بائبل کی سچائیاں


ہمارے جدید ترین کالم   |   
موضوع کے مطابق   |    تمام کالم   |    سبسکرائب   |    ہوم   

 

 

 

نشان زد کریں اور دوسروں کو شریک کریں

 

 

  PDF version (printer friendly)

 

 

پولوس اور فلیمون

 

         کیا آپ نے کبھی فلیمون کی کتا ب پڑھی ہے ؟یہ بہت مختصر اور زبردست کتاب ہے ۔یہ ایک تکنیکی اعتبار سے بمشکل کتاب کہلائے گی کیو نکہ یہ ایک صفحے سے زیادہ نہیں ہے ۔آپ یہ نہیں مانتے ؟آئیے اسے اکٹھے پڑھتے ہیں !

 

 فلیمون
” پولوس کی طرف سے جو مسیح یسوع کا قیدی ہے اوربھا ئی تےمیتھیس کی طرف سے اپنے عزیز اور ہم خدمت فلیمون ۔اور بہن افیہ اوراپنے ہم سپا ارخپس اور فلیمون کے گھر کی کلیسیا کے نام ۔فضل اور اطمینان ہمارے باپ خدا اور خداوند یسوع مسیح کی طرف سے تمہیں حاصل ہو تا رہے ۔میں تیری اس محبت کا ایمان اور کا حال سنکر جو سب مقدسوں کے ساتھ اور خدا وند یسوع پر ہے ۔ہمیشہ اپنے خدا کا شکر کرتا ہوں اور اپنی دعاﺅں میں تجھے یاد کرتا ہوں ۔تاکہ تیرے ایمان کی شراکت تمہاری ہر خوبی کی پہچان میں مسیح کے واسطے موثر ہو ۔کیو نکہ اے بھائی !مجھے تیری محبت سے بہت خوشی اور تسلی ہو ئی اسلئے کہ تیرے سبب سے مقدسوں کے دل تازہ ہو ئے ہیں ۔پس اگر چہ مجھے مسیح میں بڑی دلیری تو ہے کہ تجھے مناسب حکم دوں ۔مگرمجھے یہ زیادہ پسند ہے کہ میں بوڑھا پولوس بلکہ اس وقت مسیح یسوع کا قیدی بھی ہو کر محبت کی راہ سے التماس کروں ۔سو اپنے فرزند انیسمس کی بابت جو قید کی حالت میں مجھ سے پیدا ہوا تجھ سے التماس کرتا ہوں۔پہلے تو وہ کچھ تیرے کام کا نہ تھا مگر اب تیرے اور میرے دونوں کے کام کا ہے ۔خود اسی کو یعنی اپنے کلیجے کے ٹکڑے کو میں نے تیرے پا س واپس بھےجا ہے ۔اسکو میں اپنے ہی پاس رکھنا چاہتا تھا تا کہ تیری طر ف سے اس قےد میں جو خوشخبری کے باعث ہے میری خدمت کرے۔ لیکن تیری مرضی کے بغیر میں نے کچھ کرنا نہ چاہا تا کہ تیرا نیک کام لا چاری سے نہیں بلکہ خوشی سے ہو ۔کیو نکہ ممکن ہے کہ وہ تجھ سے اسلئے تھوڑی دیر کے واسطے جدا ہوا ہو کہ ہمیشہ تیرے پاس رہے ۔مگر اب سے غلام کی طرح نہیں بلکہ غلام سے بہتر ہو کر یعنی ایسے بھائی کی طرح جو جسم میں بھی اور خدا وند میں بھی میرا نہایت عزیز ہو اور تیرا س سے بھی کہیں زیادہ ۔پس اگر تو مجھے شرےک جانتا ہے تو اسے اس طرح قبول کرنا جس طرح مجھے ۔اور اس نے تیرا کچھ نقصان کیا ہے یا اس پر تیرا کچھ آتا ہے تو اسے میرے نام لکھ لے ۔میں پولس اپنے ہاتھ سے لکھتا ہوں کہ خود ادا کرو نگا او ر اسکے کہنے کی کچھ حاجت نہیں کہ میرا قرض جو تجھ پر ہے تو وہ توخود ہے ۔اے بھائی !میں چاہتا ہوں کہ مجھے تیری طرف سے خداوند میں خوشی حاصل ہو ۔ مسیح میں میرے دل کو تازہ کر ۔میں تیری فرمانبرداری کا یقین کر کے تجھے لکھتا ہوں اور جانتا ہوں کہ جو کچھ میں کہتا ہوں تو اس سے بھی زیادہ کرےگا ۔اسکے سوا میرے لئے ٹھہرنے کی جگہ تےار کر کیو نکہ مجھے امید ہے کہ میں تمہاری دعاﺅں کے وسیلہ سے تمہیں بخشا جاﺅ نگا ۔اپفراس جو مسیح یسوع میں میرے ساتھ قید ہے اور مرقس اور استر خس اور دیماس اور لوقا جو میرے ہم خدمت ہیں تجھے سلام کہتے ہیں ۔ہمارے خدا وند یسوع مسیح کا فضل تمہاری روح پر ہوتا رہے ۔آمین ۔

