بائبل کی سچائیاں


ہمارے جدید ترین کالم   |   
موضوع کے مطابق   |    تمام کالم   |    سبسکرائب   |    ہوم   

 

 

 

نشان زد کریں اور دوسروں کو شریک کریں

 

 

  PDF version (printer friendly)

 

 

 

“ وہ سب باتوں میں ہماری طرح آزمایا گیا “

        عبرانیوں 4باب15اور 16آیت میں ہم پڑھتے ہیں:

 

عبرانیوں4باب15اور16آیت:
 
“ کیونکہ ہمارا ایسا سردار کاہن نہیں جو ہماری کمزوریوں میں ہمارا ہمدرد نہ ہو سکے بلکہ وہ سب باتوں میں ہماری طرح آزمایا گیا تو بھی بے گناہ رہا۔ 
 پس آﺅ ہم فضل کے تخت کے پاس دلیری سے چلیں تا کہ ہم پر رحم ہو اوروہ فضل حاصل کریں جو ضرورت کے وقت ہماری مدد کرے۔  

 

        کچھ لوگ کہہ رہے ہیں کہ: “  خدا مجھے کیسے سمجھ سکتا ہے؟  کیا وہ کبھی ان حالات سے گزرا ہے جن سے میں گزرا ہوں؟   بعض اوقات ہمارے پاس ایک محدود خدا کا تصور ہوتا ہے،  ایک ریموٹ خدا،  جو زندگی اور حقیقت سے بہت دور ہے۔   ایسا خدا جسے ہماری مشکلات اور پریشانیاں چھو بھی نہیں سکتیں۔   تاہم،  خداوند یسوع مسیح،  جس میں “ الوہیت کی ساری معموری سکونت کرتی ہے،   (کلسیوں 2باب9 آیت) ان تمام سے گزرا ہے۔  وہ ان تمام سے دو چار رہا جن میں اس وقت شاید آپ ہیں،  ان تمام آزمائشوں میں سے جن کا آپ شکار ہوئے ہیں یا ان آندھیوں سے جوآپکو سنہی پڑیں۔  چونکہ وہ ان سب سے گزرا ہے اس لئے وہ آپ کو سمجھ سکتا ہے۔  انسانی جان کی کمزوریوں،  خواہشات اور دکھ درد کو جانتا ہے۔   یسوع مسیح ابھی بھی جانتا ہے کہ آپ کو کیا چیز تکلیف دے رہی ہے۔  یسوع مسیح ابھی بھی جانتا ہے جو چیز آپ کو تنگ کر رہی ہے۔  یسوع مسیح آپ کی تمام تر کمزوریوں،  آپ کے مسائل،  آپ کے ہر آنسو اور آپ کی ہر پریشانی سے آگاہ ہے جس میں آپ پھنسے تھے۔  دو ابواب قبل،  عبرانیوں2باب16اور18آیت میں ہم پڑھتے ہیں:

 

عبرانیوں2باب16تا18آیت:
 
“ کیونکہ وواقع میں وہ فرشتوں کا نہیں بلکہ ابراہا کی نسل کا ساتھ دیتا ہے۔ 
پس اس کو سب باتوں میں اپنے بھائیوں کی مانند بننا لازم ہوا تا کہ امت کے گناہوں کا کفارہ دینے کے واسطے ان باتوں میں جو خدا سے علاقہ رکھتی ہیںایک رحمدل اور دیانتدار سردار کاہن بنے۔   کیونکہ جس صورت میں اس نے خود ہی آزمائش کی حالت میں دکھ اٹھایا تو وہ ان کی بھی مدد کر سکتاہے جن کی آزمائش ہو تی ہے۔   

 

        یسوع مسیح ان کی مدد کر سکتا ہے جو آزمائش میں ڈالے جاتے ہیں،  کیونکہ وہ بھی انہی آزمائشوں میں سے گزرا تھا۔  وہ آپ پر دور سے نظر نہیں رکھتا،  یہ جانے بغیر کہ آپ کیسا محسوس کرتے ہیں۔  وہ یہ بہت اچھی طرح سے جانتا ہے۔  وہ ہر ایک بات میں ہماری مانند بنایا گیا تھا۔  کچھ لوگوں کے ذہن میں ایک مسیح ربورٹ کی تصویر ہے جو آیا،  اپناکام کیا اور چلا گیا۔  تاہم،  ہمیں ایک مسیح کی تصویر کی ضرورت ہے جو ہر بات میں ہماری مانند بنایا گیا تھا۔   ہمیں ایک انسان مسیح کی تصویر کی ضرورت ہے۔   1تمیتھیس 2باب5آیت میں ہم پڑھتے ہیں:

 

1تمیتھیس2باب5آیت:
 
“ کیونکہ خدا ایک ہے اور خدا اور انسان کے بیچ میں درمیانی بھی ایک یعنی
مسیح یسوع جو انسان ہے۔   

 

