بائبل کی سچائیاں


ہمارے جدید ترین کالم   |   
موضوع کے مطابق   |    تمام کالم   |    سبسکرائب   |    ہوم   

 

 

 

نشان زد کریں اور دوسروں کو شریک کریں

 

 

  PDF version (printer friendly)

 

 

 

تمام چیزیں مل کر خدا سے محبت رکھنے والوں کےلئے بھلائی پیدا کرتی ہیں۔

 

       جب میں نے بائبل کا مطالعہ کرنا شروع کیا تھا تو جو حوالہ جات میں نے پہلے پڑھے تھے ان میں سے ایک رومیوں8باب28آیت تھا۔   یہاں بائبل کہتی ہے:

 

رومیوں 8باب28آیت:
”اور ہم کو معلوم ہے کہ سب چیزیں مل کر خدا سے محبت رکھنے والوں کےلئے بھلائی پیدا کرتی ہیں۔
 

 

       یہاں میںدو باتوں کی نشاندہی کرنا چاہوں گا:

 

1یہ حوالہ ان لوگوں کو مخاطب کرتا ہے جو خدا سے محبت رکھتے ہیں اس لئے اگر آپ خدا سے محبت رکھتے ہیں تو یہ آپ سے بھی مخاطب ہے۔ 

 

2اس حوالہ کے مطابق سب چیزیں،  یعنی ہر کام جو رونما ہو چکا ہے،  یا ہوتا ہے یا ہوگا ،  ان لوگوں کےلئے ملکر بھلائی پیدا کرتا ہے جو اس سے محبت رکھتے ہیں۔   فقرہ، ”مل کر“ ایک سے زیادہ اشخاص کے مشترکہ کام پر لاگو ہوتا ہے۔  اگر ان میں سے ایک بھی نہ ہو تا ،  یہ ”مل کر کام کرنا“ نہ مکمل ہوتا۔   دیگر الفاظ میں،  جو شخص خدا سے محبت رکھتا ہے اس کی زندگی میں ہر چیز بھلائی کےلئے ضروری ہے،  کیونکہ یہ ان تمام چیزوں کا مشترکہ کام ہے جو اسے مہیا کرتی ہیں۔   ہم امثال12باب21آیت میں پڑھتے ہیں :

 

امثال12باب21آیت:
”صادق پر کوئی آفت نہیں آئے گی۔
 

 

       جیسا کہ Companion Bibleاس کا ترجمہ کرتی ہے کہ، ”صادق پر کوئی بے جا آفت نہیں آئے گی۔  “ جو شخص خدا سے محبت رکھتا ہے اس کی زندگی میں کچھ بھی برا،  بدی یا بے جا نہیں ہے۔  اس کے برعکس،  ہر چیز،  یہاں تک کہ وہ چیزیں بھی جنہیں ہم خوشی سے قبول نہیں کرتے،  بھلائی کےلئے خدا کی ترکیب ہے۔  یہ اتفاقیہ بات نہیں کہ خدا کا کلام کہتاہے کہ: ” جتنے مسیح یسوع میں دینداری کے ساتھ زندگی گزارنا چاہتے ہیںوہ سب ستائے جائیں گے (2تمیتھیس 3باب12آیت) اور ”صادق کی مصیبتیں بہت ہیں“(34زبور 19آیت) جبکہ اس کےس اتھ ساتھ یہ بھی بیان کرتا ہے کہ، ”صادق پر کوئی آفت نہیں آئے گی“،  پس ا س کا مطلب یہ ہے کہ مصیبتیں،  بدی یا بے جا نہیں ہیں اور یہ بھی اتفاقیہ بات نہیں ہے کہ یہ کلام کہتا ہے کہ:

 

افسیوں5باب20آیت:
”اور
سب باتوں میں ہمارے خداوند یسوع مسیح کے نام سے ہمیشہ خدا باپ کا شکر ادا کرتے رہو۔ 

 

اور1تھسلینکیوں5باب18آیت:
ہر ایک بات میں شکر گزاری کرو کیونکہ مسیح یسوع میں تمہاری بابت خدا کی یہی مرضی ہے۔ 

 

