بائبل کی سچائیاں


ہمارے جدید ترین کالم   |   
موضوع کے مطابق   |    تمام کالم   |    سبسکرائب   |    ہوم   

 

 

 

 

نشان زد کریں اور دوسروں کو شریک کریں

 

 

  PDF version (printer friendly)

 

 

 

یوسف: ایک صابرآدمی

 

 یعقوب 5 باب 10 اور 11 آیت میں ہم پڑھتے ہیں : 
 
”اے بھائیو! جن نبیوں نے خداوند کے نام سے کلام کیا انکو دکھ اٹھانے اور صبر کرنے کا نمونہ سمجھو۔   دیکھو صبر کرنے والوں کو ہم مبارک کہتے ہیں،  تم نے ایوب کے صبر کا حال تو سنا ہی ہے اور خداوند کی طرف سے جو س کا انجام ہوا اسے بھی معلوم کر لیا جس سے خداوند کا بہت ترس اور رحم ظاہر ہوتا ہے۔ 

 

        صبر ایسی چیز ہے جس کی ہمیں ضرورت ہے ،  خاص طور پر مشکلات میں  ”مصیبت میں صابر رہو“ ( رومیوں 12 باب12 آیت )خدا کا کلام یہ کہتا ہے آج میں صبر کے موضوع پر غور کرنا چاہتا ہوں اور اِس مقصد کیلئے یوسف ،  یعقوب کے بیٹے ،  کی مثال استعمال کروں گا۔ 

 

 1یوسف:   کعنان کی سر زمین میں : 

  پیدائش 37 باب 3 تا 11 آیت میں ہم پڑھتے ہیں: 
”اور اسرائیل یوسف کو اپنے سب بیٹوں سے زیادہ پیار کرتا تھا کیونکہ وہ اس کے بڑھاپے کا بیٹا تھا اور اس نے اسے ایک بوقلمون قبا بھی بنوا دی۔
  اور اس کے بھائیوں نے دیکھا کہ ان کا باپ اس کے سب بھائیوں سے زیادہ اسی کو پیار کرتا ہے۔   سو وہ اس سے بغض رکھنے لگے اور ٹھیک طور سے بات بھی نہیں کرتے تھے۔  اور یوسف نے ایک خواب دیکھا جسے اس نے اپنے بھائیوں کو بتایا تو وہ اس سے اور بھی بغض رکھنے لگے۔  اور اس نے ان سے کہا کہ ذرا وہ خواب تو سنو جو میں نے دیکھا ۔   ہم کھیت میں پولے باندھتے تھے اور میرا پولا اٹھا اور سیدھا کھڑا ہوگیا اور تمہارے پولوں نے میرے پولے کو چاروں طرف سے گھیر لیا اور اسے سجدہ کیا۔  تب اس کے بھائیوں نے اس سے کہا کہ کیا تو سچ مچ ہم پر سلطنت کرے گا یا ہم پر تیرا تسلط ہوگا؟ اور انہوں نے اس کے خوابوں اور اسکی باتوں کے سبب اس سے اور بھی بغض رکھا۔   پھر اس نے دوسرا خواب دیکھا اور اپنے بھائیوں کو بتایا۔   اس نے کہا کہ دیکھو مجھے ایک اور خواب دکھائی دیا کہ سورج اور چاند اور گیارہ ستاروں نے مجھے سجدہ کیا۔   اور اس نے اپنے باپ اور بھائیوں دونوں کو بتایا۔  تب اس کے باپ نے اسے ڈانٹا اور کہا کہ یہ خواب کیا ہے جو تو نے دیکھا؟ کیا میں اور تیری ماں اور تیرے بھائی سچ مچ تیرے آگے زمین پر جھک کر تجھے سجدہ کریں گے؟ اور اس کے بھائیوں کواس سے حسد ہو گیا لیکن اس کے باپ نے یہ بات یاد رکھی۔ 

 

        یعقوب یوسف سے باقی تمام بچوں کی نسبت زیادہ پیار کرتا تھا ،  اس کی بدولت اُس کے بھائی بغض رکھتے تھے اس کے علاوہ اُس نے دو خواب دیکھے جن میں وہ اپنے گھر والوں پر حاکم تھا، اور اس کی وجہ سے اُن کا حسد اور بڑھ گیا ہم بعد میں دیکھیں گے کہ اُن کے حسد نے یوسف کیلئے بہت مشکلات پیدا کیں ۔ 

