بائبل کی سچائیاں

 

 

 

 

نشان زد کریں اور دوسروں کو شریک کریں

 

 

  PDF version (printer friendly)

 

 

جدعون او ر خدا نے اس سے کیسے کام لیا  

 

       بائبل اور خاص طور پر پرانے عہد نامے میں ایسے بہت سے ریکارڈ ملیں گے جو ظاہر کرتے کہ خدا نے کس طرح بہت سے آدمیوں سے کام لیا ۔   ان ریکارڈ میں سے ایک جدعون ہے ،جس کے بارے میں اس تجزیہ کیا جائے گا  ۔  

 

 1پسمنظر :

         ہماری کہانی کے زمانے کے حوالے سے ،ہم اس دور میں ہیں جب اسرائیل پر قضات راج کرتے تھے  ۔   آخری قاضی (جدعون سے پہلے )دبورہ تھی ،خدا کی بندی ،جس کے وسیلہ سے ”ملک میں چالیس برس امن رہا “(قضات 5باب 31 آیت )  ۔    تاہم ،یہ امن زیادہ وقت تک قائم نہ رہا  ۔   قضات 6باب1تا6آیت ہمیں بتاتی ہے :

 

قضات 6باب1تا6آیت :
 
بنی اسرائیل نے خداوند کے آگے بدی کی اور خداوند نے ان کو سات برس تک مدیانیوں کے ہاتھوں میں رکھا ۔    اور مدیانیوں کا ہاتھ اسرائیلیوں پر غالب ہوا اور مدیانیوں کے سبب سے بنی اسرائیل نے اپنے لئے پہاڑوں میں کھوہ اور غار اور قلعے بنا لئے ۔    اور ایسا ہوتا تھا کہ جب بنی اسرائیل کچھ بوتے تھے تو مدیانی اور عمالیقی اور اہلِ مشرق ان پر چڑھ آتے تھے ۔    اورا نکے مقابل ڈیرے ڈال کر غزہ تک ان کے کھیتوں کی پیداوار برباد کر دیتے تھے اور بنی اسرائیل کے نہ تو کوئی معاش نہ بھیڑ بکری نہ بیل نہ گدھا چھوڑتے تھے ۔    کیونکہ وہ اپنے چوپائیوں اور ڈیروں کو ساتھ لے کر آتے اور ٹڈیوں کے دل کی مانند آتے اور وہ اور ان کے اونٹ بیمار ہوتے تھے ۔   یہ لوگ ملک کو تباہ کرنے کیلئے آ جاتے تھے ۔   سو اسرائیلی مدیانیوں کے سبب سے نہایت خستہ حال ہو گئے اور بنی اسرائیل خداوند سے فریاد کرنے لگے ۔  

 

       چالیس امن کے بعد ،اسرائیل ،مدیاقیوں کے باعث ،بہت بڑی اذیت میں تھے ،جیسا کہ متن ہمیںبتاتا ہے ،انہوں نے ان کی ملکیت اس حد تک تباہ کر دی کہ ”،نہ تو کچھ معاش ،نہ بھےڑ بکری نہ گائے بیل نہ گدھا چھوڑے تھے،“ (قضات 6باب4آیت ) ۔   تاہم یہ تمام تر تباہیاں اتفاقاَرونما نہیں ہو ئیں  ۔   قضات 6باب1آیت ہمیں ان کی وجو ہات دیتی ہے :

 

قضات 6باب1آیت :
 
”بنی اسرائیل نے خداوند کے آگے بدی کی اور خداوند نے ان کو سات برس تک مدیانیوں کے ہاتھوں میں رکھا ۔“

 

       ”اور بنی اسرائیل نے خدا کے آگے بدی کی “ ۔   یہ ان کی اذیت کی وجہ تھی [1]جس کا ایک مثب نتیجہ بھی تھا  ۔   قضات 6باب6آیت ہمیں بتاتی ہے :

 

قضات 6باب6آیت :
 
”سو اسرائیلی مدیانیوں کے سبب سے نہایت خستہ حال ہو گئے اور بنی اسرائیل خداوند سے فریاد کرنے لگے ۔  

 

       ان کے دکھ کے باعث بنی اسرائیل نے خداوند کے آگے چلانا شروع کردیا ،دوبارہ یہ پہلی دفعہ نہیں تھا کہ انہوں نے اس طرح کا رویہ اختیار کیا ہو ،حقیقتاَ ،اگرچہ خدا کے حضور انہوں نے بہت دفعہ بدی کی ،جھوٹے معبودوں کی پرستش کی جب ان پر آفات نازل ہو نا شروع ہو ئیں وہ سچے خدا کی طرف مڑنا اور اس کی تلاش کرنا شروع ہو گئے [2] ۔   7تا 11آیات ہمیں بتاتی ہیں کہ کس طرح خدا نے ان کی آواز کا جواب دیا :

 

 قضات 6باب6تا10آیت :
 
”سو اسرائیلی مدیانیوں کے سبب سے نہایت خستہ حال ہو گئے اور بنی اسرائیل خداوند سے فریاد کرنے لگے ۔   اور جب بنی اسرائیل مدیانیوں کے سبب سے خداوند کے آگے فریاد کرنے لگے تو خداوند نے بنی اسرائیل کے پاس ایک نبی بھیجا ۔   اس نے ان سے کہا کہ خداوند اسرائی کا خدا یوں فرماتا ہے کہ میں تم کو مصر سے لایا اور میں نے تم کو مصر کی غلامی کے گھر سے باہر نکالا ۔    اور میں نے مصریوں کے ہاتھ سے اور ان سبھوں کے ہاتھ سے جو تم کو سناتے تھے تم کو چھڑایا اور تمارے سامنے سے ان کو دفع کیا اور ان کا ملک تم کو دیا ۔   اور میں نے تم سے کہا تھاکہ خداوند تمہارا خدا میں ہوں  ۔    سو تم ان اموریوں کے دیوتاﺅں سے جن کے ملک میں تم بستے ہو مت ڈرنا پر تم نے میری بات نہ مانی ۔  

 

       اسرائیل کی آواز کے جواب میں ،خد انے اپنا نبی بھےجا جس نے اس کا کلام سنایا ،انہیں اس کام سے دھمکاتے ہو ئے جو وہ کر رہے تھے  ۔   ظاہر ہے ،نہ تو خدا خاموش رہا اور نہ وہ ان سے ناراض رہا  ۔   بلکہ ،اس حقیقت کے باوجود کہ بہت دفعہ انہو ں نے اسے ترک کر دیا ،لکڑی اور پتھر کی پرستش کرتے ہو ئے ،جب وہ اسکی طر ف واپس آئے ،وہ وہاں ہی تھا ،ان کو بچانے کے لئے تیار تھا  ۔   ہمارے اس معاملے میں ،اس کا پہلا قدم ایک نبی ہمیں ڈرانے کے لئے بھیجنا تھا ،اور انہیں خدا کا کلام سنا نے کے لئے تھا  ۔   تا ہم ،یہ صرف شروعات تھی  ۔   اس کے بعد والے حصے میں ،ہم دیکھیں گے کہ اس نے انہیں بچانے کے لئے اور کیا کیا کیِا  ۔  

