بائبل کی سچائیاں


ہمارے جدید ترین کالم   |   
موضوع کے مطابق   |    تمام کالم   |    سبسکرائب   |    ہوم   

 

 

 

نشان زد کریں اور دوسروں کو شریک کریں

 

 

  PDF version (printer friendly)

 

 

2سلاطین4باب1تا38آیات: الیشع،  بیوہ اور شونیمی عورت

 

       خدا کے بندوں میں سے ایک جسے بائبل میں بہت مقام ملا الیشع ہے ۔   الیشع ایلیاہ کا پیروکار تھاجس کے بعد الیشع نے اس کا کام سنبھالا(2 سلاطین2باب دیکھیں) ۔  بہت سے ایسے معجزات جو خدا نے الیشع کے وسیلہ سے ظاہر کئے ،  ان میں سے ہم صرف دو کے بارے میں اس مطالعہ میں غور کریں گے ۔   دونوں واقعات میں ہم اس بات پر غور کریں گے کہ خدا ان لوگوں کو بچانے کی طاقت رکھتا ہے جو اسے کسی بھی مشکل وقت میں پکارتے ہیں جو ان پر آن پڑتی ہے ۔ 

 

12سلاطین4باب 1تا7آیت: دو بیٹوں کی ماں ایک بیوہ

       اس مطالعہ میں تجزیہ کئے جانے والے معاملات میں سے پہلے دو معاملات ایک بیوہ اور اس کے دو بیٹو ں کے حوالے سے ہیں  ۔   2سلاطین4 باب 1آیت ہمیں اس عورت اور اسکی اس مشکل کے بارے میں بتاتی ہے جو اس نے اپنے خاوند کی موت کے دیکھی  ۔ 

 

2سلاطین4باب1آیت:
” اور انبیازادوں کی بیویوں میں سے ایک عورت نے الیشع سے فریاد کی اور کہنے لگی کہ تیرا خادم کی شوہر مر گیا ہے اور تو جانتا ہے کہ تیرا خادم خداوند سے ڈرتا تھا
 ۔  سو اب قرض خواہ آیا ہے کہ میرے دونوں بیٹوں کو لے جائے تا کہ وہ غلام بنیں  ۔ 

 

       اس حوالے کے مطابق ، یہ عورت ایک ایسے شخص کی بیوی تھی جو خو ف خدا رکھتا تھا  ۔  بد قسمتی سے اس کا شوہر ایک ایسا قرضدار ہو کر مر گیا جو وہ ادا کرنے کے قابل نہ تھے  ۔  اس کے نتیجے میں ، قرض خواہ اس کے دونوں بیٹوں کواپنا غلام بنانے کیلئے لینے آرہا تھا  ۔  اس سے ہم اس معاملے کے گھمبیر پن کو سمجھ سکتے ہیں :وہ عورت قرض ادا کرنے پر اپنے دو بیٹوں کو کھونے والی تھی۔  اس مسئلے کے حل کیلئے وہ الیشع ، خدا کے بندے کے آگے چلائی  ۔  یقینا ، اس نازک حالت میں خدا کے اس بندے کو چننا اتفاقیہ نہیں تھا حقیقتاَ ،  جب وقت محدود ہو (”قرض خواہ ابھی آیاہے“یعنی کہ وہ راستے میں تھا  ۔  ) آپ کسی او ر کے پاس نہیں جاتے سوائے جن سے آپ کو مدد مل سکتی ہے  ۔  یقینا ،  جس جس شخص پر یہ عورت مدد کی امید رکھتی تھی وہ الیشع ، خدا کا بندہ تھا[1]۔  ”ظاہری طور پر ، وہ اس مسئلے کا مقابلہ کرنے اور خدا کے ہمراہ اس کا مقابلہ کرنے کیلئے پر عظم تھی  ۔  جو بیوہ نے عورت سے کہا وہ دیکھنے کے بعد آئیے دیکھتے ہیں کہ الیشع نے اسے کیا جواب دیا :

 

2سلاطین4باب2آیت:
”الیشع نے کہا اس سے کہا میں تیرے لئے کیا کروں ؟مجھے بتا تیرے پاس گھر میں کیا ہے ؟اس نے کہا کہ تیری لونڈی کے پاس گھر میں ایک پیالہ تیل کے سوا کچھ نہیں
 ۔ 

 

        الیشع کی دستیابی دیکھیں  ۔  الیشع یہاں اس بیوہ کی مدد کو تیار تھا  ۔  اس نے اسے قرض ادا کرنے کیلئے مجبور نہ کیا  ۔  میرا ذاتی خیال یہ ہے کہ اس دیوالیہ پن پہنچنے تک بیوہ یا اس کے شوہر کے پاس کافی وقت ہوگا  ۔  آپ یقینا پہلے یا دوسرے دن ہی اس نقطہ پر نہیں پہنچ جاتے یا اس دوران کچھ غلط کام کرتے ہوئے نہیں پہنچ جاتے  ۔  تاہم ، اب نقطہ یہ نہیں تھا کہ پہلے کیا ہو چکا تھا جو بات اب ضروری تھی کہ موجود ہ وقت میں اسے فوری مدد کی ضرورت تھی اور اس کیلئے وہ خدا کے پاس آئی  ۔  یہ بھی دیکھیں ، کہ چو نکہ مسئلہ ”بہت پیچیدہ تھا“تو الیشع نے اس سے جان چھڑانے کی کوشش نہیں کی  ۔  اس سے قبل کہ خدا اس مسئلے کیلئے کو ئی معجزاتی حل مہیا نہ کرے جس کے پاس میں ہم ابھی پڑھےں گے ، یقینا اس کے پاس اس مسئلے کا کوئی حل نہ تھا  ۔  اس کے باوجود اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں ہے کہ وہ مدد کیلئے دستیاب نہ تھا اس کے برعکس ، اس کا جواب یہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ کسی بھی طریقے سے مدد کرنے کو تیار تھا  ۔  2آیت ہمیں الیشع کے سوال پر عورت کا جواب بیان کرتی ہے :