        اِن خوابو کو پیدا کرنے والے کے حوالے سے ےہ حقیقت کہ خدا نے اِن خوابوں کو پورا کیا گوکہ کافی عرصے کے بعد پورا کیا (پیدائش 42 باب9 آیت ) ظاہر کرتی ہے کہ وہی تھا جس نے وہ خواب دکھائے تھے،  شاید تب وہ مشکلات دیکھنے کے بعد جو اِن خوابوں کی وجہ سے یوسف پر آئیں اگلا سوال ہمارے ذہن میں آتا ہے کہ کیوں؟ خدا نے وہ خواب یوسف کو کیوں دیئے جو سالوں بعد پورے ہونے تھے؟ کیا وہ یہ نہیں جانتا تھا کہ یہ خواب اُس کے بھائیوں کی نفرت کو اِس قدر بڑھا دیں گے کہ وہ اُسے مصر میں بیچ ڈالیں گے؟ یقینا وہ جانتا تھا خدا سے کوئی چیز پوشیدہ نہیں ،  خدا کیلئے کوئی چیز اتفاقاً نہیں ہوتی وہ ہر چیز جانتا ہے وہ ہمارے دیکھنے سے کہیں زیادہ آگے دیکھتا ہے۔   جو کچھ یوسف کے ساتھ ہوا اُن کا کوئی مقصد تھا گوکہ جب وہ مشکلات اُس کے ساتھ پیش آئیں تو اُن کا مقصد سمجھنا مشکل تھا۔    یہ حقیقت کہ ہم مشکلات اور مصیبتوں میں سے گزر رہے ہوں تو یہ معنی ہر گز نہیں رکھتی کہ ہم لازماً خدا کی مرضی کے خلاف اور اُس کے منصوبہ سے جدا چل رہے ہیں۔  یوسف کی طرح ہمارے ساتھ بھی مشکلات کا کوئی نہ کوئی مقصد ہوتا ہے اور میں یہ مانتا ہوں کہ یہ اُن سب چیزوں کیلئے درست بات ہے۔   جو خداوند ہماری راہ میں پیدا کرتا ہے ”سب چیز یں مل کر خدا سے محبت رکھنے والوں کیلئے بھلائی پیدا کرتی ہیں “(رومیوں 8 باب28 آیت) کلام یہ کہتا ہے اگر آپ خدا سے محبت رکھتے ہیں تو سب چیزیں بھلائی پیدا کریں گی ، یہاں تک کہ مشکلات بھی اور جی ہاں مصیبتیں بھی آپ کو آگے بڑھنے کیلئے آپکی زندگی میں آنے والے ”کیوں “ کے جوابات کی ضرورت نہیں ہے۔   جیسا کہ ہم دیکھتے ہیں کہ یوسف کے سوالات کے جواب کو عرصہ لگ گیا اور اِس دوران مزید سوالات شامل ہوگئے جس چیز کی ہمیں ضرورت ہے وہ یہ ہے کہ خدا کے منصوبہ جات پر بھروسہ رکھیں ،  چاہے ہم نے ابھی اُن منصوبہ جات کی تکمیل نہیں دیکھی 1 پطرس 4 باب19 آیت ہمیں بتاتی ہے کہ ”جو خدا کی مرضی کے موافق دُکھ پاتے ہیں وہ نیکی کرکے اپنی جانوں کو وفادار خالق کے سپرد کریں گے“ شاید ایسا وقت آئے گا جب ہم دُکھ اُٹھائیں گے اور یہ ”خدا کی مرضی کے موافق “ ہو گا آیئے ہم اپنی جانوں کو وفادار خالق کے سپرد کریں وہ اچھی طرح سے جانتا ہے کہ وہ کیا کر رہا ہے۔ 

 

2 کعنان سے مصر تک: 

       یوسف کی طرف آتے ہوئے،  اگر یوسف اِن خوابوں کی وجہ جاننے کیلئے پریشان نہیں ہوا تو شاید وہ اِس سے پریشان ضرور ہوا ہوگا اِس کے بعد واقعہ ہوا اُس کے باپ نے اُسے اُس کے بھائیوں کی خبر لینے کیلئے وہاں بھیجا جہاں وہ اپنے گلے چراتے تھے ۔  مگر اُنہوں نے

 

 پیدائش 37 باب18 تا 28 آیت: 
”اور جونہی انہوں نے اسے دور سے دیکھا تو پیشتر اس سے کہ وہ نزدیک پہنچے اسکے قتل کا منصوبہ باندھا۔
   اور آپس میں کہنے لگے دیکھو وہ خوابوں کا دیکھنے والا آرہا ہے۔   آﺅ اب ہم اسے مار ڈالیں اور گڑھے میں ڈال دیں اور یہ کہہ دیں گے کہ کوئی برا درندہ اسے کھا گیا۔   پھر دیکھیں گے کہ اس کے خوابوں کو انجام کیا ہوتا ہے۔  تب روبن نے یہ سن کر اسے ان کے ہاتھوں سے بچایا اور کہا کہ ہم اس کی جان نہ لیں۔   روبن نے ان سے یہ بھی کہا کہ خون نہ بہاﺅ بلکہ اسے اس گڑھے میں جو بیابان میں ہے ڈالدو لیکن اس پر ہاتھ نہ اٹھاﺅ۔   وہ چاہتا تھا کہ اسے ان کے ہاتھ سے بچا کر اسے باپ کے پاس سلامت پہنچا دے۔   اور یوں ہوا کہ جب یوسف اپنے بھائیوں کے پاس پہنچا تو انہوں نے اس کی بو قلمون قبا کو جو وہ پہنے تھا اتار لیا۔  اور اسے اٹھا کر گڑھے میں ڈال دیا ۔   وہ گڑھا سوکھا تھا اور اس میں ذر ا بھی پانی نہ تھا۔  اور وہ کھانا کھانے بیٹھے اور آنکھ اٹھائی اور دیکھا کہ اسمعٰیلیوں کا ایک قافلہ جلعاد سے آرہا ہے اور گرم مصالح اور روگن بلسان اور مر اونٹوں پر لادے ہوئے مصر کو لے جا رہا ہے۔   تب یہودہ نے انے بھائیوں سے کہا کہ اگر ہم اپنے بھائی کو مار ڈالیں اور اس کا خون چھپائیں تو کیا نفع ہو گا؟ آﺅ اسے اسمعٰیلیوں کے ہاتھوں بیچ ڈالیں کہ ہمارا ہاتھ اس پر نہ اٹھے کیونکہ وہ ہمارا بھائی اور ہمارا خون ہے۔   اس کے بھائیوں نے اس کی بات مان لی۔  پھر وہ مدیانی سوداگر وہاں سے گزرے تب انہوں نے یوسف کو کھینچ کر گڑھے سے باہر نکالا اور اسے اسمعٰیلیوں کے ہاتھوں بیس روپے کو بیچ ڈالااور وہ یوسف کو مصر میں لے گئے۔ 