 

 2 خدا اور جدعون :آغاز

        اسرائیل کو دھمکانے کے لئے خدا نے نبی بھیجا تو اس کے بعد ،اس کا دوسرا قدم اس شخص کے پا س پہنچنا تھا جس کا نام جدعون تھا  ۔   قضات 6باب11اور 12آیت  ہمیں بتاتی ہے کہ :

 

قضات 6باب11اور12آیت :
 
”پھر خداوند کا فرشتہ آکر عفرہ میں بلوط کے ایک درخت کے نیچے جو یوآس ابیعزری کا تھا بیٹھا اور اس کا بیٹا جدعون مے کے کولھوں میں گہیﺅں جھاڑ رہا تھا تاکہ اس کو مدیانیوں سے چھپا رکھے ۔   اور خداوند کا فرشتہ اس کو دکھائی دے کر کہنے لگا اے زبردست سورما! خداوند تیرے ساتھ ہے ۔  

 

       جب ہم پڑھتے ہیں کہ ایک فرشتہ جدعون کے سامنے حاضرہوا ،آئےے ہم ایک سفید پوش ،دو برے بڑے سفےد رنگ کے اڑتے ہوئے پروں والے شخص کا تصور نہ کریں  ۔   کہ اس قسم کے فرشتے کا تصور پرانی کہانی کے سوا اور کچھ نہیں ہے۔   بائبل کسی جگہ یہ نہیں کہتی کہ فرشتے کے پر تھے،یا یہ کہ وہ سفید رنگ کی پوشاک اوڑتے ہیں یا وہ ننگے ہیں  ۔   بائبل کہتی ہے کہ ،”وہ سب خدمت گار روحیں  ہیں جو نجات کی میراث پانے والوں کی خدمت کو بھیجی جاتی ہیں “(عبرانیوں 1باب14آیت )اور ان کا تصور بھی ایسا ہی ہو نا چاہئے  ۔  

 

       ہمارے موضوع کی طر ف بڑھتے ہوئے ،دیکھیں خدا نے کس طرح جدعون کا استقبال کیا  ۔   اس نے اسے ”اے زبردست سورما“کہا ،جب وہ ایک غریب آدمی تھا جو گندم کا ٹتا تھا کہ مدیانیوں سے اس کو پوشیدہ رکھے  ۔   تاہم ،خدا کیلئے وہ زبردست سورما،ایسا شخص جو وفاداری سے اس کے احکامات کی پابندی کرتا اور اس پر ایمان لاتا تھا  ۔   اس کے بعد کی آیات فرشتے کے استقبال پر جدعون کے جواب کو بیان کرتی ہیں :

 

 قضات6باب13اور14آیت :
 
”جدعون نے اس سے کہا کہ اے میرے مالک اگر خداند ہی ہمارے سات ہے تو ہم پر یہ سب حادثے کیوں گزرے اور اس کے وہ سب عجیب کام کہاں گئے جن کا ذکر ہمارے باپ دادا ہم سے یوں کیا کرتے تھے کہ کیا خداوند ہی ہم کو مصر سے نہیں نکال لایا ؟ پر اب تو خداوند نے ہم کو چھوڑ دیا اور ہم کو مدیانیوں کے ہاتھ میں کر دیا ۔   تب خداوند نے اس پر نگاہ کی اور کہا کہ تو اپنے اسی زور میں جا اور بنی اسرائیل کو مدیانیوں کے ہاتھ سے چھڑا  ۔    کیا میں نے تجھے نہیں بھیجا؟ “

 

       جد عون نے ایک سوال کیا کہ اگر خدا ان کے ساتھ ہے تو یہ سب آفات ان پر کیوں ہو رہی ہیں  ۔   اس کے باوجود ،ایسا نہیں تھا کہ خدا ان کے ساتھ نہیں تھا ،بلکہ وہ خدا کے ساتھ نہیں تھے  ۔   جدعون کے سوال کے جواب میں ،خدا نے اسے آگے بڑھنے کو کہا ،اسے یہ یقین دلاتے ہو ئے کہ وہ ہی ہے جو بنی اسرائیل کو رہائی دے گا ”کیا میں نے تجھے نہیں بھیجا ؟“اس نے اسے یہ سب بتایا  ۔   دراصل ،یہ خدا ہی تھا جس نے اسے بھےجا تھا  ۔   یہ ایسا مشن نہ تھا جو جدعون نے تیار کیا تھا  ۔   وہ تو وہاں مدیانیوں سے بچنے کے لئے گندم کی کٹائی کر رہا تھا  ۔   یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اس کے ذہن میں یہ خیال کبھی بھی نہ آیا ہو کہ وہ ایک ایسا شخص ہو گا جو بنی اسرائیل کو مدیانیوں سے بچائے گا ،تاہم ،جو کچھ فرشتہ نے کہا اس سے ہم یہ بخوبی کہہ سکتے ہیں کہ اب اس کے پاس اس حوالے سے سنجیدگی کے ساتھ سوچنے کے لئے بہت سی وجوہات تھیں  ۔   15تا16آیات ہمیں جدعون کا جواب پیش کرتی ہیں :

 

قضات 6باب 15اور16آیت :
 
”اس نے اس سے کہا کہ اے مالک! میں کس طرح بنی اسرائیل کو بچاﺅں؟ میرا غریب منسی میں سے سے غریب ہے اور میں اپنے گھر میں سب سے چھوٹا ہوں  ۔   خداوند نے اس سے کہا میں ضرور تیرے ساتھ رہوں گا اور تو مدیانیوں کو ایسا مار لے گا جیسے ایک آدمی کو ۔  

 