       خدا ہمیں ہر چیز کےلئے اس اک شکر ادا کرنے کو کہتا ہے۔   ہم عام طور پر اس کا شکر ادا ان چیزوں کےلئے کرتے ہیں جو خود ہمارے متعلق ہوتی ہیں۔   ہم میں سے اکثر لو گ خدا کا شکر ادا ہر چیز کےلئے نہیں کرنا چاہتے صرف اس ایک وجہ سے کہ ہم یہ نہیں جانتے کہ خدا ہر کام میں حصہ لیتا ہے۔   مگر جیسا اس کا کلام کہتا ہے کہ:

 

نوحہ3باب37اور38آیت:
وہ کون ہے جس کے کہنے کے مطابق ہوتا ہے حالانکہ خداوند نہیں فرماتا؟

 

       حتیٰ کہ شیطان بھی اس حد سے باہر نہیں جا سکتا جو خدا نے مقرر کی ہے۔  ہم ایوب 1اور2باب میں دیکھتے ہیں کہ وہ ایوب کو بنا اجازت کے آزما نہیں سکتا تھا، اور وہ اس اجازت سے آگے نہ جا سکا۔   لوقا 22باب 31آیت میں ہم دیکھتے ہیں کہ ”(شاگردوں کو) گہیﺅں کی طرح پھٹکنے“ کےلئے اسے مانگنا پڑا(یونانی لفظ”exaiteo“،  ”مانگنے سے پانا“NIV  The Interlinear Bible[1]وغیرہ بھی دیکھیں)۔   یو حنا کی انجیل میں بھی ہم دیکھتے ہیںکہ وہ یسوع کو ہاتھ نہ لگا پایا”کیونکہ اس کا وقت ابھی نہیں آیا تھا“(یوحنا 7باب30آیت ،  8 باب20آیت  1کرنتھیوں10باب13آیت میں دیکھیں کہ”روح(یعنی خدا) یسوع کو جنگل میں لے گیاتاکہ شیطان سے آزمایا جائے۔   جب ایوب کہتا ہے کہ ”کیا ہم خدا کے ہاتھ سے سکھ پائیں اور دکھ نہ پائیں؟“ (ایوب2باب10آیت  کلام کہتا ہے کہ، ایوب نے جب یہ کہا توکوئی گناہ نہیں کیاکہ، ”خداوند نے دیا خداوند نے لیا اور خدا وند کا نام مبارک ہے‘'(ایوب 1باب21آیت) اس نے دوبارہ سچ بولا” ان سب باتوں میں ایوب نے نہ تو گناہ کیا اور نہ خدا پر بے جا کام کا الزام لگایا“ (ایوب1باب22آیت)۔   جو کچھ ایوب نے کہا وہ درست اور موزوں تھا۔ 

        اگر آپ سوچیں کہ آپ ابھی تک بے روز گار کیوں ہیںیا آپ تنہا کیوں ہیں یا ابھی تک آپ کو شفا کیوں نہیں ملی یا فلاں فلاں کام کیوں ہو گیاتو وہ کریں جو راستباز ایوب نے کیا:  ان سب کےلئے خدا کو جلال دیں ۔   کیونکہ،  ”سب چیزیں مل کر خدا سے محبت رکھنے والوں کےلئے بھلائی پیدا کرتی ہیں۔   جو چیز آپ کو اس وقت مصیبت لگتی ہے ،  وہ بھلائی کےلئے ضروری ہے۔   ورنہ یقین رکھیں کہ آپ کو یہ کبھی نہیں ملے گی۔   خدا کو جلال دیں اور اس پر بھروسہ رکھیں۔   ہر بات میں اس کی شکر گزاری کریں، آپ کو شاید سب چیزوں میں کچھ”برائی “ بھی نظر آئے گیمگر ہم اسے سمجھتے ہیں کہ، ”صادق پر کوئی آفت نہ آئے گی۔  اور آپ صادق ہیں(رومیوں3باب 21تا 26 آیت)۔ 

اس صورِ ت حال میں پولوس نے کہا:

 

2کرنتھیوں12باب7تا10آیت:
”اور مکاشفوں کی زیادتی کے باعث میرے پھول جانے کے اندیشہ سے میرے جسم میں کانٹا چبھویا گیا یعنی شیطان کا قاصد تاکہ میرے مکے مارے اور میں پھول نہ جاﺅں۔
   اس کے بارے میں میں نے تین بار خداوند سے التماس کیا کہ یہ مجھ سے دور ہو جائے۔  مگر اس نے مجھ سے کہا کہ میرا فضل تیرے لئے کافی ہے کیونکہ میری قدرت کمزوری میں پوری ہوتی ہے۔  پس میں بڑی خوشی سے اپنی کمزوری پہ فخر کروں گا تا کہ مسیح کی قدرت مجھ پر چھائی رہے۔  اس لئے میں مسیح کی خاطر کمزوری میں۔   بے عزتی میں ، احتیاج میں ،  ستائے جانے میں،  تنگی میں خوش ہوں کیونکہ جب میں کمزور ہوتا ہوں اسی وقت زور آور ہوتا ہوں۔ 