 

        آخر کا ریوسف کے بھائیوں کے حسد نے اُنہیں اُسے مصر میں غلامی کیلئے بیچنے پر مجبور کر دیا آئیے ایک منٹ رُکتے ہیں اور کُچھ دیر کیلئے خود کو یوسف کی جگہ رکھتے ہیں ۔   اُن سوالوں پر غور کریں جو یوسف کے ذہن میں ہوں گے چند لمحات میں ہی اُسکی زندگی ڈرامائی انداز میں بدل گئی چند گھنٹے پہلے وہ اپنے باپ کے ساتھ گھر میں تھا جو اُسے بے پناہ پیار کرتا تھا ،  اب اپنے بھائیوں کے ہاتھوں بک جانے کے بعد مصر میں غلام کے طور پر لے جایا جارہا ہے کیا آپ سمجھتے ہیں کہ وہ جانتا تھا کہ اُس کے ساتھ یہ سب کیوں ہورہا ہے؟میں تو ایسا نہیں سمجھتا ۔ 

        یوسف کی طرح شاید ہم بھی چند باتوں کے پیچھے اُن کی وجوہات کو سمجھ پائیں ،  ہم اُلجھن میں ہوں گے اور ایوب کی مانند افسردہ ہوں گے مگر مُجھے یہ دوہرانے دیجئے ”سب چیزیں مل کر خدا سے محبت رکھنے والوں کیلئے بھلائی پیدا کرتی ہیں “ہمارے پاس مختصراً ماضی اور حال کا منظر ہے دوسری جانب خدا کے سامنے مکمل منظر ہے :   ماضی ، حال اور مستقبل کا ہمارا منظر نامکمل اور محددو ہے ،  اُس کا منظر پورا اور کامل ہے ہمارے محددو منظر اور اُسکے کامل منظر کے درمیان ایمان کا تعلق ہے ایمان ہمارے نا کامل خیال کو اُس کے کامل خیال کے ساتھ ملاتا ہے اور ہمارے ناتمام خیال کے مطابق عمل پیرا ہونے سے انکار کرتا ہے بلکہ یہ اُس کے کامل خیال پر بھروسہ رکھتا ہے جس پر ہم ایمان لاتے ہیں :  خدا پر جب ہمارے ایمان کی آزمائش ہوتی ہے ،  تو ہماری آزمائش ہوتی ہے کہ ہم اپنی آنکھیں خدا سے ہٹا کر اپنی سوچ پر نظر رکھیں آئیے اُن نہ دیئے گئے جوابات کے جواب حاصل کرنے کی کوشش نہ کریں جو ہمارے پاس ہیں ہمارے نتائج درست بھی نہیں ہوسکتے اِسکی بجائے ،  انپی جانوں کو ”وفادار خالق کے سپر د کریں “ گوکہ ایسی چیزیں ہوتی ہیں جنہیں ہم وقتی طور پر نہیں سمجھ پاتے ،  مگر وہ ہمیشہ جا نتا ہے جو وہ کر رہا ہے۔ 

 

 3یوسف :   فوطیفرع کے گھر میں اور پھر قید خانے میں: 

        یوسف کی طرف واپس آتے ہوئے،  39 باب 1 تا 6 آیات ہمیں بتاتی ہیں کہ آگے کیا ہوا: 

 

پیدائش 39 باب1 تا 6 آیت: 
”اور یوسف کو مصر میں لائے اور فوطیفار مصری نے جو فرعون کا ایک حاکم اور جلوداروں کا سردار تھا اس کو اسمعٰیلیوں کے ہاتھ سے جو اسے وہاں لے گئے خرید لیا۔
   اور
خداوند یوسف کے ساتھ تھا اور وہ اقبال مند ہوا اور اپنے مصری آقا کے گھر میں رہتا تھا۔   اور اس کے آقا نے دیکھا کہ خداوند اس کے ساتھ ہے اور جس کام میں وہ ہاتھ لگاتا ہے خداوند اسے اقبالمند کرتا ہے۔  ۔   چنانچہ یوسف اس کی نظر میں مقبول ٹھہرا اور وہی اس کی خدمت کرتا تھا اور اس نے اسے اپنے گھر کا مختار بنا کر اپنا سب کچھ اسے سونپ دیا۔   اور جب اس نے اسے اپنے گھر کا اور اپنے سارے مال کا مختار بنایا تو خداوند نے اس مصری کے گھر میں یوسف کی خاطر برکت بخشی اور اس کی سب چیزوں پر جو گھر میں اور کھیت میں تھیں خداوند کی برکت ہونے لگی۔   اور اس نے اپنا سب کچھ یوسف کے ہاتھ میںچھوڑ دیا اور سوا روٹی کے جسے وہ کھالیتا تھا اسے اپنی کسی چیز کا ہوش نہ تھا۔ 

