بائبل کی سچائیاں


ہمارے جدید ترین کالم   |   
موضوع کے مطابق   |    تمام کالم   |    سبسکرائب   |    ہوم   

 

 

 

نشان زد کریں اور دوسروں کو شریک کریں

 

 

  PDF version (printer friendly)

 

 

دعا سے متعلق یسوع کی رائے

 

      اس مہینے کا کالم یسوع مسیح کےلئے دعا کا تجزیہ کرنے کےلئے منسوب کیا جاتا ہے  ۔  خدا کا کلام دعا کرنے کو کس قدر اہمیت دیتا ہے یہ اس حقیقت سے ظاہر ہو تا ہے کہ یہ ہمیں ”بلاناغہ دعا کرنے “کے لئے بلاتا ہے (1 تھسلنیکیوں 5باب17آیت ) ۔  کہ ہو شیار ہو اور دعا کرنے کےلئے تیار ہو ،“(1پطرس 4باب 7 آیت ) ،”دعا کرنے میں مشغول رہو “(رومیوں 12باب12آیت )،”شکر گزاری کے ساتھ اس میں بیدار رہو (کلسیوں 4باب2آیت )وغیرہ وغیرہ [1] ۔ 

 

      تا ہم ،خداکے کلام ان تمام حوالہ جات کے باوجود جو دعا کی اہمیت کی نشاندہی کرتے ہیں ،بعض اوقات اسے یا تو رد کر دیا جاتا ہے یا اسکی جماعت بندی نچلی سطح کے کاموں کیں کر دی جاتی ہے  ۔  اس کا لم کا مقصد ہے ،یسوع مسیح کی مثالیں دیتے ہو ئے ،کہ دعا کی اہمیت کو بیان کیا جائے اور اس کے ساتھ ظاہر کیا جائے کہ دعا ہماری زندگی کے سر فہرست کاموں میں سے ایک ہو نی چاہئے  ۔ 

 

1 لوقا 5باب15اور16آیت

 

      ایسے واقعات کو تلاش کرنے سے آغاز کرتے ہو ئے جن میں ہم یسوع مسیح کو دعا کرتے ہو ئے دیکھتے ہیں ہم لوقا 5باب پر جائیں گے ۔  اس واقعہ میں ،ان واقعات میں بھی جو اسکے بعد آئیں گے ،متن پر خاص توجہ دینا ضروری ہے  ۔   کیو نکہ یہ ہمیں ان حالات کو جاننے میں مدد دے گا جن میں خدا وند یسوع مسیح دعا کرتا تھا اور ہمیں چند مفےد ہدایات حاصل کرنے کے قابل بنائے گا  ۔  پس  12 اور 13 آیت میں ،ہمیں ایک کوڑھی کی شفا کے بارے میں بتایا جاتا ہے  ۔  اس موقع کے ساتھ ،عمومی طور پر بات کرتے ہو ئے 15آیت ہمیں بتاتی ہے کہ گو کہ یسوع مسیح اپنے معجزات کی شہرت کرنے سے گریز کرتا تھا ،تاہم ،”اس کا چرچا زیادہ پھیلا اور بہت سے لوگ جمع ہو ئے کہ اسکی سنیں اور اپنی بیماریوں سے شفا پائیں ،“(لوقا 5باب15آیت ) ۔  اس حوالے سے ،ہم یہ نتےجہ اخذ کرسکتے ہیں ،کہ یسوع مسیح اپنے پاس آنے والے لوگوں کے مجمع کے ساتھ کتنا مصروف رہتا تھا، اور وہ ہم میں سے اکثر لوگوں کی نسبت زیادہ مصروف تھا ،حقیقتاَ ،ایسی صورت حال میں ،ہم میں سے کتنے لوگوں نے دعا کرنے کا وقت نکالا ہو گا ؟ لیکن آئیے دیکھیں یسوع نے کیا کیا :

 

لوقا5باب16آیت:
مگر وہ جنگلوں میں الگ جا کر دعا کیا کرتا تھا ۔ 

 

       جب لفظ ”مگر “سامنے آتا ہے تو یہ ہمیشہ اس بات سے اختلاف کو ظاہر کرتا ہے جو اس کے بعد کہی جانے والی ہے  ۔  ہمارے اس معاملے میں ،جو آگے کہا جارہا ہے وہ مصروف ترین خداوند یسوع کے بارے میں ہے  ۔  جو بات اس کے بعد آتی ہے وہ یہ ہے کہ ،اس حقیقت کے باوجود کہ یسوع مسیح بہے مصروف تھا وہ جنگلوں میں الگ گیا اور دعا کرتا تھا  ۔  گو کہ یہ بہت اہم بیان ہے اور اس اہمیت کو ظاہر کرتا ہے جو یسوع مسیح نے دعا کو دی ،تاہم یہ اس حوالے کو بیان کرنے میں وہ خوبصورتی نہیں رکھتا جو یونانی مسودے میں ہے  ۔  ےو نانی مسودے میں جو زمانہ استعمال کیا گیا ہے وہ ہے فعل مکمل جو بیان کرت ہے کہ کو ئی کام بار بار اور متواتر طور پر ماضی میں دوہرایا جاتا رہا ہے بجائے کہ درج بالا ترجمہ میں استعمال ہو نے والے سادہ فعل ماضی کے فقر ے کے ،جو ظاہر کرتا ہے کہ کو ئی کام ماضی کے کسی خاص وقت میں یہ کام سر انجام پایا تھا ۔  پس 15اور16آیت کا درست ترجمہ ہے :

