بائبل کی سچائیاں


ہمارے جدید ترین کالم   |   
موضوع کے مطابق   |    تمام کالم   |    سبسکرائب   |    ہوم   

 

 

 

 

نشان زد کریں اور دوسروں کو شریک کریں

 

 

  PDF version (printer friendly)

 

 

یسوع مسیح کے دو نسب نامے

 

       یسوع مسیح کے نسب نامے متی 1باب1تا17آیت اور لوقا3باب23تا38آیت میں دئے گئے ہیں۔ ہمیں اس بات کو عجیب نہیں سمجھنا چاہئے کہ ہمارے پاس دو نسب نامے ہیں۔ ہر کسی کے دو نسب نامے ہوتے ہیں: ایک باپ کی طرف سے اور دوسرا ماں کی طرف سے۔ اب یسوع کا باپ تو خدا تھا پس اس کے فطری باپ کی طرف سے کوئی نسب نامہ نہیں ہو سکتا تھا۔ تاہم معاشرے میں اس کی قانونی حیثیت اس شخص پر منحصر تھی جسے لوگ اس کا باپ تصور کرتے تھے، یعنی یوسف کو۔ اس لئے خدا کا کلام دو نسب نامے پیش کرتا ہے۔ ان دونوں نسب ناموں کے حوالے سے دو مسائل درپیش ہوئے ہیں۔پہلا مسئلہ اس حقیقت کے ساتھ منسلک ہے کہ (متی1باب16آیت) میں ہمیں بتایا جاتا ہے:

 

متی1باب16آیت:
”اور یعقوب سے یوسف پیدا ہوا یہ مریم کا شوہرتھا۔“

 

       یعنی کہ، یوسف یعقوب کا بیٹا تھا، لوقا کے نسب نامہ میں ہم پڑھتے ہیںکہ:

 

لوقا3باب23آیت:
”جب یسوع خود تعلیم دینے لگا تو قریباً تیس برس کاتھااور (جیسا کہ سمجھا جاتا تھا) وہ یوسف کا بیٹا تھا اور وہ عیلی کا اور وہ متات کا۔۔۔“

 

       یہاں عام طور پر مسئلہ پیدا ہوا کیونکہ لوگوں نے یہاں اس نسب نامے کو یوسف کا نسب نامہ سمجھ لیا۔ مگر یہ نسب نامہ یوسف کا نہیں بلکہ یسوع کا ہے۔ یسوع، جو معاشرے میں یوسف کا بیٹا سمجھا جاتا تھا، وہ عیلی کا بیٹا تھا جو متات کا بیٹا تھا وغیرہ وغیرہ۔وہ یوسف سے عیلی کا بیٹا نہیں تھا کیونکہ متی کے مطابق یوسف عیلی سے پیدا نہیں ہوا تھا بلکہ یعقوب سے پیدا ہوا تھا۔تو کس کے وسیلہ سے یسوع عیلی کا بیٹا تھا؟ جواب یقینا مریم کے وسیلہ سے تھا[1]۔

 

       اس کے علاوہ، ایک اور نقطہ جو مخالفت کا باعث ہے وہ متی 1باب کی17آیت میں پشتوں کی گنتی ہے، جہاں ہم پڑھتے ہیں:

 

متی1باب17آیت:
”پس سب پشتیں ابراہام سے داﺅد تک چودہ پشتیں ہوئیں اور داﺅد سے لے کر گرفتار ہوکر بابل جانے تک چودہ پشتیں اور گرفتار ہو کر بابل جانے سے لےکر مسیح تک چودہ پشتیں ہوئیں۔“

 

       اکثر لوگ درج بالا میں تین چودہ کو پڑھتے ہیں اور بجائے کہ وہ ان تین چودہ کو دیکھیں وہ واحد بیالیس(42)کو دیکھتے ہیں۔حقیقت میں، کلام کہاں بیالیس پشتوں کے بارے میں بات کرتا ہے؟ کہیں نہیں۔ صرف یہ بات کرتا ہے تو تین گروہوں میں چودہ چودہ پشتوں کی بات کرتا ہے۔ یہ گروہ کون سے ہیں؟ کلام کا جواب بہت واضح ہے:

 

پہلا گروپ ابراہام سے داﺅد کا ہے:

 

