بائبل کی سچائیاں


ہمارے جدید ترین کالم   |   
موضوع کے مطابق   |    تمام کالم   |    سبسکرائب   |    ہوم   

 

 

 

 

نشان زد کریں اور دوسروں کو شریک کریں

 

 

  PDF version (printer friendly)

 

 

خدا وندکی حمد کرو

 

       آج ہم یعقوب5باب13آیت سے شروع کریں گے۔   یہاں ہم پڑھتے ہیں:

 

یعقوب5باب13آیت:
“ اگر تم میں کوئی مصیبت زدہ ہو تو دعا کرے۔
   اگر خوش ہو تو حمد کے گیت گائے۔  

 

       زندگی میں دونوں خوشی اور غم کا وقت بھی آتا ہے (وعظ 3باب1اور4آیت بھی دیکھیں) ۔  دکھوں کے وقت میں کلام کہتا ہے کہ دعا کرو،  جب کہ خوشی کے موقعہ پر خدا کی حمد کے گیت گاﺅ۔  جب حال ہی میں میں نے یہ دیکھا کہ بائبل میں خدا کی تمجید اور حمد کی گیت گانے کے حوالے سے بہت کچھ پایا جاتا ہے تو میں بہت حیران ہو گیا۔  دراصل،  بائبل کی کتب میں سے ایک،  سب سے بڑی اور سب سے زیادہ پسند کی جانے والی کتاب،  زبور کی کتاب ہے،  جس کا ترجمہ میں خدا کے گیت کرتا ہوں۔  آج میں خدا کی تمجید اور حمد کے گیت گانے اور اس کے بارے میں کلام کے چند حوالوں کو دیکھنا پسند کروں گا۔ 

 

پرانے عہد انامہ میں حمد کرنا

        پرانے عہد نامہ میں خدا کی تمجید کرنے اور اس کی حمد کے گیت گانے کے بارے میں بہت کچھ ہے کہ یہ فیصلہ کرنا مشکل ہے کہ شروع کہاں سے کیا جائے۔  لفظ  “ حمد گانے “  کا پہلا حوالہ بائبل میں پیدائش 29باب35آیت ،  یہوداہ کی پیدائش پر ہے،  جس کے قبیلے سے یسوع مسیح تھا۔  یہاں ہم پڑھتے ہیں:

 

پیدائش29باب35آیت:
“ اور وہ (لیاہ)
 پھر حاملہ ہوئی اور اس کے بیٹا ہوا۔   تب اس نے کہا کہ اب میں خداوند کی ستائش کروں گی اس لئے اس نے اس کا نام یہوداہ رکھا۔  

 

       اس کے علاوہ یہاں لفظ  “ حمد   کے 260اور لفظ  “ گیت گانے “  کے 180واقعات موجود ہیں۔ 

 

       ان میں سے چند ایک حوالہ جات کو دیکھتے ہوئے ہم یہ جانتے ہیں کہ لاوی کے گھرانے کو جو کام سونپے گئے تھے ان میں سے ایک کام خداوند کی حمد کرنا تھا۔  ان کا ایک حصہ صرف اسی کام کےلئے مقرر تھا:

 

1تواریخ23باب3تا6آیت:
“ او تیس برس کے اور اس سے زیادہ عمرکے لاوی گنے گئے اور ان کی گنتی ایک ایک آدمی کو شمار کر کے اڑتیس ہزار تھی۔
   ان میں سے چوبیس ہزار خداوند کے گھر کے کام کی نگرانی پر مقرر ہوئے اور چھے ہزار سردار اور منصف تھے۔   اور چار ہزار دربان اور چار ہزار ان سازوں سے خداوند کی تعریف کرتے تھے جن کو میں نے یعنی داﺅد نے مدح سرائی کےلئے بنایا تھا۔  

 

اور1تواریخ16باب4تا6آیت بھی:
“ اور اس نے لاوی میں سے بعض کو مقرر کیا کہ خداوند کے صندوق کے آگے خدمت کریں اور
خداوند اسرائیل کے خدا کا ذکر اور شکر اور اس کی حمد کریں۔   اول آسف اور اس کے بعد ذکریاہ اور یعی ایل اور سمرا موت اور یحیئیل اور متتیاہ اور الیاب اور بنایاہ اور عوبید ادوم اور یعی ایل ستار اور بربط کے ساتھ اور آسف جھانجھوں کو زور سے بجاتا ہوا اور بنایاہ اور یحزیئیل کاہن سدا ترہیوں کے ساتھ خدا کے عہد کے صندوق کے آگے رہا کریں۔  