 

لوقا5باب15اور16آیت:
”لیکن اس کا چرچا زیادہ پھیلا اور بہت سے لوگ جمع ہوئے کہ اس کی سنیں اور اپنی بیماریوں سے شفا پائیں ۔  مگر وہ جنگلوں میں الگ جا کر دعا کیا کرتا تھا ۔ 

 

       پس جو 15اور16آیت بیان کرتی ہے وہ کوئی ایسا کام نہیں جو یسوع مسیح زندگی میں صرف ایک بار واقعہ ہوا ہو  ۔  بلکہ ،وہ ہمیشہ اس ہجوم کے ساتھ مصروف رہتا تھا جو اس کے پاس آتے تھے ،مگر وہ ہمیشہ دعا کےلئے وقت نکالتا تھا ،دوسرے لفظوں میں ،دعا یسوع مسیح کی عادت تھی،ایسی چیز جسے وہ اپنی مصروفیت میں بھی سر فہرست اہمیت دیتا تھا  ۔  اسطرح اس سے دعا کی اہمیت ظاہر ہو تی ہے  ۔  یہ اہمیت اتنی زیادہ تھی کہ یسو ع مسیح ،خدا کا بیٹا ،اپنے وقت کا خاص حصہ اس کےلئے مختص کرتا تھا اور یہ تب ہو تا جب وہ دوسرے خدا ئی کاموں میں مصروف ہو تا تھا ۔  اس کے علاوہ ،یہ اشارہ کرتا ہے کہ ہم دعا کریں یا نہ کریں یہ وقت معاملہ نہیں ہے بلکہ اہمیت کا معاملہ ہے۔  یسوع مسیح کے پا س دعا کرنے کا وقت تھا کیو نکہ اس نے اسے وقت دینے کا فیصلہ کیا تھا  ۔   یہ نہیں کہ ہمارے پاس وقت ہے یا نہیں ،کیو نکہ دن کا سارا وقت ہم سب کےلئے ایک جیسا ہو تا ہے ،جیسا کہ یسوع مسیح کےلئے تھا، 24گھنٹے  ۔  پو چھنا یہ چاہئے کہ ہمارے روز مرہ کے معمولات میں دعا کی کیا اہمیت ہے؟کیا دعا ہمارے لئے سر فہرست ہے جیسے کہ یسوع مسیح کےلئے تھی یا یہ ایسا کام ہے جو کرنے کا ہم فیصلہ دیگر کاموں کے بعد کرتے ہیں جیسے کہ کام کرنا ،سکول جانا ، ٹیلی ویژن دیکھنا ،سونا ،باغبانی وغیرہ وغیرہ؟ یسوع کی مثالیں اور اس کے ساتھ ساتھ وہ تمام تر واقعات جو خدا کے کلام میں دعا کا حوالہ دیتے ہیں وہ ہم سے دعا کو ہماری زندگیوں کا سر فہرست کام بنانے کی التجا کرتے ہیں  ۔  پس ،پہلے دیگر کاموں کو وقت دینے اور پھر ،اگر وقت بچ جائے، دعا کو وقت دینے کی بجائے بہتر یہ ہے کہ پہلے دعا کرنے کے لئے نکالیں اور پھر دیگر سر گرمیوں کو وقت دیں  ۔   

 

 

2 مرقس 1باب35آیت

 

       ایک اور بہت معلوماتی واقعہ جہاں ہم یسوع مسیح کو دعا کرتا دیکھتے ہیں مرقس 1باب35آیت میں دیا گیا ہے  ۔  دوبارہ واقعہ کے سیاق وسباق کو جاننا بہت ضروری ہے  ۔  پس ،21آیت سے شروع کرتے ہیں جہاں ہمیں بتایا گیا ہے کہ یسوع مسیح نے کفر نحوم کے عبادتخانے میں تعلیم دی جہاں اس نے بد روح بھی نکالی تھی (23تا27آیت ) ۔  نتےجتاََ ،”فی الفور اس کی شہرت گلیل کی اس تمام نواحی میں ہر جگہ پھیل گئی ،“( 28 آیت ) ۔   عبادتخانے سے باہر آنے کے بعد وہ شمعون اور اندریاس کے گھر گیا جہاں اس نے شمعون کی ساس کو شفا دی (30اور31 آیت) ۔  آخر کار :

 

مرقس1باب32تا34آیت:
”شام کو جب سورج ڈوب گیا تو لوگ سب بیماروں کو اور ان کو جن میں بدروحیں تھیں اس کے پاس لائے اور سارا شہر دروازے پر جمع ہوگیا ۔   اور اس نے بہتوں کو جو طرح طرح کی بیماریوں میں گرفتار تھے اچھا کیا اور بہت سی بدروحوں کو نکالا اور اس نے بدروحوں کو بولنے نہ دیا کیونکہ وہ اسے پہچانتی تھیں ۔ 

 