 

        خداوند یوسف کے ساتھ تھا“ یہ نہیں کہا گیا کہ یوسف کی مصیبتوں کے دوران خدا نے اُسے چھوڑ دیا ،  خدا وند یوسف کے ساتھ تھا اور وہ اُس کے ساتھ ابتد ا سے تھا ” میں تجھ سے ہرگز دست بردار نہ ہوں گا ،  اور کبھی تجھے نہ چھوڑوں گا “ ( عبرانیوں 13 باب 5 آیت )کلام کہتا ہے۔   یوسف کی پہنچ ،  آپ کی طرح ،  ماضی اور حال تک ہی تھی اگر وہ اپنی جسمانی آنکھوں سے اپنی حالت دیکھتا ،  وہ بہت پر یشان ہوجاتا شاید وہ زندگی سے لاچار ہوجاتاتاہم اُس نے ایسا نہیں کیا ،  گو کہ جو زندگی وہ گز ار رہا تھا وہ اُس سے بہت مختلف تھی جس کی اُس نے توقع کی تھی اس کی بجائے وہ اُس مصری کیلئے کام کرتا تھا جس نے اُسے اپنی سب چیزوں کا مختار بنایا تھا گوکہ اپنی زندگی کے تمام تر سوالوں کا جواب اُسے نہیں ملا تھا ،  مگر اُس نے اپنی زندگی اُسی کے ہاتھوں میں سوپنتے ہوئے گزاری جو یہ جوابات جانتا تھا۔ 

        فوطیفرع کے گھر میں یوسف کی زندگی کے حوالے سے ،  ہم کہہ سکتے ہیں کہ زندگی دوبارہ اُس کیلئے مُسکرانے لگی تھی اُس کا کام اچھا تھا:   وہ فوطیفرع کے سب کاموں کا مختار تھا ،  میرا خیال ہے کہ بہت سے مصریوں کیلئے یہ بہت عزت والی بات تھی ،  تاہم حالات بہت جلد بدل گئے پیدائش 39 باب6 تا20 آیت ہمیں بتاتی ہے۔ 

 

 پیدائش 39 باب6 تا 20 آیت: 
 
”اور یوسف خوبصورت اور حسین تھا۔   ان باتوں کے بعد یوں ہوا کہ اس کے آقا کی بیوی کی آنکھ یوسف پر لگی اور اس نے اس سے کہا کہ میرے ساتھ ہم بستر ہو۔   لیکن اس نے انکار کیا اور اپنے آقا کی بیوی سے کہا کہ دیکھ میرے آقا کو خبر بھی نہیں کہ اس گھر میں میرے پاس کیا کیا ہے اور اس نے اپنا سب کچھ میرے ہاتھ میں چھوڑ دیا ہے۔   اس گھر میں مجھ سے بڑا کوئی نہیں ہے اور اس نے تیرے سو کوئی چیز مجھ سے باز نہیں رکھی کیونکہ تو اس کی بیوی ہے سو بھلا میں کیوں ایسی بڑی بدی کروں اور خدا کا گناہگار بنوں؟اور وہ ہر چند روز یوسف کے سر ہوتی رہی پر اس نے اس کی بات نہ مانی کہ اس سے ہم بستر ہونے کے لئے اس کے ساتھ لیٹے۔  اور ایک دن یوں ہوا کہ وہ اپنا کام کرنے کےلئے گھر گیا اور گھر کے آدمیوں میں سے کوئی بھی اندر نہ تھا ۔   تب اس عورت نے اس کا پراہن پکڑ کر کہا کہ میرے ساتھ ہم بستر ہو۔   وہ اپنا پراہن اس کے ہاتھ میںچھوڑ کر بھاگا اور باہر نکل گیا۔   جب اس نے دیکھا کہ وہ اپنا پراہن اس کے ہاتھ میں چھوڑ کر بھاگ گیا۔   تو اس نے اپنے گھر کے آدمیوں کو بلا کر ان سے کہا کہ دیکھو وہ ایک عبری کو ہم سے مذاق کرنے کےلئے ہمارے پاس لے آیا ہے۔   یہ مجھ سے ہم بستر ہونے کو اندر گھس آیا اور میں بلند آواز سے چلانے لگی۔   جب اس نے دیکھا کہ میں زور زور سے چلانے لگی ہوں تو اپنا پراہن میرے پاس چھوڑ کر بھاگا اور باہر نکل گیا۔  ۔  ۔  ۔  جب اس کے آقا نے اپنی بیوی کی وہ باتیں جو اس نے اس سے کہیں سن لیں کہ تیرے غلام نے مجھ سے ایسا ایسا کیا تو اس کا غضب بھڑکا۔   اور یوسف کے آقا نے اس کو لے کر قید خانہ میں جہاں بادشاہ کے قیدی بند تھے ڈال دیا۔ 

 

