بائبل کی سچائیاں


ہمارے جدید ترین کالم   |   
موضوع کے مطابق   |    تمام کالم   |    سبسکرائب   |    ہوم   

 

 

 

 

نشان زد کریں اور دوسروں کو شریک کریں

 

 

  PDF version (printer friendly)

 

 

”انگلی سے اشارہ کرنا۔ ۔ ۔ “

 

       یہ فقرہ ہمیں یسعیاہ58باب9آیت میں ملتا ہے:

 

یسعیاہ58باب9تا12آیت:
”اگر تو اس جوئے کو اور
انگلیوں سے اشارہ کرنے کو اور ہر زہ گوئی کو اپنے درمیان سے دور کرے گا اور اپنے دل کو بھوکے کی طرف مائل کرے اور آزردہ دل کو آسودہ کرے تو تیرا نور تاریکی میں چمکے گا اور تیری تیرگی دوپہر کی مانند ہوجائے گی۔  اور خداوند سدا تیری راہنمائی کرے گا اور خشک سالی میں تجھے سیر کرے گا اور تیری ہڈیوں کو قوت بخشے گا۔  پس تو سیراب باغ کی مانند ہوگا اور اس چشمہ کی مانند جس کا پانی کم نہ ہو۔ اور تیرے لوگ قدیم ویران مکانوں کو تیمیر کریں گے اور تو پشت در پشت کی بنیادوں کو برپا کرے گا۔  اور تو رخنہ کا بند کرنے والا اور آبادی کےلئے راہ درست کرنے والا کہلائے گا۔ “

 

       ان لوگوں کےلئے خدا کے بہت سے وعدے ہیں جو 9تا10آیات میں لکھے گئے کام کرتے ہیں۔  ان کاموں میں سے،  جس کام نے میری توجہ پائی میں آج اسی پر غور کرنا چاہوں گا اور یہ کام ”اگلی اٹھانا “ہے۔ یہ فقرہ مجھے اس بد گو شخص کی یاد لاتا ہے جو،  عدالت میں بات کرتے ہوئے،  اس شخص پر انگلی اٹھا تا ہے جس کے خلاف مقدمہ ہے۔  جیسا کہ یسعیاہ سے یہ ثابت ہوتا ہے اور بعد میں بھی ہم دیکھیں گے کہ خداوند اس کی تصدیق نہیں کرتا۔

 

1متی7باب1تا5آیت

       یہاں ہم پڑھتے ہیں:

 

متی7باب1تا5آیت:
عیب جوئی نہ کرو کہ تمہاری بھی عیب جوئی نہ کی جائے۔  کیونکہ جس طرح تم عیب جوئی کرتے ہو اسی طرح تمہاری بھی عیب جوئی کی جائے گی اور جس پیمانے سے تم ناپتے ہو اسی سے تمہارے واسطے ناپا جائے گا۔ تو کیوں اپنے بھائی کی آنکھ کے تنکے کو دیکھتا ہے اور اپنی آنکھ کے شہتیر پر غور نہیں کرتا؟ اور جب تیری ہی آنکھ میں شہتیر ہے تو تو اپنے بھائی سے کیونکر کہہ سکتا ہے کہ لا تیری آنکھ میں سے تنکا نکال دوں؟  اے ریاکار!پہلے اپنی آنکھ میں سے تو شہتیر نکال پھر اپنے بھائی کی آنکھ میں سے تنکے کو اچھی طرح دیکھ کر نکال سکے گا۔ “

 

       اکثر لوگ،  یہ اس بات پر غور کرنے کی بجائے جو خدا نے ہمیں مسیح کےلئے بنایاہے،  ہم کمزور نقاط پر توجہ کر رہے ہیں، ان ”شہتیروں ‘ ‘ پر جو ہم سب میں ہیں۔  ہماری اپنی کمزوریوں کو دیکھنے کی بجائے،  ہم دوسروں کے دھبوں پر انگلی اٹھاتے ہیں۔ ۔ ۔ ۔  شاید کیونکہ ہماری اپنی نظر میں کامل ہیں،  جیسا کہ لوقا18باب میں فریسی اپنی نظر میں تھا:

 