       اگر کسی ایسے شخص کی پیروی آسانی سے کر سکتے ہیں جسے وہ جانتے ہیں کہ وہ ہمارا راہنما ہے ،مثال کے طور پر ،بادشاہ ،جنرل وغیرہ  ۔   لیکن جدعون ؟اسکی پیروی کون کرے گا؟وہ ایک غیر آشنا شخص تھا  ۔   اس کے باوجود ایک بار پھر خدا نے سے یقین دلایا کہ وہ اس کے ساتھ رہے گا ۔   میں ضرور تیرے ساتھ ہوں گا اور تو مدیانیوں کو ایسا مارے گا جیسے ایک آدمی کو  ۔   “یہ خدا نے کہا اسی لئے جدعون کے پاس خوف زدہ ہونے کا سبب نہیں تھا  ۔   تاہم ،بعض اوقات خدا کسی ایسی چیز کا وعدہ کرتا ہے جو کیو نکہ بہت زیادہ اچھی ہو تی ہے تو ہم اس پر ایمان دھیرے دھیرے لاتے ہیں  ۔   ہم حیران ہوتے ہیں کہ ،”کیا یہ زبردست کام میرے ساتھ ہو گا ؟“”کیا خدا واقعی مجھے یہ دے گا ؟“جدعون کے خیالات بھی اسی قسم کے تھے  ۔   17تا24آیات ہمیں بتاتی ہیں :

 

 قضات 6باب17تا24آیت :
 
”تب اس نے اس سے کہا کہ اب اگر مجھ پر تیرے کرم کی نظر ہو ئی تو اس کا مجھے کو ئی نشان دکھا کہ مجھ سے تو ہی باتیں کرتا ہے  ۔   اور میں تیری منت کرتا ہو ں کہ تو یہاں سے نہ جا جب تک میں تیرے پاس پھر نہ آﺅ ں اور اپنا ہدیہ نکال کر تیرے آگے نہ رکھوں  ۔   اس نے کہا کہ جب تک تو پھر آنہ جائے میں میں ٹھہرا رہو نگا  ۔   تب جدعون نے جا کر بکری کا ایک بچہ اور ایک ایفہ آٹے کی فطیری روٹیاں تیار کیں اور گوشت کو ایک ٹوکری میں اور شور با ایک ہانڈی میں ڈالکر اسکے پاس بلوط کے درخت کے نےچے لاکر گزرانا  ۔   تب خدا کے فرشتہ نے اسے کہا اس گوشت اور فطیری روٹیوں کو لے جا کر اس چٹان پر رکھ اور شوربا کو انڈیل دے  ۔   اس نے ویسا ہی کیا  ۔   تب خداوند کے فرشتہ نے اس عصا کی نوک سے جو اسکے ہاتھ میں تھا گوشت اور فطیری روٹیوں کو چھوا اور اس پتھر سے آگ نکلی ور اس نے گوشت اور فطیری روٹیوں کو بھسم کردیا ۔    تب خداومد کا فرشتہ اسکی نظرسے غائب ہو گیا  ۔   اور جدعون نے جان لیا کہ وی خداوند کا فرشتہ تھا ۔   سو جدعون کہنے لگا افسوس ہے اے مالک خداوند کہ میں نے خداوند کے فرشتہ کو روبرو دیکھا  ۔   خداوند نے اس سے کہا کہ تیری سلامتی ہو!خوف نہ کر  ۔   تو مر ےگا نہیں  ۔   تب جدعون نے وہاں خداوند کیلئے مذبح بنایا اور اسکا نام یہواہ سلوم رکھا اور وہ ابغیریوں کے عفرہ میں آج تک موجود ہے  ۔  

 

       یہ ہم نے پہلی بار دیکھاہے کہ جدعون نے پو چھا اور خدا نے اس کے لئے ایک نشان ظاہر کیا ،تا ہم ،یہ ایک ہی نہیں ہے  ۔   ہم مزےد بھی دیکھیں گے جوں جوں ہم اور پڑھتے جا ئیں گے  ۔   اس وقت یہ کہنا کافی ہو گا کہ نشان ظاہر کرنے کا پو چھنے سے پہلے جدعون حالات کے مطابق خدا کی مرضی جانتا تھا اس نے نشان کی بدولت خدا کی مرضی کی تصدیق کرنے کے لئے یہ نہیں مانگا تھا ،بلکہ اس نے اس بات کی تصدیق کیلئے نشان مانگا جو خدا اسے بتا چکا تھا ،اور جو خدا کی مرضی تھی  ۔   جدعون کی اس التجا پر ،خدا نے وہ دیتے ہو ئے جو اس نے مانگا تھا ،مثبت جواب دیا  ۔  

 

       اگرچہ یہ بات ظاہر ہے کہ روحانی طور پر یہ دن جدعون کیلئے سرگرم تھا ،تا ہم یہ کام رات بھر جاری رہا  ۔   25تا27آیات ہمیں بتاتی ہیں کہ :

 

 قضات 6باب25تا27آیت :
” اور اسی رات خداوند نے اسے کہا کہ اپنے باپ کا جوان بیل یعنی وہ دو سرا بیل جو اساتھ برس کا ہے لے اور بعل کے مذبع کو جو تیرے باپ کا ہے ڈھادے اور اسکے پا س کی یسیرت کو کاٹ ڈال
 ۔   اور اور خداوند اپنے خدا کے لئے اس گڑھی کی چوٹی پر قاعدہ کے مطابق ایک مذبع بنا اور اس دوسرے بیل کو لیکر اس یسیرت کی لکڑی سے جسے تو کاٹ ڈالیگا سوختنی قربانی گذران  ۔   تب جدعون نے اپنے نوکروںمیں سے دس آدمیوں کو ساتھ لے کر جیساخداوند نے فرمایا تھا کیا اور چونکہ وہ یہ کام اپنے باپ کے خاندان اور اس شہر کے باشندوں کے ڈر سے دن کو نہ کر سکا اس لئے اسے رات کو کیا  ۔  

 

        خدا نے جدعون سے کہا کہ بعل کی قربانگاہ گرا دے اور جو وہاں بسیرت تھی اسے کاٹ ڈالے  ۔   قربانگاہ اور بسیرت کی موجودگی اور اس پر لوگوں کا رد عمل ،کہ مزید پڑھتے ہو ئے یہ دیکھا جا سکتا ہے ،جب وہ گرا دئےے گئے تو لوگ بہت غصے میں تھے (قضات 6باب28تا30 آیت دیکھیں )،اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ جو بدی بنی اسرائیل نے خدا کی نظر میں کی وہ بتوں کی پوجا تھی  ۔   یہ اس بات کو بھی ظاہر کرتا ہے کہ بنی اسرائیل میں سے صرف چند ایک خداوند کی طرف پھرے نہ کہ سب  ۔   تاہم ،ان چند لوگوں کے باعث ،خدا ساری قوم کو بچائے گا  ۔  

 

خدا اور جدعون :مدیانیوں کے ساتھ جنگ :