 

        یہ پولوس کے خطوط میں سے سب سے چھوٹا خط ہے اور سلام دعا کے بعد 10آیت ہمیں اسکی خاص وجہ بیان کرتی ہے کہ یہ کیوں لکھا گےا ۔یہ وجہ انیسمس فلیمون کے آگے ”التماس کرنا “،درخواست کرنا تھی ۔ہم 16آیت سے یہ بات جان سکتے ہیں کہ انیسمس فلیمون کا غلام تھا جو کسی وجہ سے اپنے مالک سے بھاگ گےا تھا ۔پولوس کہتا ہے کہ ”انیسمس قید کی حالت میں مجھ سے پیدا ہوا ۔“اس سے ہم یہ جان سکتے ہیں کہ انیسمس پولوس کو تب ملا جب وہ قید میں تھا او ر وہ ایک ایماندار بن گےا ۔اب انیسمس واپس اپنے مالک کے پاس جا رہا تھا اور گو کہ یہ بےان نہیں کیا گےا مگر میں سوچتا ہوں کہ اس نے خود یہ خط فلیمون تک پہنچایا ہوگا ۔

 

         خط کی طرف آتے ہوئے ،جو بات مجھے حیران کرتی ہے اور جسکی طرف میں اشارہ کرنا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ پولوس نے اس مشکل حال کو کےسے قابو میں کیا :یہاں ایک غلام ہے جو اپنے مالک سے بھاگ کر آیا ہے ۔وہ یقینا اس کے پیسے کا قرضدار بھی ہو گا ۔یہ ملک ایک اچھا مسیحی ہے ۔غلام پولوس سے ملتا ہے اور ایماندار بن جاتا ہے ۔اس کے ساتھ ساتھ وہ پولوس کےلئے ”قید میں خوشخبری “کے واسطے بہت مفےد بن جاتا ہے ۔ایسی صورت حال میں پولوس کیا کرتا ہے ؟آپ کی کریں گے ؟خود کو پولوس کی جگہ پر رکھیں اس کے کے بعد آپ خود فلیمون کی جگہ پر بھی رکھیں ۔میں جانتا ہوں کہ یہ مشکل ہے مگر تھوڑا سانس لیں او ر خود کو انیسمس کی جگہ پر بھی رکھیں ۔سب کے سب مسیحی ہیں اور سب کو اس صورت حال پر قابو پانا ہے ۔میں اس صورت حال کو ”خاص “نہیں کہوں گا ۔ہم سب کو اپنی ”حقیقی زندگی “کے فیصلے کرنا ہو تے ہیں اور یہ ”حقیقی زندگی “کی ہی صورت حال ہے ۔پس یہ دیکھنے کا ایک اچھا موقع ہے کہ پولوس نے کس طرح اس صورت حال کا سامنا کیا ۔میں صرف پولوس کا ذکر کرتا ہوں کیو نکہ ہم یہ نہیں جانتے کہ خط ملنے کے بعد فلیمون نے کیا کیا ۔پس ہمیں اس بات پر توجہ دینی ہے کہ پولوس نے کیا کیا اور میرا یہ یقین ہے کہ اس سے ہم بہت کچھ سیکھیں گے۔