 

2سلاطین4باب2آیت:
 
”الیشع نے کہا اس سے کہا میں تیرے لئے کیا کروں ؟مجھے بتا تیرے پاس گھر میں کیا ہے ؟اس نے کہا کہ تیری لونڈی کے پاس گھر میں ایک پیالہ تیل کے سوا کچھ نہیں  ۔ 

 

        یہ بیوہ حقیقتاَ بہت غریب تھی اس کے گھر میں تیل کے مٹکے کے سوا اور کچھ بھی نہ تھا  ۔  بے شک اس نے قرضہ اداکرنے کے لئے ہر چیز فروخت کردی تھی  ۔  اس کے پاس کوئی چیز ، کوئی چارپائی اور نہ کوئی کھنے پینے کے برتن تھے صرف ایک چیز جو ااس کے پاس بچی تھی وہ یہ تیل کا مٹکا تھا ۔   تاہم تیل کا یہ جار بھی خدا کیلئے اسے بچانے کیلئے کافی تھا  ۔  3تا4آیت ہمیں بتاتی ہے :

 

2سلاطین 4باب3اور4آیت:
”تب اس نے کہا تو جا اور باہر سے اپنے سب ہمسایوں سے برتن رعایت لے
 ۔  وہ برتن خالی ہو ں اور تھوڑے برتن نہ لینا  ۔  پھر تو اپنے بیٹوں کو ساتھ لیکر اندر جانا اور پیچھے سے دروازہ بند کر لینا اور ان سب برتنوں میں تیل انڈیلنا اور جو پھر جائے اسے اٹھا کر الگ رکھنا  ۔ 

 

        خدا نے الیشع کے ذریعے اس عورت سے کہا کہ خالی برتن ادھار لے اور ان سے اس مٹکے کو تیل سے بھر دے  ۔  اگر ہم خدا کو اس میں بیچ میں شامل کر یں،  تو یہ ہدایات بالکل بیوقوفی نظر آئیں گی  ۔  کیو نکہ ، سائنسی قوانین کے مطابق ، ایک تیل کا مٹکا ہی دوسرے اسی سائز کے مٹکے کو بھر سکتا ہے  ۔  اس لئے ، سائنسی طور پر یہ بات کرتے ہوئے ، جو الیشع نے اس بیوہ سے کہا کہ یہ ہو گا وہ ناممکن تھا  ۔  تاہم ، یہ ناممکن ہوتا اگر ، میں دوہراتا ہوں ، ہم خدا کو بیچ میں نہ لائیں  ۔  کیو نکہ ، اگر ہم خدا کو بیچ میں لاتے ہیں تو ہر گز چیز مکمل طور پر فرق ہو جاتی ہے  ۔  اس کی وجہ یہ ہے کہ خدا سائنسی قوانین کا پابند نہیں ہے  ۔  درحقیقت ، اب تک ہم نے جو پڑھا ہے ، اس سے ہم یہ نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ خدا اس عورت کو بچانا چاہتا تھا  ۔  اس لئے بائبل کے مطابق بات کرتے ہو ئے ، جو الیشع نے کہا وہ خدا کی مرضی کے مطابق تھا ، اور یہ یقینا 100فی صد رو نما ہوگا ، اگر بیوہ نے اس پر عمل کیا جوخدا نے اسے کہا ، یعنی ، 1خالی برتن ادھار لئے 2اپنے بیٹوں کے پیچھے دروازہ بند کیا 3 مٹکے میں سے برتین کو تیل سے بھر دے  ۔  میرا خیال ہے کہ عورت نے کبھی بھی کسی مٹکے سے خالی برتنوں کو تیل نہیں بھرا ہو گا ، تا ہم خدا کو اپنی مرج ی پوری کرنے کیلئے اسے یہ ایمان رکھنا تھا کہ اس نے یہ زندگی میں پہلی بار کرنا ہے  ۔  تاہم ، خدا کیلئے یہ اہمیت نہیں رکھتا کہ دوسروں پر اس کا کیا اثر ہے  ۔  جو چیز اس کیلئے اہمیت کی حامل ہے وہ یہ ہے کہ آیا کہ ہم اس پر ایمان رکھتے اور عمل کرتے ہیں جووہ ہمیں حکم دیتا ہے  ۔  آئیے پھر آخر کار دیکھتے ہیں کہ آیا اس عورت نے خدا پر یقین کیا یا نہیں :

