بائبل کی سچائیاں


ہمارے جدید ترین کالم   |   
موضوع کے مطابق   |    تمام کالم   |    سبسکرائب   |    ہوم   

 

 

 

 

نشان زد کریں اور دوسروں کو شریک کریں

 

 

  PDF version (printer friendly)

 

 

 محبت کے متعلق مطالعہ(حصہ دوم)

 

 

       پچھلے سبق میں ہم نے دیکھا کہ محبت جدید فطرت کے ذریعے ہمارے چال چلن کی پیداوار ہے  ، یعنی کہ  ، یہ تب پیدا ہو تی ہے جب ہم وہ سب باتیں اور کام استعمال میں لاتے ہیں جو خدا کا کلام کہتا ہے کہ ہم ہیں اور ہم کر سکتے ہیں  ۔  اس سبق میں نے چند ان باتوں کا تجزیہ کیا جو 1کرنتھیوں 13باب محبت کے بارے میں بیان کرتا ہے  ۔  آج ہم ، اسی موضوع کے حوالے سے چند اور حوالہ جات جو خدا کاکلام پیش کرتا ہے پر غور کریں گے  ، یہ ہمیں محبت کو بہتر طور پر اہمیت دینے میں مدد دے گا  ۔ 

 

 1محبت : نیا حکم :

 

       محبت کے حوالے سے یہ دوسرا حصہ شروع کرنے کےلئے ہم یوحنا کی انجیل پر جائیں گے  ، جو ہم پڑھیں گے وہ اس رات رونما ہوا جب یسوع مسیح گرفتار ہوا  ۔  اس رات کے دوران  ، یسوع نے اپنے شاگردوں کو بہت سی ہدایات دی اور یو حنا کی انجیل کا ایک وسیع تر حصہ اسی کو منسوب کیا گیا ہے (یوحنا 13تا17باب) ۔  ان باتوں میں سے جو یسوع مسیح نے اس رات اپنے شاگردوں کو بتائیں ایک کی خاصیت نیا حکم تھا  ۔   یوحنا 13باب34آیت ہمیں بتاتی ہے :

 

یوحنا 13باب34آیت:
”میں تمہیں ایک نیا حکم دیتا ہوں کہ ایک دوسرے سے محبت رکھو  ۔ 

 

       نیا حکم جو یسوع نے دیا تھا وہ تھا محبت رکھو  ۔  اس حکم کو جو اس نے خاص اہمیت دی وہ اس حقیقت سے ظاہر ہو تی ہے کہ اس نے یہی حکم اسی رات دوبارہ پھر سے دوہرایا  ۔  یوحنا15باب12تا17آیت ہمیں بتاتی ہے :

 

یوحنا15باب12تا17آیت:
”میرا حکم یہ ہے کہ جیسے میں نے تم سے محبت رکھی تم بھی ایک دوسرے سے محبت رکھو  ۔  اس زیادہ محبت کو ئی شخص نہیں کرتا کہ اپنی جان اپنے دوستوں کےلئے دےدے  ۔  جو کچھ میں تمکو حکم دیتا ہو ں اگر تم اسے کرو تو میرے دوست ہو  ۔  اب سے میں تمہیں نوکر نہ کہو گا کیو نکہ نوکر نہیں جانتا کہ اسکا مالک کیا کرتا ہے بلکہ تمہیں میں نے دوست کہا ہے  ۔  اسلئے جو باتیں میں نے باپ سے سنیں وہ تمکو بتا دیں  ۔  تم نے مجھے نہیں چنا بلکہ میں نے تمکو مقرر کیا کہ جا کر پھل لا ﺅ اور تمہارا پھل قائم رہے تاکہ میرے نام سے جو کچھ باپ سے مانگو وہ تم دے  ۔  میں تمکو ان باتوں کا حکم اسلئے دیتا ہوں کہ تم ایک دوسرے سے محبت رکھو  ۔ 

 

      یسوع مسیح ہمیں ایک دوسرے سے محبت کرنے کا حکم دیتا ہے  ، اور دراصل ایسی محبت کرنے کا جیسی اس نے ہم سے رکھی  ۔  مگر اس نے ہم سے کتنی محبت کی ؟افسیوں 5باب2آیت ہمیں بتاتی ہے کہ :