        گوکہ یوسف اپنے کام میں بہت گنی تھا ،  اچانک وہ فوطیفرع کی بیوی کا شکار ہوا اور فرعون کی قید میں جا پڑا اُس نے اس سے قدم نہ ہٹایا کیونکہ وہ جانتا تھا کہ یہ خدا کی مرضی تھی جیسا کہ اُس نے اُس عورت سے کہا ،  ”میں کیوں ایسی بڑی بدی کروں اور خدا کا گناہ گار بنوں ؟“ یوسف خدا سے ڈرتا تھا نہ کہ انسان سے اگر اُس کا نتیجہ یہ تھا کہ اُسے قید میں ڈال دیا گیا یہاں بھی خدا کی موجودگی اے اُس کا پیچھا نہ چھوڑا 20 تا 23 آیت ہمیں بتاتی ہے۔ 

 

 پیدائش 39 باب20 تا 23 آیت: 
 
”سو وہ وہاں قید خانہ میں رہا۔  لیکن خداوندیوسف کے ساتھ تھا،  اس نے اس پر رحم کیا اور قید خانہ کے داروغہ کی نظر میں اسے مقبول بنایا۔   اور قید خانہ کے داروغہ نے سب قیدیوں کو جو قید میں تھے یوسف کے ہاتھ میں سونپا اور جو کچھ وہ کرتے اسی کے حکم سے کرتے تھے۔   اور قید خانہ کا داروغہ سب کاموں کی طرف سے جو اس کے ہاتھ میں تھے بے فکر تھا اس لئے کہ خداوند اس کے ساتھ تھا۔   اور جو کچھ وہ کرتا تھا خداوند اس میں اقبال مندی بخشتا تھا۔ 

 

        مگر خداوند یوسف کے ساتھ تھا“ اور میں جانتا ہوں کہ اسی طرح آپ کے ساتھ بھی ہو تا ہے:  خدا آپ کے ساتھ ہے،  اگرچہ آپ مشکل حالات میں ہوں ،  خداوند وہاں ہوتا ہے یوسف کی طرح آپ کے بھی سوالات ہوں گے جن کے جوابات نہیں ہیں ۔  آپ حیران ہوںگے ”اِن سب میں خدا کہاں ہے ؟ “ مگر میرا ماننا ہے کہ جواب صرف یہ ہے کہ سیدھا اور مختصراً :   آپ کے ساتھ

        یوسف کی طرف آتے ہوئے ،  فوطیفرع کے گھر کا مختار ہوتے ہوئے اب وہ قید خانے کا مختار بن گیا تھا کچھ عرصے کے بعد اُس کے ”قیدی

        مہمانوں “ میں فرعون کے دو ملازم بھی شامل ہوگئے سردار باورچی اورسردار ساقی پیدائش 40 باب 5 تا 8 آیت ہمیں بتاتی ہے: 

 

 پیدائش 40 باب5 تا 8 آیت: 
 
”اور شاہ مصر کے ساقی اور نان پز دونوں نے جو قید خانہ میں نظر بند تھے ایک ہی رات میں اپنے اپنے ہونہار کے مطابق ایک ایک خواب دیکھا ۔  اور یوسف صبح کو ان کے پاس اندر آیا اور دیکھا کہ وہ اداس ہیں ۔  اور اس نے فرعون کے حاکموں سے جو اسکے ساتھ اسکے آقا کے گھر میں نظر بند تھے پوچھا کہ آج تم کیوں اےسے اداس نظر آتے ہو؟انہوں نے اس سے کہا ہم نے ایک خواب دیکھا ہے جسکی تعبیر کرنے والا کوئی نہیں ۔  یوسف نے ان سے کہا کیا تعبیر کی قدرت خدا کو نہیں ؟ مجھے ذرا وہ خواب بتاﺅ ۔ 

 

        ” کیا تعبیر کی قدرت خدا کو نہیں؟ “ اور ہاں اُسی سے ہر تعبیر ،  تشریح اور جواب کی قدرت ہے اس حوصلے کے ساتھ قید یوں نے یوسف کو اپنے خواب سنانے شروع کئے : 

 

پیدائش 40 باب9 تا 15 آیت: 
”تب سردار ساقی نے یوسف سے اپنا خواب بیان کیا۔
   اس نے کہا کہ میں نے خواب میں نے خواب میں دیکھا کہ انگور کی بیل میرے سامنے ہے۔   اور اس بیل میں تین شاخیں ہیں اور ایسا دکھائی دیا کہ اس میں کلیاں لگیں اور پھول آئے اور اس کے سب گچھوں میں پکے پکے انگور لگے۔   اور فرعون کا پیالہ میرے ہاتھ میں ہے اور میں نے ان انگوروں کو لے کر فرعون کے پیالہ میں نچوڑا اور وہ پیالہ فرعون کے ہاتھ میں دیا ۔   یوسف نے اس سے کہا کہ اس کی تعبیر یہ ہے کہ وہ تین شاخیں تین دن ہیں۔   سو اب سے تین دن کے اندر فرعون تجھے سرفراز فرمائے گا اور تجھے پھر سے تیرے منصب پر بحال کر دے گا اور پہلے کی طرح جب تو اس کا ساقی تھا پیالہ اس کے ہاتھ میں دیا کرے گا۔  لیکن جب تو خوشحال ہو جائے تو مجھے یاد کرنا اور ذرا مجھ سے مہربانی سے پیش آنا اور فرعون سے میرا ذکر کرنا اور مجھے اس گھر سے چھٹکارہ دلوانا۔   کیونکہ عبرانیوں کے ملک میں سے مجھے چرا کر لے آئے ہیں اور یہاں بھی میں نے ایسا کوئی کام نہیں کیا جس کے سبب سے قید خانہ میں ڈلا جاﺅں۔ 