 

       آگے بڑھتے ہوئے زبور کی کتاب میں ہم بہت سے دیگر حوالہ جات دیکھتے ہیں جو خدا کی حمد سرائی کا حوالہ دیتے ہیں۔   یہ فہرست لمبی ہے اور تاہم مجھے صرف چند ایک تک محدود رہنا ہے۔ 

 

21زبور13آیت:
“ اے خداوند !
 تو اپنی ہی وقوت میں سر بلند ہو !  اور ہم گا کر تیری قدرت کی ستائش کریں گے۔  

 

22زبور23آیت:
اے خداوند سے ڈرنے والو!  اس کی ستائش کرو۔  

 

28زبور7آیت:
“ خداوند میری قوت اور میری سپر ہے۔
   میرے دل نے اس پر توکل کیا ہے اور مجھے مدد ملی ہے۔   اس لئے میرا دل نہایت شادمان ہے۔   اور میں گیت گا کر اس کی ستائش کروں گا۔   

 

30زبور4آیت:
خداوند کی ستائش کرو اے اس کے مقدسو!  اور اس کے قدوس کو یاد کر کے شکر گزاری کرو۔  

 

33زبور2آیت:
ستار کے ساتھ خداوند کا شکر کرو اور دس تار کی بربط کے ساتھ اس کی ستائش کرو۔  

 

50زبور23آیت:
جو شکرگزاری کی قربانی گزرانتا ہے وہ میری تمجید کرتا ہے۔  

 

57زبور9آیت:
اے خداوند!  میں لوگوںمیں تیرا شکر کروں گا ۔   میں امتوں میں تیری مدح سرائی کروں گا۔  

 

63زبور3آیت:
“ کیونکہ تیری شفقت زندگی سے بہتر ہے۔
   میرے ہونٹ تیری تعریف کریں گے۔   

 

63زبور5آیت:
“ میری جان گویا گودے اور چربی سے سیر ہوگئی۔
   اور میرا منہ مسرور لبوں سے تیری تعریف کرے گا۔  

 

67زبور3آیت:
اے خداوند!  لوگ تیری تعریف کریں۔   سب لوگ تیری تعریف کریں۔  

 

68زبور4آیت:
خدا کے لئے گاﺅ۔   اس کے نام کی مدح سرائی کرو۔   صحرا کے سوال کےلئے شاہراہ تیار کرو۔   اس کا نام یاہ ہے اور تم اس کے حضور شادمان ہو۔  

 

86زبور12آیت:
“ یا رب!
 میرے خدا!  میں پورے دل سے تیری تعریف کروں گا۔  میں ابد تک تیرے نام کی تمجید کروں گا۔  

 

106زبور1آیت:
خداوند کی حمد کرو۔   خداوند کا شکر کرو کیونکہ وہ بھلا ہے۔   اور اس کی شفقت ابدی ہے۔  

 

118زبور28آیت:
“ تو میرا خدا ہے
میں تیرا شکر کروں گا ۔   تو میرا خدا ہے۔   میں تیری تمجید کروں گا۔  

 

117زبور1آیت:
“ ا
ے قومو!  سب خداوند کی حمد کرو۔   اے امتو!  سب اس کی ستائش کرو۔  

 

139زبور14آیت:
میں تیرا شکر کروں گا کیونکہ میں عجب و غریب طور سے بنا ہوں۔  

 

147زبور1آیت:
خداوند کی حمد کرو کیونکہ خدا کی مدح سرائی کرنا بھلا ہے۔   اس لئے کہ یہ دل پسند اور ستائش زیبا ہے۔  

 

150زبور:
خداوند کی حمد کرو۔   تم خدا کے مقدس میں ا س کی حمد کرو۔   اس کی قدرت کے کاموں کے سبب سے اس کی حمد کرو۔   اس کی بڑی عظمت کے مطابق اس کی حمد کرو۔  نرسنگے کی آواز کے ساتھ اس کی حمد کرو۔   دف بجاتے اور ناچتے ہوئے اس کی حمد کرو۔  تاردار سازوں اور بانسلی کے ساتھ اس کی حمد کرو۔  بلند آواز جھانجھ کے ساتھ اس کی حمد کرو۔  زور سے جھنجھناتے جھانجھ کے ساتھ اس کی حمد کرو۔   ہر متنفس خداوند کی حمد کرے۔   خداوند کی حمد کرو۔   