 

2سلاطین4باب5آیت:
”سو وہ اس کے پاس گئی اور اس نے اپنے بیٹوں کو اندر ساتھ لیکر دروازہ بند کر لیا اور اسکے پاس لاتے جاتے تھے اور وہ انڈیلتی جاتی تھی
 ۔ 

 

        جو کچھ خدا نے اس عورت پر ایمان لائی اور اسکی پیروی کی  ۔  پس جو نہی وہ الیشع کے پاس سے نکلی اس نے خالی برتین ادھار لئے ، خود کو اور بیٹوں کے پیچھے ”دروازہ بند کیا “، اور مٹکے میں سے تیل نکال کر خالی برتنوں کو بھرا ، جیسا کہ خدا نے اسے کرنے کو کہا تھا  ۔  نتیجتاَ کیا ہوا ، 6آیت میں درج ہے :

 

2سلاطین4باب6آیت:
”جب وہ برتن بھر گئے تو اس نے اپنے بیٹے سے کہا میرے پاس ایک اور برتن لا
 ۔  اس نے اس سے کہا اور تو کوئی برتن رہا نہیں ۔  تب تیل موقوف ہو گیا  ۔ 

 

        وہ تمام خالی برتن جو اس نے ادھار لئیے تھے تیل سے بھر گئے  ۔   تیل اس وقت ”موقوف ہو گیا “ ۔  جب کو ئی خالی برتن نہ رہا  ۔  7آیت ہمیں بتاتی ہے کہ :

 

2سلاطین4باب7آیت:
”تب اس نے آکر مرد خدا کو بتایا
 ۔  اس نے کہا جا تیل بیچ اور قرض ادا کر اور جو باقی رہے اس سے تو اور تیرے فرزند گذران کریں ۔ 

 

        تیل اتنا تھا کہ وہ اور اس کے بیٹے وہ بیچ کر قرض ادا کرتے اور باقی کے ساتھ اپنی گزران کرتے ، لہٰذا وہ بیوہ عورت نہ صرف اس مسئلے سے بچ گئے بلکہ اس رہائی سے بڑھ کر اسے کچھ ملا :اسے تیل کی دولت ملی  ۔  اور یہ سب اس لئے کیونکہ اس نے خداوند سے یہ رہائی پائی تھی  ۔  وہ خدا اور اس کے بندے کے پاس غریب اور پریشان گئی تھی اور دولتمند اور آزاد ہو کر آئی  ۔ 

 

2 2سلاطین 4باب8تا30آیت :شونیمی عورت

         درج بالا ریکارڈ ہی بائبل میں صرف ایس واقعہ نہیں ہے جو خدا کی رہائی بخش قوت کا مظہر ہے  ۔  جیسا کہ ہم نے کہا ہمارا خدا نجات کا خدا ہے اور اس نتیجہ میں بائبل ایسے واقعات سے بھری پڑی ہے جو ان لوگوں کے بارے میں بات کرتے ہیں جو اس پر ایمان لائے اور نجات پائی  ۔  ایسے واقعات میں سے ایک ایسا واقعہ 2سالطین کے کسی باب میں ہے جو بیوہ عورت اور اس کے بیٹوں کی کہانی کے بعد آتا ہے  ۔  اس لئے 8آیت سے شروع کرتے ہوئے ہم پڑھتے ہیں :

 

2سلاطین4باب8آیت:
”اور ایک روز ایسا ہوا کہ الیشع شونیم کو گیا
 ۔  وہاں ایک دولتمند عورت تھی اور اس نے اسے روٹی کھانے پر مجبور کیا  ۔  پھر تو جب کبھی وہ ادھر سے گزرتا روٹی کھانے کے لئے وہیں چلا جاتا تھا  ۔ 

 

        ایک بار پھر ، ایک عورت ہی اس کہانی کا مرکزی کردار ہے  ۔  تاہم پچھلے واقعہ کے بر عکس جہاں ایک بیوہ عورت بہت غریب تھی ، یہ عورت بہت دولتمند تھی ، یعنی کہ ، ایک ایسی عورت جسے معاشی مسئلہ در پیش نہیں تھا  ۔  اب ایک دن الیشع اپنے گھر سے باہر چل پھر رہا تھا ، کہ اس دولتمند خاتون نے اسے گھر کھانے کی دعوت دی ، اور آخر کار وہ جب کبھی وہاں سے گزرتا تھا وہاں رک کر کھانا کھاتا تھا ، اس سے ہم الیشع کیلئے اس عورت کی عزت واحترام کا اندازہ لگا سکتے ہیں  ۔  کیونکہ آپ کسی بھی شخص کو ہر وقت جب وہ آپ کے گھر کے پاس سے گزرے کھانے کیلئے نہیں بلا سکتے ، اگر آپ اسکی عزت نہ کرتے ہو ں ، اور نہ اسکا آپ کو ئی خیال ہو  ۔  لیکن دراصل یہ عورت الیشع کا اتنا خیال کیوں رکھتی تھی ؟باقی 9آیت ہمیں اس کا جواب دیتی ہے :

 

2سلاطین4باب9آیت:
”سو اس نے اپنے شوہر سے کہا دیکھ مجھے معلوم ہوتا ہے کہ یہ مردِ خدا جو اکثر ہماری طرف آتا ہے مقدس ہے
 ۔ 

