بائبل کی سچائیاں


ہمارے جدید ترین کالم   |   
موضوع کے مطابق   |    تمام کالم   |    سبسکرائب   |    ہوم   

 

 

 

 

نشان زد کریں اور دوسروں کو شریک کریں

 

 

  PDF version (printer friendly)

 

 

 

داد اور جولیت

 

          داد کے مسح کئے جانے پر بات کرنے کے بعد،آیئے پہلی بار اس کایہ لوگوں کے سامنے آنے کی طرف بڑھتے ہیں۔ 1سیموئیل17باب میں جہاں 1آیت سے ہم آغاز کرتے ہوئے پڑھتے ہیں:

 

1سیموئیل17باب1تا10آیت:

”پھر فلستیوں نے جنگ کیلئے اپنی فوجیں جمع کیں اور یہودہ کے شہر شوکیہ میں فراہم ہوئے اور شوکیہ اور عزیقہ کے درمیان افسدیتیم میں خیمہ زن ہوئے۔ اور سال اور سرائیل کے لوگو ں نے جمع ہوکر ایلہ کی وادی میں ڈیرے ڈالے اور لڑائی کیلئیے فلستیوں کے مقابلے صف آرائی کی۔ اور ایک طرف کے پہاڑ پر فلستی اور دوسری طرف کے پہاڑ پر بنی اسرائیل کھڑے ہوئے اور ان دونوں کے درمیان وادی تھی۔ اور فلستیوں ے لشکر مین سے ایک جوان نکلا جس کا نام جاتی جولیت تھا۔ اس کا قد چھ ہاتھ اور ایک بالشت تھا۔ اور اس کے سر پر پیتل کا خود تھا اور وہ پیتل کی ہی زر پہنے ہوئے تھا۔ جو تول میں پانچ ہزار پیتل مثقال کے برابر تھی۔ اور اس کی ٹانگوں پر دو پیتل کے ساق پوش تھے اور اس کے دونوں شانوں کے بیچ پیتل کی برچھی تھی۔ اور اس کے بھالے کی چھڑ ایسی تھی جیسے جلاہے کا شہتیر اور اس کے نیزے کا پھل چھ سو مثقال لوہے کا تھا اور ایک شخص سپر لئے ہوئے اس کے آگے آگے چلتا تھا۔  وہ کھڑا ہوا اور اسرائیل کے لشکر کو پکار کر ان سے کہنے لگا کہ تم نے آکر جنگ کیلئے کوئی صف آرائی کی؟کیا میں فلستی نہیں اور تم سال کے خادم نہیں؟سو اپنے لئے کسی شخص کو چنو جو میرے پاس اتر آئیاگر وہ مجھ سے لڑ سکے اور مجھے قتل کر ڈالے تو ہم تمہارے خادم ہو جائیں گے پر اگر میں اس پر غالب آں اور اسے قتل کر ڈالوں تو تم ہمارے خادم ہو جانا اور ہماری خدمت کرنا اور ہماری خدمت کرنا۔ پھر اس فلستی نے کہا کہ میں آج کے دن اسرائیلی فوجوں کی فضیحت کرتا ہوں۔  کوئی مرد نکالو تاکہ ہم لڑیں۔ “

 

          گو کہ ماضی میں اسرائیل نے اکثر اوقات فلستیوں کے ساتھ جنگ لڑی، لیکن یہ ایک الگ قسم کا واقعہ معلوم ہوتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ایک عام جنگ کی بجائے ، فلستی لوگ جولیت کو جو ایک مضبوط شخص اور غیر عمومی جسمانی خاصیتیں رکھتا تھا ، جو اسرائیل کو خوفزدہ کر رہا تھا، اور اسرائیل میں سے کسی شخص کو لڑنے کے لئے للکار رہا تھا، لائے تھے۔ 11آیت میں اس کی للکار کے جواب میں اسرائیلیوں کا ردِ عمل دکھایا گیا ہے:

 

1سیموئیل17باب11آیت:

”جب سال اور سب اسرائیلیوں نے اس فلستی کی باتیں سنی تو ہراسان ہوئے اور نہایت ڈر گئے۔ “

 

          اس قسم کے دیگر معاملات میں خدا نے اپنے کلام میں جو وعدہ کیا ہے اس سے یہ ردِ عمل کتنا دور ہے یہ جاننے کیلئے، آیئے اسے احبار 26باب 3،7اور 8آیت اور یشوع 23باب9تا11آیت کے ساتھ موازنہ کریں۔  پس ہم پڑھتے ہیں کہ:

 