 

        اب سب سے پہلے، پولوس کون تھا؟ پولوس خداوند کا زبردست خادم تھا۔ اس نے خوشخبری کو غیر قوموں میں اس قدر پھیلایا کہ جیسا پہلی صدی میں کسی نے نہیں کیا۔ کلیسیائیں اس کے علاوہ کسی اور کو زیادہ نہیں جانتی تھیں اکثر غیر یہودی ایمانداروں کے لئے وہ ایمان کا ”باپ“ تھا، جو انہیں سچائی کی طرف لایا۔ اور یہ فلیمون اور انیسمس کےلئے بھی موزوں تھا۔اب یہ بھائی قید میں ہے اور انیسمس اس کی خدمت کر رہا ہے۔ وہ اس کے لئے بہت فائدہ مند ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ وہ ایک بھاگا ہوا غلام ہے۔ اس کا مالک ایک ایسی کلیسیاءمیں بھائی ہے جو پولوس نے تعمیر کی تھی۔

 

        پولوس نے اس مسیحی غلام کے ساتھ کس طرح اس صورتِ حال پر قابو پایا جو اصل میں اس کے لئے فائدہ مند تھا؟ جواب یہ ہے کہ محبت، شفقت اور مہربانی سے۔فلیمون سے بات کرتے ہوئے اس نے اسے بھائی کی مانند لکھا۔ وہ کہتا ہے کہ،”پس اگر چہ مجھے مسیح میں بڑی دلیری تو ہے کہ تجھے مناسب حکم دوں ۔مگرمجھے یہ زیادہ پسند ہے کہ میں بوڑھا پولوس بلکہ اس وقت مسیح یسوع کا قیدی بھی ہو کر محبت کی راہ سے التماس کروں ۔“اسےحکم دینے کی دلیری ہے، مگر اس نے حکم نہیں دیا۔بلکہ اس نے فلیمون اسے التماس کی۔ اس نے اس کے آگے درخواست کی۔اس نے التجا کی۔ محبت کی خاطر۔ پولوس نے ایک چھوٹے عہدیدار پر ایک بڑے عہدیدار کی مانند اختیار کا استعمال نہیں کیا۔ اس نے ہدایت بھی نہیں کی۔جی ہاں جو بات مناسب ہے اس کا حکم دینے کےلئے وہ دلیر ہے لیکن اگر وہ ایسا کرتا تو یہ ”محبت کی خاطر“ نہ ہوتا بلکہ محبت ہی تو اس میں کام آتی ہے۔وہ جو کر رہا ہے، محبت کی خاطر ، وہ التماس ہے نہ کہ ہدایت یا حکم۔

 

        پھر وہ کچھ اور کہتا ہے: ”خود اسی کو یعنی اپنے کلیجے کے ٹکڑے کو میں نے تیرے پا س واپس بھےجا ہے ۔اسکو میں اپنے ہی پاس رکھنا چاہتا تھا تا کہ تیری طر ف سے اس قےد میں جو خوشخبری کے باعث ہے میری خدمت کرے۔ لیکن تیری مرضی کے بغیر میں نے کچھ کرنا نہ چاہا تا کہ تیرا نیک کام لا چاری سے نہیں بلکہ خوشی سے ہو ۔“

 