        انسان اور خدا کے بیچ درمیانی، ہمارا کاہنِ اعظم اور عظیم وکیل ایک ہی ہے جو سب باتوں میں ہماری مانند بنایا گیا: انسان یسوع مسیح۔  دیکھیں خدا کا کلام ،  ہمارے وکیل کے بارے میں بات کرتے ہوئے،  اسے خدا کا بیٹا یا ہمارا خداوند یا ہمارا نجات دہندہ یا دوسرے ناموں سے نہیں پکارتا جو وہ ہے ۔  اس کی بجائے وہ اسے انسان کہتا ہے۔   اس نے انسان کی مانند دکھ اٹھایا،  اوہ انسانوں کی طرح آزمایا گیا۔  ہم پڑھتے ہیں،   “ کیونکہ وواقع میں وہ فرشتوں کا نہیں بلکہ ابراہا کی نسل کا ساتھ دیتا ہے۔   “ کیا آپ روئے ہیں؟ وہ بھی رویا تھا۔  کیا آپ حوالہ کئے گئے؟ وہ بھی حوالہ کیا گیا تھا۔  کیا آپ بھوکے اور پیاسے تھے؟  وہ بھی بھوکا اور پیاسا تھا۔  کیا آپ کے ساتھ بد سلوکی کی گئی؟  اس کی ساتھ بھی بد سلوکی کی گئی۔  کیا آپ نے دکھ اٹھایا؟  اس نے بھی دکھ اٹھا یا۔   کیا آپ جانکنی میں تھے؟  وہ بھی جانکنی کی حالت میں تھا۔  کیا اپ نے اپنے پیاروں کو کھو دیا؟  اس نے بھی اپنے پیاروں کو کھو دیا۔  کیا آپ رد کئے گئے؟  وہ بھی رد کیا گیا۔  یسوع مسیح،     انسان یسوع مسیح  “ ،  آپ کو کامل طور پر سمجھ سکتا ہے کیونکہ وہ آپ کی مانند بنایا گیا۔  کلام کہتا ہے کہ نہ صرف چند ایک پہلوﺅں میں بلکہ سب باتوں میں۔ 

        آگے بڑھتے ہوئے اس موضوع پر فلپیوں2باب5تا11آیت میں ہم پڑھتے ہیں کہ:

 

فلپیوں2باب5تا11آیت:
 
“ ویسا ہی مزاج رکھو جیسا مسیح یسوع کا بھی تھا۔  اس نے اگر چہ خدا کی صورت پر تھا خدا کے برابر ہونے کو قبضہ میں رکھنے کی چیز نہ سمجھا۔   بلکہ اپنے آپ کو خالی کر دیااورخاد م کی صور ت اختیار کی اور
انسانوں کے مشابہ ہو گیا۔   اور انسانی شکل میں ظاہر ہو کر اپنے آپ کو پست کر دیااور یہاں تک فرمانبردار رہا کہ موت بلکہ صلیبی موت گواراکی۔  اسی واسطے خدا نے بھی اسے وہ نام بخشا جو سب ناموں سے اعلیٰ ہے۔   تا کہ یسوع کے نام پر ہر ایک گھٹنا جھکے۔   خواہ آسمانیوں کا خواہ زمینیوں کا۔   خواہ ان کا جو زمین کے نیچے کے ہیں۔   اور خدا باپ کے جلال کےلئے ہر ایک زبان اقرار کرے کہ یسوع مسیح خداوند ہے۔  

 

        یسوع مسیح،  اگر چہ وہ خدا کی صورت پر تھا،  اس نے اپنے آپ کو حلیم کرد یا اورانسان کی مانند بن گیا۔  اس نے ایک خادم کی شکل اختیار کی۔  وہ ہماری مانند بنایا گیا، صرف اس ایک فرق کے ساتھ کہ وہ بغیر گناہ کے پیدا ہوا اور ایسا ہی رہا، اور اس لئے وہ ہمیں سمجھ سکتا ہے۔  آپ اسے پارک میں مل سکتے تھے۔  آپ اس کے ساتھ کھانا کھا سکتے تھے۔  پھر وہ ایک بڑھئی تھا۔  آج وہ کسی دفتر میں کام کر سکتا تھا یاآپ اسے کسی تعمیراتی کام میں ایک ماہر تعمیرات دیکھ سکتے تھے۔  کیا اور کہاں اہم نہیں ہیں۔   اہم بات یہ ہے کہ آپ جو کوئی بھی ہیں اور آپ کا جو بھی مسئلہ ہے،  یسوع مسیح آپ کو تسلی دے سکتا ہے اور آپ کو سمجھ سکتا ہے۔  یہاں وہ درج ہے جو یسعیاہ کہتا ہے،  وہ سب کچھ بیان کرتے ہوئے جن میں سے وہ اس زمین پر رہتے ہوئے گزرا:

 

یسعیاہ53باب2تا12آیت:
 