 

       پولوس نے اپنی کمزوریوں پہ فخر کیا۔   بے عزتی،  احتیاج،  تنگی،  ستایا جانا اس کےلئے خدا کی طرف سے مواقع تھے جن کی بدولت وہ خدا کی قدرت دیکھتا تھا۔  ”جسم میں کانٹا“ اکیلا نہیں ہوا۔   یہ اسے دیا گیا ہے،  تا کہ وہ پھول نہ جائے۔   یقینا،  یہ کانٹا تکلیف دہ تھااور وہ اس سے چھٹکارہ حاصل کرنا چاہتاتھا،  تاہم اس نے اسے اس طرح پھول جانے سے بچایا۔   ہو سکتا ہے کہ پولوس تیسری بار خداوند کے پاس جانے سے ہچکچایا ہو،  کہ اس کی دعا کو پہلی دو مرتبہ کیوں نہ سنا گیا، ۔   شاید ہم بھی یہ نہ سمجھ پائیں کہ ہماری چند دعائیں تو بہت جلد قبول ہو جاتی ہیں جبکہ باقی نہیں ہوتیں،  حتیٰ کہ اس کےلئے ہم اپنا دل اور وقت نثار کر دیتے ہیں۔   تاہم،  ہمیں سمجھنے کےلئے نہیں بلکہ ایمان لانے کو کہا گیا ہے۔   یہ ایمان رکھنے کو کہ چونکہ ہم خدا سے محبت رکھتے ہیں تو سب چیزیں مل کر بھلائی پیدا کرتی ہیں۔   جیسے کہ وہ کہتا ہے :

 

یسعیاہ55باب8اور9آیت:
”خداوند فرماتا ہے کہ میرے خیال تمہارے خیال نہیں اور نہ میری راہیں تمہاری راہیں ہیں ۔
   کیونکہ جس قدر آسمان زمین سے بلند ہے اسی قدر میری راہیں تمہاری راہوں سے اور میرے خیال تمہارے خیالوں سے بلند ہیں۔ 

 

یرمیاہ29باب11آیت:
”کیونکہ میں تمہارے حق میں اپنے خیالات جانتا ہوں خداوند فرماتا ہے یعنی سلامتی کے خیالات برائی کے نہیں تا کہ میں تم کو نیک انجام کی امید بخشوں۔
 

 

اور رومیوں1باب17آیت:
”راستباز
ایمان سے جیتا رہے گا۔ 

 

       زندہ رہنے کےلئے ہمیں ایمان کی ضرورت ہے۔   ہمیں اس پر بھروسہ رکھنے اور خود کو مکمل طور پر اس کے سپرد کرنے کی ضرورت ہے۔   ہماری مرضی کا پورا ہونا ضروری نہیں ۔   بلکہ اس کی مرضی کا پورا ہونا ضروری ہے،  کیونکہ وہ ہماری مرضی سے کہیں زیادہ بلند ہے۔ 

 

1   ”سب چیزیں مل کر خدا سے محبت رکھنے والوں

کےلئے بھلائی پیدا کرتی ہیں“:  چند مثالیں:

        جو کچھ ہم نے ابھی پڑھا اس حوالہ سے چند مثالیں دیکھیں گے۔   آغاز کرنے کےلئے ہم فلپیوں1باب12تا18آیت میں پڑھتے ہیں :

 

