بائبل کی سچائیاں


ہمارے جدید ترین کالم   |   
موضوع کے مطابق   |    تمام کالم   |    سبسکرائب   |    ہوم   

 

 

 

 

نشان زد کریں اور دوسروں کو شریک کریں

 

 

  PDF version (printer friendly)

 

 

مصرف بیٹے کی تمثیل

 

       اناجیل کی سب سے مشہور تماثیل میں سے ایک تمثیل مصرف بیٹے کی تمثیل ہے۔  یہ ہمیں لوقا کی انجیل میں ملتی ہے جہاں 15باب کی11 آیت سے شروع کرتے ہوئے ہم پڑھتے ہیں:

 

لوقا15باب11تا24آیت:
 
“ پھر اس نے(یسو ع مسیح نے) کہا کہ کسی شخص کے دو بیٹے تھے۔   ان میں سے چھوٹے نے باپ سے کہا اے باپ! مال کا جو حصہ مجھے پہنچتا ہے دے دے۔  اس نے اپنا مال متاع انہیں بانٹ دیا۔  اور بہت دن نہ گزرے کہ چھوٹا بیٹا اپنا سب کچھ جمع کر کے دور دراز ملک کو روانہ ہوا اور وہاں اپنا مال بد چلنی میں اڑا دیا۔  جب سخت ختم کر چکا تو اس ملک میں سخت کال پڑااور وہ محتاج ہونے لگا۔   پھر اس ملک کے ایک باشندے کے ہاں جا پڑا۔  اس نے اسے اپنے کھیتوں میں سور چرانے بھیجا۔  اور اسے آرزو تھی کہ جو پھلیاں سور کھاتے تھے انہی سے اپنا پیٹ بھرے مگر اسے کوئی نہ دیتا تھا۔  پھر اس نے ہوش میں آکر کہا میرے باپ کے بہت سے مزدوروں کو افراط سے روٹی ملتی ہے اور میں یہاں بھوکا مر رہا ہوں۔   میں اٹھ کر اپنے باپ کے پاس جاﺅں گا اور اس سے کہوں گا اے باپ! میں آسمان کا اور تیری نظر میں گناہگار ہوا۔   اب اس لائق نہیں رہا کہ پھر تیرا بیٹا کہلاﺅں۔   مجھے اپنے مزدوروں جیسا کرلے۔   پس وہ اٹھ کر اپنے باپ کے پاس چلا ۔   وہ ابھی دور ہی تھا کہ اسے دیکھ کر اس کے باپ کو تر س آیا اور دوڑ کر اسے گلے لگا لیا اور چوما۔   بیٹے نے اس سے کہا اے باپ! میں آسمان کا اور تیری نظر کا گناہگار ہوا۔   اب اس لائق نہیں رہا کہ پھر تیرا بیٹا کہلاﺅں۔   باپ نے اپنے نوکروں سے کہا اچھے سے اچھا لاس جلد سے جلد نکال کر اسے پہناﺅ اور اس کے ہاتھ میں انگوٹھی اور پاﺅں میں جوتی پہناﺅ۔  اور پلے ہوئے بچھڑے کو لاکر ذبح کرو تا کہ ہم کھا کر خوشی منائیں۔   کیونکہ میرا یہ بیٹا مردہ تھا اب زندہ ہوا۔   کھو گیا تھا اب ملا ہے۔  پس وہ خوشی منانے لگے۔ 

 

       ابنِ آدم کھوئے ہوﺅں کو ڈھونڈنے اور نجات دینے آیا ہے(متی18باب11آیت)۔  کلام کہتا ہے کہ،  جو کوئی میرے پاس آ ئے گا اسے میں ہر گز نکال نہ دوں گا(یوحنا6 باب37آیت)۔  اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ کسی بندے نے کیا کیا ہے اور کیا نہیں کیا۔  اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ اس کا ماضی کیا تھا۔   خدا کا بیٹا سزا نہیں بلکہ نجات دینا چاہتا ہے(یوحنا3باب17آیت)۔  اس تمثیل میں باپ کی شفقت خدا باپ کی شفقت کا نمونہ ہے(یسوع نے یہ تمثیل آسمان پر اس خوشی منانے کے حوالے سے کہی جو کسی گناہگار کے تائب ہونے سے منائی جاتی ہے)۔  خدا “ چاہتا ہے کہ سب آدمی نجات پائیں اور سچائی کی پہچان تک پہنچیں” (1تمیتھیس2باب4آیت)۔ 