احبار26باب3،7اور8آیت:

”اگر تم میری شریعت پر چلو اور میرے حکموں کو مانو اور ان پر عمل کرو تو۔ ۔ ۔ ۔  تم اپنے دشمن کا پیچھا کرو گے اور وہ تمہارے آگے آگے تلوار سے مارے جائیں گے۔ اور تمہارے پانچ آدمی سو کو رگیدیں گے اور تمہارے سو آدمی ہزار کو کھدیڑ دیں گے اور تمارے دشم تلوار سے تمہا رے آگے آگے مارے جائیں گے۔ “

 

یشوع 23باب9تا 11آیت بھی ہمیں بتاتی ہے:

”کیونکہ خداوند نے بڑی بڑی اور زور آور قوموں کو تمہارے سامنے سے دفع کیا بلکہ تمہارا حال یہ رہا کہ آج تک کوئی آدمی تمہارے سامنے ٹھہر نہ سکا۔ تمہارا ایک ایک مرد ایک ایک ہزار کو رگیدے گا کیونکہ خداوند تمہارا خود ہی تمہارے لئے لڑتا ہے جیسا کہ اس نے تم سے کہا۔ پس تم خوب چوکسی کرو کہ خداوند اپنے خدا سے محبت رکھو۔ “

 

          خدا کا وعدہ یہ تھا کہ اگر وہ اس کے ساتھ چلتے ، تو ہزوروں کو گرانے کیلئے ان میں سے ایک ہی کافی ہے، اور ”تمہارے سو آدمی ہزار کو کھدیڑ دیں گے۔ “ اس کے باوجود ہم جو یہاں دیکھتے ہیں وہ بالکل الٹ ہے: ایک فلستی نے سارے اسرائیلیوں کو لڑائی کیلئے للکارہ! خوش قسمتی سے یہ کہانی یہاں ختم نہیں ہوتی:

 

1سیموئیل17باب12، اور16تا23آیت:

”او داد بیت الحم یہودہ کے اس افراتی مرد کا بیٹا تھا جس کا نام یسی تھا ۔  اس کے آٹھ بیٹے تھے۔ ۔ ۔ اور وہ فلستی صبح و شام نزدیک آتا اور چالیس دن تک نکل کر آتا رہا۔ اور یسی نے اپنے بیٹے داد سے کہا کہ اس بھنے انا میں سے ایک ایفہ اور یہ دس روٹیا اپنے بھائیوں کیلئے لیکر ان کو جلد لشکر گاہ میں اپنے بھائیوں کے پاس پہنچا دے۔ اور ان کے ہزاری سردار کے پاس پنیر کی یہ دس ٹکیا ں لے جا اور دیکھ کہ تیرے بھائیوں کا کیا حال ہے اور ان کی کچھ نشانی لے آ۔ اور سال اور وہ بھائی اور سب اسرائیلی مرد ایلہ کی وادی میں فلستیوں سے لڑ رہے تھے۔ اور داد صبح کو سویرے اٹھا اور بھیڑ بکریوں کو ایک نگہبان کے پاس چھوڑ کر یسی کے حکم کے مطابق سب کچھ لیکر روانہ ہوا اور جب وہ لشکر جو لڑنے جارہا تھا جنگ کیلئے للکار رہا تھا اس وقت وہ چھکڑوں کے پڑا میں پہنچا۔ اور اسرائیلیوں اور فلستیوں نوں اپنے اپنے لشکر کو آمنے سامنے کر کے صف آرائی کی۔  اور داد اپنا سامان اسباب کے نگہبان کے ہاتھ چھوڑ کر آپ لشکر میں دوڑ گیا اور جاکر اپنے بھائیوں سے خیرو عافیت پوچھی۔ اور وہ ان سے باتیں کرتا ہی تھا کہ دیکھو وہ پہلوان جات کا فلستی جس کا نام جولیت تھا فلستی صفوں میں سے نکلا اور اس نے پھر ویسی ہی باتیں کیں اورداد نے انکو سنا۔ “

 

          داد ابھی میدانِ جنگ میں اپنے بھائیوں کو دیکھنے کیلئے پہنچا ہی تھا۔ وہاں ، جب اس نے ان سے بات کی، اس نے جولیت کو ایک بار پھر اسرائیل کو دھمکاتے ہوئے دیکھا۔ داد اور بنی اسرائیل دونوں نے سنا جو جولیت نے کہا۔ اس کے باوجود انہوں نے اسی طرح اس کو جواب نہیں دیا۔  24آیت ہمیں بتاتی ہے:

 

1سیموئیل17باب24آیت:

”اور سب اسرائیلی مرد اس شخص کو دیکھ کر اس کے سامنے سے بھاگے اور بہت ڈر گئے۔ “

 

          جیسا کہ دیکھا جا سکتا ہے کہ، لوگوں نے پہلے چالیس دنوں کی مانند ردِ عمل دکھانا جاری رکھا یعنی کہ گھبراتے ہوئے۔ لیکن یہ داد کے ساتھ ایسا کچھ نہ تھا۔ 25اور26آیت میں ہم پڑھتے ہیں:

 

1سیموئیل 17باب25اور26آیت:

”تب اسرائیلی مرد یوں کہنے لگے تم اس آدمی کو جونکلا ہے دیکھتے ہو؟ یقینا یہ اسرائیل کی فضیحت کرنے کو آیا ہے۔ سو جو کوئی اس کو مار ڈالے اسے بادشاہ بڑی دولت سے نہال کرے گا اور اپنی بیٹی اسے بیاہ دے گا اور اس کے باپ کے گھرانے کو اسرائیل کے درمیان آزاد کردے گا۔ اور داد نے ان لوگوں سے جو اس کے پاس کھڑے تھے پوچھا کہ جو شخص اس فلستی کو مار کر یہ ننگ اسرائیل سے دور کرے اس سے کیا سلوک کیا جائے گا؟کیونکہ یہ نامختون فلستی ہوتا کون ہے جو زندہ خدا کی فوجوں کی فضیحت کرے؟ اور لوگوں نے اسے یہی جوب دیا کہ اس شخص سے جو اسے مار ڈالے گا یہ یہ سلوک کیا جائے گا۔ “

 

          داد اور بنی اسرائیل دونوں نے ایک جیسی باتیں سنی اور دیکھیں۔ ۔  تاہم ، ان کا اس کے لئے جواب مکمل طور پر مختلف تھا۔ پس، جب لوگ اس مسئلے پر غور کر رہے تھے اور جو دیکھا اور سنا تھا اس کے مطابق تجزیہ کر رہے تھے ، تب داد خدا کے کلام پر غور کر رہا تھا اور اس کلام کے مطابق اس مسئلہ کا تجزیہ کر رہا تھا۔ جب لوگ حیران ہو کر یہ سوچ رہے تھے کہ ،”ہم میں سے جولیت کے مقابلے میں کون ہے؟“، تو داد کی سوچ یہ تھی کہ،”خدا کے مقابلے میں جولیت کیا ہے؟“اسی لئے بات یہ نہیں کہ ہم کیا دیکھتے ہیں بلکہ ضروری یہ ہے کہ جو ہم دیکھتے ہیں اس کا تجزیہ کیسے کرتے ہیں۔ کیا ہم یہ تجزیہ اسرائیل کی مانند کرتے ہیں یعنی، ہمارے حواس خمسہ کو استعمال کرتے ہوئے،یا یا ہم داد کی مانند اس کا تجزیہ کرتے ہیں یعنی خدا کے کلام کو اپنا معیار بنا کر استعمال کرتے ہوئے؟

 

جو الفاظ داد نے کہے انہوں نے ان لوگوں کو اتنا متاثر کیا کہ انہوں نے داد کے بارے میں سال کو بتایا اور ا س نے داد کو بلا بھیجا:

 

1سیموئیل1731تا37آیت:

”اور جب وہ باتیں جو داد نے کہیں سننے میں آئیں تو انہوں نے سال کے آگے ان کا چرچا کیا اور اس نے اسے بلا بھیجا۔ اور داد نے سال سے کہا کہ اس شخص کے سبب سے کسی کا دل نہ گھبرائے ۔  تیرا خادم جا کر اس فلستی سے لڑے گا۔ سال نے داد سے کہا کہ تو اس قابل نہیں ہے کہ اس فلستی سے لڑنے کو اس کے سامنے جائے کیونکہ تو محض لڑکا ہے اور وہ اپنے بچپن سے جنگی مرد ہے۔ تب داد نے سال کو جواب دیا کہ تیرا خادم اپنے باپ کی بھیڑ بکریاں چراتا تھا اور جب کوئی شیر یا ریچھ آکر جھنڈ میں سے کوئی برا اٹھا لے جاتا۔ تو میں اس کے پیچھے پیچھے جا کر اسے مارتا اور اسے اس کے منہ سے چھڑا لاتاتھا اور جب وہ مجھ پر جھپٹتا تو میں اس کی داڑھی پکڑ کر اسے مارتا اور اسے ہلاک کر دیتا تھا۔  تیرے خادم نے شیر اور ریچھ دونوں کو جان سے مارا۔  سو یہ نامختون فلستی ان میں سے ایک کی مانند ہوگا اس لئے اس نے زندہ خدا کی فوج کی فضیحت کی ہے۔ پھر داد نے کہا کہ خداوند نے مجھے شیر اور ریچھ کے پنجہ سے بچایا۔  وہی مجھ کو اس فلستی کے ہاتھ سے بچائے گا۔  سال نے داد سے کہا جا خداوند تیرے ساتھ رہے۔ “