فلپیوں1باب12تا18آیت:
”اے بھائیو! میں چاہتا ہوں کہ تم جان لو کہ
جو مجھ پر گزراا وہ خوشخبری کی ترقی کا ہی باعث ہوا۔   یہاں تک کہ قیصری سپاہی کی ساری پلٹن اور باقی سب لوگوں میں مشہور ہو گیا کہ میں مسیح کے واسطے قید ہوں۔  اور جو خداوند میں بھائی ہیں ان میں سے اکثر میرے قید ہونے کے سبب سے دلیر ہو کر بے خوف خدا کا کلام سنانے کی زیادہ جرات کرتے ہیں۔   بعض تو حسد اور جھگڑے کی وجہ سے مسیح کی منادی کرتے ہیں اور بعض نیک نیتی سے۔   ایک تو محبت کی وجہ سے یہ جان کر مسیح کی منادی کرتے ہیں کہ میں خوشخبری کی جواب دہی کے واسطے مقرر ہوں۔  مگر دوسرے تفرقہ کی وجہ سے نہ کہ صاف دلی سے بلکہ اس خیال سے کہ میری قید میں میرے لئے مصیبت پیدا کریں۔   پس کیا ہوا؟ صرف یہ کہ ہر طرح سے مسیح کی منادی ہوتی ہے خواہ بہانے سے ہو خواہ سچائی سے اوراس سے میں خوش ہوں اور رہوں گا بھی۔ 

 

       پولوس قید خانہ مین تھا۔   ”قدرتی طور پر“ بات کرتے ہوئے،  کوئی بھی شخص اس صورتِ حال میں امید کرے گا کہ یہ وقت انجیل کےلئے غیر موزوں تھا۔  مگر دیکھیں وہ کی اکہتا ہے: ”جو کچھ مجھ پر گزرا وہ خوشخبری کی ترقی کا ہی باعث ہوا“،  اور” جو خداوند میں بھائی ہیں ان میں سے اکثر میرے قیدہونے کے سبب سے دلیر ہو کر بے خوف خدا کا کلام سنانے کی جرات کرتے ہیں۔  “ پولوس کی قید ناصرف رکاوٹ کا باعث نہیں تھی بلکہ ا س سے انجیل کی ترقی کا کام بھی ہوا۔  یہ دوسرے بھائیوں کے وسیلہ سے دلیری کے ساتھ انجیل سنانے کی طاقت بن گیا۔  یہ شاید انجیل کےلئے منفی نظر آتا ہوکہ پولوس قید میں تھا مگر ایسا نہیں تھا۔  اس کی بجائے،  اس کا انجیل پر مثبت اثر ہوا کیونکہ یہ اس کی ترقی کا باعث ٹھہرا۔  اعمال16باب22تا25آیت میں ہم پڑھتے ہیں:

 

اعمال16باب22تا25آیت:
”اور عام لوگ بھی متفق ہو کر انکی مخالفت پر آمادہ ہوئے اور فوجداری کے حاکموں نے ان کے کپڑے پھاڑ کر اتار ڈالے اور بینت لگانے کا حکم دیا۔
   اور بہت سے بینت لگوا کر انہیں قید خانہ میں ڈالا اور داروغہ کو تاکید کی کہ بڑی ہوشیاری سے ان کی نگہبانی کرے۔  اور اس نے ایسا حکم پا کر انہیں اندر کی قید میں ڈال دیا اور ان کے پاﺅں کانٹھ میں ٹھونک دئیے۔   آدھی رات کے قریب پولوس اور سیلاس دعا کر رہے اور خدا کی حمد کے قید گا رہے تھے اور قیدی سن رہے تھے۔ 

 

       پولوس اور سیلاس اپنی حالت کےلئے خدا کے آگے بحث نہیں کر رہے تھے،  بلکہ وہ اس سے دعا کر رہے تھے اور گیت گا رہے تھے۔   ان کے قائم رہنے سے،  تمام قیدیوں نے اس رات خدا اکا کلام،  زبان سے اور دعا اور گیتوں کے ذریعے،  سنا۔  کیا انہوں نے پہلے کبھی یہ کلام سنا ہوگا،  کیا کسی نے کبھی انہیں یہ سنایا ہوگا؟میرا خیال ہے نہیں۔  مگر آئیے مزید پڑھتے ہیں:

 