 

        دونوں ملازموں کے خواب ( ہم نے سردار باورچی کا خواب چھوڑ دیا) خدا کی طرف سے تھے اس لئے اُس نے تعبیر بھی دی سردار ساقی اپنے عہدے پر دوبارہ فائز ہوگا،  یوسف یہ جانتے ہوئے اُسے کہتا ہے کہ وہ اُسے تب یاد رکھے اور فرعون کے سامنے اُس کا معاملہ پیش کرے پھر 20 تا23 آیت ہمیں بتاتی ہے۔ 

 

 پیدائش 40 باب20 تا23 آیت : 
”اور تیسرے دن جو فرعون کی سالگرہ کا دن تھا یوں ہوا کہ اس نے اپنے سب نوکروں کی ضیافت کی اور اس نے سردار ساقی اور نان پز کو اپنے ساتھ یاد فرمایا ۔
  اور اس نے سردار ساقی کو پھر اس کی خدمت پر بحال کیا اور وہ فرعون کی ہاتھ میں پیالہ دینے لگا ۔  پر اس نے سردار نان پز کو پھانسی دلوائی جیسا یوسف نے تعبیر کر کے ان کو بتایا تھا ۔  لیکن سردار ساقی نے یوسف کو یاد نہ کیا بلکہ اسے بھول گیا ۔ 

 

       سب چیزیں بالکل ویسے ہی رونما ہوئیں جیسے خدا نے یوسف کے وسیلہ سے بیان کیں ،  تاہم اس حقیقت کے پورا ہونے کے بعد سردار ساقی اُسے بھول گیا کون جانتا ہے کہ یوسف کیا سوچ رہا تھا شاید وہ بڑی اُمید کے ساتھ تین دن گزرنے کا بے تابی سے انتظار کر رہا تھا ،  اور خوابوں کے پورے ہونے کا منتظر تھا اِس اُمید سے کہ سردار ساقی اُسے یاد کرے گا مگر وہ اُسے بھول گیا کوئی شخص اسے لاپرواہی کہہ سکتا ہے اور کوئی اسے احسان فراموشی کہہ سکتا ہے۔   تاہم ”وہ کون ہے جس کے کہنے کے مطابق ہوتا ہے حالانکہ خداوند نہیں فرماتا؟“ (نوحہ 3 باب 37 آیت) جو شخص خدا کی پیروی کرتا ہے اُس کیلئے اتفاقاً کُچھ نہیں ہوتا بلکہ ”سب چیزیں مل کر خدا سے محبت رکھنے والوں کیلئے بھلائی پیدا کرتی ہیں “ سب چیزیں یہاں کہ یہ لاپرواہی بھی ؟ جی ہاں یہاں تک یہ حقیقت بھی کہ اُنہوں نے اُسے بنا کسی جرم کے قید خانہ میں ڈال دیا؟یقینا یہاں تک کہ وہ صورتِ حال بھی جس میں ہوں؟ جی ہاں اگر آپ خدا سے محبت رکھتے ہیں تو سب چیزیں مل کر خدا سے محبت رکھنے والے کیلئے بھلائی پیدا کرتی ہیں۔  اور میں ایمانداری سے اِس بات پر یقین رکھتا ہوں کہ میری اور آپ کی صورتِ حال اِن ” سب “ چیزوں سے الگ نہیں ہوسکتیں۔ 

 

4یوسف :   فرعون کے محل میں: 

        کُچھ عرصہ گزر گیا اور اب فرعون کو خدا کی طرف سے خواب مِلا جِس کیلئے وہ تعبیر ڈھونڈ رہا تھا ، تب سردار ساقی کو اُس عبرانی نوجوان کی یاد آئی جس نے کچھ سال قبل قید خانہ میں سردار باورچی اور سردار ساقی کے خوابوں کی تعبیر کی تھی ،  فوراً فرعون نے یوسف کو بلایا اور خدا نے اُس کے وسیلہ سے خواب کی تعبیر دی:  مصر میں سات سال کثرت کے ہوں گے جن کے بعد سات سال قحط ہو گا اس لئے فرعون کو عقلمندی سے کام لینا ہوگا اور کسی ایسے شخص کو مقرر کرنا ہوگا جو کثرت کے سالوں میں سارے ملک سے اناج اکٹھا کرے جو قحط کے سالوں میں کام آئے گا فرعون نے یوسف سے کہا: 

 