 

افسیوں5باب2آیت:
”اور محبت سے چلو ۔   جیسے مسیح نے تم سے محبت کی
اور  ہمارے واسطے اپنے آپ کو خوشبو کی مانند خدا کی نذر کرکے قربان کیا  ۔ 

 

       یسوع مسیح نے ہم سے ایسی محبت رکھی کہ اس نے اپنی جان ہمارے لئے دے دی  ۔  یہ ایسا پیار ہے جس قسم کا پیار وہ چاہتا ہے کہ ہم بھی ایک دوسرے سے کریں  ۔  ”جیسے میں نے تم سے محبت رکھی تم بھی ایک دوسرے سے محبت رکھو “ ، اس نے یہ کہا  ۔  وہ ایک دوسرے سے محبت کرنے کو ایک حکم کے طور پر خصوصیت دیتا ہے  ، ایسی چیز جو لازماَہو نی چاہئے  ۔  1پطرس1باب22آیت بھی ہمیں بتاتی ہے :

 

1پطرس1باب22آیت:
”چو نکہ تم نے حق کی تابعداری سے اپنے دلوں کو پاک کیا ہے جس سے بھائیوں کی بے ریا محبت پیدا ہوئی
اسلئے دل وجان سے آپس میں بہت رکھو  ۔ 

 

مزید 1پطرس4باب8آیت:
سب سے بڑھ کر یہ ہے کہ آپس میں بڑی محبت رکھو کیو نکہ محبت بہے سے گناہوں پر پردہ ڈال دیتی ہے  ۔ 

 

       ہر چیز سے پہلے ہمیں ایک دوسرے سے محبت رکھنی چاہئے  ۔  اور در حقیقت ایک دوسرے سے بڑی محبت رکھو  ۔  اتنی بڑی محبت جیسی یسوع نے ہم سے محبت رکھی  ۔ 

 

 2محبت ، شریعت کی کاملیت :

 

       یوحنا13باب34آیت میں ہم نے دیکھا کہ یسوع نے ایک دوسرے سے محبت کو حکم کی خاصیت دی  ۔  شاےد اس سے ہم میںسے کچھ لوگ حےران ہوں گے کہ اس نے ایسا کیوں کیا  ۔  کیا یہ اس لئے تھا کیو نکہ پہلی بار ایسا حکم کیا گیا ؟یقینا نہیں  ۔  کیو نکہ یہ احبار کی کتاب میں بھی درج ہے جو یسوع مسیح سے سےنکڑوں سال قبل لکھی گئی تھی  ۔  حقیقتاََ  ، احبار 19باب18آیت بتاتی ہے :

 

احبار19باب18آیت:
”تو انتقام نہ لینا اور نہ اپنی قوم کی نسل سے کینہ رکھنا بلکہ اپنے ہمسایہ سے اپنی مانند محبت کرنا  ۔  میں خداوند ہوں  ۔ 

 

       لفظی طور پر کہتے ہوئے  ، جو حکم یسوع نے دیا وہ نیا حکم نہیں تھا  ، پھر اس نے اسے نیا حکم کیوں کہا ؟وجہ یہ ہے اگر چہ محبت شریعت کا حکم تھا  ، تاہم اس وقت تک اسکی عملداری نہیں ہو رہی تھی  ۔  محبت جدید فطرت کی پیداوار ہوتے ہوئے  ، اس کےلئے نئی فطرت کا پیدا ہونا ضروری ہے  ، اور اس دن تک  ، جدید فطرت دستیاب نہ تھی  ۔  پس لوگوں کو ایک دوسرے سے محبت کرنے کا حکم دیا گیا تھا وہ حقیقتاََ اس حکم کی پابندی نیہ کرسکے  ۔  تا ہم  ، پینتےکوست کے دن سے لوگ آسانی سے نئی فطرت حاصل کر سکتے تھے اور یہ وہ اپنے منہ سے یسوع کے خداوند کا اقرار کرتے اور ایمان لاتے ہوتے ہوئے کر سکتے ہیں کہ خدا نے اسے مردوں میں ے جلایا  ، او ر اسطرح وہ محبت کر سکتے ہیں  ۔  اس لئے یسوع نے ایک دوسرے سے محبت کرنے کو نیا حکم کہا  ۔  یہ اس لئے نیا حکم نہ تھا کہ پہلی دفعہ حکم دیا گیا تھا ایک اس لئے تھا کیو نکہ جلد ہی اسکی پاسداری (پینتیکوست کے دن سے )ممکن ہو نے والی تھی  ۔ 