       پچھلے واقعہ کی مانند یہاں بھی ہامرے پاس یسوع مسیح کے بہت زیادہ مصروف ہو نے کا بیان ہے  ۔  اس کے علاوہ ،چونکہ وہ اگلے دن بھی گلیل میں ہی رکنا چاہتا تھا ،اور چونکہ اسکی شہرت پھیل گئی تھی ،ہم یہ اندازہ کر سکتے ہیں کہ اگلا دن بھی اتنا ہی مصروف ہو تا اگر یہ دن مصروف تر نہ ہوتا، بالکل ایسا ہی ہوا جیسا کہ 36اور37آیت اگلے دن کے حوالے سے ہمیں بتاتی ہے :

 

مرقس1باب36اور37آیت:
”اور شمعون اور اس کے ساتھی اس کے پیچھے گئے ۔   اور جب وہ ملا تو اس سے کہا کہ
سب لوگ تجھے ڈھونڈرہے ہیں

 

       سب لوگ اسے ڈھونڈ رہے تھے  ۔  اس کا مطلب یہ ہے کہ جو دن ابھی شروع ہی ہوا تھا وہ بھی مصروف ہو گا  ۔  حقیقتاَ ،ایک دن مصروفیت کا گزار نے کے بعد اور یہ جاننے کے بعد کہ اگلا دن بھی اتنا ہی مصروفیت کا ہوگا ،ہم میں سے کتنے لوگ صبح جلدی اٹھ کر دعا کرتے ہوں گے؟اور اگر ایسا کوئی کرتا بھی ہے ،تو کیا اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ دعا کو بہتے زیادہ اہم سمجھتا ہے اور کیا اس کا یہ مطلب نہیں کہ دعا اسکی زندگی میں سر فہرست مقام رکھتی ہے ؟آئےے ایسے شخص کو دیکھتے ہیں جس نے دعا کو سر فہرست بنایا  ۔  وہ کون ہے ؟یسوع مسیح :

 

مرقس1باب35آیت:
اورصبح ہی دن نکلنے سے پہلے وہ اٹھ کر نکلا اور ایک ویران جگہ میں گیا اور وہاں دعا کی ۔ 

 

       یسوع جانتا تھا کہ یہ دن اس کے لئے مصروف کا ہو گا کہ اس کےلئے دعا کے واسطے وقت نکالنا مشکل ہو گا  ۔  اس نے کیا کیا ؟وہ دعا کرنے کےلئے صبح سویرے ہی اٹھ گیا  ۔  کیا یہ دن کی زبردست شروعات نہیں ہے ؟کیا یہ دن کا آغاز کرنے کا اچھا طرےقہ نہیں ،حتیٰ کہ مصروف ترین دن بھی ؟ مصروف دن کا آغاز اس کے بوجھ اور کاموں کے بارے میں سوچنے کی بجائے ،دعا سے آغاز کرنا بہتر ،اور پھر سارے دن کے دوران آپ کی دعا کا جواب اسکی رہائی بخش قوت کی بدولت پائیں گے اور وہ دن بھر کے تمام مسائل کو حل کرتا جائے گا  ۔  لیکن یہ سب کرنے کےلئے ،آپ کو اس پر ایمان لانا ہے جو خدا کاکلا م دعا کی اہمیت کے بارے میں کہتا ہے اور اس نتےجے میں جو خدا آپ کے لئے کر سکتا ہے  ۔  یسوع مسیح اس لئے صبح سویرے نہیں اٹھا کہ یہ اتنا اتفاقاَ ہو گیا  ۔  بلکہ ،وہ جلدی اٹھنے کےلئے پر عظم تھا کیو نکہ اس نے دعا کی اہمیت کو اپنی زندگی میں جانا تھا  ۔   دوبارہ یہ اہمیت کا معاملہ ہے نہ کہ وقت کا معاملہ ہے  ۔ 

 

 

 3متی14باب23آیت

 

       ایک اور واقعہ جو یسوع مسیح کے دعا کرنے کے حوالے سے دیا گیا ہے وہ متی کے چودھویں باب میں ہے  ۔  پھر سے سیاق وسباق جاننا ضروری ہے  ۔  اس بار دن صرف مصروف تھا بلکہ ا س کا آغاز یسوع کےلئے ایک افسوس ناک بات سے ہوا،کیو نکہ یہ وہ دن تھا جب یسوع نے یوحنا بپتسمہ دینے والے کا سر کٹنے کی خبر سنی (سر کٹنے کے بارے میںجاننے کےلئے 1تا11آیت دیکھیں ) ۔ 

 

متی14باب12آیت:
”اور اس کے شاگردوں نے آکر لاش اٹھا لی اور اسے دفن کر دیا اور جا کر یسوع کو خبر دی ۔ 

 

       اس سے قبل کہ ہم آگے بڑھیں ،اگر آپ کو خبر ملے کہ آپ کا بھائی ،جو آپ کے ساتھ وفاداری سے چلتا رہا ،اس قدر عبرتناک موت مارا گیا ،تو آپ کو ایسا محسوس ہو گا ؟میرا خیال ہے کہ آپ بہت دکھ ہو گا اور آپ کچھ وقت کےلئے تنہائی پسند کریں گے  ۔  یسوع بھی یہی چاہتا تھا :

 

متی14باب13آیت:
”جب یسوع نے یہ سنا تو وہاں سے کشتی پر الگ کسی ویران جگہ کو روانہ ہوا اور لوگ یہ سن کر شہر شہر سے پیدل اس کے پیچھے گئے ۔ 

 