        یہ دیکھنے کے بعد کہ بنی اسرائیلوں کا خدا کے آگے چلانے کے بعد خدا کس طرح جدعون پر حاضر ہوا اور کس طرح اس نے بتایا کہ وہ اسرائیل کو بچائے گا ،آئےے اب دیکھتے ہیں کہ آگے کیا ہوا  ۔   33آیت سے شروع کرتے ہیں :

 

قضات 6باب33تا35آیت :
 
”تب مدیانی اور عمالیقی اور اہل مشرق اکٹھے ہو ئے اور پا ر ہو کر یزرعیل کی وادی میں انہوں نے ڈیرا کیا  ۔   تب خداوند کی روح جدعون پر نازل ہو ئی سو اس نے نر سنگا پھونکا او ر ابےعرز کے لوگ اس کی پیروی میں اکٹھے ہو ئے  ۔   پھر اس نے سارے منسی کے پاس قاصد بھیجے ۔   سو وہ بھی اس کی پیروی میں فراہم ہو ئے اور اس نے آشر اور زبون اور نفتا لیکے پاس بھی قاصد روانہ کئے  ۔   سو وہ انکے استقبال کو آئے ۔  

 

       ایسا لگ رہا ہے کہ جدعو ن کے مشن کا وقت آپہنچا ہے ۔   اسرائیل کے دشمن ،”مدیانی اور عمالیقی اور اہل مشرق“ایک جگہ جمع ہو گئے  ۔   اس وقت خدا نے جدعون کو تمام بنی اسرائیل کو ایک جمع ہونے کا پیغام بھیجنے کیلئے حکم دیا۔   دیکھیں یہاں خد اہی ہے جو جدعون کو اس وقت جنگ کا آغاز کرنے کا حکم دے رہا ہے  ۔   ایسا لگتا ہے کہ خد ااس جنگ کا منصوبہ سا زتھا اور جدعون اس پر عمل کرنے والا تھا  ۔   خدا کے کہے بغیر ،جدعون کیلئے یہ جاننا ناممکن تھا کہ اسے کیا کرنا ہے  ۔   جدعون کے اس بات پر ایمان لانے کے بغیر جو خد ا نے اسے بتایا تھا ،تاکہ اس پر عمل کرے ،خدا کی مرضی پو ری نہ ہو پاتی  ۔   اس لئے اس مشن کی کامیابی کا انحصار خدا اور جدعون کے تعاون پر تھا  ۔   یہ جدعون نہیں تھا جس نے خود ہی فیصلہ کیا اور اس پر عمل بھی کیا ،بلکہ فیصلہ کرنے والا خدا تھا اور جدعون اس پر عمل کرنے والا تھا  ۔   جب بھی ہم خدا کی مرضی پو ری کرنا چاہتے ہیں تو یہی اصول لاگو ہو تا ہے :خدا نے ہم پر اپنی مرضی ظاہر کرنا ہو تی ہے  ۔   جو اپنے کلام یا مکاشفہ کی بدولت کرتا ہے  ۔   اور ہم وہ ہیں جنہیں اسکی مرضی کے مطابق کام کرنا ہے  ۔   صرف یہی طریقہ ہے جو ہمارے ہرکام میں کامیابی کی ضمانت ہے  ۔  

 

       جدعون کی طرف آتے ہو ئے ،خدا نے نہ صرف اسے یہ بتایا کہ اسے کیا کرنا ہے بلکہ اس نے اسے ان سب پر ایمان رکھنے اور عمل کرنے میں بھی مدد دی  ۔   دراصل ،جیسا کہ ہم نے پہلے دیکھا جدعون نے خدا سے نشان مانگا تو خدا نے اسے یہ دے دیا  ۔   تاہم وہ یہاں رکا نہیں بلکہ وہ مزید آگے بڑھا کیو نکہ جدعون کو مزید مدد کی ضرورت تھی  ۔   پس جب بنی اسرائیل جدعون کے پیچھے ہو لئیے،اس نے دوبارہ خدا سے نشان مانگا ۔   36تا38آیت بتاتی ہے :

 

قضات 6باب36تا38آیت :
 
”تب جدعون نے خدا سے کہا کہ اگر تو اپنے قول کے مطابق میرے ہاتھ کے وسیلہ سے بنی اسرائیل کو رہائی دینی چاہتا ہے  ۔   تو دیکھ میں بھےڑ کی اون کھلیہان میں رکھ دوں گا سو اگر دس فقط اون ہی پر پڑے اور آس پا س کی زمین سب سوکھی رہے تو میں جان لو ں گا کہ تو اپنے قول کے مطابق بنی اسرائیل کو میرے ہاتھوں کے وسیلہ سے رہائی بخشیگا  ۔   اور ایسا ہی ہوا کیو نکہ وہ صبح کو جو سویرے اٹھا اور اس اون کو دبایا اور اون میں سے اوس نچوڑی تو پیالہ بھر پانی نکلا  ۔   

 

       اس کے علاوہ ،دیکھیں گے اس نے کیا کیا :

 

قضات 6باب39تا40آیت :
 
”تب جدعون نے خدا سے کہا کہ تیرا غصہ مجھ پر نہ بھڑکے  ۔   میں فقط ایک بار اور عرض کرتا ہو ں  ۔   میں تیری منت کرتا ہوں کہ فقط ایک بار اس اون سے آزمائش کر لوں  ۔   اب صرف اون ہی اون خشک رہے اور آس پاس کی سب زمین پر اوس پڑے  ۔   سو خدا نے اس رات ایسا ہی کیا کیو نکہ فقط اون ہی خشک رہی اور ساری زمین پر اوس پڑی  ۔  

 

