بائبل کی سچائیاں


ہمارے جدید ترین کالم   |   
موضوع کے مطابق   |    تمام کالم   |    سبسکرائب   |    ہوم   

 

 

 

 

نشان زد کریں اور دوسروں کو شریک کریں

 

 

  PDF version (printer friendly)

 

 

خدا آپ سے محبت کرتا ہے

 

          پہلے سبق میں ہم نے یہ سیکھا کہ بائبل وہ کتاب ہے جو ہمیں خدا نے خود کے بارے میں سیکھنے کیلئے عطا کی ہے۔ کسی کے بارے میں جاننے کیلئے اب سے بہترین طریقہ کار اس کے ساتھ ملاقات کرنا اور اس کو پرکھنا ہوتا ہے۔ اسی طرح، خدا کے بارے میں جاننے کیلئے اس کا ذاتی ”انٹرویو“ یعنی بائبل کو پڑھنا ہوگا۔

          اس ”انٹر ویو“ میں سب سے جو زیادہ بات جس پر خدانے زور دیا وہ اس پر بھروسہ کرنا ہے۔  مثال کے طور پر امثال 3باب5اور6آیت ہمیں بتاتی ہے کہ:

 

امثال 3باب5اور 6آیت:

اپنےسارے دل سے خداوند پر توکل کر اور اپنے فہم پر تکیہ نہ کر۔  اپنی سب راہوں میں اس کو پہچان اور وہ تیری راہنمائی کرے گا۔ “

 

          اس آیت میں خدا ہمیں بتاتا ہے کہ( یعنی کہ اس پر اپنا اعتماد کرنا) اس پر صرف تھوڑاسا بھروسہ نہیں کرنا، بلکہ اپنے سارے دل سے اس پر بھروسہ کرنا ہے یعنی سو فیصد اس پر بھروسہ رکھنا ہے۔ تاہم، میں مانتا ہوں کہ ہم میں سے اکثر لوگ اس بات سے اتفاق کریں گے کہ کسی پر بھروسہ کرنا یا کسی کے ساتھ بہتر تعلق رکھنے کیلئے اسے جاننے کی ضرورت ہے۔ جتنا زیادہ آپ کسی کو جانیں گے اتنا ہی بہتر آپ کا اس کے ساتھ تعلق ہوگا اور آپ آسانی سے اس پر بھروسہ کر پائیں گے۔

          درج بالا حوالہ میں خدا ہمیں اس پر پورے دل سے اعتماد کرنے کو کہتا ہے۔ تاہم، یہ کیسے ممکن ہے اگر ہم اسے جانتے ہی نہیں؟اورہم اسے کیسے جان سکتے ہیں؟صرف ایک ہی کارآمد راستہ ہے:بائبل کے پاس جائیں جہاں خدا خود کو ظاہر کرتا ہے۔

          پس آج ہم بائبل کے پاس جائیں گے اور یہ جاننے ی کوشش کریں گے کہ خدا کے مقاصد کیا ہیں۔ میرا ماننا ہے کہ اس سے ہمیں خدا کی خصوصیات کازیادہ کا فہم حاصل ہو گا ، اور یہ ہمیں اس پر زیادہ بھروسہ کرنے میں مدد دے گا، کیونکہ ہم اسے بہتر طور پر جانیں گے۔ تو آیئے 1یوحنا 4باب8آیت سے آغاز کرتے ہیں:

 

1یوحنا 4باب8آیت:

”۔ ۔ ۔ کیونکہ خدا محبت ہے۔ “

 

