بائبل کی سچائیاں


ہمارے جدید ترین کالم   |   
موضوع کے مطابق   |    تمام کالم   |    سبسکرائب   |    ہوم   

 

 

 

 

نشان زد کریں اور دوسروں کو شریک کریں

 

 

 

  PDF version (printer friendly)

 

 

”محبت پڑوسی سے بدی نہیں کرتی“

 

      ہمیں یہ حوالہ رومیوں13باب میں ملتا ہے ۔   8آیت سے شروع کرتے ہوئے ہم پڑھتے ہیں:

 

رومیوں13باب8تا10آیت:
”آپس کی محبت کے سوا کسی چیز میں کسی کے قرضدار نہ ہو ۔   کیونکہ جو دوسرے سے محبت رکھتا ہے اس نے زریعت پر پورا عمل کیا ۔   کیونکہ یہ باتیں کہ زنا نہ کر  ۔   خون نہ کر ۔   چوری نہ کر ۔   لالچ نہ کر اور ان کے سوا اور جو کوئی بھی حکم ہو ان سب کا خلاصہ اس بات مین پایا جاتا ہے کہ اپنے پڑوسی سے اپنی مانند محبت رکھ ۔   محبت اپنے پڑوسی سے بدی نہیں کرتی ۔   اس واسطے محبت شریت کی تعمیل ہے ۔ 

 

      ”محبت پڑوسی سے بدی نہیں کرتی“ ہم اپنے پروسی سے بدی نہیں کریں گے اگر ہم اس سے محبت کرتے ہیں ۔  ہم اس کی چوری نہیں کریں گے، نہ اس سے جھوٹ بولیں گے نہ اسے دھوکہ دیں گے اور نہی ہی وئی اور اس سے بدی کریں گے ۔   ساری شریعت، ”تو زنا مت کرنا، تو خون مت کرنا، تو چوری مت کرنا، تو جھوٹی گواہی مت دینا، یا کوئی بھی حکم “ جیسے کہ کلام کہتا ہے، اس ایک فقرے میں سما جاتے ہیں کہ:”تو اپنے پڑوسی کو اپنی مانند پیار کر ۔  “جو کچھ خدا نے اس حکم کی اہمیت کے حوالے سے کہا یہاں بیان کیا جارہا ہے:

 

مرقس12باب28تا31آیت:
”اور فقیہیوں میں سے ایک نے ان کو بحث کرتے سن کر جان لیا کہ اس نے ان کو خوب جواب دیا ہے ۔  وہ پاس آیا اور اس سے پوچھا کہ سب حکموں میں اول کون سا ہے؟یسوع نے جواب دیا کہ اول یہ ہے کہ اے اسرائیل سن ۔   خداوند ہمارا خداوند ایک ہی ہے ۔   اورتو خداوند اپنے خدا سے اپنے ساے دل اور اپنی ساری جان اور اپنی ساری عقل اور اپنی ساری طاقت سے محبت رکھ ۔   دوسرا اس کی مانند، یہ کہ تو اپنے پڑوسی سے اپنے برابر محبت رکھ ۔   ان سے بڑا اور کوئی حکم نہیں ۔ 

 

      اگرچہ فقیہ نے اس سے پہلے حکم کے بارے میں پوچھا تھا، تاہم، خداوند نے اسے دو احکامات میں جواب دیا ۔  ”تو خداوند اپنے خدا سے اپنے ساے دل اور اپنی ساری جان اور اپنی ساری عقل اور اپنی ساری طاقت سے محبت رکھ“ اور اس کے ساتھ ” تو اپنے پڑوسی سے اپنے برابر محبت رکھ ۔“ اور اس نے کہا کہ یہ حکم پہلے کی مانند ہے ۔  ایک اور انجیل اس میں خدا کے کچھ اور الفاظ بھی شامل کرتی ہے: ”انہی دو حکموں پر توریت اور انبیا کے صحیفوں کا مدار ہے“(متی 22 باب40آیت) ۔   1یوحنا4باب20اور21آیت بھی ہمیں بتاتی ہے :

 

1یوحنا4باب20اور21آیت:
اگر کوئی کہے کہ میں خدا سے محبت رکھتا ہوںاور اپنے بھائی سے عداوت رکھے تو جھوٹا ہے کیونکہ جو اپنے بھائی سے جسے اس نے دیکھا ہے محبت نہیںرکھتا وہ خدا سے بھی جسے اس نے نہیں دیکھا محبت نہیں رکھ سکتا ۔   اور ہم کو اس کی طرف سے یہ حکم ملا ہے کہ جو کوئی خدا سے محبت رکھتا ہے وہ اپنے بھائی سے بھی محبت رکھے ۔ 

 

      بہت سے لوگ اس نقطے سے یا کسی دوسرے نقطے میں ناکام نہ ہونے کی ، یا فلاں حکم یا کسی اور حکم کی مخالفت نہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔  تاہم، خدا کا کلام جو ہمیں بتاتا ہے وہ یہ ہے کہ یہ سب کچھ پورا ہو سکتا ہے، سب حکموں کی پیروی ہو سکتی ہے،جب ہم اپنے پڑوسی سے محبت رکھتے ہیں ۔  سارے حکم اسی محبت میں پورے اترتے ہیں ۔  اگر ہم پیار نہیں کرتے تو ہم جو کچھ بھی پورا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں وہ ساری کوشش بے فائدہ ہے ۔ 

 

تسسوس کولچوگلو

اردو  Fahim Qaiser, Napoleon Zaki :