 

        کیو نکہ اس عورت کیلئے الیشع ”مرد خدا مقدس “تھا  ۔  اس لئے وہ اس پر بہت مہربان تھیہ  ۔  الیشع کیلئے اس کی عزت اور احترام الیشع کے خدا کیلئے ہی اس کی عزت واحترام کا عکس تھی ، اس کے باوجود ، اس عورت کا اس خیال رکھنا کھانے پر ہی ختم نہیں ہوا  ۔  8اور9آیت ہمیں بتاتی ہے کہ یہ مزید آگے بڑھا :

 

2سلاطین4باب8اور9آیت:
”اور ایک روز ایسا ہوا کہ الیشع شونیم کو گیا
 ۔  وہاں ایک دولتمند عورت تھی اور اس نے اسے روٹی کھانے پر مجبور کیا  ۔  پھر تو جب کبھی وہ ادھر سے گزرتا روٹی کھانے کے لئے وہیں چلا جاتا تھا  ۔  سو ااس نے اپنے شوہر سے کہا دیکھ مجھے معلوم ہوتا ہے کہ یہ مرد خدا جو اکثر ہماری طرف آتا ہے مقدس ہے  ۔ 

 

        حقیقتاَ یہ عورت الیشع کیلئے کتنی غور طلب تھی  ۔  نہ صرف وہ الیشع کو کھانا دیتی تھی بلکہ اس نے اس کیلئے ایک کمرہ اپنے گھر میں بنوایا کہ جب کبھی وہ گزرے تو یہاں رک کر آرام کر سکتا ہے  ۔  بغیر تکلف کے یہ کہنا چاہئے کہ الیشع کے واسطے اس عورت کی اتنی عزت واحترام اور دیکھ بھال کو خدا بغیر کسی جزاءکے نہیں چھوڑسکتا تھا  ۔  10تا13 آیت ہمیں بتاتی ہے :

 

2سلاطین4باب10تا13آیت:
”ہم اس کے لئے ایک چھوٹی سی کو ٹھڑی دیوار پر بنادیں اور اسکے لئے ایک پلنگ اور میز اور چوکی اور شمعدان لگا دیں
 ۔  پھر جب کبھی وہ ہمارے پاس آئے تو وہیں ٹھہریگا  ۔  سو ایک دن ایسا ہوا کہ وہ ادھر گیا او راس کوٹھڑی میں جا کر وہیں سویا  ۔  پھر اس نے اپنے خادم جیحازی سے کہا کہ اس شونیمی عورت کو بلائے  ۔  اس نے اسے بلالیا اور وہ اسکے سامنے کھڑی ہو ئی  ۔  پھر اس نے اپنے خادم سے کہا تو اس سے پوچھ کہ تونے جو ہمارے لئے اس قدر فکریں کیں تو تیرے لئے کیا کیا جائے ؟کیا تو چاہتی ہے کہ بادشاہ سے یا فوج کے سردار سے تیری سفارش کی جائے ؟اس نے جواب دیا میں تو اپنے ہی لوگوں میں رہتی ہو ں  ۔ 

 

        الیشع اس عورت کی اس قدر دیکھ بھال کیلئے شکر گزار تھا  ۔  پس اسکی نیکی کے بدلے ، اس نے پہلے اس عورت کو صلاح دی کہ بادشاہ یا فوج کے سرادار سے اسکی سفارش کی جائے  ۔  تاہم ، شونیم یہ خواہش نہیں رکھتی تھی کیو نکہ وہ اپنے لوگوں میں رہتے ہو ئے خوش تھی وہ درحقیقت جو چاہتی تھی وہ اگلی آیت میں بیان کیا گیا ہے :

 

2سلاطین4باب14تا17آیت:
”پھر اس نے کہا اس کے لئے کیا کیا جائے ؟تب جیحازی نے جواب دیا کہ واقعی اسکے کوئی فرزند نہیں اور اس کا شوہر بڈھا ہے ۔
  تب اس نے کہا اسے بلالے اور جب اس نے اسے بلایا تو وہ دروازہ پر کھڑی ہو ئی  ۔  تب اس نے کہا موسم بہار میں وقت پورا ہو نے پر تیری گود میں بیٹا ہو گا  ۔  اس نے کہا نہیں اے میرے مالک اے مرد خدا اپنی لو نڈی سے جھوٹ نہ کہہ  ۔  سو وہ عورت حاملہ ہوئی اور جیسا الیشع نے اس سے کہا تھا موسم بہار میں وقت پورا ہونے پر اس کے بیٹا ہوا  ۔ 

 