          شاید یہ تین الفاظ بہت سارے ایسے سوالات کا جواب دینے کیلئے کافی ہیں جو خدا کے بارے میں ہمارے ذہن میں ہیں اور، اسی طرح، اس سے وہ تمام تر خیالات باہر نکلیں گے جو دوسروں کے ذہن میں خدا کے متعلق ہیں۔ یہ تین الفاظ ہمیں بتاتے ہیں کہ خدا محبت ہے اور محبت ایسی چیز ہے جو اعمال کی بدولت ظاہر ہوتے ہیں۔  اگر میں کہوں ”مجھے تم سے محبت ہے، مجھے تم سے محبت ہے“، اور بعد میں برے کام کروں تو کیا یہاں محبت ہے؟جی نہیں ۔  محبت اعمال سے ظاہر ہونا چاہئے۔ اسی طرح دوسری باتوں میں بھی یہی حقیقت ہے جن کے باعث دوسروں کو قائل کیا جا سکتا ہے۔ اگر کوئی شخص خوف سے قائل ہوتا ہے تو یہ خوف اس کے کاموں سے ظاہر ہوگا جو خوف ناک ہوں گے، جرات کے بغیر وغیرہ وغیرہ۔ اگر کوئی شخص نفرت سے قائل ہوتا ہے تویہ بھی اس کے کاموں سے ظاہر ہوگا:یعنی بدکاری ، فریب وغیرہ سے۔ خدا بھی کسی چیز سے قائل ہوتا ہے اور وہ ہے محبت ۔ تاہم، یہ دیکھنا باقی ہے کہ خدا یہ محبت اعمال کی بدولت کیسے ظاہر کرتا ہے۔  یہ جاننے کیلئے ہمیں خدا کے چند اعمال کو اس کے کلام کے پاس جانا ہوگا۔

 

 

1     خدا ہم سے محبت کرتا ہے۔  اس نے اپنا اکلوتا بیٹا ہمیں عطا کیا۔

 

          خدا کے کام دیکھنے کیلئے ، جو اس کی ہمارے ساتھ محبت کے نتیجہ میں سر انجام پائے، آیئے 1یوحنا 4باب9آیت پر جاتے ہیں۔  یہاں یہ کہتا ہے:

 

1یوحنا 4باب9آیت:

جو محبت خدا کو ہم سے ہے وہ اس سے ظاہر ہوئی۔ ۔ ۔ “

 

          جیسے کہ اوپر کہا گیا تھا، محبت اعمال سے ظاہر ہونی چاہئے۔  یہاں خدا کا کلام ہمیں بتاتا ہے کہ خدا حقیقتاً ہم سے محبت کرتا ہے اور یہ کہ اس کا پیار ظاہر ہوا تھا۔ پس آیئے یہ دیکھنا جاری رکھتے ہیں کہ اس کا پیار کیسے ظاہر ہوا:

 

1یوحنا 4باب9آیت:

”جو محبت خدا کو ہم سے ہے وہ اس سے ظاہر ہوئی کہ خدا نے اپنے اکلوتے بیٹے کو دنیا میں بھیجا تا کہ ہم اس کے سبب سے زندہ رہیں۔ “

 

          خدا نے اپنے اکلوتے بیٹے خدا وند یسوع مسیح کو دنیا میں بھیجتے ہوئے اپنا پیار ظاہر کیا تا کہ ہم اس کے وسیلہ سے زندگی پائیں۔  آیئے یوحنا کہ انجیل میں بھی ایک حوالہ دیکھتے ہیں:

 

یوحنا 3باب16آیت:

”کیونکہ خدا نے دنیا سے ایسی محبت رکھی کہ اس نے اپنا اکلوتا بیٹا بخش دیا۔ ۔ ۔ ۔ “

 

          محبت اعمال سے ظاہر ہوتی ہے اور یہاں دوبارہ خدا کا کلام ہمیں یہ بتانے کیلئے تیار ہے کہ خدا نے ہمیں محبت کے نتیجے میں کیا عطا کیا۔  پس آیئے اسی حوالہ کو جاری رکھتے ہیں:

 

یوحنا 3باب16اور17آیت:

”کیونکہ خدا نے دنیا سے ایسی محبت رکھی کہ اس نے اپنا اکلوتا بیٹا بخش دیا تاکہ جو کوئی اس پر ایمان لائے وہ ہلاک نہ ہو بلکہ ہمیشہ کی زندگی پائے۔  کیونکہ خدا نے بیٹے کو دنیا میں اس لئے نہیں بھیجا کہ دنیا پر سزا کا حکم د ے بلکہ اس لئے کہ دنیا اس کے وسیلہ سے نجات پائے۔ “

 