       اس تمثیل میں بیٹا اپنے باپ کی موت کا انتظار نہ کر سکا۔  وہ اسی وقت اپنا حصہ لینا چاہتا تھا، گو کہ اس کا باپ ابھی بھی زندہ تھا۔  جب اسے یہ سب مل گیا،  تو اس نے اپنا سب کچھ جمع کیا اور “ دوردراز ملک میں “  روانہ ہوا۔  کون جانے اس نے اس ملک کے بارے میں کیا سنا تھا۔  اشتہارات،  ٹیلی وژن،  ریڈیو وغیرہ اس کے بارے میں بتا سکتے ہیں(اگر وہ تب تھے)۔  اگر اس کے پاس بہت پیسہ تھا تو وہ “ اچھی خاصی زندگی”  گزار سکتاتھا،  “ اچھی خاصی زندگی” کو خدا کا کلام دو الفاظ میں بیان کرتا ہے:    عیاش پرست زندگی” ۔  آخر میں ،  غبارہ پھٹ جاتا ہے اور ایک وقت آت ہے کہ امیر باپ کا بیٹا ،  غیر ہوا اور بھوکا مرنے لگا۔  اس کی بھوک اتنی زیادہ تھی کہ اس کے پاس کھانے کو کچھ نہ تھا۔   حتیٰ کہ سور بھی اس سے زیادہ کھاتے تھے۔ 