لوقا18باب9تا14آیت:
”پھر اس نے بعض لوگوں سے جو آپنے آپ پر بھروسہ رکھتے تھے کہ ہم راستباز ہیں اور باقی آدمیوں کا ناچیز جانتے تھے یہ تمثیل کہی۔ کہ دو شخص ہیکل میں دعا کرنے گئے۔  ایک فریسی دوسرا محصول لینے والا۔  فریسی کھڑا ہو کر اپنے جی میں یوں دعا کرنے لگا کہ اے خدا! میں تیرا شکر کرتا ہوں کہ
باقی آدمیوں کی طرح ظالم بے انصاف زناکار یا محصول لینے والے کی مانند نہیں ہوں، میں ہفتہ میں دو بار روزہ رکھتا اور اپنی ساری آمدنی پر دہ یکی دیتا ہوں ۔  لیکن محصول لینے والے نے دور کھڑے ہوکر اتنا بھی نہ چاہا کہ آسمان کی طر ف آنکھ اٹھائے بلکہ چھاتی پیٹ پیٹ کر کہا اے خدا! مجھ گناہگار پر رحم کر میں تم سے کہتا ہوں کہ یہ شخص دوسرے کی نسبت راستباز ٹھہر کر اپنے گھر گیا کیونکہ جو کوئی اپنے آپ کو بڑا بنائے گا وہ چھوٹا کیا جائے گا اور جو اپنے آپ کو چھوٹا بنائے گا وہ بڑا کیا جائے گا۔ “

 

       جب،  فریسی کی مانند،  ہم اپنا بھروسہ خود پر کرتے ہیں،  ہم دوسروں کو حقیر جانیں گے۔  ہم اس بلندی سے دوسروں کو دیکھیں گے جہاں ہم نے خود کو بڑھا لیا ہے۔  تاہم،  یسوع نے ایسا نہیں کیا۔  جب وہ ایک عورت کو اس کے پاس لائے جو زنا میں پکڑی گئی تھی،  تاکہ وہ اس کو سنسار کرنے کو ثابت کرے،  اس نے جواب دیا:

 

یوحنا8باب7آیت:
”جو تم میں بے گناہ ہو وہی پہلے اس کے پتھر مارے۔ “

 

       اور پھر،  جب اس پر الزام لگانے والے چلے گئے،  اس نے عورت سے کہا:

 

میں بھی تجھ پر الزام نہیں لگاتا۔  جا پھر گناہ نہ کرنا۔ “

 

       خدا کی خواہش کسی گناہگار کی ہلاکت نہیں بلکہ توبہ ہے کہ”جا اور پھر گناہ نہ کرنا۔ “

 

       اب ہماری طرف آتے ہوئے:  ہم اپنے پڑوسی کو کس نظر سے دیکھتے ہیں؟  کیا ہماری مانند یا بلندی سے جیسے کہ فریسی اس محصول لینے والے کو حقارت کی نظر سے دیکھتا تھا؟

 

 

2رومیوں14باب

       رومیوں 14باب میں،  خدا کا کلام ایک بھائی کے دوسرے بھائی پرالزام لگانے کے حوالے سے بات کرتا ہے۔

 

رومیوں14باب1تا4آیت:
”کمزور ایمان والے کو اپنے میں شامل تو کر لو مگر شک و شبہ کی تکراروں کے لئے نہیں۔  ایک کو اعتقاد ہے کہ ہر چیز کا کھانا روا ہے اور کمزو ر ایمان والا ساگ پات ہی کھاتا ہے۔  کھانا والا اس کو جو
نہیں کھاتا حقیر نہ جانے اور جو نہیں کھاتا وہ کھانے والے پر الزام نہ لگائے کیونکہ خدا نے اس کو قبول کر لیا ہے۔  تو کون ہے جو دوسرے کے نوکر پر الزام لگاتا ہے؟  اس کا قائم رہنا یا گر پڑنا اس کے مالک ہی سے متعلق ہے بلکہ وہ قائم ہی کر دیا جائے گا کیونکہ خداوند اس کے قائم کرنے پر قادر ہے۔ “

 

       دوبارہ ہم لفظ ”حقیر “ دیکھتے ہیں۔  فریسی نے محصول لینے والے کی حقارت کی۔  اسی طرح،  بہت دفعہ،  جب ہم یہ سمجھتے ہیں کہ کوئی دوسرا شخص ایمان میں اتنا مضبوط نہیں جتنے۔ ۔ ۔ ۔ ”ہم ہیں“،  ہم دوسرے کو حقیر جانتے ہیں۔  حتیٰ کہ اگر ہم اس کا بر ملا اظہار نہ کریں،  ہم یہ اپنے خیالوں،  ہمارے بحث و تکرار کے ذریعے کرتے ہیں،  جو جلد یا تھوڑی دیر کے بعد ہمارے الفاظ سے ظاہر ہو جائیں گے۔