       اس کا یوں اکیلے ویران جگہ پر جانا پہلے سے منصوبہ نہیں بنایا گیا ،کیو نکہ یہ تب ہوا ”جب یسوع نے یہ سنا“یقینا ،یسوع کچھ وقت تنہا رہنا چاہتا تھا  ۔  تاہم وہ وہاں ہمیشہ کےلئے نہ ٹھہرا  ۔  کچھ وقت کے بعد ،وہ اس ویران جگہ سے واپس آیا اور اس نے دیکھا کہ لوگوں کی بڑی بھےڑ اس کا انتظار کر رہے تھے  ۔  جب اس نے اس بھےڑ کو دیکھا ،”اسے ان پر ترس آیا اور اس نے ان کے بیماروں کو اچھا کیا“ (14آیت) ۔   درحقیقت،اس نے نہ صرف ان کے بےماروں کو اچھا کیا بلکہ معجزاتی طور پر ان کو کھانا بھی کھلایا (15تا21آیت )پھر 22آیت ہمیں بتاتی ہے کہ اس کھانے کے بعد کیا ہوا :

 

متی14باب22آیت:
”اور اس نے فوراً شاگردوں کو
مجبور کیا کہ کشتی میں سوار ہو کر پار چلے جائیں جب تک وہ لوگوں کو رخصت کرے ۔ 

 

       یہاں لفظ ”فوراَ “بھیڑ کو کھانا کھلانے سے متعلقہ ہے اور اس کا مطلب یہ ہے کہ یو نہی لوگوں کو کھانا کھلایا گیا یسوع نے شاگردوں کو کشتی میں سوار ہو نے کو مجبور کیا ،لفظ ”مجبور “پر غور کریں  ۔  یہ یونانی لفظ فعل ”anagkazo“کا ماضی ہے جو نئے عہد نامہ میں 9بار استعمال ہوا ہے[2] ۔   اور اس کا مطلب ہے کہ ”کسی شخص کو کوئی ایسا کام کرنے کےلئے اکسانا جو چاہے اس کا کرنے کا ارادہ ہو یا نہیں  ۔  “پس ،درج بالا حوالہ کے مطابق یسوع مسیح نے شاگردوں کو کشتی میں سوار ہو نے کےلئے مجبور کیا  ۔  شاید وہ یہ نہیں چاہتے تھے  ۔  مگر اس نے اس کا ذکر نہیں کیا ،اس نے انہیں یہ کرنے پر مجبور کیا  ۔  پھر اس نے بھےڑ کو واپس بھیج دیا  ۔  یہاں سوال یہ پیدا ہو تا ہے کہ اس نے شاگردوں کو جانے پر مجبور کیو ں کیا ؟بھےڑ کو واپس بھیجنے کے بعد اسکا کیا کرنے کا ارادہ تھا ؟جواب 23آیت میں ہے :

 

تی14باب23آیت:
”اور لوگوں کو رخصت کر کے تنہا
دعا کرنے کے لئے پہاڑ پر چڑھ گیا اور جب شام ہوئی تو وہاں اکیلا تھا ۔ 

 

       اس کی وجہ کہ اس نے شاگردوں کو وہاں نہ ٹھہرنے دیا اور مجبوراَ کشتی میں سوار ہو کر جانے کو کہا یہ تھی کہ وہ اکیلے رہنا اور دعا کرنا چاہتا تھا ۔  یسوع مسیح کےلئے دعا کس قدر اہمیت کی حامل تھی  ۔  وہ بھےڑ سے الگ جانے کےلئے ، شاگردوں کو جانے کےلئے مجبور کرنے کے لئے اور خاص محور پر دعا کرنے کےلئے صبح سویرے جلدی اٹھ گیا ،کیا یہ اشارہ نہیںکرتا کہ دعا اس کی زندگی میں سر فہرست تھی ؟یقینا یہی اشارہ ہونا ہے  ۔  آئیے ان واقعات کو داد دیں اور اس پر ایمان لائیں جو خدا کا کلام دعا کی اہمیت کے بارے میں کہتا ہے تا کہ یہ ہماری زندگی میں بھی سر فہرست اہمیت رکھے  ۔ 

 

 

 4لوقا 6باب 12اور 13آیت

 

      ایک اور واقعہ جس میں ہم یسوع کو دعا کرتا دیکھتے ہیں لو قا 6باب میں ہے  ۔   اس بار ہمارا مرکز یہ نہیں کہ اس دعا کےلئے وقت نکالا بلکہ اس بار دعا کا مو ضو ع کو بیان نہیں کرتا ،تا ہم  ۔  ہم سبا ق وسباق سے یہ آسانی سے جان سکتے ہیں :

 

لوقا6باب12اور13آیت:
”اور ان دنوں میں ایسا ہوا کہ وہ پہا ڑ پر دعا کرنے کو نکلا اور خدا سے
دعا کرنے میںساری رات گزار ی ۔   جب دن ہوا تو اس نے اپنے شاگردوں کو پاس بلا کر ان میں سے بارہ چن لئے اور ان کو رسول کا لقب دیا ۔ 

 