        اس عورت کے کوئی اولاد نہ تھی ، اور سائنسی لحاظ سے بات کریں ، اس کی کوئی امید نہ تھی ، کیونکہ اس کا شوہر بوڑھا تھا  ۔  لیکن اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ اسکی اولاد ہو نہیں سکتی تھی ، کیو نکہ کوئی ایسا ضرور ہے جو ہماری خواہشات کو اس وقت بھی پورا کر سکتا ہے جب ان کے پورا ہونے کی بالکل کوئی امید باقی نہ ہو  ۔  وہ کون ہے ؟جواب ہے خدا  ۔  جیسا کہ ہم نے بیوہ کے واقعہ میں کہا ، خدا کیلئے کچھ بھی ناممکن نہیں اور جب کو ئی بھی اس کی مرضی ہو وہ ضروری پوری ہو کر رہتی ہے  ۔  اس عورت کیلئے سائنسی طور پر اولاد کی کوئی امید نہ تھی  ۔  اور تا ہم کیو نکہ اس کے ایک بچہ ہونا خدا کی مرضی کے مطابق تھا ، تو اس کے ایک بچہ ہوا  ۔ 

 

       اس کے علاوہ ، ایک اور نقطہ قابل غور ہے کہ الیشع ابتداءسے نہیں جانتا تھا کہ اس عورت کی کیا خواہش پوری ہو گی  ۔  ورنہ وہ اس عورت کو بادشاہ یا فوج کے سردار کی سفارش کو نہ کہتا اور نہ ہی جیحازی سے پوچھتا کہ اس عورت کیلئے کہا کرنا چاہئے  ۔  تاہم ، اس میں کوئی عجیب بات نہیں ہے ،  کیونکہ الیشع ، کسی بھی دوسرے شخص کی مانند جس میں روح القدس ہے [2]صرف اپنی پانچ حواس یا خدا کے مکاشفہ کے ذریعے پہ اس قسم کاعلم حاصل کر سکتا تھا  ۔  یقینا ، ہماری اس کہانی میں خدا نے ابتداءمیں ہی یہ ظاہر نہیں کیا کہ اس عورت کی ایک بچہ پانے کی شدید خواہش تھی ۔  پھر ، جیحازی سے یہ جاننے کے بعد کہ اس عورت کی اولاد نہیں ہے ، خدا نے الیشع کو براہ راست مکاشفہ دیا یہ بتاتے ہو ئے کہ اس وقت سے ایک سال بعد اس عورت کے ایک بچہ ہو گا ، اور اسی لئے الیشع نے اسے یہ بتایا تھا  ۔  اس زبردست وعدے پر عورت کا ردعمل 16آیت میں دیا گیا ہے :

 

2سلاطین4باب16آیت:
”تب اس نے کہا موسم بہار میں وقت پورا ہو نے پر تیری گود میں بیٹا ہو گا
 ۔  اس نے کہا نہیں اے میرے مالک اے مرد خدا اپنی لونڈی سے جھوٹ نہ کہہ ۔ 

 

        عورت نے سوچا کہ الیشع اس سے جھوٹ بول رہا ہے  ۔  اسے یقین نہیں ہو رہا تھا کہ اسکی سب سے بڑی خواہش آخر کا رپوری ہو نے کو تھی ۔  یہ غیر معمولی نہ تھا بعض اوقات ہم ان حیران کن باتوں پر یقین کرنے میں دھمے ہو ئے ہیں  ۔  جو خدا کا کلام کہتا ہے کہ ہمارے ساتھ رونما ہوں گی یا کچھ ایسی چیزیں جن کا خدا ہم سے وعدہ کرتا ہے جب ہم اس کے ساتھ چلتے ہیں  ۔  ہم سمجھتے ہیں کہ یہ رونما ہونا بہت ہی حیران کن بات ہو گی  ۔  تاہم ، ہمیں یہ بات سمجھنی چاہئے کہ خدا کی صرف سے صرف وہی نعمتیں ملتی ہیں جو اچھی اور کامل ہیں (یعقوب 1باب7اآیت )  ۔   جیسے افسیوں 3باب20آیت ہمیں بتاتی ہے کہ خدا  ہماری درخواست اور خیال سے زیادہ کام کر سکتا ہے“اسے اپنی مرضی کے مطابق کام کرنے میں کو ئی مشکل درپیش نہیں ہے ، جب کو ئی چیز اسکی مرضی سے ہو تی ہے ، وہ یقینا اسے پورا کرے گا  ۔  اس عورت کی طرف واپس آتے ہوئے ، میرے خیال کے مطابق ، اولاد کا وعدہ اس کیلئے ایسی چیز تھی جو اسکی آرزو سے اور اس کے خیال سے ”بہت زیادہ بڑھ کر “تھی  ۔  اس لئے اس نے سوچا کہ الیشع اس سے جھوٹ بو ل رہا ہو گا  ۔  تاہم ، یہ وعدہ حیران کن ہو نے ساتھ ساتھ سچ بھی تھا 17آیت میں اس کی تکمیل درج کی گئی ہے :

 

2سلاطین4باب17آیت:
”سو وہ عورت حاملہ ہوئی اور جیسا الیشع نے اس سے کہا تھا موسم بہار میں وقت پورا ہونے پر اس کے بیٹا ہوا
 ۔ 

 

        ایک سال کے بعد اس عورت نے ایک بچے کو جنم دیا جیسے  ۔  خدا نے اس سے وعدہ کیا تھا  ۔  گو کہ ایسا لگتا ہے کہ یہاں کہانی ختم ہو گئی ہے، تاہم یہ اختتام نہیں ہے  ۔  اور یہ اس لئے ، کیو نکہ اسکے بعد کی آیات ہمیں بتاتی ہیں اس مسئلے کے بارے میں جو اس بچے کی صحت کے حوالے سے درپیش ہو ئے جب وہ جوان ہو رہا تھا :