اعمال16باب26تا34آیت:
”کہ یکایک بڑا بھونچال آیا کہ قید خانہ کی نیو ہل گئی اور اسی دم سب دروازے کھل گئے اور سب کی بیڑیاں کھل گئیں۔
   اور داروغہ جاگ اٹھا اور قید خانہ کے دروازے کھلے دیکھ کر سمجھا کہ قیدی بھاگ گئے۔   پس تلوار کھینچ کر اپنے آپ کو مار ڈالنا چاہا۔   لیکن پولوس نے بڑی آواز سے پکار کر کہا اپنے تئیں نقصان نہ پہنچا کیونکہ ہم سب موجود ہیں۔   وہ چراغ منگوا کر اندر جا کودا اور کانپتا ہوا پولوس اور سیلاس کے آگے گرا۔   اور انہیں باہر لا کر کہا اے صاحبو! میں کیا کروں کہ نجات پاﺅں؟انہوں نے کہا کہ یسوع خداوند مسیح پر ایمان لا تو تو اورتیرا گھرانا نجات پائے گا۔  اور انہوں نے اس کو اور اس کے سب گھر والوں کو خداوند کا کلام سنایا۔   اور اس نے رات کو اسی گھڑی انہیں لے جا کر ان کے زخم دھوئے اور اسے وقت اپنے سب لوگوں سمیت بپتسمہ لیا۔  اور انہیں اوپر گھر میں لے جا کر دستر خوان بچھایا اور اپنے سارے گھرانے سمیت خدا پر ایمان لا کر بڑی خوشی کی۔ 

 

       کیا یہ سب کچھ ہو پاتا اگر پولوس اور سیلاس قید میں نہ ڈالے گئے ہوتے؟ اگر پولوس اور سیلاس وہاں نہ ہوتے تو کیا ہم اس داروغہ اور اس کے خاندان کو آسمان میں دیکھ پاتے؟ میرا خیال ہے نہیں۔   ہم ”قید“ سنتے اور ”بدی“ کہتے ہیں،  تاہم اس کے خیالات ہمارے خیالات سے کہیں بلند ہیں۔ 

 

2نتیجہ:

        درج بالا سے،  جو کسی بھی طرح موضوع کو کمزور نہیں کرتا[2]،  ہم یہ نتیجہ اخذ کر سکتے ہیں کہ اگر ہم خدا سے محبت رکھتے ہیں ،  ہماری زندگی میں جو کچھ بھی ہو جائے،  اچھا یا برا،  سب مل کر بھلائی پیدا کرتا ہے۔   بہت سے لوگ جب”کلام کے باعث دکھ یا مصیبت آئے“ تو پریشان ہو جاتے ہیں(متی 13باب21آیت)۔   تا ہم،  اگر ہم خدا سے محبت رکھتے ہیں تو مصیبتیں اور دکھ بھی بھلائی کےلئے کام کرتے ہیں۔ 

 

رومیوں5باب3آیت:
”اور صرف یہی نہیں بلکہ مصیبتوں میں بھی فخر کریں یہ جان کر کہ
مصیبت سے صبر
پیدا ہوتا ہے۔ 

 

2کرنتھیوں4باب17آیت:
”کیونکہ ہماری دم بھر کی ہلکی سی مصیبت
ہمارے لئے از حد بھاری اور ابدی جلال پیدا کرتی ہے۔ 

 

یعقوب1باب2تا4آیت:
”اے میرے بھائیو! جب تم طرح طرح کی مصیبتوں میں پڑو تو اس کو یہ جان کر
کمال خوشی کی بات سمجھنا کہ تمہارے ایمان کی آزمائش صبر پیدا کرتی ہے۔   اور صبر کو اپنا پورا کام کرنے دو تا کہ تم پورے اور کامل ہو جاﺅ اور تم میں کسی بات کی کمی نہ رہے۔ 

 

عبرانیوں5باب8آیت:
”اور باوجود بیٹا ہونے کے
اس نے (مسیح کی بات کرتے ہوئے) دکھ اٹھا اٹھا کر فرمانبرداری سیکھی۔ 

 

       مصیبتیں”ہمارے لئے کام کر رہی ہیں ۔  “وہ صبر کا کام کرہی ہیں۔   وہ جلال کا کام کر رہی ہیں۔   وہ فرمانبرداری کا کام کرتی ہیں۔   خدا سے محبت رکھنے والے بندے کی زندگی میں کچھ بھی غلط نہیں ہے۔   اس کی بجائے ”سب چیزیں مل کر خدا سے محبت رکھنے والوں کےلئے بھلائی پیدا کرتی ہیں۔ 

  

تسسوس کولچوگلو

اردو  Fahim Qaiser, Napoleon Zaki :

 



[1] دیکھیں"The Companion Bible", p. 1501

[2] مزید مثالوں کےلئے چند ایک جو میرے ذہن میں فی الحال ہیں انہیں دیکھیں یوسف،  روت آستراور مردکی،  اور دانی ایل۔