 

       دوسری جانب،  جب کوئی شخص اس انداز سے رویہ نہیں رکھتا جیسے کہ ہم،  نہ کہ کلام،  قابل قبول سمجھتے ہیں،  ہم اس پر الزام لگاتے ہیں۔  اس معاملے کی مثال مرقس 6باب1تا6آیت میں ملتی ہے۔ یہاں ہم دیکھتے ہیں کہ یسوع اپنے وطن میں آتا ہے:

 

مرقس6باب1تا4اور6آیت:
”پھر وہاں سے نکل کر وہ اپنے وطن میں آیا اور اس کے شاگر اس کے پیچھے ہو لئے۔  جب سبت کا دن آیا تو وہ عبادتخانہ میں تعلیم دینے لگا
اور بہت لوگ سن کر حیران ہوئے اور کہنے لگے کہ یہ باتیں اس میں کہاں سے آگئیں؟  اور یہ کیا حکمت ہے جو اسے بخشی گئی اور کیسے معجزے اس کے ہاتھ سے ظاہر ہوتے ہیں؟  کیا یہ وہی بڑھئی نہیں جو مریم کا بیٹا اور یعقوب اور یوسیس اور یہودہ اور شمعون کا بھائی ہے؟  اور کیا اس کی بہنیں یہاں ہمارے ہاں نہیں؟  پس انہوں نے اس کے سبب سے ٹھوکر کھائی۔  یسوع نے کہا نبی اپنے وطن اور اپنے رشتہ داروں اور اپنے گھر کے سوا اور کہیں بے عزت نہیں ہوتا۔  ۔ ۔ ۔ ۔  اور اس نے انکی بے اعتقادی پر تعجب کیا۔ “

 

       یسوع کے شہر کے لوگوں کےلئے یہ قبول کرنا مشکل تھا کہ کل تک جو شخص وہاں ایک سادہ بڑھئی کی طرح کام کرتا تھا اور جو دوسروں کی مانند ان کے عباتخانوں میں جاتا تھا،  اب وہ ایک استاد کے طور پر،  اس مسیحا کے طور پر جس کے وسیلہ سے خدا بہت بڑے بڑے معجزے سر انجام دے رہا تھا ، و اپس لوٹا ہے۔ ”اسے ہماری مانند ہی رہنا چاہئے۔  تعلیم دینا صرف فریسیوں کا کام ہے۔  یہ کیا کر رہا ہے؟ “ ہم انہیں یہ کہتے سن سکتے ہیں۔  کیونکہ وہ ساگ پات نہیں کھاتا،  تو جو کھاتے ہیں وہ اس پر الزام لگاتے اور اسے رد کرتے ہیں۔

 

       جو یسوع کے ساتھ ہوا وہ آج ہمارے ساتھ بھی ہوتا ہے۔ میرا دل ان تمام خدا کے خادموں کے لئے بھر آتا ہے جن کو رد کیا گیا،  جن کی بہت گندے الفاظ میں برائی کی گئی،  اور جو ان بھائیوں سے رد کئے گئے جن کے ساتھ انہوں نے سالوں گزارے۔  اس کی وجہ کیا تھی؟  جب خدا نے انہیں بلایا اور انہوں نے فرمانبرداری کی،  دوسرے یہ قبول نہ کر سکے۔ ”تم یہ کیسے کر سکتے ہو؟  تمہاے پاس اس کا کوئی اختیار نہیں؟  تم تعلیم کیسے دے سکتے ہوتم نے کوئی الٰہیات کا کورس نہیں کیا یا کوئی ڈگری حاصل نہیں کی یا فلاں فلاں سیمنری میں تربیت نہیں پائی؟ “ اگریسوع ایک فریسی ہوتا،  کسی ربانی سیمنار میں جاتا،  اس کے شہر کے لوگوں کو کوئی مسئلہ نہ ہوتا۔ لیکن اب؟  وہ ان عجیب کاموں کو قبول نہ کر پائے جو خدا کسی ایسے شخص کے وسیلہ سے کر رہا تھا جو اس سے باہر نکل رہا تھا جسے وہ عام چیزیں سمجھتے ہیں(ساگ پات)۔

 