 

          جیسا کہ یہ دیکھا جا سکتا ہے کہ داد اور سال کے درمیان بھی خیالات کا وہی اختلاف پایا جاتا ہے جو کہ داد اور لوگوں میں تھا۔ پس سال کی نظر میں، داد جولیت سے لڑائی کیلئے بالکل قابل نہ تھا۔ اس کی وجہ؟ جسمانی حقائق: داد ابھی لڑکا، ایک چرواہا تھا۔ تو وہ اس قدر تجربہ کار اور مضبوط جولیت جیسے جنگجو کے خلاف کھڑا ہونے کا موقع کیسے پا سکتا تھا؟

          دوسری جانب، داد نہ صرف جولیت سے لڑنے کو تیار تھا بلکہ اسے اس بات کا یقین تھا کہ وہ اس پر فتح مند ہوگا۔ اسکی وجہ؟خدا کی طاقت اور اس کے کلام کا وعدہ۔ خدا کے خلاف جولیت کی کیا اہمیت تھی؟

          اسلی لئے داد اور سال کے پاس اس بات پر یقین کرنے کی وجوہات تھیں جس بات پر وہ یقین کرتے تھے۔ پہلے جسمانی وجوہات تھیں جب کہ بعد میں روحانی وجوہات آئیں۔ پہلا جسمانی حقائق پر غور کر رہا تھا(ہتھیار، تجربہ، قد وغیرہ) جب کہ دوسرا روحانی حقائق پر غور کر رہا تھا(خدا کے کلام کے وعدے)۔ پہلا خوف سے کانپ رہا تھا جب کہ دوسرا ہمت والا تھا۔ ان دونوں میں سے کس نے معلومات پر ایمان رکھنے کیلئے درست وسیلے کا نتخاب کیا یہ ہم اگلی آیات سے اندازہ لگا سکتے ہیں :

 

1سیموئیل17باب40تا51آیت:

”اور اس نے اپنی لاٹھی اپنے ہاتھ میں لی اور اس نالہ سے پانچ چکنے چکنے پتھر اپنے واسطے چن کر انکو چرواہے کے تھیلے میں جو اس کے پاس تھا یعنی کہ جھولے میں ڈال لیا اور اس کا فلا خن اس کے ہاتھ میں تھا ۔ پھر وہ اس فلستی کے نزدےک چلا ۔ اور وہ فلستی بڑھا اور داد کے نزدیک آیا اور اس کے آگے آگے اس کا سپر بردار تھا ۔ اور جب فلستی نے ادھر ادھر نگاہ کی اور دیکھا تو اسے ناچیز جانا کیو نکہ وہ محض لڑکا تھا اور سر خ رو اور نازک چہرہ کا تھا ۔ سو فلستی نے داد سے کہا کیامیں کتا ہوں جو تو لاٹھی لے کر میرے پاس آتا ہے ؟اور اس فلستی نے اپنے دیوتاں کا نام لے کر داد پر لعنت کی ۔ اور اس فلستی نے داد سے کہا تو میرے پاس آاور میں تیرا گوشت ہوائی پرندوں اور جنگلی درندوں کو دونگا ۔ اور داد نے اس فلستی سے کہا کہ تو تلوار بھالا اور بر چھی لئے ہوئے میرے پا س آتا ہے پر میں رب الا فواج کے نام سے جو اسرائیل کے لشکروں کا خدا ہے جس کی تو نے فضیحت کی ہے تیرے پاس آتا ہوں ۔ اور آج ہی کے دن خداوند تجھ کو میرے ہاتھ میں کر دے گا اور میں تجھ کو مار کر تیرا سر تجھ پر سے اتار لو نگا اور میں آج کے دن فلستیوں کے لشکر کی لاشیں ہوائی پرندوں اور زمین کے جنگلی جانوروں کو دو نگا تاکہ دنیا جان لے کہ اسرائیل میں ایک خدا ہے ۔ اور یہ ساری جماعت جان لے کہ خداوند تلوار اور بھالے کے ذریعہ سے نہیں بچاتا اس لئے کہ جنگ تو خداوند کہ ہے اور وہی تم کو ہمارے ہاتھ میں کر دے گا ۔ اور ایسا ہوا کہ جب وہ فلستی اٹھا اور بڑھ کر داد کے مقابلہ کے لئے نزدیک آیا تو داد نے جلدی کی اور لشکر کی طرف اس فلستی سے مقابلہ کرنے کو دوڑا ۔ اور داد نے اپنے تھیلے میں اپنا ہاتھ ڈالا اور اس میں سے ایک پتھر لیا اور فلاخن میں رکھ کر اس فلستی کے ماتھے پر مارا اور وہ پتھر اس کے ماتھے کے اندر گھس گیا اور وہ زمین پر منہ کے بل گر پڑا ۔ سو داد اس فلاخن اور ایک پتھر سے اس فلستی پر غالب آیا اور اس فلستی کو مارا اور قتل کیا اور داد کے ہاتھ میں تلوار نہ تھی ۔ اور داد دوڑ کر اس فلستی کے اوپر کھڑا ہو گیا اور اس کی تلوار پکڑ کر میان سے کھینچی اور اسے قتل کیا اور اسی سے اسکا سر کاٹ ڈالا اور فلستیوں نے جو دیکھا کہ ان کا پہلوان مارا گیا تو وہ بھاگے۔ “