 

یرمیاہ20باب13آیت:
خداوند کی مدح سرائی کرو۔   خداوند کی ستائش کرو کیونکہ اس نے مسکین کی جان کو بدکرداروں کے ہاتھ سے چھڑایا۔  

 

       جیسا کہ میں نے کہا،  یہ صرف چنیدہ حوالہ جات ہیں،  خدا کی حمد و ثنا کےلئے۔  یہاں اور بھی بہت سے ہیں۔   148زبور ساری خلقت کو اس کی حمد میں شامل کرتاہے:

 

148زبور
“ خداوند کی حمد کرو۔
   آسمان پر سے خداوند کی حمد کرو۔   بلندیوں پر اسکی حمد کرو۔   اے اس کے سب فرشتو!  سب اسکی حمد کرو۔   اے اس کے لشکرو!  سب اسکی حمد کرو۔   اے سورج اے چاند !  سب اس کی حمد کرو۔   اے نورانی ستارو!  سب اسکی حمد کرو۔   اے فلک الافلاک اسکی حمد کرو۔   اور تو بھی اے فضا پر کے پانی!  یہ سب خداوند کے نام کی حمد کریں۔   کیونکہ اس نے حکم دیا اور یہ سب پیدا ہوگئے۔   اس نے ان کو ابدلا آباد کےلئے قائم کیا ہے۔   اس نے اٹل قانون مقرر کر دیا ہے۔   زمین پر سے خداوند کی حمد کرو۔  اے اژدھاﺅ اور اے سب گہرے سمندرو!  اے آگ اور اولو!  اے برف اور کہر!  اے طوفانی ہوا!  جو اس کے کلام کی تعمیل کرتی ہے۔   اے پہاڑو اور سب ٹیلو!  اے میوادار درختو اور سب دیودارو!  اے جانور اور سب چوپایو!  اے رینگنے والو اور پرندو!  اے زمین کے بادشاہو اور سب امتو!  اے امرا!  اور زمین کے سب حاکمو!  اے نوجوانوں اور کنواریو! اے بڈھو!  اور بچو!  یہ سب خداوند کے نام کی حمد کریں۔   کیونکہ صرف اسی کا نام ممتاز ہے۔  اس کا جلال زمین اور آسمان سے بلند ہے۔   اور اس نے اپنے سب مقدسوں یعنی اپنی مقرب قوم بنی اسرائیل کے فخر کےلئے اپنی قوم کا سینگ بلند کیا۔  خداوند کی حمد کرو۔  

 

یسعیاہ43باب19تا21آیت میں بھی خداوند نے کہا:
“ دیکھو میں ایک نیا کام کروں گا۔
   اب وہ ظہور میں کیا تم اس سے ناواقف رہو گے؟  ہاں میں بیابان میں ایک راہ اور صحراہ میں ندیاں جاری کروں گا۔   جنگلی جانور گیدڑ اور شتر مرغ میری تعظیم کریں گے کیونکہ میں بیابان میں پانی اور صحر امیں ندیاں جاری کروں گا تاکہ میرے لوگوں کےلئے یعنی میرے برگزیدوں کے پینے کےلئے ہوں۔  میں نے ان لوگوں کو اپنے لئے بنایا تاکہ وہ میری حمد کریں۔  

 

       انسان اور فرشتے،  چاند اور سورج،  زمین اور آسمان کے تارے،  ساری خلقت خداوند کی حمد کرو،  “ کیونکہ اس نے کہا اور یہ سب بن گئے۔    اگر خدا نے اس کا حکم نہ دیا ہوتا تو ہم میں سے کوئی بھی موجود نہ ہوتا۔  ہم یہ سب اپنے ارد گرد دیکھتے ہیں،  سورج،  چاند،  تارے، قدرت، کیونکہ خدانے حکم دیا اور یہ خلق ہوئے۔  ہاں،  ہم اپنے خالق کی تمجید کریں گے۔  جیسے150زبور کہتا ہے:  “ ہر متنفس خداوند کی حمد کرے۔   ہیلیلویاہ “

 