       اس نے ساری رات دعا کی  ۔  گو کہ بائبل خصوصاَ نہیں بتاتی کہ اس نے کیا دعا کی ،یہ کہتی ہے کہ اس نے اپنے کام کےلئے صبح کے وقت بہت اہم فیصلہ کیا ،بارہ شاگردوںکا انتخاب  ۔  شاےد اسی لئے ،اس کی دعا کا مرکز اس رات یہی انتخاب ہو ،کیا آپ کولگتا ہے جب ہم ایسے فےصلے کرتے ہیں تو ہمیں دعا کی ضرورت نہیں ہو تی ؟حقیقتاََ ،ہمیں ہمارا محدود دماغ اور ہمارے کمزور حواس کو استعمال کرتے ہو ئے فےصلے کیوں کرنے چاہئیں جبکہ ہم خدا کے پا سنہ جائیں اور اس سے ہدایت مانگیں تا کہ ہمیں دکھائے کہ بہتر انتخاب کون سا ہے ؟وہ بہتر انتخاب جانتا ہے ،وہ ہمیں یہ انتخاب دکھانا چاہتا ہے ،اور اس کے پاس وسیلہ بھی ہے ،اس کا روح جو ہمارے اندر ہے  ۔  اس لئے سوال یہ نہیں ہے کہ کیا خدا ہماری مدد کرنا چاہتا ہے  ۔  حقیقی سوال یہ ہے کہ ،کیا ہم اسے اپنا اصلاح کار مانتے ہیں اور دعا کے ذرےعے اس سے مدد مانگتے ہیں ؟

 

      اسی طرح خدا کےلئے ہماری عبادت کے ساتھ بھی حقیقت یہی ہے  ۔  ہمیں پریشان ہو نے کی ضرورت ہر گز نہیں کہ خدا کی خدمت کیسے کریں اور اس کے لئے کیا کریں  ۔  ہمیں ان باتوں جو خدا کے کلام کی ہیں اپنے ذہنوں کو تکلیف نہیں دینے چاہئے  ۔  صرف خدا ہی ہے جو ہمیں بتاتا ہے کہ کیا کرنا ہے اور کس طرح کرنا ہے  ۔  بائبل آپ کو محبت کرنے ،دعا کرنے اور خود کو خدا کی نظر میں مقبول کرنے کےلئے مطالعہ کی تلقین دیتی ہے  ۔  پس ،اس بات کی ضرورت نہیں ہے کہ خدا آپ کو ذاتی طور پر دعا کرنے کو کہے ،کیو نکہ اس نے یہ آپ کو اپنے کلام میں پہلے ہی بتا دیا ہے  ۔  اسی طرح اس بات کی ضرورت نہیں کہ خدا آپ کو پیار کرنے کےلئے ذاتی طور پر کہے :یہ اس نے آپ کو اپنے کلام میں پہلے ہی کہہ دیا ہے ۔  تاہم ،اگر آپ اسکے لئے فلاں یا فلاں جگہ پر کام کرنے جارہے ہیں تو آپ کو اسکی ہدایات کی ضرورت ہے  ۔  اس قسم کے معاملے میں،اس سے قبل کہ آپ اپنا ذہن بنائیں ،اس کے لئے دعا کریں اور دیکھیں کہ خدا کیا چاہتا ہے  ۔  ہو سکتا ہے کہ وہ چاہتا ہے کہ آپ کہیں اور جائیں  ۔  وہ چاہتا ہو کہ آپ کچھ اور کام کریں  ۔  یہ اس کاکام ہے  ۔  کیا نہیںہے ؟

 

 

5 متی 26باب36تا44آیت

 

       درج بالا کے بعد ،ہم ایک مثال کے ساتھ جاری رکھیں گے جو ایک ایسے حوالہ میں ہے جس سے لوگ اچھی واقفیت رکھتے ہیں ،متی 26 باب 36تا44آیت ،جو چیزیں ہم دیکھنے جا رہے ہیں وہ یسوع مسیح کے گر فتار کئے جانے سے چند عرصہ قبل رو نما ہو ئیں اور جن کا نتےجہ آخر کار اسکے مصلوب ہو نے سے ہوا  ۔  ہم 36آیت سے شروع کرتے ہو ئے پڑھتے ہیں :

 

متی26باب36تا38آیت:
”اس وقت یسوع ان کے ساتھ گتسمنی نام ایک جگہ میں آیا اور اپنے شاگردوں سے کہا کہ یہیں بیٹھے رہنا جب تک میں وہاں جا کر
دعا کروں ۔  اور پطرس اور زبدی کے دونوں بیٹوں کو ساتھ لے کر غمگین اور بے قرار ہونے لگا ۔   اس وقت اس نے ان سے کہا میری جان نہایت غمگین ہے  ۔   یہاں تک کہ مرنے کی نوبت پہنچ گئی ہے ۔   تم یہاں ٹھہرو اور میرے ساتھ جاگتے رہو ۔ 

 

       یسوع کے غمگین اور پریشان ہو نے کی وجہ یہ تھی کہ وہ جانتا تھا کہ کیا ہو نے کو ہے  ۔  یہ وقت حقیقتاَ اس کے لئے بہت مشکل تھا اور اسی طرح ہم سب کےلئے نہایت ضروری بھی تھا کیو نکہ ہماری نجات کا منصوبہ اسکی ذاتی قربانی اور جی اٹھنے پر بنیاد رکھتا تھا  ۔  مگر اس نے ان اذیتےوں کو سہنے کا فیصلہ کےسے کیا ؟درج ذیل آیت ہمیں اس کا جواب دیتی ہے :

 

