاں اکٹھی کرنا ہوتی تھیں۔  یہ من خدا کی طرف سے مافوق الفطرت تحفہ تھی۔  چالیس برس تک وہ ان کےلئے آسمان سے 4500ٹن بارش برساتا تھا۔ 

        یسوع ہمیں بھی اسی طرح ہدایت دیتا ہے جب وہ اپنے شاگردوں کو دعا کرنے کی ہدایت دیتا ہے،  آج کے دن تو ہمیں ہماری روز کی روٹی عطا کر۔  کبھی کبار ہم شاید خود کو بیابان کی صورتِ حال میں دیکھتے ہیں جہاں ہر ایک چیز بہت گرم،  خشک اور زندگی یا نشوونما کے بغیر ہوتی ہے اور ہمیں لگتا ہے کہ ہم اپنے خوابوں کی مخالف راہ پر جا رہے ہیں۔  ہمیں لگے گا کہ ہمیں نفرت اور نظر انداز کیا جا رہا ہے۔  خدا میلوں دور دکھائی پڑتا ہے اور اس کے وعدے اس سے بھی زیادہ دور۔  تاہم،  وہ بہت قریب ہے،  کیونکہ اس نے وعدہ کیا ہے کہ وہ ہمیں کبھی نہیں چھوڑے گا اور نہ کبھی دستبردار ہو گا(عبرانیوں 13باب5آیت)۔   پس ہمارا حوصلہ پست نہیں ہونا چاہئے کیونکہ بیابان میں بھی خدا پانے وعدے پورے کرتا ہے اور آسمانی روٹی کےلئے ہماری ضرورت کو پورا کرتا ہے وہ روٹی جو بکثرت ہے ،  جو ہر کسی کو اس کے کھانے کے مطابق ملتی ہے(خروج 16باب 18آیت)۔  ہمیں بس یہ کرنا ہے کہ باہر جائیں اور اسے حاصل کریں۔  یہ ہم سب پر لاگو ہوتا ہے۔  یہ ”روز کی روٹی“ کی بات کرتا ہے نہ کہ ” اشیاءکی کثرت“ کے بارے میں۔  یہ ہماری ضروت کے حوالے سے ہے نہ کہ جو ہم چاہتے ہیں۔  اور خدا چاہتا ہے کہ ہم اپنی ضرورتوں کے حوالے سے اس پر بھروسہ کریں۔  بعض اوقات روٹی اکٹھی کرنے کےلئے باہر جانابہت خاص جدو جہد لگتی ہے کیونکہ اس کےلئے کام کی اور کوشش کی ضرورت ہوتی ہے۔  ہم یہ ہمارے سب سے اعلیٰ مہیا کرنے والے سے حاصل کر سکتے ہیں نہ کہ کسی کین سے(یعنی،  ٹیپس،  ڈی وی ڈی،  ٹیلی ویژن، بائبل سے متعلق کتب)۔  روزانہ کا مطلب یہ نہیں کہ ہفتے میںایک بار،  شاید اتوار زیادہ مناسب ہے۔ 

        یاد کریں شیطان نے یسوع کو کس طرح آزمایا (بیابان میں ہی)اور متی4باب4آیت میں یسوع نے کیا جواب دیا: ”اادمی صرف روٹی ہی سے نہ جیتا رہے گا بلکہ ہر اس کلام سے کو خدا کے منہ سے نکلتا ہے۔  “میں یہ انداز پسند کرتا ہوں جیسے کہ یہ خداوند کے جوب کو سامنے لاتا ہے: ”زندہ رہنے کےلئے روٹی سے بھی زیادہ کسی چیز کی ضرورت ہے۔   اس کےلئے خد اکے منہ سے کلام کی متواتر ندی کی ضروت ہے۔  “ یہ خدا کے ظہور کی بات نہیں بلکہ خدا کی موجودگی کی بات ہے۔  خدا کا کلام اس کی ظاہری شکل میں خداوند یسوع مسیح ہے۔ 

 

یوحنا5باب39آیت:
”تم کتابِ مقدس میں ڈھونڈتے ہو کیونکہ سمجھتے ہوں کہ اس میں ہمیشہ کی زندگی تمہیں ملتی ہے اور یہ وہ ہے جو میری گواہی دیتی ہے۔
 

 

یوحنا6باب32تا35آیت:
”یسوع نے ان سے کہا میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ موسیٰ نے تو وہ روٹی آسمان سے تمہیں نہ دی لیکن میرا باپ تمہیں آسمان سے حقیقی روٹی دیتا ہے۔
  کیونکہ خڈا کی روٹی وہ ہے جو آسمان سے اتر کر دنیا کو زندگی بخشتی ہے۔   انہوں نے اس سے کہا اے خداوند! یہ روٹی ہم کو ہمیشہ دیا کر۔  یسوع نے ان سے کہا کہ زندگی کی روٹی میں ہوں۔   جو میرے پاس آئے گا وہ ہر گز بھوکا نہ ہوگااور جو مجھ پر ایمان لائے وہ کبھی پیاسا نہ ہوگا۔ 

 

        کیا آپ بیابان کے من،  آسمانی روٹی اور یسوع مسیح بطور زندگی کی روٹی میں کچھ مشابہت دیکھتے ہیں؟من ،  پاکیزگی اور اقداس کو بیان کرتے ہوئے سفید اور شہد کے جیسا میٹھا تھا۔  حیران کن طور پر،  من رات کے وقت مٹی کی بجائے اوس پر گرتا تھا(گنتی11باب9 آیت) ۔   یسوع مسیح خدا کی طرف سے ہمیں مفت عطا کیا گیا تحفہ ہے۔  یہاں ایک روزانہ کی ضرورت ہے،  روزانہ کا مہیا کیا جانا اور یہ ہر کسی فرداً فرداً کو اکٹھا کرنا اور کھانا تھا۔ 

        میں دعا کرتا ہوں کہ ہم ہماری خواہشات اور ضروریات میں امتیاز کریں تا کہ ہم خدا کے دل پر توجہ مرکوز کر سکیں۔  پھر ہم وہ سب کچھ کریں گے جو اس روزانہ کی روٹی کو باہر جا کر اکٹھا کرنے کی قیمت ہے جو روٹی خدا ہم میں سے ہر ایک کےلئے مہیا کرتا ہے۔  آئیے ہم اس سے لطف انداز ہوں،  کیونکہ اس کا ذائقہ شہد کے جیسا ہے(خروج 16باب31دوسرا حصہ)،  اور اتنا کھائیں جتنا کہ ہمیں ضرورت ہے،  تاکہ یہ ہمارے جسم کو قوی کرے اور ہم پاکیزہ ٹھہریں۔  آمین۔ 

 

یرمیاہ15باب16آیت:
”تیرا کلام ملا اور میں نے اسے نوش کیا اور تیری باتیں میرے دل کی خوشی اور خرمی تھیں کیونکہ اے خداوند رب الا فواج! میں تیرے نام سے کہلاتا ہوں۔
 

 

تسسوس کولچوگلو

اردو  Fahim Qaiser, Napoleon Zaki :