       ہم چاہتے ہوں گے کہ یہ سچ نہ ہو،  مگر خدا کے الفاظ اس کی تصدیق کرتے ہیں:  ”نبی اپنے وطن اور اپنے رشتہ داروں اور اپنے گھر کے سوا اور کہیں بے عزت نہیں ہوتا۔ “ جب خدا آپ کو کسی نئے کام کےلئے بلاتا ہے،  جو دسروں کے لئے غیر معمولی ہے،  ہو سکتا ہے کہ وہ لوگ جن کے ساتھ آپ کا تعلق ہے،  آپ کے ”اپنے گھر والے“، اس کی مخالفت کریں گے۔  بجائے کہ آپ کی توقع کے مطابق آ پ کو دوسروں کی حمایت ملے آپ کو رد کیا جائے گا۔ میرے عزیز ! تب خدا وند کے الفاظ کو یا رکھیں؛ اپنے دل کو اس کے ہاتھوں میں دیں۔  ہر طرح سے، کسی بھی تلخ مزاجی کو معاف کریں اور در گزر کریں،  اور اس کی پیروی کریں جس کے لئے خدا نے آپ کو چنا ہے۔  وہی ہے جس نے آپ کو مخصوص کیا ہے۔  خود کو اسی کے سپرد کرو،  نہ کہ کسی بھی شخص کے الزام تراشی کے خیالات کے تابع کرنا ہے جو آپ کو اپنے قابو میں کرنا چاہتا ہو۔

 

       اس خیال کو ختم کرتے ہوئے اور رومیوں پر واپس آتے ہوئے،  کلام کسی بھی الزام تراشی کے رویے کا جواب ایک سوال کے ساتھ دیتا ہے:  ”تو کون ہے جو دوسرے کے نوکر پر الزام لگاتا ہے؟ “اور یہ جاری رہتا ہے کہ:

 

رومیوں14باب10تا13آیت:
مگر تو اپنے بھائی پر کس لئے الزام لگاتا ہے؟  یا تو بھی کس لئے اپنے بھائی کو حقیر جانتا ہے؟  ہم تو سب خدا کے تخت عدالت کے سامنے کھڑے ہوں ے چنانچہ یہ لکھا ہے کہ خداوند فرماتا ہے کجھے اپنی حیات کی قسم ہر گھٹنا میرے آگے جھکے گا۔  اور ہر ایک زبان خدا کا اقرار کرے گی
پس ہم میں سے ہر ایک خدا کو اپنا حساب دے گا۔  پس آیندہ کو ہم ایک دوسرے پر الزام نہ لگائیں بلکہ تم یہی ٹھان لو کہ کوئی اپنے بھائی کے سامنے وہ چیز نہ رکھے جو اس کے ٹھوکر کھانے یا گرنے کا باعث ہو۔ “

 

اور یعقوب4باب11اور12آیت:
”اے بھائیو! ایک دوسرے کی بد گوئی نہ کرے جو اپنے بھائی کی بد گوئی کرتا یا بھائی پر الزام لگاتا ہے وہ شریعت کی بدگوئی کرتا اور شریعت پر الزام لگاتا ہے اور اگر تو شریعت پر الزام لگاتا ہے تو شریعت پر عمل کنے والا نہیں بلکہ اس پر حاکم ٹھہرا۔  شریعت کا دینے والا اور حاکم تو ایک ہی ہے جو بچانے اور ہلاک کرنے پر قادر ہے
تو کون ہے جو اپنے پڑوسی پر الزام لگاتا ہے؟

 

       کسی دوسرے بھائی پر الزام لگانا ایسی چیز نہیں ہے جس کا ہمیں اختیار دیا گیا ہو۔ پس،  اگلی بار جب ہم اپنی انگلی کو کسی کی طرف اشارہ کرتے دیکھیں،  تو آئیے خود سے درج ذیل سوال کریں:

 

کسی دوسرے کے نوکر پر الزام لگانے والے آپ کون ہیں؟

آپ اپنے بھائی پر الزام کیوں لگتے ہیں؟

یاآپ اپنے بھائی کو حقیر کیوں جانتے ہیں؟

کسی دوسرے پر الزام لگانے والے آپ کون ہیں؟

 

       میرا ماننا ہے کہ یہ آپ کی انگلی کو واپس اپنی جگہ پر لانے کےلئے کافی ہیں۔

 

تسسوس کولچوگلو

اردو  Fahim Qaiser, Napoleon Zaki :