 

2سلاطین4ؓٓباب18تا20آیت:
”اور جب وہ لڑکا بڑھا تو ایک دن ایسا ہوا کہ وہ اپنے باپ کے ساتھ کھیت کاٹنے والوں کے میں چلا گیا
 ۔  اور اس نے اپنے باپ سے کہا ہائے میرا سر !ہائے میرا سر!اس نے اپنے خادم سے کہا اسے اسکی ماں کے پاس لے جا  ۔  جب اس نے اسے لیکر اس کی ماں کے پاس پہنچا دیا تو وہ اسکے گھٹنوں پر دوپہر تک بیٹھا رہا  ۔  اس کے بعد مر گیا  ۔ 

 

        وہ بچی ایک ایسی شدید بیماری کا شکار ہوا کہ جلد ہی مر گیا  ۔  ہم دیکھ سکتے ہیں کہ اس حقیقت کے باوجود کہ وہ بچہ خدا کا دیا ہو ا تحفہ تھا ۔   یعقوب1باب 17 آیت کے مطابق ، ایک کامل اور بہترین تحفہ تھا ، اور وہ بیماری کا شکار ہو گیا  ۔  لیکن پھر ، یہ عجیب بات نہیں ہے ۔   درحقیقت ، خدا کاکلما کہیں بھی یہ نہیں کہتا کہ ایمانداروں کے بچے (یا والدین یا بھائی بہن یا ایماندار خود )بیمار نہیں ہو سکتے  ۔  یہاں ایک دشمن ،  شیطان ، ہے جس کا کام بیماری پھیلاناہے  ۔  اس لئے ، بائبل ان بیماروں کو جنہیں یسوع مسیح شفا دیتا تھا کہتی ہے ”جو ابلیس کے ہاتھ سے ظلم اٹھاتے تھے“ (اعمال 10باب38آیت )، یہ انہیں اس لئے کہتی ہے کہ شیطان انہیں بیماری سے پریشان کرتا ہے  ۔  پس ، موت اور بیماری ایسی چیزیں نہیں جو خدا سے آتی ہیں  ۔  اس کے بر عکس ، یہ ایسی چیزیں ہیں جن کا وسیلہ خدا کی روحانی قوتوں کے مخالف ، شیطان ، ہے  ۔  باوجود اس کے ، کہ دشمن ، جب کو ئی راہ پاتا ہے ، بیماری لا سکتا ہے ، تاہم ، خدا جو شیطان سے کہیں بڑا ہے (یوحنا4باب4آیت )، ہمیں کسی بھی قسم کی بیماری سے شفا دے سکتا ہے  ۔  103زبور 3آیت کہتی ہے :

 

103زبور3آیت:
”وہ تیری ساری بدکاری کو بخشتا ہے
 ۔ 
وہ تجھے تمام بیماریوں سے شفا دیتا ہے  ۔ 

 

        خدا ہماری آدھی بیماری نہیں بلکہ تمام بیماری سے شفا دیتا ہے  ۔  اب عورت کی طرف واپس آئے ہوئے ، کیا خدا اس بچے کی موت کی ناقابل تبدیل کر سکتا تھا ؟ہم اس کا جواب تھوڑی دیر کے بعد دیکھیں گے پہلے اس حقیقت پر اس عورت کا رد عمل دیکھتے ہیں :

 

2سلاطین4باب21تا24آیت:
”تب اس کی ماں نے اسے اوپر جا کر مرد خدا کے پلنگ پر لٹا دیااور دروازہ بند کر کے باہر آگئی
 ۔  اور اس نے اپنے شوہر سے پکار کر کہا جلد جوانوں میں سے ایک کوا ور گدھوں میں سے ایک کو میرے لئے بھےج دے تاکہ میں مرد خدا کے پا س دوڑ جاﺅں اور پھر لوٹ آﺅں  ۔  اس نے کہا آج تو اکے پاس کیوں جانا چاہتی ہے ؟آج نہ تو نیا چاند ہے نہ سبت  ۔  اس نے جواب دیا کہ اچھا ہی ہوگا  ۔  اور اس نے گدھے پر زین کسکر اپنے خادم سے کہا ہانک  ۔  آگے بڑھ اور سواری چلانے میں ڈھیل نہ ڈال جب تک میں تجھ سے نہ کہوں  ۔ 

 

        عورت کے رد عمل سے یہ باے واضح ہو تی ہے کہ عورت نے اپنے بیٹے کی ناقابل تبدیل حقیقت کے طور پر موت کا تصور بھی نہیں کیا تھا ۔   حقیقتاََ ، وہ عورت بجائے کہ ماتم کرتی اور اپنے اپنے بیٹے کی موت کی خبر اپنے شوہر کو دیتی ، اس نے بچے کو خدا کے بندے کے بستر پر لٹایا اور اپنے شوہر سے کہا کہ ایک گدھا اور ایک جوان آدمی کاا نتظام کرے تا کہ وہ الیشع کے پاس جا سکے ظاہر ہے ، یہ عورت جان چکی تھی کہ یہ بچہ ایک تحفہ تھا جو خدا نے اسے دیا اور اسکی موت خدا کی مرضی سے نہیں ہو ئی ، پس اس نے اس بات کو قبول نہ کیا اسکے بیٹے کی موت ایسی حقیقت تھی جو ناقابل تبدیل ہو  ۔  اسی لئے وہ الیشع کی طرف بھاگی اور کسی کو خبر نہ ہو نے دی کہ کیا ہوا  ۔ 

