بائبل کی سچائیاں


ہمارے جدید ترین کالم   |   
موضوع کے مطابق   |    تمام کالم   |    سبسکرائب   |    ہوم   

 

 

 

 

نشان زد کریں اور دوسروں کو شریک کریں

 

 

  PDF version (printer friendly)

 

 

پیدائش 1باب1تا 2آیات

 

          چند ایک عنوانات بہت زیادہ قیاس آرائیوں کا شکار ہوتے ہیں جیسے کہ تخلیق کا موضوع ہے۔  مسیحیوں کی اوس تعداد یہی نظریہ رکھتی ہے کہ تخلیق کے سات ایام تھے جس کے دوران خدا نے، دوسری چیزوں کے ساتھ ساتھ، آسمان اور زمین کو خلق کیا۔ اس نظریے نے بہت سے لوگوں کو سر درد کو شکار بنا دیا، کیونکہ اگر یس کچھ تھا تو تو زمین کو چند ہزار سال سے زیادہ پرانا نہیں ہنا چاہئے تھا۔  اس ”اختلاف “ کو مٹانے کیلئے بہت سے مفروضے قائم کئے گئے۔  پس۔  بہت سے ایسے لوگ بھی ہیں جو اس بات کی حمایت کرتے ہیں کہ پیدائش ایک باب میں تخلیق کے ایام عام 24گھنٹوں کے دن سے زیادہ لمبے تھے۔ جیسا کہ ہم بعد میں دیکھیں گے، بائبل اس نظریے سے اتفاق نہیں کرتی۔ دیگر لوگ مزید اس حوالے سے کہتے ہیں کہ یہ سب کچھ ارتقا کی بدولت ہوا۔ تاہم ،کوئی شخص اس نظریے کی حمایت اس واضح انکار کے بغیر نہیں کرسکتا جو بیان کرتی ہے کہ خدا ہر چیز کا خالق ہے۔

 

کلسیوں 1باب16اور 17آیت:

”کیونکہ اسی میں (خدا میں) سب چیزیں پیدا کی گئیں۔  آسمان کی ہوں یا زمین کی۔  دیکھی ہوں یا اندیکھی۔  تخت ہوں یا ریاستیں یا حکومتیں یا اختیارات ، سب چیزیں اسی کے وسیلہ سے اور اسی کے واسطے پیدا ہوئیں ہیں۔ اور وہ سب چیزوں سے پہلے ہے اور اسی میں سب چیزیں قائم رہتی ہیں۔ “

 

یہ کالم پیدائش کی کتاب کے چند ایسے حوالہ جات پر، بنا کسی عصبیتی خیال کے تجزیہ کرتے ہوئے، روشنی ڈالے گا جنہیں اکثر غلط سمجھا جاتا ہے۔

 

 

    پیدائش 1باب1آیت:

 

          میرے خیال کے مطابق، پیدائش کے پہلے باب میں پیدا ہونے والی الجھن کا باعث پہلی دو آیا ت کی غلط فہمی کے زیادہ تر حصے کی ذمہ دار روایت ہے جو یہ تعلیم دیتی ہے کہ آسمان اور زمین تخلیق کے پہلے دن خلق کئے گئے تھے۔ پھر فوراً ہم اس درج ذیل مسئلے کا شکار ہو جاتے ہیں:چونکہ بائبل میں دی گئی تواریخی معلومات یہ اشارہ کرتی ہیں کہ انسان قریباً6000سال سے ذی حیات ہے اور چونکہروایت کے مطابق، اسے زمین کی تخلیق کے پانچ دن بعد خلق کیا گیا اس کا مطلب یہ ہوا کہ زمین 6000سال سے زیادہ پرانی نہیں ہوگی۔  دوسری طرف، بہت سے ایسے لوگ ہیں جو محسوس کرتے ہیں کہ یہ شمار اس بیرونی گواہی کے ساتھ قطعی اختلاف میں آتا ہے جو یہ بیان کرتی ہے کہ زمین اور ساری کائنات کئی لاکھوں سالوں سے ذی حیات ہے۔ اس کے علاوہ، یہ اس ثبوت سے اختلاف رکھتی ہے جو ان آچارِ قدیمہ کی دریافت سے اخذکیا گیا تھا جو ڈائنو سارس اور دیگر بہت سے تاریخی جانوروں سے متعلقہ ہیں جس کے بارے میں یہ تصور کیا جاتا ہے کہ وہ کئی لاکھوں سال پہلے سے موجود تھے۔ تاہم جو مسئلہ ہے وہ بائبل کا مسئلہ نہیں ہے۔  کیونکہ بائبل یہ نہیں کہتی کہ خدا نے آسمان اور زمین کو پہلے دن پیدا کیا۔  آیئے دیکھیں کہ یہ کہا کہتی ہے:

 

پیدائش 1باب1آیت:

”خدا نے ابتدا میں زمین و آسمان کو پید کیا۔ “

 

          یہ آیت بائبل کے ساتھ بِگ -بینگ (big-bang) کے نظریے کے تعلق کو غلط قرار دیتی ہے۔  خدا ہی تھا جس نے آسمان اور زمین کو خلق کیا۔  یہ کب ہوا؟ بائبل یہ نہیں کہتی کہ ”پہلے دن“ بلکہ بائبل کہتی ہے کہ ”ابتدا میں“۔  مسئلہ تب پیدا ہوتا ہے جب ہم ”ابتدا میں “ کی بجائے ”پہلے دن“ پڑھتے ہیں، تو یہ ابتدا پیدائش 1باب میں تخلیق کے ایام کا پہلا دن نہیں تھا۔  یہ اس بات کی گواہی ہے جو ہم اس کے بعد پڑھتے ہیں:

 

پیدائش1باب1تا5آیات:

”خدا نے ابتدا میں زمین و آسمان کو پیدا کیا۔  اور زمین ویران اور سنسان تھی اور گہرا کے اوپر اندھیرا تھا اور خدا کی روح پانی کی سطح پر جنبش کر تی تھی۔ اور خدا نے کہا روشنی ہو اور روشنی ہو گئی ۔  اور خدا نے دیکھا کہ روشنی اچھی ہے اور خدا نے روشنی کو تاریکی سے جدا کیا ۔  اور خدا نے روشنی کو تو دن کہا اور تاریکی کو رات اور شام ہوئی اور صبح ہوئی۔  سو پہلا دن ہوا۔ “

 

          اس سے پہلے کہ ہم کچھ اور کہیں، ہمیں یہ واضح کرنا چاہئے کہ پیدائش 1باب5آیت کا دن، اور تخلیق کے باقی ایام بھی، عام 24گھنٹوں والا دن تھا۔ دراصل، بائبل کے مطابق، یہ حقیقت ہے کہ لفظ”دن“ بعض اوقات عام 24 گھنٹوں کے دن سے زیادہ عرصے کیلئے بھی استعمال کیا گیا ہے۔ مثال کے طور پر رومیوں2باب5آیت،”اس قہر کے دن کیلئے اپنے واسطے غضب کما رہا ہے جس میں خدا کی سچی عدالت ظاہر ہوگی“ کے بارے میں اور افسیوں 6باب13آیت،”برے دن“ کے بارے میں بات کرتی ہے۔  جو ان حوالہ جات میں عام 24گھنٹوں سے زیادہ وقت مانا جاتا ہے۔ تاہم، جب دن کے حوالے سے صبح و شام کی وضاحت دی جاتی ہے یا جب ہم ”دن رات“ کے فقرے کو دیکھتے ہیں تو اس کا مطلب 24گھنٹوں کا دن ہے یہ بائبل میں موجود چند ایک واقعات جو درج ہیں ان سے ثابت ہو سکتا ہے۔  لہٰذا، بائبل کہتی ہے کہ جو بارش نوح کے طوفان کا موجب بنی وہ ”چالیس دن اور چالیس رات“(پیدائش 7باب12آیت)یعنی عام چالیس دن ہیں۔ جب موسیٰ خدا سے شریعت لینے کیلئے گیا تو وہ وہاں پہاڑ پر ”چالیس دن اور چالیس رات“ تک ٹھہرا، یعنی عام چالیس دن(خروج 24باب18آیت دیکھیں جب وہ پہلی مرتبہ پہاڑ پر چڑھااور خروج 34باب28آیت دیکھیں جب وہ دوسری بار پہاڑ پر چڑھا)۔ اس طرح، ”اور یوناہ تین دن رات مچھلی کے پیٹ میں رہا“(یوناہ 1باب17آیت) یعنی تین عام دن یابہتّر گھنٹے ۔  پس۔  جب یسوع نے کہا،”کیونکہ جیسے یوناہ تین دن رات مچھلی کے پیٹ میں رہا ویسے ہی ابنِ آدم تین دن رات زمین کے اندر رہے گا“(متی 12باب40آیت)۔  اس کا مطلب وہی تھا جو اس نے کہا؛ یعنی وہ تین دن اور تین رات تک مردہ رہے گا[1].  درج بالا سب کچھ یہ ظاہر کرتے ہیں کہ جب پیدائش 1باب 5آیت یہ کہتی ہے کہ ”سو شام ہوئی اور صبح ہوئی۔  یعنی پہلا دن ہوا۔ “ تو یہ عام 24 گھنٹوں کے دن کے حوالے سے بات ک رہی ہے جو صبح سے شروع ہوتاہے اور شام تک جاری رہتا ہے جب تک یہ اگلی صبح تک نہ پہنچ جائے۔ یہ بات اس مفروضے کو منسوخ قرار دیتی ہے جو پہلے سامنے لایا گیا تھا، جس کے مطابق، پیدائش1باب کے ایام عام دنوں سے لمبے ہوتے تھے۔ جو بات بائبل سکھاتی ہے وہ یہ ہے کہ خدا نے عام 24گھنٹوں والے 6دنوں میں[2]  اپنا کام مکمل کیا۔

          یہ واضح کرنے کے بعد آیئے ہم اپنے عنوان کی طرف واپس آتے ہیں۔  آسمان اور زمین ب خلق کئے گئے؟ متن پہلے دن کی بجائے ”ابتدا میں “ کا فقرہ استعمال کرتا ہے۔  تاہم، یہ ہمیں بتاتا ہے کہ زمین ویران اور سنسان تھی اور خدا کی روح پانیوں پر جنبش کرتی تھی۔

          تخلیق کے پہلے 6ایام جو پیدائش 1باب میں بیان کئے گئے ہیں ، پہلی آیت سے نہیں بلکہ تیسری آیت سے شروع ہوتے ہیں، اور یہ اس فقرے سے شروع ہوتے ہیں جو باقی کے پانچ ایام کی بھی شناخت کرواتا ہے: ”اور خدا نے کہا۔ ۔ ۔ ۔ “ (پیدائش 1باب 3آیت؛ 1باب19آیت؛ 1باب14آیت؛ 1باب20آیت)۔

 

پیدائش 1باب3تا 5آیت:

”اور خدا نے کہا روشنی ہو جا اور روشنی ہوگئی اور خدا نے دیکھا کہ روشنی اچھی ہے اور خدا نے روشنی کو تاریکی سے جدا کیا اور خدا نے روشنی کو تو دن کہ اور تاریکی کو رات اور شام ہوئی اور صبح ہوئی۔  سو پہلا دن ہوا۔ “