سب پشتیں ابراہام سے داﺅد تک چودہ پشتیں ہوئیں۔“

 

”ابراہام، اضحاق، یعقوب، یہودہ، فارص، حصرون، رام، عمینداب، نحسون، سلمون، بوعز، عوبید، یسی، داﺅد۔“

 

       دوسرا گروہ داﺅد سے لے کر گرفتار ہو کر بابل جانے تک کا ہے۔ اکثر لوگوں کی غلطی یہ ہے کہ اگر چہ خدا کا کلام کہتا ہے کہ ” داﺅد سے“ وہ سلیمان سے گنتی کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ کلام کی حدود بندیوں کے مطابق:

 

داﺅد سے لے کر گرفتار ہوکر بابل جانے تک چودہ پشتیں۔“

 

”داﺅد، سلیمان، رحبعام، ابیاہ، آسا، یہوسفط، یورام، عزیاہ،یوتام، آخز، حزقیاہ، منسی، امون، یوسیاہ۔“

 

       یہ چودہ پشتوں کا شاہی گروہ ہے کیونکہ اس میں سب سلاطین تھے۔ یہ گروہ داﺅد سے شروع ہوتا ہے اور سلطنت کے آخری بادشاہ یوسیاہپر اختتام پزیر ہوتا ہے۔

 

       تیسرے گروہ کے حوالے سے ہمیں بتایا جاتا ہے کہ یہ گرفتار ہو کر بابل میں جانے سے لے کر مسیح تک ہے۔

 

گرفتار ہو کر بابل جانے سے لےکر مسیح تک چودہ پشتیں ہوئیں۔“

 

”یکونیا[2]، سیالتی ایل، زربابل، ابیہودہ، الیاقیم،عازور، صدوق، اخیم، الیہودہ، الیعزر، متان، یعقوب، یوسف، یسوع۔“

 

       جیسا کہ یہ ثابت ہو گیا ہے اس لئے، جب کلام کہتا ہے کہ چودہ چودہ پشتوں کے تین گروہ تو یہی اس کا مطلب بھی ہے۔ اگر اب بھی ہم بیالیس پشتوں کو دیکھیں گے، تو ہم اس چیز کو ڈھونڈ رہے ہیں جو کلام کہتا ہی نہیں اور یقینا ہم دشواریوں میں پڑ جائیں گے۔

 

تسسوس کولچوگلو

اردو  Fahim Qaiser, Napoleon Zaki :

 

[1] اس حقیقت کو عجیب تصور نہیں کیا جانا چاہئے کہ مریم کے نام کی بجائے اس کے شوہر کا نام آیا ہے۔ کیونکہ بائبل مین موجود بہت سے دیگر نسب ناموں کا مطالعہ کرنے سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ بہت کم کسی عورت کانام نسب نامے میں آیا ہوگا۔یہی بات لوقا اور متی کے نسب ناموں میں پائی جاتی ہے کہ دونوں میں کسی عورت کا نام نہیں ہے۔اس کی وجہ بائبل کے زمانہ کے قانون اور روایات ہو سکتیں ہیں

[2] اگر چہ یکونیاہ کا ذکر دو دفعہ ہوا ہے، ایک بار متی1باب11آیت میں، جہاں ہمیں بتایا گیا ہے کہ وہ اور اس کے بھائی ”گرفتار ہو کر بابل جانے کے زمانہ میں “ پیدا ہوئے، اور دوسری بار متی کی انجیل میں اس سے اگلی آیت میں، متی1باب12آیت، جہاں یہ کہتا ہے کہ، ”گرفتار ہو کر بابل جانے کے بعد یکونیاہ سے سیالتی ایل پیدا ہوا۔۔۔“، پس اسے ان میں سے ایک گروہ میں شامل ہونا چاہئے۔ اس کی وجہ یہ ہے کیونکہ(پہلے اور دوسرے گروہ میں داﺅد کے معامللے کے برعکس) حد یکونیاہ نہیں بلکہ بابل میں اسیری ہے اور اس لئے یکونیاہ کا شمار اس حد میں سے ایک طرف ہونا چاہئے۔جس گروہ سے یکونیاہ کا تعلق ہونا چاہئے وہ تیسرا گروہ ہے ورنہ دوسرے گروہ میں پندرہ پشتیں اور تیسرے میں صرف تیرہ پش