        پولوس انیسمس کو اپنے رکھ کر فلیمون کے پاس صرف خط بھی بھیج سکتا تھا کہ اس حکم دے کہ انیسمس کو واپس لے لے۔ یا وہا سے کہہ سکتا تھا کہ وہ انیسمس کو بھول جائے کیونکہ پولوس کو اب اسکی ضرورت تھی اس لئے اسے اپنے پاس رکھا۔ پولوس نے یہ نہیں کیا۔ اس نے انیسمس کو فلیمون کے پاس یہ درخواست کرتے ہوئے بھیج دیا کہ اسے اپنے پاس رکھے۔پھر اس نے فلیمون کو بتایا کہ وہ انیسمس کو،”فلیمون کی طرف سے“ خوشخبری کی قید میں خدمت کے لئے رکھنا چاہتا ہے۔ اس فقرے پر غور کریں کہ،”فلیمون کی طرف سے“۔ پولوس یہ نہیں کہہ رہا کہ ”فلیمون تمہاری جگہ پر“ ۔ انیسمس فلیمون کا متبادل نہیں تھا، اگر انیسمس پولوس کی خدمت کےلئے واپس آیا تھا تو وہ ”فلیمون کی خاطر“، ”فلیمون کی طرف سے“، یا فلیمون کےلئے“ آیا تھا۔یہ واضح کرنا ضروری تھا کیونکہ کچھ تراجم میں اس کا ترجمہ” تمہاری بجائے“ کیا گیا ہےاور یہ غلط ہے۔ وہ یونانی لفظ جس کا یہاں ترجمہ ”تمہاری خاطر کیا گیا“ ہے وہ ہے huper (υπέρ اور یہ نئے عہد نامہ میں 120بار استعمال کیا گیا ہے۔ اور صرف دو موقعوں پر اس کا ترجمہ ”کی بجائے“ کیا گیا ہے۔ اور یہاں بھی اس کا ترجمہ یہی ہونا چاہئے ۔ اگر انیسمس پولوس کی خدمت کےلئے گیا تھا تو یہ ”فلیمون کی خاطر“ ”فلیمون کی طرف سے“ سے تھا۔جیسے کہ فلیمون یہ غلام پولوس کو مستعار دیا ہو۔ایک بھائی نے مجھے دینے اور کسی کی مدد کرنے کے حوالے سے ایک نہایت دلچسپ خیال پیش کیا۔اس نے کہا کہ جب ہم کسی خاص منسٹری یا مقصد کےلئے مدد کرتے ہیں تو ہم ان کے حصہ دار بن جاتے ہیں اور ہم اس سے منافع بھی کمائیں گے۔جب آپ کسی منسٹری پر پیسہ لگاتے ہیں اور یہ منسٹری پھل لاتی ہے تو خدا کی طرف سے آپ کا منافع مختص ہو جاتا ہے، کیونکہ یہ آپ ہی کی مدد سے پایہءتکمل کو پہنچاتھا۔اگر فلیمون انیسمس کو پولوس کی خدمت کےلئے بھیجتا تو یہ فلیمون ”کی طرف سے“ یا فلیمون ” کی خاطر “ ہوتا اور پولوس کی خدمت کے نتیجے میں اسے منافع ملتا۔مگر یہاں میں ایک اور نقطہ واضح کرنا چاہتا ہوں۔ گو کہ پولوس کو انیسمس کی ضرورت تھی، مگر اس نے یہ خیال اپنے دماغ میں نہیں سوچا کہ اسے انیسمس کو اپنے پاس رکھنے کا اختیار تھا،کیونکہ وہ پولوس روسول تھا۔بلکہ دیکھیں کہ اس نے کیا کہا،”لیکن تیری مرضی کے بغیر میں نے کچھ کرنا نہ چاہا تا کہ تیرا نیک کام لا چاری سے نہیں بلکہ خوشی سے ہو ۔“ اس نے اپنی صورتِ حال اس پر واضح کی کہ: وہ قید میں تھا اور اسے انیسمس کی خدمت کی ضرورت تھی۔ پھر بھی اس نے اسے اپنے پاس نہ رکھا۔فلیمون کو خود یہ فیصلہ کرنا تھا، اپنی خوشی سے۔ پولوس کی مہربانی دیکھین کہ وہ بھائیوں کی مانند اس سے بات کرتا ہے، نہ کہ (”ایمان میں“) ایک بڑے عہدیدار کا (”ایمان میں“) ایک چھوٹے عہدیدار کی مانند بات کرتا ہے۔”بھائی فلیومن مجھے انیسمس کی ضرورت ہے۔ یہ تمہاے لئے بہت زبردست کام ہو گا اگر تم خدمت کے اس کام میں انیسمس کو قید کی خوشخبری میں میرے پاس بھیج دو۔ مگر بھائی میں یہ نہیں چاہتا کہ تو یہ کام لاچاری سے کرے۔ بلکہ خوشی سے۔تھوڑا وقت لو اور وہی کرو جو تم بہتر سمجھتے ہو۔“