          ہمیں ان الفاظ کو جلدی نظر انداز نہیں کرنا چاہئے، بلکہ ہمیں ان الفاظ سے جو کہا جا رہا ہے اس کی اہمیت کو جاننے کے لئے وقت دینا چاہئے۔  جو ہم نے پڑھا اس کے مطابق ، خدا نے ہم سے محبت رکھی اور اسی بنا پر اس نے اپنا اکلوتا بیٹا ہماری خاطر مرنے کو دے دیا، تا کہ اس پر ایمان لانے سے ہم نجات پائیں۔ اب، آیئے فرض کریں، آپ کا صرف ایک ہی بیٹا ہے۔  کیا آپ اسے کسی بھی مقصد کیلئے مرنے کو دے دیں گے؟آپ ایسا نہیں کریں گے۔  تاہم، خدا نے میری اور آپ کی خاطر اپنا اکلوتا بیٹا دینے کا فیصلہ کیا۔ اگر اس نے ایسا نہ کیا ہوتا، تو میں اور آپ نجات یافتہ نہ ہو تے۔ یہ صرف اسی طرح سے ممکن ہوا کیونکہ اس نے اپنا اکلوتا بیٹا بخشنے کا فیصلہ کیا۔ سوال یہ ہے کہ اس نے یہ کرنے کا فیصلہ کیوں کیا۔  اس کا مقصد کیا تھا؟ درج بالا آیات ہمیں کیا بتاتی ہیں؟یہ محبت تھی۔ خدا محبت ہے،ااور اس کی محبت کی وجہ سے اس نے اپنا اکلوتا بیٹا ہمارے لئے بخش دیا۔ یہ اس کا کام تھا جس کی بدولت اس نے اپنی محبت کا ثبوت دیا۔  خدا نے میری اور آپ کی خاطر وہ کفارہ ادا کیا جو انمول ہے۔ کیوں؟کیونکہ اس نے ہم سے محبت رکھی۔ ہر کوئی کسی نہ کسی چیز کا قائل ہوتا ہے۔ خدا محبت کا قائل ہے اور یہاں اس کی محبت کا ثبوت ہے۔  اس نے ہماری خاطر بہت بہت بڑی قیمت ادا کی۔ تاہم، صرف یہی نہیں کہ اس نے ہم سے محبت رکھی اور اس قجہ سے ہمارے لئے یہ بھاری قیمت ادا کی۔ جب آپ کسی سے پیار کرتے ہیں تو اس کے لئے کچھ کرتے ہیں کیونکہ وہ ااپ کے ساتھ بہت نیک اور اچھا ہے۔ لیکن یہ خدا کے ساتھ اس طرح نہیں ہوا۔ آیئے دیکھتے ہیں:

 

رومیوں 5باب6تا10آیت:

”کیونکہ جب ہم کمزور ہی تھے تو عین وقت پر مسیح بے دینوں کی خاطر موا۔ کسی راستباز کی خاطر بھی مشکل سے کوئی اپنی جان دے گا مگر شاید کسی نیک آدمی کیلئے کوئی اپنی جان تک دے دینے کی جرات کرے۔ لیکن خدا اپنی محبت کی خوبی ہم پر یوں ظاہر کرتا ہے کہ جب ہم گناہگار ہی تھے تو مسیح ہماری خاطر موا۔  پس جب ہم اس کے خون کے باعث راستباز ٹھہرے تو اس کے وسیلہ سے غضب ِ الٰہی سے ضرور ہی بچیں گے۔ کیونکہ جب باوجود دشمن ہونے کے خدا سے اس کے بیٹے کی موت کے وسیلہ سے ہمارا میل ہو گیا تو میل ہونے کے بعد تو ہم اس کی زندگی کے سبب سے ضرور ہی بچیں گے۔ “

 

