بائبل کی سچائیاں


ہمارے جدید ترین کالم   |   
موضوع کے مطابق   |    تمام کالم   |    سبسکرائب   |    ہوم   

 

 

 

نشان زد کریں اور دوسروں کو شریک کریں

 

 

  PDF version (printer friendly)

 

 

مکاشفہ3باب15تا19آیت  

 

         گرم اور سرد کا آمیزہ نیم گرم بناتا ہے، یعنی نہ گرم نہ سرد۔خداوند نے مکاشفہ3باب میں لودیکیہ کی کلیسیا کے فرشتے سے بات کرتے ہوئے نیم گرم کے حوالے سے بات کی۔ یہاں ہم پڑھتے ہیں:

 

مکاشفہ3باب15تا19آیت:
”میں تیرے کاموں کو جانتا ہوں کہ نہ تو سرد ہے اور نہ گرم۔ کاش کہ تو سرد یا گرم ہوتا۔ پس چونکہ تو نہ تو سرد ہے نہ گرم بلکہ نیم گرم ہے اس لئے میں تجھے اپنے منہ سے نکال پھینکنے کو ہوں۔اور چونکہ تو کہتا ہے کہ میں دولتمند ہوں اور مالدار بن گیاہوں اور کسی چیز کا محتاج نہیں اور یہ نہیں جانتا کہ تو کمبخت اور خوار اور اور غریب اور اندھا اور ننگا ہے۔ اس لئے میں تجھے صلاح دیتا ہوں کہ مجھ سے ٓاگ میں تپایا ہوا سونا خرید لے تا کہ دولتمند ہو جائے اورسفید پوشاک لے اور اسے پہن کر ننگے پن کے ظاہر ہونے کی شرمندگی نہ اٹھائے اور آنکھوں میں لگانے کا سرمہ لے تا کہ تو بینا ہو جائے۔ میں جن جن کو عزیز رکھتا ہوں ان سب کو تنبیہ کرتا ہوں۔ پس سر گرم ہو اور توبہ کر۔“

 

         جیسے کہ درج بالا حوالہ واضح کرتا ہے کہ، نیم گرم خداوند کےلئے ناقابل قبول ہے۔ نیم گرم خداوند کےلئے گرم نہیں ہے۔ اس کا دل اسکی محبت سے پر جوش نہیں۔جو وہ اپنے بارے میں خیال رکھتا ہے وہ اس خیال سے قطعی الگ ہے جو خدا کا کا خیال ہے۔پس جبکہ خداوند اسے ”کمبخت اور خوار اور اور غریب اور اندھا اور ننگا “ دیکھتا ہے،مگر وہ اپنے آپ کو اتنا دولتمند تصور کرتا ہے جسے کسی چیز کی ضرورت نہیں۔اس کی توجہ کا مرکز خداوند اور اس کا نظریہ نہیں، بلکہ وہ خود ہے۔وہ کہتا ہے،” میں امیر ہوں اور (میں) دولتمند بن گیا ہوں۔“نیم گرم کےلئے، شاید یسوع مسیح اس کا خداوند تھا اور شاید ماضی میں کسی وقت اس نے اس کا اقرار بھی کیا تھا۔ تاہم، آج وہ اس کا خداوند، اس کا مالک نہیں ہے۔ بلکہ اس کا مالک وہ خود ہے۔ س کے باوجود، جیسے کہ متی 16باب24اور 25 آیت کہتی ہے:

 

متی16باب24اور25آیت:
”اس وقت یسوع نے اپنے شاگردوں سے کہا کہ اگر کوئی میرے پیچھے آنا چاہے وہ اپنی خودی کا انکار کرے اور اپنی صلیب اٹھائے اور میرے پیچھے ہو لے۔ کیونکہ جو کوئی اپنی جان بچانا چاہے اسے کھوئے گا اور جو کوئی میری خاطر اپنی جان کھوئے گا اسے پائے گا۔“

 

         پیچھے آنے کا عمل جامد نہیں ہے۔کسی شخص کو یسوع مسیح کی پیروی کےلئے اپنی خودی کا انکار کرنا ہوگا، اور یہ کوئی جامد چیز نہیں ہے۔کوئی ایسی چیز جو چونکہ ہم نے کل کی تھی اس لئے یہ یقینی بات ہے کہ ہم آج بھی وہ کریں گے۔اگر چہ ہم یسوع کے خداوند ہونے کا اقرار کر چکے ہیں،کہ وہ ہمارا حقیقی خداوند اور مالک ہے،یہ ایک ایسی چیز ہے جس کا ہم نے ہر روز فیصلہ کرنا ہے، حتیٰ کہ ہر لمحہ فیصلہ کرنا ہے۔ یسوع مسیح ہمیں ایسے لوگ نہیں بنانا چاہتا جنہوں نے ماضی میں کبھی اسکا اقرار کیا تھا، بلکہ وہ لوگ جو متواتر طور پر ان کے اقرار کو زندہ رکھتے ہیں۔ جیسے پولوس 2 کرنتھیوں13باب5آیت میں کہتا ہے:

 

2کرنتھیوں13باب5آیت:
”تم اپنے آپ کو آزماﺅ کہ ایمان پر ہو یا نہیں۔ اپنے آپ کو جانچو۔ کیا تم اپنی بابت یہ نہیں جانتے کہ یسوع مسیح تم میں ہے؟“

 

         یہ حقیقت کہ ہم ایک بار ایمان لائے تھے، اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ ہم آج بھی اسی ایمان پر قائم ہیں۔اس لئے آئیے ہم لاپرواہ نہ ہوں، بلکہ اپنے آپ کو جانچیں۔کیاآج بھی ہم ایمان پر قائم ہیں؟کیا آج خداوند یسوع مسیح ہمارا خداوند ہے یا ہم اپنے کام سر انجام دیتے ہوئے یہ سمجھتے ہیں کہ ”سب کچھ ٹھیک ہے“؟ مسیحت مذہب نہیں ہے۔یہ شراکت ہے۔ زندہ خداوند اور زندہ خدا کے ساتھ شراکت۔کیا آج وہ ہماری زندگیوں کا خداوند ہے یا نہیں؟

 

         درج بالا سوالات کا مقصد الزام تراشی یا خوف پیدا کرنا نہیں بلکہ جیسا کلام کہتا ہے کہ ہمیں کرنا چاہئے، خود کو جانچنے کی طرف لانا ہے۔اگر چہ خداوند سرد سے بھی زیادہ نیم گر م کو نا پسند کرتا ہے ، لیکن وہ نیم گرم سے محبت رکھتا ہے اور اسے بدلنا چاہتا ہے۔وہ اسے توبہ کرتے اور گرم ہوتے ہوئے دیکھنا چاہتا ہے۔اس لئے وہ مکاشفہ3باب کے اسی حوالہ میں کہتا ہے،”میں جن جن کو عزیز رکھتا ہوں ان سب کو تنبیہ کرتا ہوں۔“نیم گرم کےلئے خدا کا رد عمل رد کرنا نہیں بلکہ تنبیہ کرنا ہے، جو ، عبرانیوں 12باب11آیت کے کہنے کے مطابق، ”خوشی کا نہیں بلکہ غم کا باعث معلوم ہوتی ہے۔“ تاہم، یہ ”خدا پرستی کا غم“ ہے جو ”توبہ پیدا کرتا ہے“(2کرنتھیوں7باب10آیت)، جس کی نیم گر م کو اشد ضرورت ہے۔

 

تسسوس کولچوگلو

اردو  Fahim Qaiser, Napoleon Zaki :