 

          جولیت نے، وہ فلستی جس نے تمام بنی اسرائیل کو چالیس دنوں خوف زدہ کیا ہوا تھا، ایک نوجوان لڑکے سے مات کھائی جس کا صرف ایک ہتھیار تھا۔ ۔ ۔  پانچ چکنے چکنے پتھر اور ایک فلاخن۔ اس کے باوجود داد اپنے اس جسمانی ہتھیار کے بھروسے لڑائی کیلئے نہیں گیا۔ جسیے کہ اس نے آیت میں اپنے حریف سے کہا:” تو تلوار بھالا اور بر چھی لئے ہوئے میرے پا س آتا ہے پر میں رب الا فواج کے نام سے جو اسرائیل کے لشکروں کا خدا ہے۔ “جی ہاں جولیت ہتھیاروں سے لیس تھا۔ جی ہاں وہ بہت مضبوط تھا۔  لیکن تو کیا؟کیا وہ لشکروں کے خدا سے زیادہ طاقتور تھا؟کیا وہ اس خدا سے زیادہ زور آور تھا؟میں یہ نہیں مانتا۔ لہٰذہ سوال یہ نہیں کہ کسی صورتِ حال کا سامنا کرنے کیلئے ہمارے پاس جسمانی ہتھیار ہیں ، بلکہ کیا ہم اس قدرت، ہتھیار پر بھروسہ کرتے ہیں جسے ”لشکروں کا خدا“ کہا جاتا ہے؟یہاں ہتھیار ہمارا منتظر ہے۔ تاہم، وہ، اس پر بھروسہ کرنے کی بجائے، ”تلوار اور نیزے “ کے وسیلہ سے نجات ڈھونڈ رہے تھے، اور جب انہیں یہ نہ ملی تو وہ گھبرا گئے۔ جیسے امثال18باب10آیت ہمیں بتاتی ہے:

 

امثال 18باب10آیت:

”خداوند کا نام محکم برج ہے ۔ صادق اس میں بھاگ جاتا ہے اور امن میں رہتا ہے ۔ “

 

          ہمارا مضبوط قلعہ خداوند ہے۔ صرف اسی میں حقیقی تحفظ ہے۔ یا تو ہم اس کے پاس جائٰن گے جیسے داد نے کیا، یا پھر ہم کسی اور کو تلاش کریں گے جیسے بنی اسرائیل نے کیا۔ یرمیاہ9باب23اور24آیت کہتی ہے:

 

یرمیاہ9باب23اور24آیت:

”خداوند یوں فرماتا ہے کہ نہ صاحب حکمت اپنی حکمت پر اور نہ قوی اپنی قوت پر اور نہ مالدار اپنے مال پر فخر کرے لیکن جو فخر کرتا ہے اس پر فخر کرے کہ کہ وہ سمجھتا ہے ارو مجھے جانتا ہے کہ میں ہی خداوند ہوں جو دنیا میں شفقت و عدل اور راستبازی کو عمل میں لاتا ہوں کیو نکہ میری خوشنودی ان ہی باتوں میں ہے خداوند فرماتا ہے ۔ “

 

تسسوس کولچوگلو

اردو  Fahim Qaiser, Napoleon Zaki :