 

2سلاطین4باب25تا28آیت:
”سو وہ چلی اور کو ہ کرمل کو مرد خدا کے پاس گئی
 ۔  اس مرد خدا نے دور سے اسے دیکھ کر اپنے خادم جیحازی سے کہا دیکھ ادھر وہ شونیمی عورت ہے  ۔  اب اور زرا اس کے استقبال کو دوڑ جا اور اس سے پوچھ کیا تو خیریت سے ہے ؟تیرا شوہر خیریت سے ؟بچہ خیریت سے ہے؟اس نے جواب دیا خیریت ہے  ۔  اور جب وہ اس پہاڑ پر مرد خدا کے پاس آئی تو اس کے پاﺅں پکڑ لئے اور جیحازی اسے ہٹانے کیلئے نزدیک آیا پر مرد خدا نے کہا کہ اسے چھوڑ دے کیو نکہ اسکا جی پریشان ہے اور خداوند نے یہ بات مجھ سے چھپائی اور مجھے نہ بتائی  ۔  اور کہنے لگی کیا میں نے اپنے مالک سے بیٹے کا سوال کیا تھا ؟کیا میں نے نہ کیا تھا کہ مجھے دھوکا نہ دے ؟“

 

        ایک بار پھر ہم دیکھ سکتے ہیں کہ خدا کے کہنے کے بغیر ، الیشع ، دوسرے لوگوں کی طرح ، پہلے سے بالکل نہ جان پایا کہ عورت کے ساتھ کیا ہو رہا تھا  ۔  یقینا عورت بہت غمگین تھی ، تاہم ، اپنے دکھ کے باوجود ، ا س نے حوصلہ سے کام لیا اور اپنے مردہ بچے کو گھر چھوڑ کر خدا کے بندے کے پاس گئی  ۔  الیشع کا رد عمل حیران کن تھا :

 

2سلاطین4باب29تا31آیت:
”تب اس نے جیحازی سے کہا کہ کمر باند اور میرا عصا ہاتھ میں لیکر اپنی راہ لے
 ۔  اگر کوئی تجھے راہ میں ملے تو اسے سلام نہ کرنا اور اگر کوئی تجھے لام کرے تو جواب نہ دینا اور میرا عصا اس لڑکے کے منہ پر رکھ دینا  ۔  اس لڑکے کی ماں نے کہا خداوند کی حیات کی قسم اور تیری جان کی سوگند میں تجھے نہیں چھوڑوں گی  ۔  تب وہ اٹھ کر اس کے پیچھے پیچھے چلا  ۔  اور جیحازی نے ان سے پہلے آکر عصا کو اس لڑکے کے منہ پر رکھا پر نہ تو کچھ آواز ہوئی نہ سنا ۔  اس لئے وہ اس سے ملنے کو لوٹا اور اسے بتایا کہ لڑکانہیں جاگا  ۔ 

 

        جیحازی پہلے گھر پہنچا  ۔  گو کہ اس نے وہی کیا جو الیشع نے اس سے پو چھا تھا ، بچہ پھر بھی نہ اٹھا  ۔  کچھ دیر کے بعد الیشع اور اس بچے کی ماں بھی وہاں پہنچ گئے :

 

2سلاطین4باب32اور33آیت:
”جب الیشع اس گھر میں آیا تو دیکھو وہ لڑکا مرا ہوا اس کے پلنگ پر پڑا تھا۔
  سو وہ اکیلا اندر گیا اور دروازہ بند کرکے
خداوند سے دعا کی ۔ 

 

        الیشع نے خداوند کے آگے دعا کی  ۔  یہ اس صورت حال میں اس کا ردعمل تھا وہ یقینا ایک مشکل وقت میں تھا  ۔  جس بچے کا وعدہ خدا نے اس کے وسیلہ سے عورت کے ساتھ کیا تھا وہ بچہ مر چکا تھا ، اور یہ سب کچھ جیحازی کے وہ سب کام سر انجام کرنے کے بعد بھی جو الیشع نے اسے کرنے کو کہا تھا ، بنا کسی شفا کے نشان کے ہوا تھا  ۔  اس کے باوجود ، ہم کسی بھی موقع پر نہیں دیکھتے کہ الیشع نے خدا پر اپنا بھروسہ کھو دیا ہویا غضب ناک ہواہو  ۔  بلکہ اس نے  اسی طرح حالات کا سامن کیا جیسے اسے کرنا چاہئے تھا: اس نے خداوند سے دعا مانگی  ۔  خداوند ہی ہے جو تمام تر جوابات کا وسیلہ ہے ، اور الیشع کو جواب کی ضرورت تھی کہ اس صورت حال میں کیا کیا جائے  ۔  پس اس نے صرف اسی سے دعا مانگی جو جواب جانتا تھا  ۔  خداوند سے[3] ۔  نتیجتاَ ، خدا نے اسکی دعا کا جواب دیا  ۔  34تا35آیت ہمیں بتاتی ہے :