       درج بالا حوالہ جات جو بیان کرتے ہیں کہ ”جدعون کی اوون “سے کیا مراد ہے بہت زیادہ غلط سمجھے جاتے ہیں ،بہت سے لوگ ان حوالہ جات کو مختلف نشانوں کے ساتھ ملا کر خدا کی مرضی کو جاننے کیلئے استعمال کرتے ہیں  ۔   پس چند لوگ سکہ پھینک کر فیصلہ کرتے ہیں  ۔   بعض لوگ ”Bible Bingo“کی مدد (کسی بھی صفحہ پر بائبل کو کھولنا)اور بعض اسی قسم کے اور طریقوں سے فصیلہ کرتے ہیں  ۔   اس کے باوجود،اس قسم کی کوئی بھی حرکت ”جدعون کی اوون “سے مکمل طور پر لاتعلق ہے  ۔   اس کی وجہ یہ ہے کہ ان نشانات کی بدولت جدعون کی مرضی کی تصدیق نہیں کی تھی  ۔   بلکہ اس نے اس بات کی تصدیق کی جو وہ پہلے سے جانتا تھا ،مکاشفہ کے وسیلہ سے کہ یہ خدا کی مرضی ہے  ۔   36آیت ہمیں بتاتی ہے کہ :”جدعون نے خدا سے کہا کہ اگر تو اپنے قول کے مطابق میرے ہاتھ کے وسیلہ سے بنی اسرائیل کو رہائی دینی چاہتا ہے  ۔   “ یہ فقرہ کہ ،”تیرے قول کے مطابق “ظاہر کرتا ہے کہ جدعون پہلے سے خدا کی مرضی جانتا تھا [3] ۔  پس اس نے نشان اس لئے نہیں مانگا کہ وہ خدا کی مرضی کی تصدیق کرے بلکہ اس لئے کہ وہ تصدیق کرے کہ جو وہ جانتا ہے وہی خدا کی مرضی ہے  ۔   نشانات کے حوالے سے ،ایک اور چیز کی طرف بھی اشارہ کرنا چاہئے کہ خدا کا کلام کہیں بھی ہمیں نشان دینے کیلئے خدا کو مجبور نہیں کرتا ،جب اس نے پہلے ہی اپنی مرضی ظاہر کردی ہے ،اپنے لکھے ہو ئے کلام یا مکاشفہ کی بدولت  ۔   جب ہم خدا کی مرضی سے واقف نہیں ہوتے تو ہم یہ جاننے کی کوشش کرتے ہیں  ۔   ہم بائبل کا مطالعہ کرتے ہیں ،اور اگر اس نے بائبل میں ہم پر یہ ظاہر نہیں کی توہم دعا کرتے ہیں کہ وہ اپنی مرضی ظاہر کرے۔    ہمیں خدا کے جواب کے لئے خدا پر پابندی عائد نہیں کرنی چاہئے  ۔   خدا کا کلام خدا کو وہی جواب دینے کیلئے مجبور نہیں کرتا جو ہم چاہتے ہیں یا جب ہم چاہتے ہیں کہ ہمیں جواب ملے  ۔   بلکہ خدا اپنی محبت اور حفاظت کرنے والے خدا والی فطرت سے مجبور ہو کر ہمیں بہترین جواب دیتا ہے اور اسی وقت جواب دیتا ہے جب وہ وقت بہترین سمجھا جاتا ہے  ۔   نشانات مانگنے کے حوالے سے ،اسکے کلام کی بنیاد پر ہم یہ بات یقین سے کہہ سکتے ہیں کہ خدا اسکی مرضی پر چلنے میں ہماری یقینا مدد کرے گا (اگر ہم پیروی کرنا چاہتے ہیں تو ) ۔   تا ہم کو ئی بھی اسے ہماری مدد کیلئے پابند نہیں کر سکتا  ۔   وہ وہی کرے گا جو وہ سمجھتا ہے کہ بہتر ہے اگر کوئی چیز خدا کی مرضی سے ہے ،تو وہ اس کے رونما ہونے میں بھرپو ر مدد کرے گا،چاہے یہ تمام تر زمین ہو نے کے باوجود اوون کو خشک کرنے کے برابر ہی کیوں نہ ہو  ۔   کوئی نہیں کہہ سکتا کہ خدا ہمیں اس کی مرضی پوری کرنے میں مدد دینے کیلئے نشانات استعمال نہیں کرتا  ۔   تاہم جب یہ نشانات دئےے جاتے ہیں تو یہ خدا کے کلام کے متبادل نہیں ہو تے بلکہ یہ اس بات پر یقین کرنے کیلئے مدد گار طریقے ہو تے ہیں جو پہلے سے خدا کی مرضی کے طور پر بیان کی جا چکی ہے  ۔  

 

       اس بحث کو آگے بڑھاتے ہو ئے ،میں یہ جانتا ہو ں کہ کو ئی چیز خدا کی طرف سے ہے یا نہیں اس سے متعلق سب سے بڑ انشان وہ طریقہ سے جس سے یہ نشان کام کرتا ہے  ۔   ہر چیز جو خدا کی طرف سے ہے وہ سکون کے ساتھ چلتی ہے اور خدا کے کلام کے ساتھ متواتر طور پر ہم آہنگی رکھتی ہے ،جیسا کہ امثال 10باب

22آیت ہمیں بتاتی ہے :

 

امثال 10باب22آیت :
 
”خداوند ہی کی برکت دولت بخشتی ہے اور وہ اس کے ساتھ دکھ نہیں ملاتا  ۔  

 

 افسیوں 3باب20آیت بھی خدا کے بارے میں بتاتی ہے:
 
”اب جو ایسا قادر ہے کہ اس کی قدرت کے موافق جو ہم میں تاثیر کرتی ہے ہماری درخواست اور خیال سے بہت زیادہ کام کرسکتا ہے  ۔  

 

اس کے علاوہ یعقوب 1باب16اور17آیت اس میں شامل کرتی ہے :
”اے میرے پیارے بھائیو!فریب نہ کھا
 ۔   ہر اچھی بخشش اور ہر کامل انعام اوپر سے ہے اور نوروں کے باپ کی طرف سے ملتا ہے جس میں نہ کو ئی تبدیلی ہو سکتی ہے اور نہ گردش کے سبب سے اس پر سایہ پڑتا ہے  ۔  

 

       ہر ایک چیز جو خدا کی طرف سے آتی ہے کامل انعام ہے  ۔   یہ ہمارے مانگے اور ہماری سوچ سے کہیں بڑھ کر ہو تا ہے  ۔   اس میں کوئی غم نہیں ہے  ۔   یہ تھوڑی مدت ،درمیانی مدت اور لمبی مدت میں کامل ہے  ۔   اس کے بر عکس ،جو چیز شیطان سے آتی ہے ،جلدی یا دیر بعد بالکل اس کے الٹ ختم ہو جاتی ہے جو خد ا کی طرف سے چیز آتی ہے ،یعنی کہ ،آنسوﺅں ،دردیا زخموں کی صورت میں[4] ۔  

 

       ہمارے مسئلے کہ طرف آتے ہو ئے ،اوون کے ساتھ معجزے کے بعد ،جدعون یقینا پر عظم ہو چکا تھا ،جو کہ اس کی التجا کا جواب دیتے ہو ئے خدا چاہتا تھا  ۔   تاہم یہ کہانی کا اختتام نہیں ہے  ۔   اسرائیلیوں کے اکھٹے ہو نے کے بعد اور اس حقیقت کے باوجود کہ ان کا مقابلہ ایک بہت بڑی فوج کے ساتھ تھا ،خدا نے جدعون کو فوج کم کرنے کی صلاح دی  ۔   ان کے بعد کی آیات ہمیں بتاتی ہیں :