          اس حوالہ کے مطابق، ایس نہیں تھا کہ ہم نے پہلے خدا سے محبت کی پھر، یہ فیصلہ کرنے کے بعد کہ ہم اسے پسند کرتے ہیں، خدا نے ہم سے پیار کرنے کا فیصلہ کیا اور اسی وجہ سے اس نے قیمت ادا کرنے کے لئے کفارہ ادا کیا۔ جیسا کہ درج بالا آیات کہتی ہیں کہ ”راستباز آدمی کیلئے“ شاید کوئی اپنی جان دے۔ تاہم، خدا نے اپنا بیٹا دے دیا جب ہ ”راستباز“ نہ تھے۔ اسکے برعکس، خدا ہم پر اپنی محبت اس حقیقت سے ظاہر کرتا ہے کہ” جب ہم گناہگار ہی تھے تو مسیح ہماری خاطر موا۔ “آج مسیح پر ایمان لانے کے بعد ہم گناہگار نہیں ٹھہرتے۔ اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ہم غلطیاں نہیں کرتے یا ہم گناہ نہیں کرتے۔ تاہم، یہ حقیقت کہ ہم غلطیاں کرتے ہیں ہمیں فطرتی گناہگار نہیں بناتی۔  اس کی وجہ یہ ہے کہ مسیح میری اور آپ کی خاطر موا اور اس نے ہمارے گناہ اپنے اوپر لے لئے پس اس پر ایمان لانے سے ہم گناہوں سے پاک ہو گئے اور بے عیب ٹھہرے۔ گناہگار اور راستباز دو متبادل ہیں جو ایک دوسرے کے مخالف ہیں۔ آپ ایک ہی وقت میں دونوں نہیں ہو سکتے۔ خدا کا کلام ہمیں سکھاتا ہے کہ ہم گناہگار تھے اور کیونکہ ہم خداوند یسوع مسیح پر ایمان لائے اس لئے ہم بے عیب ٹھہرے(”ہم اس کے خون کے باعث راستباز ٹھہرے “، دیکھیں رومیوں 3باب21تا 28آیات)۔  اس کے باوجود یہ سب کچھ خود بخود نہیں ہوا۔ ان سب کیلئے خدا کو آپ کی اور میری خاطر اپنا اکلوتا بیٹا بخشنا پڑا۔ اور اسے آپ کی اور میری خاطر بہت بہت بھاری قیمت ادا کرنا پڑی۔ اور اس نے یہ قیمت اس وقت ادا نہیں کی جب ہم ”راستباز“ تھے اور اس کے حقدار تھے، بلکہ اس وقت جب، فطرتاً، ہم گناہگار اور ناپاک تھے۔ تبھی خدا کی محبت آپ کیلئے اور میرے لئے ظاہر ہوئی۔  کیونکہ اگر محبت میں اپنی کسی قیمتی چیز کو ، اپنے اکلوتے بیٹے کو، کھونا ہوتا ہے، تو گناہگاروں اور ناپاک لوگوں کے ساتھ تو بہت زیادہ محبت درکار ہوگی۔ تاہم، خدا نے یہ کیا۔ آج ہم گناہگار اور ناپاک نہیں ہیں اور یہ ہمارے اعمال کی بدولت نہیں ہے بلکہ خدا نے اپنے بیٹے کے خون کا کفارہ ادا کیا تا کہ اس پر ایمان لانے سے ہم راستباز ٹھہریں اور نجات پائیں۔  اور کیا آپ جانتے ہیں کہ اس نے ایسا کیوں کیا؟ کیونکہ اس نے ہم سے محبت رکھی۔ آیئے اسی بات پر ایک اور نقطہ دیکھتے ہیں:

 

افسیوں 2باب1تا3آیت:

”اور اس نے تمہیں بھی زندہ کیا جب اپنے قصوروں اور گناہوں کے باعث مردہ تھے۔ جن میں تم پیشتر دنیا کی روش پر چلتے تھے اور ہوا کی عملداری کے حاکم یعنی اس روح کی پیروی کرتے تھے جو اب نافرمانی کے فرزندوں میں تاثیر کرتی ہے۔  ان میں ہم بھی سب کے سب پہلے اپنے جسم کی خواہشوں میں زندگی گزارتے اور جسم اور عقل کے ارادے پورے کرتے تھے اور دوسروں کی مانند طبعی طور پر غضب کے فرزند تھے۔

 