 

2سلاطین4باب34اور35آیت:
”اور اوپر چڑھ کر اس بچے پر لیٹ گیا اور اس کے منہ پر اپنا منہ اور اسکی آنکھوں پر اپنی آنکھےں اور اسکے ہاتھوں پر اپنے ہاتھ رکھ لئے اور اسکے اوپر پسر گیا
 ۔  تب اس بچے کا جسم گرم ہو نے لگا  ۔  پھر وہ اٹھ کر اس گھر میں ایک بار ٹہلا اور اوپر چڑھ کر اس بچے کے اوپر پسر گیا اور وہ بچہ سات بار چھینکا اور بچے نے آنکھےں کھول دیں  ۔ 

 

        یہ تمام چیزیں جو ہمیں درج بالا حوالہ بتاتا ہے جو الیشع نے سر انجام دیں ایسی چیزیں نہیں تھےں جو اس کے اپنے دماغ سے آئی تھےں بلکہ یہ خدا کے مکاشفہ کے بعد انجام دیں گئیں  ۔  اس نتیجہ پر یہ معاملہ طے پات ہے کہ ،  بچہ شفا پاتا ہے اور الیشع نے اسے اسکی ماں کے سپرد کر دیا :

 

2سلاطین4باب36تا38آیت:
”تب اس نے جیحازی کو بلا کر کہا اس شونیمی عورت کو بلالے
 ۔  سو اس نے اسے بلا یا اور جب وہ اس کے پاس آئی تو اس نے اس سے کہا اپنے بیٹے کو اٹھا لے  ۔  تب وہ اندر جا کر اس کے قدموں پر گری اور زمین پر سر نگون ہو گئی  ۔  پھر اپنے بیٹے کو اٹھا کر باہر چلی گئی او ر الیشع پھر جلجال میں آیا اور ملک میں کال تھا اور انبیا زادے اسکے حضور بیٹھے ہو ئے تھے اور اس نے اپنے خادم سے کہا بڑی دیگ چڑھا دے اور ان انبیا زادوں کے لئے لپسی پکا ۔ 

 

        خدا نے عورت کو بچایا اور بچے کی موت کی ناقابل تبدیل حقیقت کو تبدیل کیا ، یہ سب ظاہر کرتے ہو ئے کہ وہ ان لوگوں کو بچانے کیلئے اس حد تک جا سکتا ہے جتنا کہ ممکن ہے ، جو لوگ اس کی رہائی بخش قوت پر ایمان رکھتے ہیں  ۔ 

 

3اختتام

         اس سبق میں ہم نے دو واقعات کا تجزیہ کیا جو خدا کی رہائی بخش قوت کے مظہر ہیں  ۔  مطالعہ کرنے والے کو مزید مثالیں تلاش کرنے کیلئے خدا کے کلام کا مطالعہ کرنے کیلئے حوصلہ افزائی دی جاتی ہے  ۔  دونوں واقعات میں جن کا ہم نے تجزیہ کیا اور عموماَ ہر اس واقعہ میں جو بائبل کے مطالعہ میں دیکھتے ہیں ، جو سبق ملتا ہے وہ ایک جیسا ہی ہے ، وہ لوگ جو خدا پر بھروسہ رکھتے اور اسکی تلاش کرتے ہیں وہ کبھی شرمندہ نہ ہو ں گے خواہ کوئی بھی مشکل ان پر آن پڑے  ۔  ہمارا خدا نجات دینے والا خدا ہے اور اسکی رہائی بخش قوت کی کو ئی حد نہیں ہے  ۔  وہ اپنے لوگوں کو بچانے کیلئے خالی برتنوں کو تیل سے بھرنے یا مردہ بچے کو زندہ کرنے کی حد تک جا سکتا ہے  ۔  اس لئے خدا کرے کہ ہم ہر اس چیز میں جس کی ہمیں ضرور ت ہے ، خداکی رہائی بخش قوت پر بھروسہ رکھیں اس بات کا یقین کرتے ہوئے اگر ہم یہ کرتے ہیں تو صرف ایک ہی چیز رونما ہو گی ، ہم نجات پائیں گے  ۔   

 

تسسوس کولچوگلو

اردو  Fahim Qaiser, Napoleon Zaki :

 


[1] وہ شاید الیشع کو اپنے شوہر کے ذریعے جانتی ہو جو انبیا کے بیٹوں میں سے ایک تھا اور جو خدا کی عزت کرنے والا بندہ تھا ۔

[2] آج روح القدس پانے کی شرط نئے سرے سے پیدا ہونا ہے جو تب رونما ہوتا ہے جب کوئی شخص اپنی زبان سے خداوند یسوع کا اقرار کرتا ہے اور دل میں ایمان لاتا ہے کہ خدا نے اسے مردوں میں سے جلایا(رومیوں 10باب9آیت) ۔   اس بارے میں مزید جاننے کیلئے دیکھیں : پینتیکوست اور نئے سرے کی پیدائش کے حقائق ۔

[3] دعا کی اہمیت کے حوالے سے مزید جاننے کیلئے دیکھیں: دعا سے متعلق یسوع کی رائے۔