 

      درحقیقت  ، ایک دوسرے سے پیار کرنے والا حکم صرف ایک ہی شریعت کا نہ تھا جس کو پورا کرنا تب ناممکن تھا  ، کیونکہ لوگوں میں نئی فطرت کی کمی تھی۔  رومیوں 8باب3آیت شریعت کع ”جسم کے سبب سے کمزور (پرانی فطرت )“ کہتی ہے  ۔  شریعت کا مسئلہ یہ نہیں تھا کہ یہ بری تھی  ، اس کے بر عکس  ، رومیوں 7باب12آیت ہمیں بتاتی ہے کہ یہ ”پاک  ، راست اور اچھی “ہے  ۔  تاہم اس کو پورا کرنے کا کوئی ذریعہ نہ تھا کیو نکہ نئی فطرت دستیاب نہ تھی  ۔  رومیوں 7باب14 آیت کہتی ہے کہ ”شریعت تو روحانی ہے “مگر اس کے ماننے والے ”گناہ کے ماتحت ہیں ۔  “ پس لوگ شریعت پر عمل نہ کر پائے  ۔  تاہم  ، اس دن سے جب نئی فطرت دستیاب ہوئی  ۔  کوئی بھی شخص محبت کر سکتا ہے اور اس طرح سے ساری شریعت کی پاسداری بھی کر سکتا ہے  ۔ 

 

       درحقیقت  ، رومیوں 13باب8تا10آیت ہمیں بتاتی ہے کہ :

 

رومیوں13باب8تا10آیت:
”آپس کی محبت کے سوا کسی چیز کے قرضدار نہ ہو
کیو نکہ جو دوسرے سے محبت رکھتا ہے اس نے شریعت پر پورا عمل کیا  ۔  کیو نکہ یہ باتیں کہ زنا نہ کر  ۔  خون نہ کر  ۔  چوری نہ کر  ۔  لالچ نہ کر اور ان کے سوا اور جو کوئی حکم ہو ان سب کا خلاصہ اس بات میں پایا جاتا ہے کہ اپنے پڑوسی سے اپنی مانند محبت رکھ  ۔  محبت اپنے پڑوسی سے بدی نہیں کرتی  ۔  اس واسطے محبت شریعت کی تعمیل ہے  ۔ 

 

گلتیوں5باب13اور14آیت بھی:
”اے بھائیوں !تم آزادی کے لئے بلائے تو گئے ہو مگر ایسا نہ وہ کہ آزادی جسمانی باتوں کا موقع بنے بلکہ محبت کی راہ سے ایک دوسرے کی خدمت کرو۔ 
کیو نکہ ساری شریعت پر ایک ہی بات سے پورا عمل ہو جاتا ہے یعنی اس سے کہ تو اپنے پڑوسی سے اپنی مانند محبت رکھ ۔ 

 