 

        پھر پولوس انیسمس کے حوالے سے اپنی التماس کو جاری رکھتے ہوئے فلیمون کو بتاتا ہے کہ گو کہ وہ ایک غلام بھاگا تھا، مگر اب وہ کچھ اور بن گیا ہے۔ اب وہ خداوند میں ایک عزیز بھائی بن کر لوٹ رہا ہے۔ لیکن ہو سکتا ہے کہ جب انیسمس فلیمون سے بھاگا تھا تو وہ کچھ پیسوں کا قرضدار بھی ہو۔اس قرض کا کیا ہوا ہوگا؟ پولوس نے فلیمون سے یہ بالکل نہیں کہا کہ وہ ”ختم کر دے “ یا اسے بھول جائے صر ف اس لئے کہ اب وہ بھائی بن گئے تھے۔ پولوس شرطیں نہیں رکھ رہا بلکہ التماس کر رہا ہے۔ اور قرض کےلئے؟ وہ کیا کہتا ہے کہ: ”اگر تیرا اس پر کچھ آتا ہے تو اسے میرے نام لکھ لے۔“ یہ برادرانہ محبت ہے۔ اگر پولوس فلیمون کو حکم دیتا کہ وہ اس قرض کو بھول جائے جو اس کے پرانے غلام پر آتا ہے تو یہ برادرانہ محبت نہ ہوتی۔مگر جیسے پولوس نے کہا یہی پیار ہے:” بھائی اسے واپس لے لو۔ اس کے قرض کا میں خیال رکھوں گا۔ تو اس حوالے سے فکر نہ کرنا۔“ یہ برادرانہ محبت ہے۔ پولوس فلیمون کو بتاتا ہے کہ وہ خود اس پر قرض ہے۔فلیمون پولوس کی کوششوں اور کام سے ایمان لایا تھا۔ مگر اس نے اس کا ذکر اس پر دباﺅ ڈالنے کےلئے نہیں کیا تھا۔ یہ حقیقت ہے مگر وہ اس کو دنیاوی معاملات کو حل کرنے کےلئے استعمال نہیں کرے گا۔

 

        اپنی التماس کو ختم کرتے ہوئے ،پولوس کہتا ہے کہ:”میں تیری فرمانبرداری کا یقین کر کے تجھے لکھتا ہوں اور جانتا ہوں کہ جو کچھ میں کہتا ہوں تو اس سے بھی زیادہ کرے گا۔“پولوس جانتا تھا کہ فلیمون مسیح میںایک سچا ایماندار تھا۔ اس کے علاوہ خط کے شروع میں پولوس یہ کہتے ہوئے کہ اس نے فلیمون کی خداوند یسوع مسیح اور مقدسین کے حوالے سے خدمت کا سنا تھا، فلیمون کو وہ عزیز بھائی اور ہم خدمت کہتا ہے۔ پولوس اور فلیمون دو اجنبی نہیں تھے۔ وہ ایک دوسرے کو جانتے تھے۔پولوس کی التماس کسی اجنبی کےلئے نہیں تھی بلکہ ایک عزیز بھائی اور ہم خدمت کےلئے تھی جو اپنی وفاداری سے جانا جاتا تھا۔یہ ایک وفادار بھائی کی دوسرے وفادار بھائی سے التماس تھی۔ اور پولوس کو اس بات کا یقین تھا کہ فلیمون نہ صرف اس کی درخواست پر عمل کرے گا بلکہ اس سے بھی زیادہ کرے گا۔

 