متی26باب39تا44آیت:
”پھر ذرا آگے بڑھا اور منہ کے بل گر کر یوں
دعا کی کہ اے میرے باپ اگر ہو سکے تو یہ پیالہ مجھ سے ٹل جائے تو بھی نہ جیسا میں چاہتا ہوں بلکہ جیسا تو چاہتا ہے ویسا ہی ہو ۔  پھر شاگردوں کے پاس آکر ان کو سوتے پایا اور پطرس سے کہا کیا تم میرے ساتھ ایک گھڑی بھی نہ جاگ سکے؟ جاگو اور دعا کرو تاکہ آزمائش میں نہ پڑو ۔   روح تو مستعید ہے مگر جسم کمزور ہے ۔   پھر دوبارہ جا کر اس نے یوں دعا کی اے میرے باپ ! اگر میرے پئے بغیر یہ نہیں ٹل سکتا تو تیری مرضی پوری ہو ۔   اور آکر پھر انہیں سوتے پایا کیونکہ ان کی آنکھیں نیند سے بھری تھیں ۔  اور ان کو چھوڑ کر چلا گیا اور پھر وہی بات کہہ کر تیسری باردعا کی ۔ 

 

       وہ باپ سے پو چھ رہا تھا کہ انسان کی نجات کا منصوبہ پورا کرنے کا کوئی اور طریقہ ہے یا نہیں  ۔  اس نے اس کے لئے دعا کی  ۔  درحقیقت اس نے تین بار ددعا کی اس کے دعا ئیہ روےے پر توجہ دینا کا فی مفید ہے جیسا کہ ہم دیکھ سکتے ہیں ،اس نے اپنی مرضی خدا کے سامنے ظاہر کی ( ”یہ پیالہ مجھ سے ہٹالے “) لیکن اس کے ساتھ ہی اس نے خدا سے اسکی مرضی پو ری کرنے کو کہا (”تا ہم نہ کہ جیسا میں چاہتا ہوں بلکہ جیسا تو چاہتا ہے “)یہ بہت ضروری ہے کیو نکہ بعض اوقات ہم سمجھتے ہیں کہ ہم خدا سے کچھ مانگتے ہیں کہ اسے وہ کرنا چاہئے اور نہ صرف یہ بلکہ یہ بھی کہ اسے وہ تب کرنا چاہئے جب ہم چاہتے ہیں کہ وہ کرے  ۔  خدا ہمارےس لئے وہ کام کرنے کا پابند ہے صرف تب اگر ہ اسکی مرضی کے مطابق کام کرنے کو کہتے ہیں ،اب، چند باتوں کےلئے بائبل میں واقعات موجود ہیں جو ہم پر ظاہر کرتے ہیں کہ کو ئی کا م خدا کی مرضی سے ہے یا نہیں  ۔  ایسی مثالوں میں سے ایک شفا کی مثال ہے  ۔  خدا کے کلام میں اس حوالے سے بہت سے واقعات درج ہیں (تا ہم اسے خدا کی مرضی جاننے کےلئے ایک ہی کافی ہو گا )جو اس بات کو بہت زیادہ واضح کرتے ہیں کہ شفا خدا کی مرضی سے ہو تی ہے[3]۔  اس لئے ہم یہ دعویٰ کرسکتے ہیں کہ شفا پہلے سے ہماری ہے  ۔  خدا نے اس وعدہ پر بھروسہ رکھتے ہو ئے ہم دعا کر سکتے ہیں۔  ہم دعاکرسکتے ہیں  ۔  ہم سو فی صد اس بات پر یقین رکھ سکتے ہیں کہ اگر ہم بیمار ہوں گے او ر خدا سے دعا کریں گے اور اس کے کے وعدہ پر بھروسہ رکھیں گے تو ہم شفا پائیں گے  ۔  ہم یہ اس لئے جانتے ہیں کیو نکہ کلام اسکی ضمانت دیتا ہے[4]۔        

 

       دوسری جانب کچھ ایسے کام بھی ہیں جن کااحاطہ بائبل میں موجود خاص وعدوں سے نہیں ہو تا مثال کے طور پر ،آئےے فرض کریں کہ میں فلاں یافلاں کار لینا چاہتا ہوں  ۔  بائبل مجھے اس کے بارے میں نہیں بتاتی کہ خدا کی مرضی کیا ہے کہ میں کار لوں یا نہ لوں  ۔  پس کار لینے کا دعویٰ کرنا درست ہے ؟ بالکل نہیں  ۔  کیا خدا سے دعا کرنا اور اسے اپنی خواہش بتانا درست ہے ؟جی ہاں۔  کیا اس سے دعا مانگنا کہ مجھے بتائے کہ آیا کہ میرے لئے کار خرےدنا بہتر ہے یا نہیں ؟ضرور جی ہاں کیا مجھے اس کے کلام پتر بھروسہ کرنا چاہئے جو مجھے بتاتا ہے کہ ”اسکی مرضی نیک،پسند یدہ اور کامل ہے “(رو میوں 12باب2آیت )اور یہ کہ ”وہ ہماری حفاظت کرتا ہے “(2پطرس2باب7آیت )اور اس لئے اسکی مرضی کے سامنے اپنی مرضی بھی رکھو ،چاہے وہ مرضی کو ئی بھی ہے ؟جی ہاں ،ضرور  ۔  یہی یسوع نے بھی کیا جس کام کےلئے اس نے دعا کی وہ خدا کی مرضی نہ تھی او اسی لئے وہ نہ ہو سکا  ۔  لیکن دیکھیں کہ گو اسکی بھی خواہش تھی کہ ”یہ پیالہ مجھ سے ٹل جائے “ تا ہم اس سے بڑی خواہش اسکی یہ تھی کہ خدا کی مرضی پو ری ہو  ۔  اس نے کہا ”پھر بھی کہ جیسا میں چاہتا ہوں بلکہ جیسا تو چاہتا ہے ویسا ہی ہو ۔  “ کیا یہ مفید نہیں ہے ؟کیا یہ ہمیں نہیں بتاتا کہ بے شمار خواہشات جو ہمارے دل میں ہیں ان کی بجائے ہماری ایک بڑی خواہش یہ ہو نی چاہئے کہ خدا کی ”نیک ، پسندیدہ اور کامل “ مرضی پو ری ہو ؟جی ہاں  ۔ 