 

          یہ آسمان اور زمین کے وجود میں آنے کا پہلا دن نہیں تھا کیونکہ خدا نے ان کو ”ابتدا میں “ پیدا کیا تھا۔ بائبل یہ نہیں بتاتی کہ یہ ابتدا کب تھی؟ اگر ماہرِ ارضیات یہ کہتے ہیں کہ یہ ابتدا لاکھوں سال قبل تھی تو ہو سکتا ہے ایسا ہی ہو۔ جہاں تک بابل کا تعلق ہے تو اس میں کوئی مسئلہ نہٰں ہے۔  بائبل اس حوالے سے یہ کہتی ہے کہ یہ ابتدا پیدائش 1باب5آیت سے پہلے تھی اور شاید بہت پہلے تھی۔

 

 

2      پیدائش1باب2آیت:

 

          پیدائش 1باب2آیت بھی اس بات کو سمجھنے کیلئے بہت خاص آیت ہے کہ خدا کا کلام تخلیق کے ایک نہایت ہی اہم موضوع کے متعلق کیا کہتا ہے۔  آیئے یہ دیکھیں:

 

پیدائش 1باب2آیت:

”اور زمین ویرا اور سنسان تھی اور گہرا کے اوپر اندھیرا تھا اور خدا کی روح پانیوں پر جنبش کرتی تھی۔ “

 

          یہاں خاص لفظ پہلا ”تھی“ ہے۔  جیسا کہ آپ دیکھ سکتے ہیں کہ یہ دوسرا لفظ ” تھی“ ترچھی لکھائی (italics) میں لکھا گیا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ یہ ترجمہ نگاروں نے شامل کیا ہے۔  بالکل اسی طرح، پرانے عہد نامے کے دیگر بہت سے حوالہ جات میں بھی ہوتا ہے۔ جہاں فعل ”ہونا“ ترچھی لکھائی میں چھاپا گیا ہے۔  اس کی وجہ یہ ہے کہ عبرانی زبان میں فعل”ہونا“ نہیں ہے۔  پس ترجمہ نگاروں کو یہ شامل کرنا پڑا، جہاں انہیں اس کی ضرورت محسوس ہوئی۔  اب اگر یسا ہے ، تو ہمیں یہ پوچھنا چاہئے کہ پہلا لفظ”تھی“ رومن ہندسوں میں کیوں چھاپا گیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ بعض اوقات ترجمہ نگاروں نے فعل ”hayah“ کو فعل ” ہونا“ کے طور پر استعمال کیا۔ تاہم، فعل ”hayah“ کو ترجمہ ”ہونا“ نہیں ہے۔ اس کا مطلب ”بننا“ ،”وجود میں آنا“ یا ”صورت اختیار“ کرنا ہے[3]۔  یہ وہ ترجمہ ہے جو پیدائش 2باب7 آیت میں دیا گیا ہے جہاں ہمیں بتایا گیا ہے کہ ”انسان جیتی جان ہوا (hayah)“۔ پیدائش 4باب3آیت جہاں ہم سیکھتے ہیں کہ ”چند روز کے بعد یو ں ہوا کہ قائن اپنے کھیت کے پھل کا ہدیہ خداوند کے واسطے لایا“،پیدائش 6باب1آیت”جب روئے زمین پر آدمی بہت بڑھنے لگے اور ان کی بیٹیاں پیدا ہوئیں تو یوں ہوا ۔ “، پیدائش 7باب 10آیت،”اور سات دن کے بعد ایسا ہوا کہ طوفان کا پانی زمین پر آگیا“ پیدائش 19باب26آیت ،”مگر یوں ہوا کہ اس کی بیوی نے پیچھے مڑ کر دیکھا اور وہ نمک کا ستون بن گئی۔ “ وغیرہ وغیرہ۔

 

پیدائش 1باب1اور 2آیت:

”خدا نے ابتدا میں زمین اور آسمان کو پیدا کیا ۔  اور زمین ویران اور سنسان تھی اور گہرا کے اوپر اندھیرا تھا اور خدا کی روح پانیوں پر جنبش کرتی تھی“

 

          اس بات کا ثبوت کہ زمین ویران اور سنسان پیدا نہیں کی گئی بلکہ یہ اس طرح بن گئی تھی یسعیا ہ45باب18آیت میں مل سکتا ہے۔

 

یسیعاہ 45باب18آیت:

”کیونکہ خداوند جس نے آسمان پیدا کئے وہی خدا ہے۔  اسی نے زمین بنائی اور تیار کی۔  اسی نے اسے قائم کیا ۔  اس نے اسے عبث پیدا نہیں کیا بلکہ اس کو آبادی کیلئے آراستہ کیا۔ “

 