       یسوع مسیح نے اپنی قر بانی کے ذریعے  ، شریعت کی حاکمیت کو ختم کر دیا  ، اور اسی وقت نئی حاکمیت فضل کی حاکمیت کا آغاز کیا ۔  تاہم  ، بہت سی باتیں جو شریعت نے کہیں موجود ہ حاکمیت میں بھی لاگو ہوتی ہیں  ۔  مثال کے طور پر  ، چوری نہ کر نا ،  زنا نہ کرنا  ، خون نہ کرنایا جھوٹ نہ بولنے کے احکامات ہماری موجودہ حاکمیت میں بھی جاری ہیں[1] ۔  اب  ، درج بالا حوالے کے مطابق  ، شریعت کے کسی بھی حکم کو پورا کرنے کےلئے  ، جو شاید ہماری حاکمیت میں بھی ہو  ، جس چیز کی ضرورت ہے وہ محبت کے سوا کچھ نہیں  ، جیسا کہ درج بالاحوالہ کہتا ہے کہ ، محبت شریعت کی تعمیل ہے اور سارے حکم ایک دوسرے سے اپنی مانند پیار کرنے میں خلاصہ پاتے ہیں  ۔  ہمیں ہمارے ذہنوں میں توجہ کا مرکز کرنے والے کاموں اور نہ کرنے والے کاموں کی فہرست پر نہیں بناناچاہئے مثال کے طور پر  ، مجھے چوری نہیں کرنی چاہئے  ، مجھے جھوٹ نہیں بولنا چاہئے  ، مجھے زنا نہیں کرنا چاہئے وغےرہ وغےرہ  ، لیکن اگر ہم محبت کرتے ہیں تو یہ سب نہیں ہوں گے  ، کیونکہ جب ہم پیار کریں گے تو ہم جھوٹ نہیں بولیں گے  ، چوری نہیں کریں گے یا خون نہیں کریں گے وغےرہ وغےرہ  ۔  ہم منفی چیزوں کی طرف اشارہ نہیں کریں گے بلکہ ہم پیار کریں گے اور منفی چیزیںختم ہو جائیں گی  ، جیسے گلیتیوں 5باب16آیت کہتی ہے کہ  ، ”روح (نئی فطرت )کے موافق چلو تو (نتےجتاََ)جسم ی خواہش کو پر گز پورا نہ کر گے (پرانی فطرت ) ۔  “جب آپ محبت رکھیں گے  ، تو آپ روح کءموافق  ، نئی فطرت کے مطابق  ، چلو گے اور نتےجے کے طور پر پرانی فطرت کے کام پورے کرو گے یعنی کہ  ، آپ چوری  ، جھوٹ  ، زنا  ، قتل اور اس قسم کے کام نہیں کریں گے جو اس فطرت کی پیداوار ہیں  ۔ 

 

3محبت  ،  خدا کے بارے میںجاننے کےلئے لازمی:

 

      ایک اور حوالہ جو ہمیں محبت کی اہمیت اور ضرورت دکھاتا ہے 1یوحنا4باب7 اور 8آیت ہے ۔   یہاں یہ کہتا ہے:

 

1یوحنا4باب7اور8آیت:
”اے عزیزو !آﺅ ہم ایک دوسرے سے محبت رکھیں کیو نکہ محبت خدا کی طرف سے ہے اور جو کوئی محبت رکھتا ہے وہ خدا سے پیدا ہوا ہے اور خدا کو جانتا ہے  ۔  جو محبت نہیں رکھتا وہ خدا کو نہیں جانتا کیو نکہ خدا محبت ہے  ۔ 

 

      جیسا کہ یہ حوالہ کہتا ہے کہ  ، ” جو محبت نہیں رکھتا وہ خدا کو نہیں جانتا ۔  “حقیقتاً ،  خدا نے ہمیں اسے جاننے کےلئے کلام عطا کیا ہے کیونکہ کلام میں وہ خود کو ظاہر کرتا ہے ۔  اس کے علاوہ ،  یہ بات بالکل واضح ہے کہ یہ صرف دماغی علم سے ہی ممکن نہیں ہے ،  اس کے لئے محبت کی بھی ضرورت ہے ۔   حتیٰ کہ اگر کسی کے پاس بائبل کا بہت علم بھی ہے ،  وہ خدا کو نہیں جان پائے گا اگر یہ علم محبت کے ساتھ مطابقت نہ رکھے ۔  1کرنتھیوں13باب1تا3آیت ہمیں بتاتی ہے کہ:

 