 

       یسوع مسیح کی مثال کی طرف واپس آتے ہو ئے  ۔  اگر جو اس نے دعا کی وہ نہیں ہو سکتی تھی ،اس کا مطلب ہر گز نہیں کہ خدا اسکی دعا کو اہمیت نہیں دیتا  ۔   لوقا کی انجیل اس میں مزید وضاحت شامل کرتی ہے :

 

لوقا22باب41تا43آیت:
”اور وہ ان سے بمشکل الگ ہو کر کوئی پتھر کا ٹپہ آگے بڑھا اور گھٹنے ٹیک کر یو ںدعا کرنے لگا کہ اے باپ! اگر تو چاہے تو یہ پیالہ مجھ سے ہٹا لے تو بھی میری مرضی نہیں بلکہ تیری ہی مرضی پوری ہو ۔   اور آسمان سے ایک فرشتہ اس کو دکھائی دیا  ۔  وہ
اسے تقویت دیتا تھا ۔ 

 

       خدا نے اس پر فرشتہ بھیجا کہ اسے تقویت دے کہ وہ کام کرے جو اسکی بڑی خواہش کے مطابق ہے :خدا کی مرضی پو ری کرے  ۔  بعض اوقات ،ہمیں پتہ ملے گا کہ ہماری ذاتی خواہشات خدا کی ”نیک ،پسندیدہ اور کامل “یہ خدا کے مطابق نہیں ہیں  ۔  اگر ہماری بڑی خواہش خدا کی مرضی کو پورا کرنا ہے ،تو وہ ہمیں اس کےلئے تقویت دے گا  ۔  یسوع مسیح کے معاملے میں ،وہ تقویت جو اسے دعا کرنے سے حاصل ہو ئی اس کی گرفتاری کے واقعہ میں دکھائی گئی ہے :

 

یوحنا18باب3تا11آیت:
”پس یہوداہ سپاہیوں کی پلٹن اور سردار کاہنوں اور فریسیوں سے پیادے لے کر مشعلوں اور چراغوں اور ہتھیاروں کے ساتھ وہاں آیا ۔   یسوع ان سب باتوں کو جواس کے ساتھ ہونے والی تھیں جان کر باہر نکلا اور ان سے کہنے لگا کہ کسے ڈھونڈتے ہو؟ انہوں نے اسے جواب دیا یسوع ناصری کو ۔   یسوع نے ان سے کہا میں ہی ہوں اور اس کا پکڑوانے والا یہودہ بھی ان کے ساتھ ہی کھڑا تھا ۔  اور اس کے یہ کہتے ہی کہ میں ہوں وہ پیچھے ہٹ کر زمین پر گر پڑے ۔  پس اس نے ان سے پھر پوچھا تم کسے ڈھونڈتے ہو؟ انہوں نے کہا یسوع ناصری کو ۔   یسوع نے جواب دیا کہ میں تم سے کہہ یتو چکا ہوں کہ میں ہی ہوں ۔  پس اگر تم مجھے ڈھونڈتے ہو تو انہیں جانے دو ۔   یہ اس نے اسلئے کہا کہ وہ قول پورا ہو کہ جنہیں تو نے مجھے دیا میں نے ان میں سے کسی کو بھی نہ کھویا ۔   پس شمعون پطرس نے تلوار جو اس کے پاس تھی کھینچی اور سردار کاہن کے نوکر پر چلا کر اس کا دہنا کان اڑا دیا ۔   اس نوکر کا نام ملخس تھا  ۔   یسوع نے پطرس سے کہا تلوار کو میان میں رکھ ۔    
جو پیالہ باپ نے مجھے دیا ہے کیا میں اسے نہ پیوں؟

 