نئے عہد نامہ میں حمد کرنا

        تمجید کرنا اور خدا کی حمد کے گیت گانا یقینا صرف پرانے عہد نامہ کا موضوع نہیں ہے۔  در حقیقت،  نئے عہد نامہ میں،  روح القدس کے نازل ہونے سے ،  خدا کی حمد سرائی کا ایک اور راستہ شامل ہوگیا:  روح میں گیت گانا۔   1کرنتھیوں14باب میں ہم پرھتے ہیں:

 

1کرنتھیوں14باب14تا17آیت:
“ اس لئے کہ اگر میں کسی بیگانہ زبان میں دعا کروں تو میری روح تو دعا کرتی ہے مگر میری عقل بےکار ہے۔
   پس کیا کرنا چاہئے؟  میں روح سے بھی دعا کروں گا اور عقل سے بھی دعا کروں گا۔   روح سے بھی گاﺅں گا اور عقل سے بھی گاﺅں گا۔   ورنہ اگر تو روح ہی سے حمد کرے گا تو ناواقف آدمی تیری شکرگزاری پر آمین کیونکر کہے گا؟  اس لئے کہ وہ نہیں جانتا کہ تو کیا کہتا ہے۔   تو تو بے شک اچھی طرح سے شکر کرتا ہے مگر دوسرے کی ترقی نہیں ہوتی۔    

 

       فہم کے ساتھ حمد کرنے کے ساتھ ساتھ روح کے ساتھ حمد کے گیت گانا بھی شامل ہے،  جوکہ بیگانہ زبانوں میں بات کرنا ہے۔  میں جانتا ہوں کہ غیر زبانوں میں بولنے اور عام طور پر روح کے اظہار کے حوالے سے آج کلیسیا میں بہت زیادہ بحث ہو رہی ہے ۔  میں یہاں یہ بحث شروع نہیں کرنا چاہتا ۔   اگر آپ ایمان رکھتے ہیں کہ یسوع خداوند ہے اور خدا نے اسے مردوں میں سے جلایا تو آپ میرے بھائی ہیں چاہے آپ غیر زبانیں بولتے ہیںیا نہیں۔   میں یہاں وہ ایمانداری سے بیان کرنا چاہتا ہوں جو میں دیکھتا ہوں کہ خدا کا کلام کہہ رہا ہے۔  اور میں یہاں یہ دیکھتا ہوں کہ غیر زبانوں کے وسیلہ سے میں فہم کے ساتھ اور روح کے ساتھ حمد سرائی کر سکتا ہوں۔ 

 

       ہمارے موضوع میں آگے بڑھتے ہوئے،  کلسیوں اور افسیوں ہمیں بتاتی ہے:

 

کلسیوں3باب16آیت:
“ مسیح کے کلام کو اپنے دلوں میں کثرت سے بسنے دو اور
کمال دانائی سے آپس میں تعلیم اور نصیحت کرو اور اپنے دل میں فضل کے ساتھ خدا کےلئے مزامیر اور گیت اور روغزلیں گاﺅ۔   

 

اورافسیوں5باب18اور19آیت بھی:
“ اور شراب میں متوالے نہ بنو کیونکہ اس سے بدچلنی واقع ہوتی ہے بلکہ
روح سے معمور ہوتے جاﺅ۔   اور آپس میں مزامیر اور گیت اورغزلیں گایا کرو اور دل سے خداوند کےلئے گاتے نجاتے رہاکرو۔  

 

       زبور اور گیت ایک دوسرے کو تعلیم دینے اور خبردار کرنے کا وسیلہ ہو سکتے ہیں اور کلام کی ہدایت یہ ہے کہ ہم اپنے دل میں خدا کےلئے گیت اور غزلیں گائیں۔  یسوع اور اس کے شاگرد ان کی عبادات میں گیت گاتے تھے۔   ہم یہ متی26باب 30آیت میں دیکھتے ہیں:

 

متی26باب30آیت:
“ پھر
وہ گیت گا کر زیتون کے پہاڑ پر گئے۔  

 

       گیت گانے اور حمد سرائی کرنا ماضی کا عمل نہیں تھا۔   در اصل یہ ہر دور میں تمام مخلوق کا عمل ہے اور یہ کبھی ختم نہیں ہوگا۔    “ ہر متنفس خدا کی حمد کرے۔   ہیلیلویاہ۔  

 

جب لوگ خداوند کی حمد کرتے ہیں تو کچھ چیزیں رونما ہوتی ہیں

 