1کرنتھیوں13باب1تا3آیت:
”اگر میں آدمیوں اور فرشتوں کی زبانیں بولوں اور محبت نہ رکھوں تو میں ٹھنٹھناتا پیتل ایا جھنجھناتی جھانجھ ہوں  ۔  اور اگر مجھے نبوت ملے اور سب بھےدوں اور کل علم کی واقفیت ہو اور میرا ایمان یہاں تک کامل ہو کہ پہاڑوں کو ہٹادوں اور محبت نہ رکھوں تو میں کچھ بھی نہیں اور اگر اپنا سارا مال غرےبوں کو کھلا دوں یا اپنا بدن جلانے کو دےدوں اور محبت نہ رکھوں تو مجھے کچھ بھی فائدہ نہیں  ۔ 

 

      یہ حوالہ اصل میں یہ نہیں کہہ رہا کہ نبوت ،  ایمان اور بیگانہ زبانو ں میں بولنا وغیرہ بری چیز ہے یا بیگانہ زبانوں میں بولنا یا روح کے دیگر کام آج موجود نہیں ہیں اور ان کو پورا بھی نہیں کرنا چاہئے ۔  بلکہ یہ حوالہ کہتا ہے کہ اگر میں یہ تمام کام محبت کے بغیر کرتا ہوں تو میں کچھ بھی نہیں ہوں ۔   حتیٰ کہ اگر میں بائبل مین بہت ماہر ہوں ،  بائبل کے بارے میں بہت اچھی طرح سے جانتا ہوں  ،  اگر میں محبت نہیں رکھتا تو میں کچھ بھی نہیں ہوں ،  یہاں تک کہ اگر میں نے اپنی ساری دولت خدا کے لئے اور کلام کےلئے وقف کر دی ہو  ،  اگر مجھ میں محبت نہیں تومیں کچھ بھی نہیں ۔  اگر میں نے اپنا بدن جلانے کو دے دیا ہو ،  یعنی کہ اگر میں خدا کے ساتھ بہت وفادار بھی ہوں ،  اور مجھ میں محبت نہ ہو تو میں کچھ بھی نہیں ۔  اگر میں محبت نہیں رکھتا تو میں ابھی بھی خدا کا  ،  جو خود محبت ہے ،  رد کیا ہوا ہی ہوں ۔  وہ لوگ جو کم علم رکھتے ہیں اور محبت کرتے ہیں وہ خدا کو مجھ سے بہتر جانتے ہیں ۔   1کرنتھیوں8باب1تا3آیت کہتی ہے:

 

1کرنتھیوں8باب1تا3آیت:
”اب بتوں کی قربانیوں کی بابت یہ ہے  ۔  ہم جانتے ہیں کہ سب علم رکھتے ہیں  ۔  علم غرور پیدا کرتا ہے لیکن محبت ترقی کا باعث ہے ۔  اگر کوئی گمان کرے کہ میں کچھ جانتا ہوں تو جیسا جاننا چاہئے ویسا اب تک نہیں جانتا  ۔  لیکن جو کوئی خدا سے محبت رکھتا ہے اسکو خدا پہچانتا ہے ۔ 

 

      علم برا نہیں ہے ۔   تاہم ،  اگر یہ محبت کے ساتھ مطابقت نہیں رکھتا تو اس کا نتیجہ خدا کا علم نہیں ہو گا بلکہ بدی ہوگا ۔  اس کے علاوہ یہی حوالہ 1 یوحنا 4باب20اور21آیت کے ساتھ مل کر اس بات کو بھی واضح کرتا ہے کہ یہ بحث کسی اور طرف کا رخ کرے گی ،  یعنی کہ ،  اگر ہم ایک دوسرے سے پیار نہیں کرتے تو نہ صرف یہ کہ ہم خدا کو نہیں جان پائیں گے بلکہ یہ بھی کہ خدا ہمیں نہیں جان سکے گا ۔ 

 

1کرنتھیوں8باب3آیت:
لیکن جو کوئی خدا سے محبت رکھتا ہے خدا اسکو پہچانتا ہے  ۔ 

 