        اور پھر، کچھ عجیب کام ہوا:    وہ ہوش میں آیا”  اور سوچا:  “ میرے باپ کے کتنے نوکروں کو افراط سے روٹی ملتی ہے،  اور میں یہاں بھوکا مر رہا ہوں! میں اٹھوں گا اور باپ کے پاس جاﺅں گا اور اس سے کہوں گا،  “ اے باپ! میں نے تیرا اور آسمان کی نظر میں گناہ کیا ہے اور اس لائق نہیں ہوں کہ پھر تیرا بیٹا کہلاﺅں۔  مجھے اپنے نوکروں میں سے ایک کی مانند بنا لے۔  “ مصرف بیٹا ہوش میں آیا! وہ وقت جب کوئی شخص “ ہوش میں آتا ہے “ عام طور پر ایسا وقت نہیں ہوتا جب سب کچھ ٹھیک ہوجاتا ہے،  بلکہ یہ وہ وقت ہوتا ہے،  جیسا کہ اس بیٹے پر وہ وقت تھا،  جب پھلیاں بھی کھانے کو نصیب نہیں ہوتیں۔  اس لئے بیٹا ہوش میں آیا اور اس نے اپنے گھر کو واپسی کی راہ لی۔  جو کچھ اس نے سوچا تھا وہ درست اور انصاف پر مبنی تھیں: جو اس نے کیا تھا اس کے بعد،  اسے اس کے باپ کا بیٹا کہلانے کا کوئی حق نہ تھا۔  اس نے اپنا حصہ عیاشی میں اڑا دیا تھا۔  پھر بھی باپ نے اسے دور سے دیکھا۔  اس سے یہ ظاہر ہتا ہے کہ باپ اس کی راہ تکتا تھا۔  اگر چہ بیٹے نے اپنی میراث لی اور گھر چھوڑ کر چلا گیا،  باپ بے درد نہ تھا۔  وہ روز بہ روز اس کی واپسی کا منتظر تھا۔  اگر وہ اس کو مل جاتا ،  وہ اس کے پاس جاتا اور اس سے گھر واپس آنے کی درخواست کرتا،  جیسا کہ خداوند منت کرتا ہے کہ اس سے میل ملاپ کرلیں(2کرنتھیوں5باب20اور21آیت)۔  باپ منتظر تھا۔  وہ راہ تکتا تھا،  اور جو نہی اس نے اپنے بیٹے کو آتے دیکھا،  وہ اسے ملنے کو دوڑا! حقیقتاً کیا دلکش منظر ہے:  ایک باپ اپنے اس بیٹے سے ملنے کو گلے لگانے اور چومنے دوڑا جا رہا ہے جس نے اپنا مال عیاشی میں اڑا دیا۔  تاہم،  خدا کے ساتھ بھی ایسا ہی ہے؟ ہم گناہوں اور قصوروں میں مردہ تھے،  غضب کے فرزند تھے،  اور پھر بھی اس نے ہمیں نجات دی،  اس نے ہمیں مسیح کے ساتھ زندہ کیا اور اس نے ہمیں آسمانی مقاموں میں اس کے ساتھ بٹھایا۔  ہمارے اعمال کے باعث نہیں (ہم تو مردہ تھے)بلکہ اس کی محبت کی کثرت کے باعث (افسیوں2باب 4 آیت)۔   تمثیل کے باپ کی مانند، خداکھوئی ہو ئی بھیڑوں کا انتظار کرتا ہے،  اور جب کوئی واپس لوٹتی ہے،  وہ انہیں گلے لگانے اور چومنے کو دوڑتا ہے۔  خدا ہر اس بیٹے کے ماضی کو بھلا کر ختم کر دیتا ہے جو اس کے پاس واپس آتے ہیں۔   وہ کسی ایماندار پر،  کسی کھوئی ہوئی بھیڑ پر،  اس کام کےلئے جو انہوں نے اپنے کھوئے جانے پر کیا ،  سزاءکا حکم نہیں دے گا۔  خدا کا کلام کہتا ہے کہ “ اگر کوئی مسیح میں ہے تو وہ نیا مخلوق ہے۔   پرانی چیزیں جاتی رہیں۔   دیکھو وہ نئی ہوگئیں”  (2کرنتھیوں5باب17آیت)۔   پس،  تمثیل کے باپ نے اسے باہر نکالنے کی بجائے،  جیسے کہ بہت سے باپ کرتے ہیں جب وہ اپنے بچوں کی بغاوت کو جان جاتے ہیں،  اگر چہ وہ توبہ بھی کر لیں،  اسے مشکل میں ڈالنے کی بجائے،  اس نے اسے گلے لگایا،  اسے چوما اور ایک پلا ہوا بچھڑا ذبح کیا، سب خوشی منانے لگے۔  اسی طرح آسمان پر خوشی منائی جاتی ہے جب کوئی گناہگار توبہ کرتا ہے۔  خدا جو چاہتا ہے وہ گناہگار کی ہلاکت نہیں ہے۔   اگر آپ کو یہ بتایا گیا ہے کہ خدا آپ ایک کوڑے کے ساتھ آپ کی واپسی کا انتظار کر رہا ہے،  تو برائے کرم اب یہ سنیں کہ:  خدا مصرف بیٹے کے باپ کی مانند آپ کا انتظار کر رہا ہے۔  وہ آپ ا منتظر ہے اور جب وہ آپ کو آتے ہوئے دیکھتا ہے،  وہ آپ کو گلے لگانے اور چومنے کو دوڑتا ہے،  اور آپ کی واپسی پر بڑی خوشی منانا شروع کردیتا ہے۔  “ میں تم سے کہتا ہوں کہ اسی طرح ننانوے راستبازوں کی نسبت جو توبہ کی حاجت نہیں رکھتے ایک توبہ کرنے والے گناہگار کے باعث آسمان پر زیادہ خوشی ہوگی” (لوقا15باب7آیت)۔ 

 

تسسوس کولچوگلو

اردو  Fahim Qaiser, Napoleon Zaki :