“ پر وہ اس کے آگے کونپل کی طرح اور خشک زمین سے جڑ کی مانند پھوٹ نکلا ہے۔   نہ اس کی کوئی شکل و صورت ہے نہ خوبصورتی اور جب ہم اس پر نگاہ کریں تو کوئی حسن و جمال نہیں کہ ہم ا سکے مشتاق ہوں۔   وہ آدمیوں میں حقیر و مردور ،  مردِ غمناک اور رنج کا آشنا تھا۔  لوگ اس سے گویا روپوش تھے اس کی تحقیر کی گئی اور ہم نے اس کی کچھ قدر نہ جانی۔   تو بھی اس نے ہماری مشقتیں اٹھا لیں اور ہمارے غموں کو برداشت کیا۔   پر ہم نے اسے خدا کا مارا کوٹا اور ستایا ہوا سمجھا۔  حالانکہ وہ ہماری خطاوںکے سبب سے گھائل کیا گیا اور ہماری بدکاری کے باعث کچلا گیا۔   ہماری ہی سلامتی کےلئے اس پر سیاست ہوئی تا کہ اس کے مار کھانے سے ہم شفا پائیں۔  ہم سب بھیڑوں کی مانند بھٹک گئے۔  ہم میں سے ہر ایک اپنی راہ کو پھرا پر خداوند نے ہم سب کی بد کرداری اس پر لادی۔  وہ ستایا گیا تو بھی اس نے برداشت کی اور منہ نہ کھولا۔  جس طرح برہ جسے ذبح کرنے کو لے جاتے ہیں اور جس طرح بھیڑ اپنے بال کترنے والوں کے سامنے بے زبان ہے اسی طرح وہ خاموش رہا۔  وہ ظلم کر کے اور فتویٰ لگا کر اسے گئے پر اس کے زمانہ کے لوگوں میں سے کس نے اس کا خیال کیا کہ وہ زندوںکی زمین سے کاٹ ڈالا گیا؟ میرے لوگوں کی خطاﺅں کے سبب سے اس پر مار پڑی۔   اس کی قبر بھی شریروں کے درمیان ٹھہرائی گئی اور وہ اپنی موت میں دولتمند کے ساتھ ہواحالانکہ اس نے کسی طرح کا ظلم نہ کیا اور ا سکے منہ میں ہر گز چھل نہ تھا۔  لیکن خداوند کو یہ پسند آیاکہ اسے کچلے۔  اس نے اسے غمگین کیا۔  جب اس کی جان گناہ کی قربانی کےلئے گزرانی جائے گی تو وہ اپنی نسل کو دیکھے گا۔   اس کی عمر دراز ہوگی اور خداوند کی مرضی اس کے ہاتھ کے وسیلہ سے پوری ہوگی۔  اپنی جان کا دکھ اٹھا کر وہ اسے دیکھے گااور سیر ہوگا۔   اپنے ہی عرفان سے میرا صادق خادم بہتوں کو راستباز ٹھہرائے گا کیونکہ وہ ان کی بد کرداری خود اٹھا لے گا۔   اس لئے میں اسے بزرگوں کے ساتھ حصہ دوں گا اور وہ لوٹ کا مال زور آوروں کے ساتھ بانٹ لے گاکیونکہ اس نے اپنی جان موت کےلئے انڈیل دی اور وہ خطا کاروں کے ساتھ شمار کیا گیا تو بھی اس نے بہتوں کے گناہ اٹھا لئے اور خطاکاروں کی شفاعت کی۔  

 

·       چاہے جانے کےلئے اسکی کوئی صورت نہ تھی۔ 

·       وہ آدمیوں سے ستایا گیا اور رد کیا گیا۔ 

·        وہ مردِ غمناک اور غم کا آشنا تھا۔ 

·        دوسروں نے اس سے روپوشی اختیار کی۔ 

·       دوسروں نے اسے خدا کا مارا کوٹا اور ستایا ہوا جانا۔ 

·        وہ ہماری خطاوںکے سبب سے گھائل کیا گیا اور ہماری بدکاری

کے باعث کچلا گیا۔   

·       وہ ستایا گیا اور ا س نے اپنا منہ نہ کھولا۔ 

 

        یہ یسوع مسیح کی تصویر ہے۔  ہمارا نجات دہندہ اور درمیانی،  ہمارا وکیل کامل طور پر ہمیں تسلی دے سکتا ہے۔   اور ہمیں ایسے ہی نجات دہندہ کی ضرورت ہے۔  ایک ریموٹ مسیح کی ضرورت نہیں ہے۔  ہمیں ایک ایسے کی ضرورت تھی جو سب باتوں میں ہماری مانند ہوتا،  ایسا جو ان سب میں سے گزرتا جس میں سے ہر انسان گزرتا ہے اور اسی لئے وہ انہیں مدد دے سکا اور ان کا درمیانی بن سکا۔  اور ایسا ہی نجات دہندہ،  کاہنِ اعظم،  ہمارا وکیل ہے۔ 

 

 “ کیونکہ ہمارا ایسا سردار کاہن نہیں جو ہماری کمزوریوں میں ہمارا ہمدرد نہ ہو سکے بلکہ وہ سب باتوں میں ہماری طرح آزمایا گیا تو بھی بے گناہ رہا۔   پس آﺅ ہم فضل کے تخت کے پاس دلیری سے چلیں تا کہ ہم پر رحم ہو اوروہ فضل حاصل کریں جو ضرورت کے وقت ہماری مدد کرے۔  

 

تسسوس کولچوگلو

اردو  Fahim Qaiser, Napoleon Zaki :