1یوحنا4باب20اور21آیت:
”اگر کوئی کہے کہ میں خدا سے محبت رکھتا ہوں اور وہ اپنے بھائی سے عداوت رکھے تو جھوٹا ہے کیو نکہ جو اپنے سے جسے اس نے دیکھا ہے محبے نہیں رکھتا وہ خدا سے جسے اس نے نہیں دیکھا حبت نہیں رکھ سکتا  ۔  اور ہم کو اسکی طرف سے یہ حکم ملا ہے کہ جو کوئی خدا سے محبت رکھتا ہے وہ اپنے بھائی سے محبت رکھے  ۔ 

 

      اگر ہم ایک دوسرے سے محبت نہیں رکھتے تو ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ ہمیں خدا سے محبت ہے ۔   دوسرے لفظوں میں  ، ایک وسرے سے پیار کرنا خدا سے محبت کرنے کی پہلی شرط ہے ۔  کیونکہ خدا کی نظر میں مقبول ہونے کےلئے اس سے محبت رکھنا پہلی شرط ہے اور چونکہ اس کےلئے پہلی شرف ایک دوسرے سے پیار کرنا ہے تو ہم یہ نتیجہ آسانی سے اخذ کر سکتے ہیں کہ ایک دوسرے سے پیار کرنا خدا کی نظر میں مقبول ہونے کی اولین شرط ہے ۔   اس لئے  ، ہمیں خدا کو جاننے اور خدا کو ہمیں جاننے کےلئے کس چیز کی ضرورت ہے؟ جواب ہے ،  محبت کی ۔ 

 

 4محبت ،  الفاظ سے نہیں:

 

      ہم نے یہ پہلے دیکھا کہ یسوع مسیح نے ہم سے محبت رکھی اور اس نے خود کو ہماری خاطر دیتے ہوئے یہ محبت ظاہر کی ۔   اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ محبت کےلئے دینا ،  یا کوئی کام کرنا ضروری ہے ۔  آپ کلام دے سکتے ہیں ،  آپ حوصلہ افزائی دے سکتے ہیں ،  اپنا وقت یا پیسے دے سکتے ہیں ،  لیکن بات یہ ہے کہ محبت کچھ نہ کچھ دینے کےلئے تیار رہتی ہے جب اس کی مدد کی ضرورت ہوتی ہے ۔   1یوحنا 3باب16اور17آیت ہمیں بتاتی ہے:

 

1یوحنا3باب16اور17آیت:
”ہم نے محبت کو اسی سے جانا ہے کہ اس نے ہمارے واسطے جان دے دی اور ہم پر بھی بھائیوں کے واسطے جان دینا فرض ہے ۔  جس کسی کے پاس دنیا کا مال ہو اور وہ اپنے بھائی کو محتاج دیکھ کر رحم کرنے میں درےغ کرے تو اس میں خدا کی محبت کیو نکر قائم رہ سکتی ہے؟“

 

      یسوع نے خود کو ہماری خاطر دیتے ہوئے اپنی محبت ظاہر کی ۔  اس سے ہم جانتے ہیں کہ وہ ہم سے محبت رکھتا ہے ۔  اس طرح ہمیں بھی ایک دوسرے سے محبت رکھنی چاہئے اور اعمال سے یہ محبت ظاہر کرنی چاہئے جب بھی اس کی ضرورت ہو ۔  اگر ہم مسیح کے بدن ،  کلیسیا ،  مین اپنے بھائی یا بہن کو محتاج دیکھیں اور ان کی مدد نہ کریں تو ہم کس محبت کی بات کر سکتے ہیں؟یقیناً اس سے محبت بڑھتی نہیں ۔  محبت کوئی تصوراتی نظریہ نہیں ہے بلکہ یہ ایسی چیز ہے جو اعمال سے ظاہر ہو تی ہے ۔   جیسا کہ1یوحنا3باب18آیت کہتی ہے:

 

1یوحنا3باب18آیت:
”اے بچو! ہم کلام اور زبان ہی سے نہیں بلکہ کام اور سچائی کے ذریعہ سے بھی محبت کریں  ۔ 

 

      ہماری محبت کلام سے نہیں بلکہ کام اور سچائی سے ظاہر ہو ۔   یہ نظریے میں بلکہ عمل میں نظر آئے  ۔   یہ یعقوب 2باب15اور16آیت کی مانند نہیں ہونی چاہئے:

 

یعقوب2باب15اور16آیت:
”اگر کوئی بھائی یا بہن ننگی ہو اور ان کو روززانہ روٹی کی کمی ہو  ۔  اور تم میں سے کوئی ن سے کہے کہ سلامتی کے ساتھ جاﺅ  ۔  گر م اور سےررہو مگر جو چیزیں تن کے لئے در کار ہیں وہ انہیں نہ دے تو کیا فائدہ ؟“

 

      کلام مین محبت کرنا کتنا آسان ہے  ،  یہ کہنا کہ” خڈا آپ کو برکت دے ۔  “جی نہیں یہ بری بات بھی نہیں ہے ۔  مگر اس کی مطابقت کسی کام سے ہونی چاہئے جب کبھی اس کی ضرورت ہو ۔  گلتیوں5باب13آیت ہمیں بتاتی ہے”محبت کی راہ سے ایک دوسرے کی خدمت کرو ۔  “ ہمیں ایک دوسرے سے غیر نہیں ہونا چاہئے اور اپنے بھائی سے دور نہیں بھاگنا چاہئے جب کبھی انہیں ہماری مدد کی ضرورت ہو ۔ 

 

      یہ سب کہنے کے بعد ،  کچھ لوگ یہ پوچھ سکتے ہیں ،  ہم یہ کیسے جانیں گے کہ کسی کو ہماری مدد کی حقیقتاً ضرورت ہے ،  اور ہم یہ کیسے جان سکتے ہیں کہ کوئی شخص جس کو ہم اچھی طرح نہیں جانتے اس کو ہماری مدد کی ضرورت ہے؟جواب ہے ،  خدا کے روح کی بدولت ۔   خدا ہم میں اپنا روح انڈیلے گا ،  تاکہ وہ ہمیں بتا سکے کہ ہمیں کیا کرنا ہے  ،  کب کرنا ہے اور کیسے کرنا ہے ۔  فلپیوں2با13آیت کہتی ہے:

 

فلپیوں2باب13آیت:
”کیو نکہ جو تم میں نیت اور عمل دونوں کو اپنے نیک ارادہ کو انجام دینے کے لئے پیدا کرتا ہے وہ خدا ہے  ۔ 

 

      خدا ہم میں اپنا روح انڈیلے گا اور اس کے وسیلہ سے ہم میں کام کرے گا ۔   اس لئے ہمیں خدا کے روح کی آواز کو سننا ہوگا اور اسے اپنا کام کرنے کےلئے چھوڑنا ہوگا ۔   محبت سے مراد یہ نہیں کہ جو کچھ میرے ذہن میں آئے میں وہ کر لوں ،  کیونکہ میں اسے بہتر سمجھتا ہوں ۔  محبت سے مراد میں وہ سب کچھ کرنے کو تیار ہوں یا دستیاب ہوں جو خدا کا روح مجھے کرنے کو کہتا ہے ۔   لہٰذہ جو کوئی بھی میرے راستے مین آتا اور مجھ سے مدد مانگتا ہے مین اسے پیسے وغیرہ بنا سوچے سمجھے نہیں دیتا ۔  بلکہ میں اس شخص کےلئے اور اس مقصد کےلئے پیسے دیتا ہوں جس کےلئے خدا چاہتا ہے کہ میں کرون ۔   خدا جانتا ہے کہ کسے ضرورت ہے اور کسے نہیں ۔   وہ جانتا ہے کہ کس کی مدد کرنی چاہئے اور کس کی نہیں ۔   وہ جانتا ہے کہ اس نے اپنے مقاصد کےلئے ہماری محبت کو کیسے استعمال کرنا ہے ۔ 

 

 5محبت ،  یہ ایماندار ہونی چاہئے:

 

      اگر چہ ہمارے پچھلے سبق سے اور اب تک کی گفتگو سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ محبت ایماندار ہی ہوتی ہے ،  جس کی بنیاد بدن کے دیگر اعضا کی فکر پر ہوتی ہے ،  تاہم ،  آیئے اسے بہتر طور پر سمجھنے کےلئے رومیوں12باب9آیت پر جاتے ہیں ۔   یہاں ہم پڑھتے ہیں:

 

رومیوں12باب9آیت:
”محبت بے ریا ہو  ۔ 

 

      ” بے ریا“ کا فقرہ یونانی زان کا لفظ ہے: فعل مجہول ”anupokritos“ جو لفظ ”an“ سابقہ سے ،  جو اس لفظ کو منفی معنی دیتا ہے ،  اور   لفظ  hupokrisia“ سے ملکر بنا ہے جو کہ انگریزی کے لفظ ”hypocrisy“ سے ملتا جلتا ہے ۔  hupocrisia“ سے مراد ہے ایسی خوبی کو ظاہر کرنا جو در حقیقت آپ میں نہیں ہے یا کچھ ایسا بننے کی کوشش کرنا جو آپ ہیں نہیں ۔   مثال کے طور پر ،  2کرنتھیوں11باب 13 تا 15آیت ہمیں بتاتی ہے کہ شیطان” اپنے آپ کو نورانی فرشتے کو ہمشکل بنا لیتا ہے“ ،  اور ” اسکے خادم راستبازی کے خادموں کی مانند بن جاتے ہیں“ ۔  شیطان اور اس کے خادموں کی یہ تبدیلی و ہ کہ وہ اصل میں نہیں ہیں ریاکاری کہلاتی ہے[2] ۔ 

 

      اب رومیوں 12باب9آیت کی طرف آتے ہیں ،  یہ ہمیں بتاتی ہے کہ دماغ میں کچھ اور لئے ہوئے محبت کا ڈرامہ نہیں کرنا چاہئے ۔   بلکہ ایمانداری سے پیار کرنا چاہئے ۔   صرف ایماندار محبت ہی حقیقی محبت ہے ۔   بلکل یہی بات 1پطرس1باب22آیت میں بھی کہی گئی ہے:

 

1پطرس1باب22آیت:
”چو نکہ تم نے حق کی تابعداری سے اپنے دلوں کو پاک کیا ہے جس سے بھائیوں کی
بے ریا محبت پیدا ہوئی اسلئے دل وجان سے آپس میں بہت رکھو  ۔ 

 

      ہماری محبت ایک پاکیزہ دل سے ،  وفادار اور حقیقی ،  ہونی چاہئے ۔  کلام میں نہیں بلکہ کا اور اعمال میںہونی چاہئے ۔  بڑی محبت ہونی چاہئے ۔ 

 

      اس لئے خدا کرے کہ ہم ایک دوسرے کی محبت میں ٓاگے بڑھیں اور اس بات کو بھی جانیں کہ ہم سب ایک ہی بدن ،  مسیح کے بدن ،  کے اعضا ہیں ،  اور صرف ایک ہی خاندان  ،  خدا کے خاندان سے تعلق رکھتے ہیں اور ہم ایک دوسرے کے بھائی ہیں ۔   خدا کرے کہ ہم سب سے اولین درجہ محبت کو دیں کیونکہ محبت” کمال کا پٹکا ہے ۔  “(کلسیوں3باب14آیت) ۔  خدا کرے ہم ایک دوسرے کی کمزوریوں کو نظر انداز کریں جو ہم سب میں ہیں اور ایک پاکیزہ دل سے ایک دوسرے کے ساتھ  ،  ایمانداری سے اور ریاکاری کے بغیر ،  محبت رکھیں ۔ 

 

تسسوس کولچوگلو

اردو  Fahim Qaiser, Napoleon Zaki :

 

 

 

[1] مثال کے طور پر گلتیوں5باب19تا23آیت ،  کلسیوں3باب 5 تا 14 آیت ،  اور افسیوں4باب17تا32آیت دیکھیں۔

[2] بدرجہ جن لوگوں کو یسوع ریا کار کہتا تھا وہ فریسی اور فقیہ تھے ۔   متی 23باب13 ، 14 ، 15 ، 23 ، 27 ، 29آیات دیکھیں۔