 پیدائش 41 باب37 تا44 آیت: 
”یہ بات فرعون اور اس کے خادموں کو پسند آئی ۔
  سو فرعون نے اپنے خادموں سے کہا کیا ہم کو یسا آدمی جیسا یہ ہے جس میں خدا کی روح ہے مل سکتا ہے ؟اور فرعون نے یوسف سے کہا چونکہ خدا نے تجھے یہ سب کچھ سمجھا دیا ہے اس لئے تیری مانند دانشور اور عقلمند کوئی نہیں ۔  سو تو میرے گھر کا مختار ہو گا اور میری ساری رعایا تیرے حکم پر چلے گی ۔  فقط تخت کا مالک ہونے کے سبب سے میں بزرگ تر ہو نگا ۔  اور فرعون نے یوسف سے کہا کہ دیکھ میں تجھے سارے ملک مصر کا حاکم بناتا ہو ں ۔  اور فرعون نے اپنی انگشتری اپنے ہاتھ نکال کر یوسف کے ہاتھ میں پہنا دی اور اسے باریک کتان کے لباس میں آراستہ کر وا کر سونے کا طوق ا س کے گلے میں پہنایا ۔  اور اس نے اسے اپنے دوسرے رتھ میں سوار کراکر اسکے آگے یہ منادی کرا دی کہ گھٹنے ٹےکو اور اس نے اسے سارے ملک مصر کا حاکم بنا دیا ۔  اور فرعون نے یوسف سے کہا میں فرعون ہوں اور تیرے حکم کے بغیر کوئی آدمی اس سارے ملک مصر میں اپنا ہاتھ یا پاﺅں ہلانے نہ پائیگا ۔ 

 

        جیسے تیزی کے ساتھ اور اچانک یوسف کو ملک بدرکر دیا گیا اور قید میں ڈالا گیا اُسی طرح اچانک اُسے مصر میں دوسرے منسب پر فائز کر دیا گیا صرف فرعون ہی اُس سے برتر تھا! یوسف کی حکمرانی میں پہلے سات سالوں کے دوران مصر میں بہت اناج جمع ہوگیا تاکہ اگلے سات سالوں میں کام آئے اس کے علاوہ ،  یعقوب ،  یوسف کا باپ ،  نے سنا کہ مصر میں اناج ہے تو اُس نے اناج خریدنے کیلئے اپنے بیٹوں کو مصر بھیجا۔   پیدائش 52 باب سے 56 باب دِکھاتے ہیں کہ کتنی خوبصورتی سے خدا نے مصر میں سارے خاندان کا دوبارہ ملاپ کروایا۔ 

 

 5یوسف :   وجوہات: 

       جو واقعات یوسف کے ساتھ ہوئے ،  خاص طور پر مصیبیتں ایسی چیزیں نہیں تھیں جو ایک یا دو مہنیوں تک رہیں ۔  دوحقیقت یوسف کے مصر میں بیچے جانے سے لے کر فرعون کے سامنے کھڑے ہونے تک 13 سال لگے (پیدائش 37 باب2 آیت اور پیدائش 41 باب46 آیت دیکھیں)جو کچھ یوسف کے ساتھ ہوا اور اِسکے ساتھ ساتھ اِس کے معنی کا مختصر خلاصہ ہم 105زبور17 تا 22 آیت میں دیکھتے ہیں : 

 

 105 زبور17 تا19 آیت: 
اس نے(خدا نے) ان سے پہلے
ایک آدمی کو بھیجا ۔  یوسف غلامی میں بیچا گیا ۔   انہوں نے اس کے پاﺅں کو بیڑیوں سے دکھ دیا ۔  وہ لوہے کی زنجیروں میں جکڑا رہا ۔  جب تک کہ اس کا سخن پورا نہ ہوا ۔  خداوند کا کلام اسے آزماتا رہا۔“

 

       خدا ہی تھا جس نے یوسف کو مصر میں بھیجا ”اُس نے اُسے بھیجا “ جیسا کہ یوسف بھائیوں سے دوبارہ ملنے پر اُن سے کہتا ہے۔ 

 

 پیدائش 45 باب 7 اور8 آیت : 
 
اور خدا نے مجھ کو تمہارے آگے بھیجا تاکہ تمہارا بقیہ زمین پر سلامت رکھے اور تمکو بڑی رہائی کے وسیلہ سے زندہ رکھے۔  پس تم نے نہیں بلکہ خدا نے مجھے یہاں بھیجا ۔ 

 

اور دوبارہ پیدائش 50 باب 19 اور 20 آیت: 
”یوسف نے ان سے کہا مت ڈرو ، کیا میں خدا کی جگہ پر ہوں ؟
تم نے تو مجھ سے بدی کرنے کا ارادہ کیا تھا لیکن خدا نے اسی سے نیکی کا قصد کیا تا کہ بہت سے لوگوں کی جان بچائے چنانچہ آج کے دن ایسا ہی ہو رہا ہے ۔ 

 

       زبور کی طرف آتے ہوئے ،  خدا نے وقت مقرر کیا تھا تاکہ ”اُس کا سخن (یوسف کے حوالے سے) پورا ہو “ اُس وقت تک ”خدا کا کلام اُسے آزما تا رہا “ جو چیزیں یوسف برداشت کیں وہ ”بد قسمتی“ یا بُرے حالات کا نتیجہ نہ تھیں بلکہ وہ خدا کے اُس منصوبے کے مراحل تھے جو اُس نے ترتیب دیا تھا یہ وہ مشکلات تھیں جو خدا نے اگلے مرحلے کیلئے ترتیب دی تھیں جیسے کہ رومیوں 5 باب3 تا5 آیت مصیبتوں کے حوا لے سے کہتی ہے۔ 

 