 

 قضات 7باب1اور2آیت :
 
”تب یربعل یعنی جدعون اور سب لوگ جو اسکے ساتھ سویرے ہی اٹھے اور حرود کے چشمہ کے پاس ڈیرا کیا اور مدیانیوں کی لشکر گاہ انکے شمال کی طرف کوہ مور ہ کے متصل وادی میں تھی  ۔   تب خداوند نے جدعون سے کہا تیرے ساتھ لوگ اتنے زیادہ ہیں کہ میں مدیانیوں کو ان کے ہاتھ میں نہیں کر سکتا  ۔   ایسا نہ ہو کہ اسرائیلی میرے سامنے اپنے اوپر فخر کر کے کہنے لگیں کہ ہمارے ہاتھ نے ہم کو بچایا  ۔  

 

       خدا بنی اسرائیل کو دیکھانا چاہتا تھا کہ وہ خدا ہے  ۔   پس اس نے جدعون کو فوج کم کرنے کا حکم دیا  ۔   قضات 7باب3تا8آیت ہمیں بتاتی ہے :

 

قضات 7باب3تا8آیت :
 
”سو تو اب لوگوں میں سنا سنا کر منادی کردے کہ جو کوئی ترسان اور ہراسان ہو کر وہ لو ٹکر کوہ جلعاد سے چلا جائے چنانچہ ان لوگوں میں سے بائیس ہزار تو لوٹ گئے اور دس ہزار باقی رہ گئے  ۔   تب جدعون سے کہا کہ لوگ اب بھی زیادہ ہیں سو تو انکو چشمہ کے پاس نیچے لے آاور وہاں میں تیری خاطر ان کو آزماﺅ نگا اور ایسا ہو گا کہ جسکی بابت میں تجھ سے کہوں کہ یہ تیرے ساتھ جائے وہی تیرے ساتھ جائے اور جس کے حق میں کہوں کہ یہ تیرے ساتھ نہ جائے وہ نہ جائے  ۔   سو وہ ان لوگوں کو چشمہ کے پاس نےچے لے گیا اور خدا وند نے جدعون سے کہا کہ جو اپنی زبان سے پانی چپڑچپڑ کر کتے کی طرح پئے اس کو الگ رکھ اور ویسے ہی ہر اےسے شخص کو جو گھٹنے ٹیک کر پئے  ۔   سو جنہوں نے اپنا ہاتھ اپنے منہ سے لگا کر چپڑ چپڑ کر کے پیا گنتی میں تین سو مرد تھے اور باقی سب لوگوں نے گھٹنے ٹیک کر پیا  ۔   تب خداوند نے جدعون سے کہا کہ میں ان تین سو آدمیوں کے وسیلہ سے جنہوں نے چپڑ چپڑ کر کے پیا تم کو بچاﺅ نگا اور مدیانیوں کو تیرے ہاتھ میں کر دوں گا اور باقی سب لوگ اپنی اپنی جگہ کو لوٹ جائیں  ۔   تب ان لوگوں نے اپنا اپنا توشہ اور نر سنگا اپنے اپنے ہاتھ میں لیا اور اس نے سب اسرائیلی مردوں کو انکے ڈیروں کی طرف روانہ کر دیا پر ان تین سو مردوں کو رکھ لیا اور مدیانیوں کی لشکر گاہ اسکے نیچے وادی میں تھی  ۔  

 

       آخر کار ،خدا کے چننے کے بعد ،صرف 300آدمی باقی رہے  ۔   ان کے وسیلہ سے خدا مدیانیوں اور ان کے ساتھیوں کو شکست دے گا  ۔   یہ حقیقت کہ تعداد میں بہت زیادہ فرق کے باوجود جنگ اسرائیلیوں کے لئے فتح مند ہو گی ،اس بات سے مکمل طور پر پر یقینی تھی جو خدا نے جدعون سے کہا تھا  ۔   جیسا اس نے اس سے کہا ،”اس تین سو آدمیوں کے وسیلہ سے میں  ۔    ۔    ۔    ۔    ۔    ۔   تم کو بچاﺅں گا اور مدیانیوں کو تیرے ہاتھ میں کردوں گا  ۔   “(قضات 7باب7آیت ) ۔   اس لئے یہ یقینی بات تھی کہ اگر جدعون خدا کی ہدایات کی پیروی کرتا اور ایمان لاتا ،جنگ اسرائیل کے لئے فتح مند ہو ئی ،کیو نکہ خدا نے اس کا وعدہ کیا تھا تا ہم خدا نے اس فتح مندی کا صرف اسے یقین دلایا یا سکہ اس نے جدعون کی اس وعدے پر ایمان لانے میں بھی اور آگے بڑھنے میں مدد کی  ۔   قضات 7باب9تا14

آیت ہمیں بتاتی ہے :

 

قضات 7باب9تا14آیت :
 
”اور اسی رات خداوند نے اس سے کہا کہ اٹھ اور نیچے لشکرگاہ میں اتر جا کیو نکہ میں نے اسے تیرے ہاتھ میں کر دیا ہے ۔   لیکن اگر تو نیچے جاتے ڈرتا ہے تو تو اپنے نوکر فوراہ کے ساتھ لشکر گاہ میں اتر جا  ۔   اور تو سن لیگا کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں  ۔   اس کے بعد تجھ کو ہمت ہو گی کہ تو اس لشکر گاہ میں جا ئے  ۔   چنانچہ وہ اپنے نوکر فوراہ کو ساتھ لے کر ان سپاہیوں کے پاس جو اس لشکر گاہ کے کنارے تھے گیا اور مدیانی اور عمالیقی اور اہل مشرق کثرت سے وادی کے بےچ ٹڈیوں کی مانند پھیلے پڑے تھے اور انکے اونٹ کثرت کے سبب سے سمندر کے کنارے کی ریت کی مانند بے شمار تھے  ۔   اور جب جدعون پہنچا تو دیکھو وہاں ایک شخص اپنا خواب اپنے ساتھی سے بیان کر تا ہوا کہہ رہا تھا دیکھ میں نے ایک خواب دیکھا ہے کہ جو کی ایک روٹی مدیانی لشکر گاہ میں گری اور لڑھکتی ہو ئی ڈیرے کے پاس پہنچی اور اس سے ایسی ٹکرائی کہ وہ گر گیا اور اسکو ایسا الٹ دیا کہ وہ ڈیرا فرش ہو گیا  ۔   تب اسکے ساتھی نے جواب دیا کہ یہ یوآس کے بےٹے جدعون اسرائیلی مرد کی تلوار کے سوا اور کچھ نہیں  ۔   خدا نے مدیان کو اور سارے لشکر کو اسکے ہاتھ میں کر دیا ہے  ۔  