یسیعاہ 45باب میں فقرہ ”عبث“ عبرابی لفظ ”tohu“ ہے جس کا ترجمہ پیدائش 1باب 2آیت میں ”ویران“ کیا گیا ہے۔ حقیقتاً، خدا نے زمین کو ”tohu“ نہیں بنایا تھا(یسیعاہ 45نباب18آیت)بلکہ یہ ”tohu“ بن گئی تھی(پیدائش 1 باب 2 آیت)۔ اس کے علاوہ، زمین نہ صرف ”tohu“ بن گئی بلکہ یہ سنسان بھی ہوگئی۔ زمین کا سنسان ”بن جانا“ اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ یہ سنسان نہیں تھی، بلکہ، یہ غیر گنجان آباد ہوگئی، پر کسی وجہ سے، یہ ویران اور سنسان بن گئی۔ اس لئے خدا کو دوبارہ سب کچھ مرتب کرنا پڑا، جو اس نے تخلیق کے چھے ایام میں کیا۔ آج کل انسان ڈائینو سارس کے اثار تلاش کرتے ہیں اور انہیں لاکھوں سال پرانے قرار دیتے ہیں۔  ”ذہین“ لوگ اور بائبل کے مشاہدہ نگار کہتے ہیں کہ یہ بائبل کو غلط قرار دیتی ہے، ان کیلئے بد قسمتی کی بات یہ ہے کہ بائبل کو کوئی چیز غلط قرار نہیں دے سکتی۔ بائبل ہمیں بتاتی ہے کہ ابتدا میں ، شاید چند لاکھ سال پہلے، خدا نے آسمان اور زمین کو پیدا کیا۔ یہ زمین نہ تو ویران تھی اور نہ ہی سنسان تھی۔ کیونکہ خدا نے اسے اس طرح سے پیدا نہیں کیا تھا۔  اس کے برعکس، یہ ویران اور سنسان بن گئی تھی۔ خدا نے ہمیں یہ نہیں بتایا کہ تب زمین پر کون کون سے جانور موجود تھے۔  اس نے یہ بتانا مناسب نہ جانا۔  لیکن اگر آپ مانتے ہیں کہ تب ڈائینو سارس وغیرہ موجود تھے تو ہوسکتا ہے ایسا ہی ہو۔ بائبل اسکی مخالفت نہیں کرتی۔

 

مختصراً: بائبل جن چیزوں کو خارج کرتی ہے وہ یہ ہیں :

 

 (1      کہ زمین تخلیق کے ”پہلے دن “پیدا کی گئی جب کہ، بائبل کہتی ہے کہ یہ ابتدا میں پیدا کی گئی اور لہٰذہ، تخلیق کا پہلا دن اصل میں پہلا دن نہیں تھا بلکہ صرف باقی کے 5ایام کے اعتبار سے یہ پہلا دن ہی تھا۔

 

 (2     کہ زمین ویران اور سنسا ن پیدا کی گئی۔  زمین ویران اور سنسان پیدا نہیں کی گئی تھی۔  بلکہ یہ اس طرح بن گئی تھی۔

 

 (3     پیدائش 1باب1آیت والی زمین پر کچھ نہ کچھ زندہ باقی تھا۔  ایسا نہیں ہو سکتا، یہ ”ویران“ کی تعریف کرنے سے واضح ہوتا ہے کہ کوئی چیز تب ویران ہوتی ہے جب اس میں کوئی چیز باقی نہ رہے۔ اگر اس میں کوئی چیز ہو تو وہ خالی نہیں ہے۔  اگر بیکٹیریا پیدائش 1باب1آیت والی زمین میں موجود تھا ، تو یہ خالی نہیں ہوسکتی۔

 

 

3      ”اس زمانے کی دنیا“

 

          جو کچھ اوپر بیان کیا گیا ہے اس حوالے سے مزید ثبوت کلام پاک کے دیگر حوالہ جات میں ملتے ہیں۔ پس 2پطرس ہمیں بتاتا ہے کہ:

 

2پطرس 3باب3تا 7اور 13آیت:

”اور یہ پہلے جان لو کہ اخیر دنوں میں ایسے ہنسی ٹھٹھا اڑانے والے اائیں گے جو اپنی خواہشوں کے موافق چلیں گے۔  اور کہیں گے کہ اس کے آنے کا وعدہ کہاں گیا؟ کیونکہ جب سے باپ دادا سوئے ہیں اس وقت سے اب تک سب کچھ ویسا ہی ہے جیسا خلقت کے شروع سے تھا۔  وہ تو جان بوجھ کے یہ بھول گئے کہ خدا کے کلام کے ذریعہ سے آسمان قدیم سے موجود ہیں اور زمین پانی میں سے بنی اور پانی میں قائم ہے۔  انہی کے ذریعہ سے اس زمانے کی دنیا ڈوب کر ہلاک ہوئی۔  مگر اس وقت کے آسمان او ر زمین اسی کلام کے ذریعہ سے رکھے گئے ہیں کہ جلائے جائیں اور بے دین آدمیوں کی عدالت اور ہلاکت کے دن تک محفوظ رہیں گے۔ ۔ ۔ لیکن اس کے وعدے کے موافق ہم نئے آسمان اور نئی زمین کا انتظار کرتے ہیں جن میں راستبازی بسے رہے گی۔ “

 

2پطرس کے اس حوالے میں ہم ”اس زمانے کی دنیا“ کے بارے میں سیکھتے ہیں جو ڈوب کر ہلاک ہوگئی۔  یہ حوالہ بوح کے طوفان کا ذکر نہیں کر رہا۔ اس طوفان نے ساری دنیا کو نہیں بلکہ صرف بے دین دنیا کو ہلاک کیا (2پطرس2 باب5 آیت) ۔   اس کے علاوہ، چونکہ نوح کے وسیلہ سے تما م جانوروں کے جوڑے بچائے گئے تھے۔ اس لئے خدا کو طوفان کے بعد دوبارہ کام کرنے کی ضرورت نہ تھی۔  اس کے برعکس 2پطرس 3باب6آیت کے مطابق ”اس زمانے کی دنیا “اور اس کے بعد والی دنیا ، جو کہ موجودہ دنیا ہے میں امتیاز ظاہر کرتا ہے(”اس زمانے کی دنیا“ ڈوب کر ہلاک ہوئی، مگر اس وقت کے آسمان اور زمین۔ ۔ ۔ ۔ )۔  اس کے علاوہ 2پطرس 3باب 13آیت ہمیں یہ بتاتی ہے کہ موجودہ دنیا نئے آسمان اور نئی زمین سے مل کر بنیں گے یعنی نئی دنیا بنے گی(مکاشفہ 21باب1آیت بھی دیکھیں)۔