1اعمال16باب

        یہ جنوبی یونان میں فلپی کے شہر کی قید خانہ میںہوا۔   پولوس اور سیلاس،  روح سے ہدایت پا کر،  تراﺅس سے نکل کر اس شہر کو گئے۔  تاہم،  چند روز بعد،  انہیں قید خانہ میں ڈال دیا گیا کیونکہ انہوں نے وہاں ایک بد روح کو نکالا تھا (اعمال 16باب16تا24آیت) ۔   اعمال 16 باب 25 تا 28آیت ہمیں بتاتی ہے کہ پہلی رات جب وہ قید خانہ میں تھے تو کیا ہوا۔ 

 

اعمال16باب25تا28آیت:
“ آدھی رات کے قریب پولوس اور سیلاس دعا کر رہے
اورخدا کی حمد کے گیت گا رہے تھے اور قیدی سن رہے تھے۔  کہ یکایک ایک بڑا بھونچال آیا۔   یہاں تک کہ قید خانہ کی نیو ہل گئی اور اسی دم سب دروازے کھل گئے اور سب کی بیڑیاں کھل پڑیں۔  اور داروغہ جاگ اٹھا اور قید خانہ کے دروازے کھلے دیکھ کر سمجھا کہ قیدی بھاگ گئے۔   پس تلوار کھینچ کر اپنے آپ کو مار ڈالنا چاہا۔   لیکن پولوس نے بڑی آواز سے پکار کر کہاکہ اپنے تئیں نقصان نہ پہنچاکیونکہ ہم سب موجود ہیں۔  وہ چراغ منگوا کر اندر جا کودا اور کانپتا ہوا پولوس اور سیلاس کے آگے گرا۔   اور انہیں باہر لا کر کہا اے صاحبو!  میں کیا کروں کہ نجات پاﺅں؟ انہوں نے کہا کہ خداوند یسوع پر ایمان لا تو تو اور تیرا گھرانہ نجات پائے گا۔  اور انہوں نے اس کواور اس کے سب گھر والوں کو خدا کاکلا سنایا۔   اس نے اسی گھڑی انہیں لے جا کر ان کے زخم دھوئے اور اسی وقت اپنے سب لوگوں سمیت بپتسمہ لیا۔  اور انہیں اوپر گھر میں لے جاکر دسترخوان بچھایا اور اپنے سارے گھرانے سمیت خدا پر ایمان لا کر بڑی خوشی کی۔  

 

       میں ایمانداری سے یہ مانتا ہوں کہ اگر پولوس اور سیلاس وہ نہ کرتے جو وہ کر رہے تھے تو یہ سب کچھ رو نما نہیں ہوتا :  یعنی گیت گا رہے اور خدا کی حمد گا رہے تھے۔  سارا قید خانہ اس سے گونج اٹھا۔   دیکھیں کہ خدا نے نہ صرف ان کی بیڑیاں توڑ دیں بلکہ باقی سب قیدیوں کی بھی توڑ دیں اور ان سب کےلئے بھی دروازے کھول دیئے۔  صرف آسمان ہی یہ ظاہر کرے گا کہ ان میں سے کتنی روحوں کو خدا نے اس دن چنا اور وہ حقیقتاً آزاد ہوئے۔  تاہم ہم چند ایک کے بارے میں پہلے سے ہی جانتے ہیں: قید خانہ کا داروغہ اور اس کا سارا خاندان۔   انہوں نے اس رات خداوند کو قبول کیا اور وہ وہاں ایک دن ہمارے ساتھ اور پولوس اور سیلاس کے ساتھ ،  خدا کے حمد سرائی کرتے ہوئے اکٹھے ہوں گے۔ 

 

 

2تواریخ 20باب20تا23آیت

        ایک اور حوالہ جس میں ہم خدا کے لوگوں کو خدا کی حمد گاتے ہوئے دیکھتے ہیں وہ 2تواریخ 20باب کا حوالہ ہے۔  یہوسفط جو یہوداہ کے قبیلے کا بادشاہ تھا اس کے خلاف ایک بہت بڑا لشکر اکٹھا ہو کر آرہا تھا اور وہ اس کے باعث خوفزدہ تھا۔  تاہم اس نے ویسا ہی کیا جو اسے کرنا چاہئے تھا:  اس نے خداوند اور اس کی قوت کو چاہا۔  پس اسنے یہوداہ اور یروشلیم کو اکٹھے کیا اور کھلے طور پر خدا سے ،  اس کے وعدوں کا ذکر کرتے ہوئے دعا کی جو اس نے ان کے باپ دادا سے کئے تھے۔  پھر خداوند نے اسے اور اس کے لوگوں کو رہائی کا وعدہ دیا۔  در حقیقت یہ رہائی اتنی بڑی تھی کہ انہیں لڑائی بھی نہیں لڑنا پڑی۔  جیسا کہ اس نے 17آیت میں لوگوں سے کہا:

 

2تواریخ 20باب17آیت:
“ تم کواس جگہ میں لڑنا نہیں پڑے گا اے یہوداہ اور یروشیلم!
 تم قطار باندھ کر چپ چاپ کھڑے رہنا اور خداوند کی نجات جو تمہارے ساتھ ہے دیکھنا۔   خوف نہ کرو اور ہراساں نہ ہو۔   کل ان کے مقابلہ کو نکلنا کیونکہ خداوند تمہارے ساتھ ہے۔  

 

       اسرائیل کو صرف آرام سے کھڑے ہونا تھا اور خدا ان کی طرف سے کسی اور کام کے بغیر ہی انہیں آزاد کرنے کو تھا۔  یہ نبوت کا پیغام خدا نے اپنے لوگوں کو دیا۔  18تا24اایت پھر ہمیں بتاتی ہے کہ اس خوفِ خدا والے بادشاہ نے کیا کیا:

 

2تواریخ 20باب18تا24آیت:
“ اور یہوسفط سر نگون ہو کر زمین تک جھکا اور تمام یہوداہ اور یروشیلم کے رہنے والوں نے خداوند کے آگے گر کر اسے سجدہ کیا۔
   اور بنی قہات اور بنی قورح کے لاوی بلند آواز سے خداوند اسرائیل کے خدا کی حمد کو کھڑے ہوگئے۔   اور وہ صبح سویرے اٹھ کر دشت تقو ع میں نکل گئے اور چلتے وقت یہوسفط نے کھڑے ہو کر کہا اے یہوداہ اور یروشلیم کے باشندو! میری سنو!  خداوند اپنے خدا پر ایمان رکھو تو تم قائم کئے جاﺅ گے۔   اس کے نبیوں کا یقین کرو تو تم کامیاب ہوگے۔  اور جب اس نے قوم سے مشورہ کر لیا تو ان لوگوں کو مقرر کیا جو لشکر کے آگے آگے چلتے ہوئے خداوند کےلئے گائیں اور حسن ِ تقدس کے ساتھ اسکی حمد کریں اور کہیں کہ خداوند کی شکر گزاری کرو کیونکہ اس کی رحمت ابد تک ہے۔  جب وہ گانے اور حمد کرنے لگے تو خداوند نے بنی عمون اور موآب اور کوہِ شعیر کے باشندوں پر جو یہوداہ پر چڑھے آرہے تھے کمین والوں کو بٹھا دیا۔   سو وہ مارے گئے۔   کیونکہ بنی عمون اور موآب کوہ شعیر کے باشندوں کے مقابلہ میں کھڑے ہوگئے کہ ان کو بالکل تہِ تیغ اورہلاک کریں اور جب وہ شعیر کے باشندوں کا خاتمہ کر چکے تو آپس میں ایک دوسرے کو ہلاک کرنے لگے۔   اور جب یہوداہ نے دیدبانوں کے برج پر جو بیابان میں تھا پہنچ کر اس انبوہ پر نظر کی تو کیا دیکھا کہ ان کی لاشیں زمین پر پڑیں ہیں اور کوئی نہ بچا۔   

 

       کیا س کی کی کوئی اہمیت ہے کہ جب لوگوں نے اس کی حمد سرائی شروع کی تو خدا نے جال بچھانا شروع کر دیا؟ یقینا اس کی اہمیت ہے۔  ورنہ کلام لفظ  “ جب “  کے بیان کردہ تعلق کو ظاہر نہیں کرتا۔  بے شک،  خدا اپنے لوگوں کو کسی بھی طرح سے بچائے گا،  جیسا اس نے وعدہ کیا تھا۔  تاہم اس نقطہ پر غور کرنا اہمیت کا حامل ہے جب اس نے یہ سب کرنا شروع کیا:  یہ تب ہوا جب انہوں نے اس کی ستائش کرنا شروع کی۔ 