 

       خدا نے نہ صرف جدعون پر اپنی مرضی ظاہر کی بلکہ اس مرضی پر ایمان لانے میں بھی اسکی مدد کی اور اس زبردست انداز پر غور کریں کہ جس سے اس نے یہ سب کیا :اس نے اسے دشمن کے خےمے کے پاس اسے اپنے کانوں سے وہ سننے کیلئے بھیجا جو کوئی شخص مدیانیوں کے خلاف اپنی فتح مندی کی داستان سنا رہا تھا  ۔   اسی مدد کا نتیجہ 15آیت میں دکھا یا گیا ہے یہاں ہم پڑھتے ہیں :

 

قضات 7باب15آیت :
 
”جب جدعون نے خواب کا مضمون اور اسکی تعبیر سنی تو سجدہ کیا اور اسرائیلی لشکر میں لوٹ کر کہنے لگا اٹھو کیو نکہ خداوند نے مدیانی لشکر کو تمہارے ہاتھ میں کر دیا ہے  ۔  

 

       یو نہی جدعون نے خواب دیکھا اور اس کی تعبیر سنی ،اسے اس بات کا یقین ہو گیا کہ خدا نے دشمنو ں کے خیمے کو اس کے ہاتھ اور 300آ دمیوں کے ہاتھ میں کر دیا تھا  ۔  

 

قضات 7باب16تا22آیت :
 
”او راس نے ان تین سو آدمیوں کے تین غول کئے اور ان سبھوں کے ہاتھ میں ایک ایک نر سنگا اور اسکے ساتھ ایک ایک خالی گھڑا دیا اور ہر گھڑے کے اندر ایک مشعل تھی  ۔   اور اس نے کہا کہ مجھے دیکھتے رہنا اور ویسا ہی کرنا اور دیکھو جب میں لشکر گاہ کے کنارے جا پہنچو ں تو جو کچھ میں کروں تم بھی ویسا ہی کرنا  ۔   جب میں اور وہ سب جو میرے ساتھ ہیں نرسنگا پھو نکے تو تم بھی لشکر گاہ کی طرف نرسنگے پھونکنا اور للکار ناکہ یہواہ کی اور جدعون کی تلوار ۔   سو بےچ کے پہر کے شروع میں جب نئے پہرے والے بدلے گئے تو جدعون اور وہ سو آدمی جو اس کے ساتھ تھے لشکر گاہ کے کنارے آئے اور انہوں نے نرسنگے پھونکے اور ان گھڑوں کو جو ان کے ہاتھ میں تھے تو ڑا  ۔   اور ان تینوں غولوں نے نرسنگے پھو نکے اور گھڑے تو ڑے اور مشعلوں کو اپنے بائیں ہاتھ میں نرسنگوں کو پھونکنے کے لئے اپنے دہنے ہاتھ میں لے لیا او چلا اٹھے کہ یہواہ کی اور جدعون کی تلوار ! ۔   اور یہ سب کے سب لشکر گاہ کے چوگرد اپنی اپنی جگہ کھڑے ہو گئے  ۔   تب سارا لشکر دوڑنے لگا اور انہوں نے چلا چلا کر انکو بھگایا  ۔   اور انہوں نے تین سو نرسنگوں کو پھونکا اور خدا وند نے ہر شخص کی تلوار اسکے ساتھی اور سب لشکر پر چلوائی اور سارا لشکر صریرات کی طرف بیت سطہ تک طبات کے قریب ابیل محولہ کی سرحد تک بھاگا  ۔  

 

       جدعون ایک جرات مندانہ فیصلے کی پیروی کرتے ہوئے 300آدمیوں کے ساتھ ان ہتھیاروں مین ایک بڑی فوج کے ساتھ جنگ لڑنے کو تیار تھا، نرسنگا، مشعل اور گھڑا، اور آخر کار اس نے اس بڑی فوج پر فتح پائی ۔   اب، اگر کوئی پوچھتا ہے کہ اس نے ان سب چیزوں کے وسیلہ سے مدیانیوں کے ساتھ جنگ لڑنے کا فیصلہ کیوں کیا، تو اس کا یقینی جواب یہی ہو گا کہ کیونکہ خدا نے اسے یہ کرنے کو کہا ۔   در اصل، ہمیں یاد ہوگا کہ خدا نے ہی اسے کہا تھا کہ وہ بنی اسرائیل کو رہائی دے گا ۔   خدا ہی تھا جس نے اسے اسرائیلیوں کو اکٹھا کرنے اور اسرائیل کے بڑے لشکر میں سے 300آدمیوں کو چننے کا حکم دیا تھا ۔    خدا ہی تھا جس نے جدعون کو اس منصوبے کی پیروی کرنے کا حکم دیا تھا جو منصوبہ اس رات پورا کیا گیا تھا ۔   نتیجہ اسرائیلیوں کی شاندار فتح تھی ۔   جیسا کہ متن کہتا ہے،”اور خداوند نے ہر شخص کی تلوار اس کے ساتھ اور سب لشکر پر چلوائی اور سارا لشکر صیریرات کی طرف بیت سطہ تک اور طبات کے قریب ابیل محولہ کی سرحد تک بھاگا ۔  

 

23تا25آیات ہمیں اسرائیلیوں کیا س عظیم فتح کا آخری حصہ بیان کرتی ہیں:

 

قضات7باب23تا25آیت:
”تب اسرائیلی مرد نفتالی او ر آشر اور منسی کی حدود سے جمع ہو کر نکلے اور مدیانیوں کا پیچھا کیا
 ۔   اور جدعون نے افرائیم کے تمام کوہستانی ملک میں قاصد روانہ کئے اور کہلا بھےجا کہ مدیانیوں کے مقابلہ کو اترآﺅ اور ان سے پہلے پہلے دریای یردن کے گھاٹوں پر بیت برہ تک قابض ہو جاﺅ  ۔   تب سب افرائےمی جمع ہو کر دریای یردن کے گھاٹوں پر بیت برہ تک قابض ہو گئے  ۔   اور انہوں نے مدیان کے دو سرداروں عوریب اور زئیب کو پکڑ لیا اور عوریب اور زئیب کی چٹان پر اور زئیب اور زئیب کے کولھوکے پاس قتل کیا اور مدیانیوں کو رگیدا اور عوریب اور زئیب کے سر یرون پار جدعون کے پاس لے آئے  ۔  

 