        میرے لئے پولوس کا یہ خط ایک مثال ہے کہ پہلی صدی کے مسیحی آپس میں کیسا برتاﺅ رکھتے تھے۔پولوس انیسمس کو واپس فلیمون کے پاس بھیج رہا تھا جو اس کا غلام تھااور اس سے بھاگ گیا تھا اور شاید اس کے پیسوں کا قرضدار بھی تھا۔انیسمس پولوس کو کبھی ملا، ایماندار بنا اور قید کی خوشخبری میں اس کی خدمت کےلئے مدد گار ثابت ہوا۔ تاہم پولوس نے یہ جانا کہ اس بات سے اسے وہ کام کرنے کی بجائے کچھ اور حق ملا ہے جو کام کرنا مناسب تھا۔ میں اس بات کا تصور کر سکتا ہوں کہ آج بہت سے مسیحی اس صورتِ حال میں پولوس کی نسبت مختلف طرح کام کریں گے۔ بہت سے لوگ خدا کی طرف سے ”مکاشفہ“ کا دعویٰ کریں گے تاکہ فلیمون کو وہ کام کرنے پر مجبور کریں جو وہ خود کروانا چاہتے ہیں۔ اگلی بار کوئی اور شخص آپ کو مجبور کرے گا اور آپ کو لاچار ثابت کرے گا اگر آپ وہ کام نہیں کریں گے جووہ چاہتا ہے کہ آپ کریں تو برائے کرم فلیمون کی کتاب پڑھیں اگلی بار کوئی شخص کسی چیز پر اپنا حق جمانا چاہے گاکہ ”خداوند کے کام کی خاطر“ اپنے مقاصد کےلئے آپ پر دباﺅ ڈالے گا تو آپ فلیمون کی کتاب پڑھیں۔ اگلی بار آپکو اگر اپنے بھائی سے کچھ درکار ہو تو فلیمون کی کتاب پڑھیں کہ کیسے اس کےلئے کام کرنا ہے۔ پولوس جانتا تھا کہ اس معاملے میںخدا کی طرف سے کسی خاص مکاشفہ کی نہیں بلکہ فہم کی ضرورت تھی۔ جس کا الحاق ایمانداری اور سچائی کے ساتھ ہو۔

 

·       انیسمس کس سے تعلق رکھتا تھا؟ فلیمون سے۔ اس لئے اسے فلیمون کے پاس واپس جانا چاہئے۔

 

·       انیسمس فلیمون کا قرضدار تھا۔ کسی کو اس کی جگہ پر یہ قرض ادا کرنا چاہئے۔ کون ادا کرے گا؟ پولوس یہ بوجھ اٹھاتا ہے۔

 

·       خدمت کے کام میں انیسمس پولوس کےلئے فائدہ مند تھا۔ تاہم، کیا یہ بات پولوس کو فلیمون سے پوچھے بنا انیسمس کو اپنے پاس رکھنے کا حق دیتی ہے؟ نہیں! انیسمس کو پہلے فلیمون کے پاس جانا چاہئے اور پھر اگر فلیمون ۔ خوشی سے نہ کہ لاچاری سے، سمجھتا ہے کہ وہ اسے واپس بھیجنا چاہتا ہے تو انیسمس واپس پولوس کے پاس آئے گا۔

 

·       پولوس کی فلیمون کےلئے عزت دیکھیں۔ دیکھین کہ وہ کس طرح بھائیوں سے تعلق رکھتا تھا۔ اس سے سیکھیں۔ بہت سے معاملات میں ہم الجھن میں ہوتے ہیں۔اور ہمیں بہتر انتخاب کرنے کےلئے حکمت کے کلام، خدا کی مداخلت کی ضرورت ہوتی ہے۔ اور اگر ہم ایمان سے اس سے مانگیں گے تو وہ ہمیں ضرور دیگا(یعقوب 1باب5تا8آیت)۔ اکثر اوقات ہمیں جس کی ضرورت ہوتی ہے ، وہ ہے سچائی جسے ہم ایمان داری اور محبت کے ساتھ ساتھ استعمال کرتے ہیں۔

 

فلپیوں2باب3آیت:
”تفرقے اور بے جا فخر کے باعث کچھ نہ کرو بلکہ فروتنی سے ایک دوسرے کو اپنے سے بہتر سمجھے۔“

 

 

تسسوس کولچوگلو

اردو  Fahim Qaiser, Napoleon Zaki :