         درج بالا یہ سب کچھ بھی ظاہر کرتا ہے کہ بائبل تین قسم کی دنیا کی بات کرتی ہے۔  پہلی دنیا” اس زمانے کی دنیا“ ڈوب کر ہلاک ہوئی۔  دوسری دنیا، جو آج کل کی دنیا ہے، اور” وہ آگ سے تباہ ہوگی“ اور وہ خدا وند کے دن کا انتظار کرتی ہے جب، ” آسما ن بڑے شور و غل کے ساتھ برباد ہو جائین گے اور اجرامِ فلک حرارت کی شدت سے پگھل جائیں گے اور زمین اور اس پر کے کام جل جائیں گے“(2پطرس 3باب 10آیت)۔ تیسری دنیا ابھی آگے آئے گی جو اس موجودہ دنیا پر فتح مند ہوگی۔

          یہ حقیقت کہ تین دنیا ہیں:ایک جو اس زمانے کی تھی، ایک جو موجودہ ہے، اور ایک جو آنے والی ہے، 2کرنتھیوں 12باب2آیت سے ظاہر ہوتا ہے جہاں پولوس کہتا ہے کہ:

 

2کرنتھیوں 12باب2آیت:

”میں مسیح میں ایک ایسے شخص کو جانتا ہوںچودہ برس ہوئے کہ وہ یکایک تیسرے آسمان تک اٹھا لیا گیا۔  نہ مجھے یہ معلوم کہ بدن سمیت نہ یہ معلوم کہ بغیر بدن کے۔  یہ خدا کو معلوم ہے۔ “

 

          ”تیسرے آسمان “ سے پولوس کا کیا مطلب ہے؟ جو کچھ ہم نے سیکھا اس کے مطابق، اس کا مطلب نیا آسمان ہے جو آنے والا ہے۔  یہ وہ آسمان ہے جس کے بارے میں یوحنا نے بھی مکاشفہ دیکھا(مکاشفہ21باب) اور جس کے بارے میں پطرس 2پطرس 3باب13آیت میں بات کرتا ہے۔ اس لئے کیا یہ درست ہے کہ یہاں یہ تیسرے آسمان کی بات کر رہا ہے؟ جی ہاں بالکل؛ پہلا آسمان جو اس زمانے میں تھا، دوسرا آسمان جو آج موجود ہے، اور تیسرا آسمان جو آنے والا ہے۔

          اوپر سب کچھ واضح کرنے کے بعد ، جو کچھ ہم نے سیکھا ہے اسے مدِ نظر رکھتے ہیں ، یہ ظاہر ہے کہ جو” اس زمانے کی دنیا“ تھی وہ پیدائش 1باب 1 آیت کی دنیا ہے۔ خدا نے ابتدا میں آسمان اور زمین کو پیدا کیا (پیدائش1باب1 آیت)، اس نے زمین کو ویران پیدا نہیں کیا (یسعیاہ 45باب18آیت)۔  یہ ویران اور سنسان بن گئی(پیدائش 1باب2آیت) جس کا مطلب یہ ہے کہ اس زمین پر جاندار موجود تھے جو اس وقت مر گئے جب وہ دنیا( جو اس زمانے میں تھی) ہلاک ہوئی۔  یہ دنیا پانی میں ڈوب کر ہلاک ہوئی(2پطرس3باب6آیت)

 

سائنسدانوں کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ ”اس زمانے کی دنیا“ اور آج کل کی دنیا کے درمیان بننے والی لکیر کو نظر انداز کردیتے ہیں۔  نتیجتاً ،جب وہ ان جانداروں کے اثار پاتے ہیں جو اس دنیا میں آباد تھے اور یہ دیکھتے ہیں کہ وہ ان جانداروں سے مختلف ہیں جو موجودہ دنیا میں رہتے ہیں۔ تو وہ ان اختلافات کو ارتقاءکے نظاریہ کی مانند واضح کرتے ہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ خدا نے وہ دنیا پیدا کی، جو پیدائش 1 باب 1 آیت کے عرصے تک محیط تھی۔ تاہم ، وہ دنیا پانی میں ڈوب کر ہلاک ہو گئی۔ پس خدا کو چھ دنوںمیں تمام چیزوں کو مرتب کرناتھا۔ پس اس نے پودے، جانور اور آخر میں انسان کو پیدا کیا۔ اکثر چیزوں کو اس نے اس زمانے کی دنیا کی چیزوں کی مانند ہی بنایا۔ یہ عجیب بات بالکل نہیں ہے۔ اگر ٓاپ کا ایک گھر ہوتا اور وہ کسی وجہ سے اجڑ جاتا تو آپ اسے دوبارہ سے اسی انداز سے تعمیر کرنے کی کوشش کریں گے جیسا کہ یہ ہونا چاہئے۔