       جیسا کہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ، اس جنگ کا آخری حصہ دیگر اسرائیلیوں کے حصے کے بارے میں بات نہیں کرتا ۔    آٹھویں باب کی 28آیت ہمیں جدعون کے وسیلہ سے خدا کی اسرائیل کو دی ہوئی رہائی اور فتح مندی کا بیان دیتی ہے:

 

قضات8باب28آیت:
”پھر وہاں سے وہ فنوایل کو گیا اور وہاں کے لوگوں سے بھی ایسی بات کہی اور فنوایل کے لوگوں نے بھی اسے ویسا ہی جواب دیا جیسا سکاتیوں نے دیا تھا
 ۔  

 

       جب بنی اسرائیل نے خدا کے آگے بدی کی، اسے ترک کرتے ہوئے اور غیر معبودوں کی پوجا کرتے ہوئے ، تو اس کا نتیجہ قحط اور آفات تھیں ۔    تاہم، جب وہ اسکی طرف پھرے اور اس کی رہائی کی التجا کی، تو اس نے ان کے پاس ایک نبی بھیجا جس نے اس کے کلام کی بدولت ان کو دھمکایا ۔    اس کے ساتھ ساتھ ، اس نے جدعون کو ان کا راہنما بنایا ۔   وہ، اگر چہ غریب اور اجنبی شخص تھا، خدا کی مرضی کو اسی طرح پوری کرنا چاہتا تھا جیسا کہ خدا چاہتا تھا، اور خدا نے بدلے میں اسرائیل کی رہائی کے اس مشن کو پورا کرنے میں اس کی مدد کی ۔   اس کا نتیجہ اسرائیل کی رہائی اور ان سالوں تک امن تھا جب تک جدعون زندہ رہا ۔   جدعون کو بھی بہت برکت ملی ۔    جیسا کہ قضات8باب29تا32آیت ہمیں بتاتی ہے کہ:

 

قضات8باب29تا32آیت:
”اور یواس کا بےٹا یر بعل جاکر اپنے گھر میں رہنے لگا
 ۔   اور جدعوں کے ستر بےٹے تھے جو اس کے صلب سے پیدا ہوئے تھے کیو نکہ اسکی بہت سی بیویاں تھیں  ۔   اور اسکی ایک حرم کے بھی جو سکم میں تھی اس سے ایک بیٹا ہوا اور اس نے اسکا نام ابی ملک رکھا  ۔   اور یواس کے بیٹے جدعون نے خوب عمر رسیدہ ہو کر وفات پائی اور ابیعزریوں کے عفرہ میں اپنے باپ یواس کی قبر میں دفن ہو ا ۔  

 

       اس کی بھی پر امن اور دراز عمر تھی، مزید دشمنوں کی گندم چراتے ہوئے نہیں بلکہ خاندان کے ساتھ پر امن زندگی گزارتے ہوئے ۔  

 

       اس لئے ختم کرتے ہوئے، خداوند سے دوری جو چیزیں ہمیں دیتی ہے وہ صرف دکھ اور آفتیں ہیں ۔    تاہم اگر ایسا ہو بھی جاتا ہے، تو بھی خدا وہاں ہمیشہ معاف کرنے اور ہر اس شخص کو رہائی دینے کیلئے تیار ہو جاتا ہے جو اس کے پاس لوٹ کر آتا ہے ۔  

 

       اس سے ہٹ کر، ایک اور بات جو ہم نے سیکھی ہے کہ جس خدا ہمیں کچھ کہتا ہے تو وہ اس کو پورا کرنے میں ہماری مدد بھی کرتا ہے ۔   جب نشانات جیسی چیزیں ملتی ہیں تو انہیں خدا کے کلام کے ساتھ مطابقت رکھنی چاہئے، اور اس کی حمایت کرنی چاہئے جو پہلے سے خدا کی مرضی کے طور پر بیان کیا جا چکا ہے ۔   خدا نے ہم پر اپنی مرضی ظاہر کرنے کیلئے اپنا کلام عطا کیا ہے ۔    اب اگر ہمیں راستے میں مدد کی ضرورت ہے تو ہمیں اس بات کا یقین ہونا چاہئے کہ مدد ضرور ملے گی ۔   میں یہ نہیں جانتا کہ یہ مدد کس قسم کی ہوگی ۔   میں بس یہ جانتا ہوں کہ یہ مدد وہ سب چھ پورا کرنے کیلئے کافی ہوگی جو ہم کر رہے ہیں، بالکل جیسے کہ جدعون کیلئے بھی کافی تھی ۔  

 

تسسوس کولچوگلو

اردو  Fahim Qaiser, Napoleon Zaki :

 

 

[1] بدقسمتی سے، بائبل میں صرف یہی ایک مقام نہیں ہے جہاں یہ فقرہ کہ ” بنی اسرائیل نے خدا کے آگے بدی کی“ استعمال ہوا ہو ۔   بہت سے واقعات ہیں(مثال کے طور پر دیکھیں قضات 2باب11تا15آیت، 4باب1اور2آیت، 10باب6آیت، 13 باب 1آیت، 1سلاطین 11باب6آیت، نحمیاہ9باب28آیت) جومزید ہمیں بتاتے ہیں کہ کہ جو بدی اسرائیل نے کی وہ بتوں کی پوجا تھی اور نتیجتاً خدا کو ترک کرنے کی بدی تھی ۔   اس کے ساتھ ساتھ، جیسے ان رکارڈز پر ایک ہی نظر ڈالنے سے واضح ہو جاتا ہے، کہ اس بدی کا آخر ہمیشہ تباہی اور آفات پر ہوتاہے۔

[2] مثال کے طور پر دیکھیں قضات3باب7تا9آیت، 3باب12تا15آیت، 4باب3آیت، 10باب10آیت، نحمیاہ9باب28آیت۔

[3] ہم نے 11تا24آیات میں دیکھا کہ فرشتے نے کیسے اسے آگاہ کیا۔

[4] شیطان بھی نشانات دکھا سکتا ہے، لیکن جھوٹے جو ہمیں اس کے پھندے میں پھنسا سکتے ہیں ۔    اس لئے ہمیں نشانات کے معاملے میں محتاط ہونا چاہئے ۔   ہماری راہنما بائبل ہے نہ کہ یہ نشانات ۔   جو کچھ بھی خدا کے کلام سے مطابقت رکھتا ہے وہ خدا کی طرف سے ہے ۔   جو کچھ بھی اس کلام کے برعکس ہے وہ شیطان کی طرف سے ہے ۔   نشانات تب موزوں ہوتے ہیں جب وہ ان حلات کے مطابق جو چل رہے ہوتے ہیں خدا کے کلام کی حمایت پر پورا اترتے ہیں ۔   ورنہ ان کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