 

 

3تواریخ5باب11تا14آیت

        ایک اور واقعہ جہاں ہم خدا کی حمد کے ساتھ اس کی موجودگی کو دیکھتے ہیں وہ 2تواریخ 5باب ہے۔  ہیکل کی تعمیر مکمل ہو چکی تھی اور سلیمان وہاں لوگوں کے ساتھ افتتاح کےلئے کھڑا تھا۔  کاہن داﺅد کے شہر سے پاک صندوق کو ہیکل میں پاک مکان کے اندر لائے تھے۔  پھر 11 آیت سے شروع کرتے ہوئے ہم پڑھتے ہیں:

 

2تواریخ5باب11تا14آیت:
“ اور ایسا ہوا کہ جب کاہن پاک مکان سے نکلے
 (کیونکہ سب کاہن جو حاضر تھے اپنے آپ کو پاک کر کے آئے تھے اور باری باری خدمت نہیں کرتے تھے۔  اور لاوی جو گاتے تھے وہ سب کے سب جیسے آسف اور ہیمون اور یدوتون اور ان کے بیٹے اور انکے بھائی کتانی کپڑے سے ملبس ہو کر اور جھانجھ اور ستار اور بربط لئے ہوئے مذبح کے مشرقی کنارے پر کھڑے تھے اور ان کے ساتھ ایک سو بیس کاہن تھے جو نرسنگے پھونک رہے تھے) ۔   اور ایسا ہوا کہ جب نرسنگے پھونکنے والے اور گانے والے سب مل گئے تاکہ خداوند کی حمد اور شکر گزاری میں ان سب کی ایک آواز سنائی دے اور جب نرسنگوں اور جھانجھوں اور موسیقی کے سب سازوں کے ساتھ انہوں نے اپنی آواز بلند کر کے خداوند کی ستائش کی کہ وہ بھلا ہے کیونکہ اس کی رحمت ابدی ہے تو وہ گھر جو خداوند کا مسکن ہے ابر سے بھر گیا۔   یہاں تک کہ کاہن ابر کے سبب سے خدمت کےلئے کھڑے نہ رہ سکے اس لئے کہ خدا کا گھر خداوند کے جلال سے معمور ہوگیا تھا۔  

 

       جب لاوی خدا کی حمد کے گیت گا رہے تھے ،  تو اس کا جلال برسا اور اس سے سارا مسکن بھر گیا۔  جب وہ حمد سرائی کر رہے تھے تو کیا یہ اتفاقاً ہوا تھا؟  جی نہیں۔   وگرنہ خدا کا کلام لفظ  “ جب “  پر دو بار زور نہیں دیتا۔  خدا کے جلال سے سارا گھر بھر گیا اور یہ تب ہوا جب لاوی اور کاہنوں نے خدا کی ستائش اور شکر گزاری کے گیت گا نا شروع کئے تھے۔ 

 

       ان مثالوں کاذکر کرنے سے میرا یہ مطلب نہیں کہ گیت گانا اور حمد کرنا مذہبی فریضہ ہونا چاہئے،  ایسا کام جو خدا کی موجودگی یا اس کی رہائی پانے کےلئے کیا جانا چاہئے۔  پولوس اور سیلاس نے خدا کی تمجید مذہبی فریضے کے طور پر نہیں کی جو انہیں ہر روز بستر پر جانے سے قبل ادا کرنا تھا۔  نہ ہی انہوں نے یہ اسلئے کیا کہ ان کے ساتھ سب کچھ بہتر ہو رہا تھا۔  بلکہ وہ تو قید خانہ میں تھے اور ایسے زخموں سے گھائل تھے جو ناقابل برداشت تھے اور کوئی ان کی نگہداشت کو وہا ں نہیں تھا۔  تاہم،  ان کے دل میں خوشی تھی،  خوشی اس بات کی خداوند ہماری سپر ہے (نحمیاہ8باب 10 آیت) ، اور اس خوشی کے باعث وہ گیت گا رہے تھے۔   وہ  “ دیکھی ہوئی   چیزوں پر نہیں بلکہ  “ اندیکھی چیزوں   پر غور کر رہے تھے (2 کرنتھیوں 4 باب 18آیت) ۔   ہمارے اندر خدا کی خوشی اس قدر اور اس حد تک ہے کہ ہماری آنکھیں خداوند کو تاکتی ہیں۔  جیساکہ1پطرس کہتا ہے:

 

1پطرس1باب3تا9آیت:
“ ہمارے خداوند یسوع مسیح کے خدا اور باپ کی حمد ہو جس نے یسوع مسیح کے مردوں میں سے جی اٹھنے کے باعث اپنی بڑی رحمت سے ہمیں زندہ امید کےلئے نئے سرے سے پیدا کیا۔
   تاکہ ایک غیر فانی اور بیداغ اور لازوال میراث کو حاصل کریں۔   وہ تمہارے واسطے (جو خدا کی قدرت سے ایمان کے وسیلہ سے اس نجات کےلئے جو آخری وقت میں ظاہر ہونے کو تیار ہے حفاظت کئے جاتے ہو)  آسمان پر محفوظ ہے۔   اس کے سبب سے تم خوشی مناتے ہو۔   اگر چہ اب چند روز کےلئے ضرورت کی وجہ سے طرح طرح کی آزمائشوں کے سبب سے غم زدہ ہو۔   اور یہ اس لئے ہے کہ تمہارا آزمایا ہوا ایمان جو آگ سے آزمائے ہوئے فانی سونے سے بھی بہت ہی بیش قیمت ہے یسوع مسیح کے ظہور کے وقت تعریف اور جلال اور عزت کا باعث ٹھہرے۔   اس سے تم بے دیکھے محبت رکھتے ہو اور اگر چہ اس وقت اس کو نہیں دیکھتے تو بھی اس پر ایمان لا کر ایسی خوشی مناتے ہو جو بیان سے باہر اور جلال سے بھری ہے۔   اور اپنے ایمان کا مقصد یعنی روحوں کی نجات حاصل کرتے ہو۔  

 

       یہ لوگ جن سے پطرس بات کر رہا ہے وہ لوگ ہیں جو آزمائشوں میں ہیں اور ان کی وجہ سے پریشان ہیں ،  بالکل جیسے ہم ہیں۔  تاہم خداوند یسوع پر ایمان لانے سے ان میں ناقابل بیان جلال اور خوشی پائی جاتی تھی۔   “ وہ صبر کے ساتھ ایمان کے بانی اور کامل کرنے والے یسوع کو تکتے ہوئے وہ دوڑ دوڑ رہے تھے جو انہیں در پیش تھی “  (عبرانیوں12باب1اور2آیت) میرا ماننا ہے کہ بہت سی مشکلات کے باوجود وہ اسی وجہ سے بہت خوش تھے۔  میرا خیال ہے کہ یہی وجہ تھی کہ پولوس اور سیلاس اس حقیقت کے باوجود گیت گا رہے تھے کہ ان کے جسم زخموں سے چور تھے اور ان کا مستقبل غیر یقینی تھا۔  اور شاید یہی وہ وجہ ہے جو ہمیں ایسی خوشی دے سکتی ہے جو کوئی چرا نہیں سکتا۔ 

 

       مختصراً:  خدا کی حمد اور گیت گانے کے بارے میں خدا کے کالم میں بے شمار حوالہ جات ہیں۔  یقینا یہ ماضی کا موضوع نہیں ہے۔  بلکہ یہ ہر دور میں ہر امت کے لوگوں کا موضوع ہے۔  ہم خدا کی تمجید کرتے ہیں کہ اس نے ہمیںخلق کیا (139 زبور14آیت) ،  کیونکہ ہمارے دل نے اس پر یقین کیا اور ہم نے مددپائی (28 زبور 7 آیت) ، کیونکہ اس کی شفقت آسمان کے اور اس کی سچائی افلاک کے برابر بلند ہے (57 زبور10آیت) ، کیونکہ اس کی شفقت ابدی ہے  (106 زبور1آیت) ، کیونکہ خدا کی مدح سرائی کرنا بھلا ہے؛ اس لئے کہ یہ دل پسند اور ستائش زیبا ہے  (147 زبور 1آیت) ، کیونکہ اس نے اپنے حکم سے یہ سب کچھ پیدا کیا (148زبور) ۔ 

 

“ ہر متنفس خدا وندکی حمد کرے۔   ہیلیلویاہ “  (150زبور) ۔ 

 

تسسوس کولچوگلو

اردو  Fahim Qaiser, Napoleon Zaki :