          اسی طرح خدا کا کلام چیزوں کی وضاحت کرتا ہے۔ خدا کے کلام کو اصل حقائق سے کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ مسئلہ ”جھوٹے“ حقائق اور جھوٹی ”سائنس“ سے ہے۔  اصل سائنس حقائق بیان کرتی ہے اور وہیں ٹھہر جاتی ہے۔ جھوٹی سائنس جاری رہتی ہے اور ان نتائج کو نکالتی رہتی ہےجو غیر معینہ مفروضوں پر مشتمل ہوتے ہیں۔ ارتقا دوسرے حصے سے تعلق رکھتا ہے، کیونکہ یہ مکمل طور پر غیر معینہ مفرضوں پر مشتمل ہوتا ہے۔ یہ قدیم کہانیوں کے مترادف دکھائی دیتا ہے جس کا خواب دنیا کی تخلیق کی قضاحت کیلئے دیکھا گیا تھا۔  آج ہم ان کو کہانیاں کہتے ہیں جبکہ اپنے زمانے میں یہ ایسا احترام رکھتی تھیں جیسا آج ہم ارتقاءکا احترام کرتے ہیں۔ مستقبل میں ان کا شمار انہی کہانیوں میں ہوگا جن کا انکار انسانی دماغ کرتا ہے کہ خدا نے یہ ایجاد کیا اور خد ا کا کلام اسے تین ہزار سال پہلے واضح بیان کرتا ہے۔

 

 

4.     ’اس زمانے کی دنیا“ کے اختتام کی وجہ کیا تھی؟

 

          اوپر سب کچھ پڑھنے کے بعد جو سوال کسی پڑھنے والے کے ذہن میں اٹھتا ہے وہ یہ ہے کہ جیسے پیدائش 1باب2آیت کہتی ہے کہ زمین ویران اور سنسان کیسے بن گئی؟ اس سے قبل کہ ہم اس سوال کا جواب دیں، اس بات پر غور کرنا مناسب ہوگا کہ اس دنیا کے ساتھ کیا ہوتا ہے جو اب موجود ہوہے۔ یہ دنیا ”اس زمانے کی دنیاا“ کی مانند جب پیدا کی گئی تو بہت اچھی اور کامل تھی۔  خدا ہر چیز کامل بناتا ہے۔  پیدائش 1باب31آیت ہمیں بتاتی ہے کہ:

 

پیدائش1باب31آیت:   

”اور خدا نے سب پر جو اس نے بنایا تھا نظر کی اور دیکھا کہ بہت اچھا ہے اور شام ہوئی اور صبح ہوئی ۔  سو چھٹا دن ہوا۔ “

 

          تاہم، کاملیت کی یہ صورتِ حال کبھی ختم نہیں ہوئی، کیونکہ رومیوں 8باب ہمیں بتاتا ہے کہ:

 

رومیوں 8باب20تا22آیت:

”اس لئے کہ مخلوقات بطالت کے اختیار میں کر دی گئی تھی۔  نہ اپنی خوشی سے بلکہ اس کے باعث جس نے اس کو اس امید پر بطالت کے اختیار میں دے دیا کہ مخلوقات بھی فنا کے قبضہ سے چھوٹ کر خدا کے فرزندوں کے جلال کی آزادی میں داخل ہوجاےءگی۔  کیونکہ ہم کو معلوم ہے کہ ساری مخلوقات مل کر اب تک کراہتی ہے اور دردِ زہ میں پڑی تڑپتی ہے۔

 

          بطالت، فنا کا قبضہ، کراہنا اور دردِزہ میں تڑپنا ایسی چیزیں نہیں ہیں جس کی توقع اس صورتِ حال میں کی جائے جو خدا پیدائش 1باب 31آیت میں بیان کرتا ہے۔  اس سے قبل ضرور کچھ نہ کچھ ایسا ہوا ہوگا جس نے اچھی صورتِ حال کو ”فنا کے قبضے“ میں تبدیل کر دیا۔  وہ کیا تھا؟آدم کا گناہ۔  آدم کے گناہ کی قیمت نہ صرف اس کی ہستی کے ایک حصے کا کھوجانا تھا ، جو روح تھی، بلکہ اس نے خدا کی ساری خلقت کو متاثر کیا۔ پیدائش 3باب17تا 19آیت اچھی صورتِ حال سے فنا کے قبضے میں اس تبدیلی کی ابتدا کو بیان کرتی ہے۔

 

 

پیدائش 3باب17تا19آیت:

”اور آدم سے اس نے کہا چونکہ تو نے اپنی بیوی کی بات مانی اور اس درخت کا پھل کھایا جس کی بابت میں نے تجھے حکم دیا تھا کہ اسے نہ کھانا س لئے زمین تیرے سبب سے لعنتی ہوئی ۔  مشقت کے ساتھ تو اپنی عمر بھر اس کی پیداوار کھائے گا۔  اور وہ تیرے لئے کانٹے اور اونٹ کٹارے اگائے گی اور تو کھیت کی سبزی کھائے گا ۔  تو اپنے منہ کے پسینے کی روٹی کھائے گا جب تک کہ زمین میں تو پھر نہ لوٹ جائے اس لئے کہ تو اس سے نکالا گیا ہے کیونکہ تو خاک ہے اور خاک میں پھر سے لوٹ جائے گا۔  

 