 رومیوں 5باب3 تا5آیت: 
”اور صرف یہی نہیں بلکہ مصیبتوں میں بھی فخر کریں
یہ جان کر کہ مصیبت سے صبر پیدا ہوتا ہے۔   اور صبر سے پختگی اور پختگی سے امید پیدا ہوتی ہے۔  اور امید سے شرمندگی حاصل نہیں ہوتی کیونکہ روح القدس جو ہم کو بخشا گیا ہے اس کے وسیلہ سے خدا کی محبت ہمارے دلوں میں ڈالی گئی ہے۔ 

 

 اور یعقوب 1باب2تا4آیت: 
”اے میر بھائیو!
جب تم طرح طرح کی آزمائشوں میں پڑو ۔  تو اسکو جان کر کمال خوشی کی بات سمجھنا کہ تمہارے ایمان کی آزمائش صبر پیدا کرتی ہے۔   اور صبر کو اپنا پورا کام کرنے دو تاکہ تم پورے اور کامل ہو جاﺅ اور تم میں کسی بات کی کمی نہ رہے ۔ 

 

اور عبرانیوں10باب36آیت: 
”کیو نکہ تمہیںصبر کرنا ضرور ہے
تا کہ خدا کی مرضی پوری کرکے وعدہ کی ہوئی چیز حاصل کرو ۔ 

 

       خدا کی مرضی پوری کرنے کیلئے ہمیں صبر کی ضر ورت ہے ،  اور اگرچہ ہم اسے ناپسند کرتے ہوں،  مگر صبر مصیبتوں سے ہی پیدا ہوتا ہے۔   آسان راستے نہیں ہیں یوسف پہلے مرحلے (بھائیوں کی نفرت کے باعث مصر میں بیچے جانے اور فوطیفرع کے گھر جانے ) اور دوسرے مرحلے (بغیرجرم کے قید میں ڈالے جانے) کے بغیر تیسرے مرحلے ( مصر میں دوسرے درجے پر پہنچنے اور اسرائیل کیلئے نجات کا وسیلہ بننے ) تک نہیں پہنچا جیسا کہ 105 زبور ہمیں بتاتا ہے کہ ”وہ لوہے کی زنجیروں میں جکڑا رہا جب تک کہ اُس کا سخن پورا نہ ہو ا“ ابتدا ء ہی سے خدا نے یوسف کیلئے تیسرا مرحلہ تیار کیا تھا،  تاہم وہ پہلے اور دوسرے مرحلے کے بغیر یہاں نہیں پہنچ سکتا تھا یعنی مشکلات کے بغیر ہم میں سے بہت سے لوگ پہلے اور دوسرے مرحلے کے بغیر ہی تیسرے مرحلے تک پہنچنا چاہتے ہیں ۔   ہم مصلوب ہونے کے بغیر جی اُٹھنا چاہتے ہیں ہم شاگرد بننا چاہتے ہیں مگر صلیب اُٹھائے بنا ،  یہ ممکن نہیں ہے اگر خداوند یسوع مسیح نے خد ا کا بیٹا ہو کر ”دُکھ اُٹھا اُٹھا کر فرمانبرداری سکیھی“  

       (عبرانیوں 5 باب 8 آیت ) تو کیا ہم سمجھتے ہیں کہ ہم کسی اور طرح سے سیکھ سکتے ہیں؟اگر ہاں ،  تو ہم اپنے آپ کو دھوکہ دیتے ہیں۔ 

        مشکلات وہ مرحل ہیں جو ہمارے فائدہ کیلئے خدا کے بنائے ہوئے منصوبہ میں ہمیں آگے لے کر جاتے ہیں ۔   ہماری زندگیوں کیلئے خدا کا خاص مقصد اور منصوبہ ہے اور وہ چاہتا ہے کہ ہم یہ مقصد پورا کریں کیا ہم اُسے خود کو سونپ دیں گے؟ کوئی بھی شخص پہلے اور دوسرے مرحلے میں سے گزرے بنا تیسرے مرحلے پر نہیں جائے گا کوئی بھی شخص بنا دُکھوں کے کبھی بھی فرمانبرداری نہیں سیکھے گا ۔   کوئی شخص مصیبتوں کے بنا صبر نہیں سیکھے گا کوئی بھی شخص خدا کے اس منصوبے کو پورا نہیں کر سکتا بنا خدا کو وہ تمام چیزیں ختم کرنے کی اجازت دیئے جو ہم اپنے لئے ضروری سمجھتے ہیں۔ 

 

 6نتیجہ: 

        مُجھے اُمید ہے کہ درج بالا سے یہ واضح ہوگیا ہے کہ مشکلات لازماً ہماری برائی کیلئے نہیں ترتیب دی جاتیں ،  بلکہ اُس شخص کیلئے جو خدا سے محبت رکھتا ہے۔  ”سب چیزیں مل کر بھلائی پیدا کرتی ہیں “بلکہ اِس میں مشکلات اور مصیبتیں بھی شامل ہیں ۔ 

 

       اس لئے اگر یہ وہ وقت ہے جب سوالات بہت زیادہ اور جوابات بہت کم ہیں،  تو ہمت مت ہاریں خداوند پر بھروسہ رکھیں وہ جانتا ہے جو وہ کر رہا ہے۔   اور جو وہ کر رہا ہے وہ یقینا بھلائی اور اُسکے جلال کیلئے ہے۔    

 

تسسوس کولچوگلو

اردو  Fahim Qaiser, Napoleon Zaki :