      آخری آیت دکھاتی ہے کہ تکلیف ختم ہو چکی ہے ،گو کہ اسکی مرضی مختلف تھی ،پھر بھی اس کی بڑی خواہش خدا کی مرضی پوری کرنا تھی  ۔  پس اس نے اپنی مرضی خدا کی مرضی سے ہٹا دی ،بالکل یسے مجھے اور آپ کو کرنا چاہئے  ۔  لیکن یہ کرنے کےلئے اس نے دعا کی اور تقویت پائی  ۔  اس کے علاوہ ،یہ قوت ان لوگوں پر ا س کے عمل سے ظاہر ہو ئی جو اسے گر فتار کرنے آئے تھے  ۔  پس ، اگرچہ جب وہ باغ میں گیا تو بہت غمگین اور بے قرار تھا[5]۔   ،لیکن اس کا ردعمل میں کہ واقعہ میں ظاہر کیا گیا ہے دلیری والا تھا  ۔  کیو نکہ حقیقتاَ ،ان لوگوں کے پاس جانا جنہیں آپ جانتے ہیں کہ وہ کچھ دیر کے بعد آپ کو اذیت دیں گے ، ایک دلیری والا کام ہی ہے  ۔  ایک خوفزدہ شخص ایسی صورت حال سے بھاگ جائے گا  ۔  لیکن یسوع خوفزدہ نہ تھا  ۔  دوسروں کے پیچھے خود کو چھپانے کی بجائے ،وہ بہادری سے ان کے پاس گیا اور پو چھا کہ وہ کسی کو ڈھونڈتے ہیں  ۔  در حقیقت ،نہ صرف اس نے یہ کیا بلکہ اس نے اپنے شاگردوں کی بھی حفاظت کی۔  اس کے علاوہ ،اس کے دل میں سکون اور محبت اس غلام کےلئے بھی جس کا کان پطرس نے کا ٹ دیا اور یسو ع نے اسے شفا دی (لوقا 22باب51آیت ) ۔  اگر یہ سب چیزیں ایک قوت بھرے شخص کو ظاہر نہیں کرتی تو کیا ظاہر کرتی ہیں ؟مگر اسے یہ قوت کیسے ملی ؟اس نے اس تکلیف پر قابو کےسے پایا؟ دعا کے ذریعے  ۔ 

 

 

 6اختتام

 

       درج بالا سب کے بعد ،گو کہ ایسے اور بہت سے واقعات ہیں جو آپ خود کےلئے پڑھ سکتے ہیں یہ بات واضح ہے کہ دعا خداوند یسوع مسیح کی زندگی میں بہت اہم تھی ،ایسا حصة جس کی حفاظت اس نے بہت پیار سے کی  ۔  دعا کی خاطر ، وہ صبح سویرے جلدی اٹھنے کو ،اپنے شاگردوں کو جانے پر مجبور کرنے کو خود کو ویران جگہ پر لے جانے کو تیار تھا دعا کے ذریعے اس نے فیصلے کئے اور مشکل اوقات پر قابو پایا  ۔  اس خیال کے بر عکس کہ ”جب وقت ملے تو دعا کرو“ اس نے دعا کےلئے وقت نکالا  ۔  دنیا کی انداز فکر کی بجائے جو کہتی ہے کہ ،”جو آپ بہتر سمجھتے ہیں اس کا انتخاب کروں اور جو آپ کی خواہش ہے وہ کریں “ اس نے یہ جاننے کے لئے دعا کی جو خدا کی سوچ تھی اور وہی کیا جو خدا کی مرضی تھی  ۔   ختم کرنے کے لئے ،آئیے فلپیوں 4باب6اور7آیت پر جاتے ہیں اور اسے اپنی انداز فکر بناتے ہیں :

 

فلپیوں4باب6اور7آیت:
”کسی بات کی فکر نہ کرو بلکہ ہر ایک بات میں تمہاری درخواستیں دعا اور منت کے وسیلہ سے شکر گزاری کے ساتھ خدا کے سامنے پیش کی جائیں ۔   تو خدا کا اطمینان جو سمجھ سے بالکل باہر ہے تمہارے دلوں اور خیالوں کو یسوع مسیح میں محفوظ رکھے گا ۔ 

 

تسسوس کولچوگلو

اردو  Fahim Qaiser, Napoleon Zaki :



 

[1] پرانے عہد نامے اور اناجیل کے واقعات کو بیان کئے بغیر ان حوالہ جات کو دیکھیں: 1کرنتھیوں14باب14اور15 آیت، افسیوں6باب 18آیت، فلپیوں 4باب6آیت، کلسیوں4باب12آیت، 1تمیتھیس 2 باب1 آیت، یعقوب 5باب 13، 16 تا18آیت ۔

[2] چار بار اس کا ترجمہ ”مجبور کیا“ اور پانچ بار ”اکسایا“ کیا گیا ہے ۔

[3] خروج 15باب26آیت، 103زبور3آیت، یوحنا8باب29آیت، 3یوحنا 2 آیت، اور بہت سے دیگر واقعات دیکھیں جو اس معاملے میں خدا کی رہائی بخش قوت کو ظاہر کرتے ہیں ۔

[4] تاہم، کلام یہ نہیں بیان کرتا کہ خدا یہ کیسے کرے گا اور کب کرے گا ۔   کب اور کیسے کا فیصلہ کرنا اس کا کام ہے ۔   وہ یہ کام دوا کے ذریعے بھی کر سکتا ہے  ۔  ہم یہ نہیں جانتے کہ کب اور کیسے ۔  ہم صرف یہ جانتے ہیں کہ وہ یہ ضرور کرے گا ، 100فی صد کرے گا، اگر ہم اس کے لئے دعا کریں گے  ۔

[5] یونانی لفظ جو مرقس کی انجیل (مرقس14باب33آیت)کے بیان کردہ واقعہ میں استعمال کیا گیا ہے وہ فعل ”ekthabeomai“ ہے جو چار بار استعمال کیا گیا ہے جن میں سے : ایک بار اس کا ترجمہ ”بہت حیران ہونا“، ایک بار ” بہت پریشان ہونا “ اور دو بار ”نہایت غمگین ہونا“ کیا گیا ہے ۔