اس کے علاوہ، خدا نے گو کہ انسان کو زمین کو حاکم بنایا جو کہ وہ ابھی بھی ہے(پیدائش1باب26آیت)، اس کے گناہ کی بدولت اس نے یہ تمام تر حقوق شیطان کو سونپ دیئے جو کہ وہ شخص ہے جسے آج کی دنیا کا حاکم یا مالک کہا جاتا ہے (یوحنا 12باب31آیت ، 14باب30 آیت، 16باب11آیت)۔ اس لئے ساری خلقت کراہتی اور دردِ زہ میں تڑپتی ہے اور رہائی کا نتظار کرتی ہے۔  اس صورتِ حال کا موجب کیا تھا؟آدم کا گناہ۔ اسی طرح، جیسے کہ آدم کے گناہ میں اس دنیا میں خلل پیدا کیا، جو کہ ابھی بھی ہے، اسی طرح، آدم کے بڑھتے ہوئے گناہ نے پیدائش 1باب1آیت کی دنیا یعنی ”اس زمانے کی دنیا “ میں بھی خلل ڈالا۔  اس گناہ کے اثرات اس قدر شدید تھے کہ دنیا رہائی کا نتظار بھی نہ کر پائی۔ اس کی بجائے اس پر نئی دنیا غالب آئی، جو کہ موجودہ دنیا ہے، جہاں ابتدا میں ہر چیز دوبارہ کامل تھی۔ وہ گناہ جس کی ہم بات کر رہے ہیں اور جو واحد ایک ایسا واقعہ ہے جس کے بارے میں بائبل بیان کرتی ہے کہ ایسا واقعہ ہے جس کے اثرات شدید تھے، اس لوسیفر کا گناہ تھا جو کبھی خدا کا مقرب فرزتہ ہوتا تھا، جو خدا کے تین چوتھائی فرشتوں پر حاکم تھا۔

          لوسیفر کے گناہ کے حوالے سے، بائبل اسے تین مقامات پر بیان کرتی ہے: یسعیاہ 14باب،حزقی ایل 28باب، مکاشہ12باب۔  آیئے یسعیاہ14باب سے شروع کرتے ہیں:

 

یسعیاہ 14باب12آیت:

”اے صبح کے روشن ستارے تو کیونکر آسمان سے گر پڑا! اے قوموں کو پست کرنے والے تو کیونکر زمین پر پٹکا گیا! تو تو اپنے دل میں کہتا تھا کہ میں آسمان پر چڑھ جاں گا۔  میں اپنے تخت کو خدا کے ستاروں سے بھی اونچا کروں گا اور میں شمالی اطراف مٰں جماعت کے پہاڑوں پر بیٹھوں گا میں بادلوں سے بھی اوپر چڑھ جاں گا۔  میںخدا تعالیٰ کی مانند ہو جاں گا۔ “

 

حزقی ایل 28باب بھی اسی واقعہ کا حوالہ دیتا ہے اور ہمیں بتاتا ہے:

 

حزقی ایل 28باب15تا 17آیت:

”تو اپنی پیدائش ہی کے روز سے اپنی راہ و رسم میں کامل تھا جب تک کہ تجھ میں ناراستی نہ پائی گئی۔  تیری سوداگری کی فراوانی کے سبب سے انہوں نے تجھ میں ظلم بھی بھر دیا اور تو نے گناہ کیا ۔  اس لئے میں نے تجھے خدا کے پہاڑ سے گندگی کی طرح پھینک دیااور تجھ سایہ افگن کروبی کو آتشی پتھروں کے درمیان سے فنا کر دیا۔  تیرا دل تیرے حسن پر گھمنڈ کرتا تھا ۔  تو نے اپنے جمال کے سبب سے اپنی حکمت کھو دی۔  میں نے تجھے زمین پر پٹک دیا۔ ۔ ۔ “

 

          یسعیاہ کے مطابق، لوسیفر خدا کے تخت پر قابض ہونا چاہتا تھا۔ یہی وہ قصو ر تھا جو اس میں پایا گیا۔ تاہم ، اس کی توقعات حقیقت نہ بن پائیں۔ مکاشفہ کی کتاب ایک تاریخی پسمنظر میں اس جنگ کا ذکر کرتی ہے جو اس نے شروع کی اور یہ پسمنظر 12باب میں پایا جاتا ہے۔

 

مکاشفہ12باب3آیت:

”پھر ایک اور نشان آسمان پر دکھائی دیا یعنی ایک بڑا لال اژدہا اس کے سات سر اور دس سینگ تھے اور اس کے سر پر سات تاج۔  اور اسکی دم نے آسمان کے تہائی ستارے کھینچ کر زمین پر ڈال دیئے۔ ۔ ۔ پھر آسمان پر لڑائی ہوئی ۔  میکائیل اور اس کے فرشتے اژدہا سے لڑنے کو نکلے اور اژدہا اور اس کے فرشتے ان سے لڑے۔ “

 

          یہاں لفظ ”زمین“ یونانی لفظ ”ge“ ہے جو ہمارے متن میں آسمان کے متضاد زمین کا مطلب فراہم کرتی ہے یعنی بطور ایک سیارہ۔  یہ بالکل وہی لفظ ہے جسے Septuagintیسعیاہ 14باب اور حزقی ایل 28باب کے دو حوالہ جات میں استعمال کرتی ہے اور جسے نیو کنگ جیمز ورژن (NKJV)بد قسمتی سے صرف ”میدان“ کے طور پر پیش کرتی ہے۔ اور جو یونانی لفظ یہاں استعمال کیا گیا ہے وہ ”erets“ ہے جس کا مطلب ہے ” زمین ایک وسیع پیمانے پر ہے، گنجان آباد حصے اور غیر گنجان آباد حصے دونوں ہر[4] “۔  یا ہمارے مطابق، آسمان کے متضاد زمین۔ NIVاس غلطی کو یسعیاہ 14باب اورحزقی ایل 28باب میں لفظ ”erets“ کا ترجمہ ”زمین“ کرتے ہوئے درست کرتی ہے، لہٰذہ ہم پڑھتے ہیں کہ:

 

یسعیاہ 14باب12آیت:

”اے صبح کے روشن ستارے تو کیونکر آسمان سے گر پڑا! اے قوموں کو پست کرنے والے تو کیونکر زمین پر پٹکا گیا! “

 

حزقی ایل 28باب17آیت:

” تیرا دل تیرے حسن پر گھمنڈ کرتا تھا ۔  تو نے اپنے جمال کے سبب سے اپنی حکمت کھو دی۔  میں نے تجھے زمین پر پٹک دیا۔ ۔ ۔ “

 

          تمام تر حوالہ جات اس بات پر اتفاق کرتے ہیں کہ شیطان کی شکست کے بعد اسے اور اس کے فرشتوں کو آسمان سے زمین پر گرا دیا گیا تھا۔ یہ وہی زمین ہے جو ” اس زمانے کی زمین“ کہلاتی ہے یعنی، پیدائش 1باب1آیت والی زمین، جب کہ اس زمین پر جو اب موجود ہے اور جیسا کہ پیدائش 3باب 1آیت کی زمین پر شیطان پہلے سے ہی ایک دشمن ہے۔ میں نہیں جانتا کہ پیدائش 1باب1آیت والی زمین کیا اسی وجہ سے ویران اور سنسا تھی کہ اس کو گرایا گیا تھا یا یہ جنگ کے دوران ویران اور سنسان بن گئی۔ بائبل اس کے بارے میں کچھ نہیں بتاتی۔ میں صرف یہ جاننا چاہتا ہوں کہ صرف شیطان کے گناہ کا ہی یہ ایک واقعہ ہے جو پیدائش 1باب1آیت کی تخلیق کو اس قدر چدید متاثر کر سکتا تھا۔

 

مکاشفہ21باب1آیت:

”پھر میں نے ایک نئے آسمان اور نئی زمین کو دیکھا کیونکہ پہلا آسمان اور پہلی زمین جاتی رہی تھی اور سمندر بھی نہ رہا۔ “

 

2پطرس 3باب13آیت:

”لیکن اس کے وعدہ کے موافق ہم نئے آسمان اور نئی زمین کا انتظار کرتے ہیں جن میں راستبازی بسی رہے گی۔ “

 

اس زمین پر:

 

مکاشفہ 21باب4آیت:

”اور وہ ان کی آنکھو کے سب اانسو پونچھ دے گا۔  اس کے بعد نہ موت رہے گی نہ ماتم رہے گا۔  نہ ااہ و نالہ نا درد۔  پہلی چیزیں جاتی رہیں۔ “

 

          اس تیسری دنیا میں شیطان موجود رہے گا، لیکن میں یہ بات شرطیہ کہہ سکتا ہوں تب کوئی بھی اس کے عہدے سے حسد نہیں رکھے گا۔

 

مکاشفہ20باب10آیت:

”اور ان کا گمراہ کرنے والا ابلیس آگ اور گندھک کی اس جھیل میں ڈالا جائے گا جہاں وہ حیوان اور جھوٹا نبی بھی ہوگا اور وہ رات دن ابدالآباد عذاب میں رہیں گے۔ “

 

                                      آمین!!!!

 

تسسوس کولچوگلو

اردو  Fahim Qaiser, Napoleon Zaki :

      

 



[1] یقیناً، یہ اس روایت کو غلط قرار دیتی ہے جو چاہتی ہے کہ یسوع پاک جمعہ کو 3بجے شام مرے اور اتوار کی صبح کو جی اٹھے، جبکہ سادہ سا شمار یہ ظاہر کرتا ہے کہ کسی بھی طرح سے یہ تین دن اور تین راتیں نہیں ہو سکتیں۔  تاہم ،جو بھی مسئلہ ہے وہ خدا کے کلام کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ روایت کا مسئلہ ہے۔ مجھے امید ہے کہ اگلے کا لم میں ہمارے پاس ایسے معاملات کو حل کرنے کا موقع ہوگا جنہیں لوگوں ”اختلافِ رائے“ کے طور پر قبول کر لیا ہے اور جو روایت کی مخالفتیں ہی ہو سکتی ہیں خدا کے کلام کی نہیں

[2] گو کہ NKJVپڑھتی ہے کہ”اور خدا نے اپنے کام کو جسے وہ کرتا تھا ساتویں دن ختم کیا اور اپنے سارے کام سے جسے وہ کر رہا تھا ساتویں دن فارغ ہوا“(پیدائش 2باب2آیت) یہ ظاہر کروا رہی ہے کہ تخلیق کے سات ایام تھے۔ Septuagintکہتی ہے کہ:”چھٹے روز“ جو کہ ظاہری طور پر درست ہے کیونکہ خدا نے ساتویں دن کوئی کام نہیں کیا۔ اس نے اس روز صرف آرام کیا

[3]          E. W. Bullingerدیکھیں:”The Companion Bible“، Kregel Publications, Grand Rapids, Michigan, 1990, p. 3 اور W. Wilson: "Old Testament Word Studies", Kregel Publications, Grand Rapids, Michigan, 1978, p. 30 فعل ”Hayah“ کا مطلب ”بننا“، ”وجود میں آنا“ یا ”صورت اختیا رکرنا“بھی Septuagintکی گواہی سے ملتا ہے، جو کہ پرانے عہد نامے کا سب سے قدیم یونانی ترجمہ ہے۔عبرانی زبان کے مقابلے میں ، یونانی زبان میں انگریزی فعل ”ہونا“ کے مساوی ایک فعل پایا، فعل ”cimi“، اور انگریزی فعل ”بننا“ کے برابر فعل ”ginomai‘پایا۔

 

[4] دیکھیں W. Wilson: "Old Testament Word Studies",

Kregel Publications, Grand Rapids, Michigan, 1978, p. 140. ۔ عبرانی لفظ جس کا مطلب ہے ”زمین“ لفظ ”adamah“ہے جس کا اخذکیا گیا نام ہے ”آدم“