بائبل کی سچائیاں


ہمارے جدید ترین کالم   |   
موضوع کے مطابق   |    تمام کالم   |    سبسکرائب   |    ہوم   

 

 

 

 

نشان زد کریں اور دوسروں کو شریک کریں

 

 

  PDF version (printer friendly)

 

 

”مگر تیرے کہنے سے۔ ۔ ۔ ۔“

 

         لوقا5باب میں ، 1آیت سے شروع کرتے ہوئے ہم پڑھتے ہیں:

 

لوقا5باب1تا3آیت:
”جب بھیڑ اس پر گری پڑتی تھی اور خدا کا کلام سنتی تھی اور وہ گینسرت کی جھیل کے کنارے کھڑا تھا تو ایسا ہوا کہاس نے جھیل کے کنارے دو کشتیاں لگی دیکھیں لیکن مچھلی پکڑنے والے ان پر سے اتر کر جال دھو رہے تھے۔اس نے ان کشتیوں میں سے ایک پر چڑھ کر جو شمعون کی تھی اس سے
درخواست کی کہ کنارے سے ذرا ہٹا لے چل اور وہ بیٹھ کر لوگوں کو کشتی پر سے تعلیم دینے لگا۔“

 

         لوگوں کی بھیڑ، یسوع کو سننے، خدا کا کلام سننے کےلئے، گینسرت کی جھیل کے پاس آتے تھے۔یہاں بھی دو کشتیاں اپنا کام کرنے کے بعد واپس آرہی ہیں۔ان میں سے ایک میں ، شمعون ماہی گیر کی کشتی میں خداوند یسوع مسیح بیٹھ جاتے ہیں، اور ” اس سے درخواست کی کہ کنارے سے ذرا ہٹا لے چل۔“ اس نے اس سے درخواست کی۔ اس سے التماس کی۔ اس نے اسے حکم نہیں دیا۔ اس نے پطرس کے حق کو نظر انداز نہیں کیا جو وہ اپنی کشتی میں کرنا چاہتا تھا۔خدا کا بیٹا، جسے باپ نے سب چیزیں سونپ دیں(لوقا10باب22آیت)، وہ جس کے ہوا، سمندر اور فطرت ماتحت تھے،اس نے شمعون سے درخواست کی۔ یہ خداوند کی شفقت ہے۔ ”شمعون، کیا تو برائے مہربانی کشتی کو کنارے سے ذرا ہٹائے گا؟“ شمعون نے ایسا ہی کیا اور خداوند نے بھیڑ کو تعلیم دینا شروع کی۔ پھر4تا7آیت میں ہم پڑھتے ہیں:

 

لوقا5باب4تا7آیت:
”جب کلام کر چکا تو شمعون سے کہا گہرے میں لے چل اور تم شکار کےلئے اپنے جال ڈالو۔ شمعون نے جواب میں کہا اے استاد ہم نے رات بھر محنت کی اور کچھ ہاتھ نہ آیا مگر تیرے کہنے سے جال ڈالتا ہوں۔ اور یہ کیا اور وہ مچھلیوںکا بڑا غول گھیر لائے اور ان کے جال پھٹنے لگے۔ اور انہوں نے اپنے شریکوں کو جو دوسری کشتی پرتھے اشارہ کیا کہ آﺅ ہماری مدد کرو۔پس انہوں نے آکر دونوں کشتیاں یہاں تک بھر دیں کہ ڈوبنے لگیں۔“

 

         اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں تھا کہ انہوں نے محنت نہیں کی تھی۔انہوں نے بہت محنت کی، ساری رات کام کیا، مگر کچھ نہیں حاصل کیا۔بعض اوقات یہ ہمارے ساتھ بھی ہوتا ہے۔ہم کسی چیز میں بہت جدوجہد کرتے ہیں اور کوشش کرتے ہیں، لیکن ہمارے جال خالی ہی رہتے ہیں۔ پھر ہم کہتے ہیں کہ میں ”فلاں یا فلاں ترکیب استعمال کروں گا۔“ہم اکٹھے ہوتے ہیں، ہم سوچتے ہیں، ہم منصوبہ بناتے ہیں، لیکن پھر بھی ہمارے جال خالی رہتے ہیں۔”گہرے میں لے چلو اورشکار کےلئے اپنے جال ڈالو۔“جب آپ اپنے خالی جالوں کو دیکھتے ہیں تو وہ آتا ہے۔۔۔ ”اے دوست! گہرے میں لے چلو اور اپنے جال ڈالو، میں جانتا ہوں یہ خالی ہیں۔“پطرس نے کہا،” مگر اے خداوند ہم نے رات بھر محنت کی“، یا ہم بھی کہیں گے،” اے خداوند میں نے کوئی بار کوشش کی اور ہر بارخالی ہی جال پایا۔“مگر پطرس یہاں رکتا نہیں ہے:”مگر تیرے کہنے سے جال ڈالتا ہوں۔“آپ جالوں کو حیرانگی اور پریشانی سے دیکھتے ہیں کہ یہ ہمیشہ خالی ہی کیوں ہیں۔شمعون یا دیگر ماہی گیروں نے بھی یہی سوچا ہوں گا۔”شاید یہ ہوا کی وجہ سے ہے۔“ ”شاید یہ چاند کی وجہ سے ہے۔“ ”شاید کوئی ہم سے زیادہ تیز ہے۔“ ”شاید ہم اچھے ماہی گیر نہیں ہیں۔“ اس طرح کے بہت سے ” شاید “کوئی اہمیت نہیں رکھتے جب خداوند کہتا ہے،”دوبارہ جال ڈالو۔“ رومیوں 9باب16 آیت کہتی ہے،”یہ نہ ارادہ کرنے والے پر منحصر ہے نہ دوڑ دھوپ کرنے والے پر بلکہ رحم کرنے والے خدا پر۔“ اور دوبارہ:

 

127زبور1تا2آیت:
”اگر خداوند ہی گھر نہ بنائے تو بنانے والوں کی محنت عبث ہے۔ اگر خداوند ہی شہر کی حفاظت نہ کرے تو نگہبان کا جاگنا عبث ہے۔ تمہارے لئے سویرے اٹھنا اور دیر میں آرام کرنا اور مشقت کی روٹی کھانا عبث ہے۔کیونکہ وہ اپنے محبوب کو تو نیند ہی میں دے دیتا ہے۔“

 

         اور آپ اس کے محبوب ہیں۔ ہمیں خدا کا کلام کہتا ہے”خدا کے پیارے“ (رومیوں1باب7آیت) اور ”محبوب“۔1یوحنا3باب2 آیت کہتی ہے،”عزیزو! ہم اس وقت خدا کے فرزند ہیں۔“ اب آپ خدا کے فرزند ہیں! آپ نے بہت سے دروازے کھٹکھٹائے ہوں گے۔ آپ نے اس کےلئے بہت سی دعا کی ہوگی۔ ہمت مت ہاریں۔جب پطرس اور دوسرے ماہی گیر اپنے جال دھو رہے تھے خداوند ان کی کشتیوں پر تھا، بالکل ان کے ساتھ۔وہ ان کے بلائے بنا ہی آگیا۔وہ اس وقت آیا جب انہیں اس کی اشد ضرورت تھی۔”دوستو گہرے میں لے جاﺅ اور وہوں جال ڈالو۔“ اور یہ کرنے کےلئے ان میں بہت ہمت تھی۔

 

تسسوس کولچوگلو

اردو  Fahim Qaiser, Napoleon Zaki :