          درج بالا حوالہ ہمیں بتاتا ہے کہ ہماری حالت کیا تھی۔ مزید زور اس حقیقت پر ہے کہ اس تینوں آیات میں فعل ماضی استعمال کیا گیا ہے۔  مزید زور کی وجہ یہ ہے کیونکہ بہت سے لوگ آج یہ تعلیم دے رہے ہیں، حتیٰ کہ آپ مسیح پر ایمان بھی لا چکے ہیں، آپ پھر بھی گناہگار اور گناہوں میں مردہ ہیں۔ تاہم، یہ وہ تعلیم نہیں جو کلام دیتا ہے۔ کلام کہتا ہے کہ ہم گناہگار تھے(فعل ماضی)۔ ہم ”اپنے قصوروں اور گناہوں کے باعث مردہ تھے“ ۔  اس نقطہ کو سمجھنا ضروری ہے۔ کلام یہ بھی کہتا ہے کہ ہم طبعی طور پر غضب کے فرزند تھے۔ کسی شخص کے ایمان لانے سے قبل، جو بیان کیا جاتا ہے وہ یہ ہے کہ” گناہوں اور قصوروں میں مردہ“،” طبعی طور پر غضب کے فرزند“۔ یہ سب ایمان لانے سے پہلے ہیں۔ اب مجھے بتایئے،اگر کوئی شخص گناہوں اور قصوروں میں مردہ ہے تو کوئی اچھا کام وہ کیسے کر سکتا ہے؟میں نہیں مانتا کہ کسی مردے سے کوئی نیکی نکل سکتی ہے۔ کیا یہ ہو سکتا ہے؟یہ بھی دیکھیں کہ کلام کہتا ہے کہ ہمارے نیک اور برے اعمال سے قطعہ نظر، ہم اس سٹیج پر تھے۔ اب اگر آپ مردہ ہیں، آپ کیلئے دوبارہ زندہ ہونے کے واسطے کسی اور نے آپ کو زندگی دینی ہے۔  اور صرف ایک ہستی جو یہ کام کر سکتی ہے وہ ہے خدا۔ پس ، یہ دیکھتے ہوئے کہ صورتِ حال کیا تھی، آیئے یہ دیکھنا جاری رکھتے ہیں کہ کیا اس سے کوئی تبدیلی ہوئی۔ خوش قسمتی سے اس باب کی 4تا9 آیات تبدیلی کو ، جس نے تبدیلی لائی اسے، اور تبدیلی لانے کے مقاصد کو متعارف کرتی ہیں۔

 

افسیوں 2باب4تا9آیت:

مگر خدا نے اپنے رحم کی دولت سے اس بڑی محبت کے سبب سے جو اس نے ہم سے کی جب قصوروں کے سبب سے مردہ ہی تھے تو ہم کو مسیح کے ساتھ زندہ کیا(تم کو فضل ہی سے نجات ملی ہےاور مسیح یسوع میں شامل کر کے اس کے ساتھ جلایا اور آسمانی مقاموں میں اس کے ساتھ بٹھایا ۔  تا کہ وہ اپنی اس مہربانی سے کو مسیح یسوع میں ہم پر ہے آنے والے زمانوں میں اپنے فضل کی بے نہایت دولت دکھائے۔ کیونکہ تم کو ایمان کے وسیلہ سے نجات ملی ہے اور یہ تمہاری طرف سے نہیں خدا کی بخشش ہے۔ اور نہ اعمال کے سبب سے ہے تا کہ کوئی فخر نہ کرے۔ “

 

          میں نے بہت سے نقاط پر زور دیا ہے۔ میں اس بات کو اچھا محسوس نہیں کرتا کیونکہ یہ سارا حوالہ مکمل معنوں کے ساتھ ہمارے دل و دماغ میں ہونا چاہئے۔ 1اور 3آیا ت میں ایک خوفناک صورِ تِ حال کو جاننے کے بعد جس حالت میں ہم تھے(گناہوں سے مردہ حالت میں)،یہاں ہم صورتِ حال میں تبدیلی دیکھتے ہیں۔  لفظ ”لیکن“ تبدیلی کو متعارف کرتا ہے، اور یہ لفظ اس تبدیلی کو ظاہر کرتا ہے جو 1تا3 بلکہ خدا تھا)۔ 1تا 3آیا ت میں دیکھا کہ ہم مردہ تھے۔  اب ہم نے 4اور 5آیات میں دیکھا کہ خدا نے اس صورتِ حال کو بدل دیا اور ہمیں زندہ کیا۔ ہم یہ بھی دیکھتے ہیں کہ اس نے نہ صرف ہمیں زندہ کیا بلکہ ”مسیح یسوع میں شامل کر کے اس کے ساتھ جلایا اور آسمانی مقاموں میں اس کے ساتھ بٹھایا ۔  “ دیکھیں دوبارہ یہاں فعل ماضی استعمال کیا گیا ہے۔ کیوں؟ کیا آپ اب آسمانی مقاموں پر بیٹھے ہیں؟جی نہیں۔ تاہم، خدا کے نقطہ نظر کے مطابق، جب کوئی مسیح یسوع پر ایمان لاتا ہے، تو یہ سب کام ایسے دیکھائی دیتے ہیں جیسے ختم ہو چکے ہیں۔  کیونکہ خدا کے لئے، آپ اپنے دفتر کی کرسی پر بیٹھے ہوئے یہ کالم نہیں پڑھ رہے، بلکہ آپ وہاں آسمانی مقاموں میں ہیں۔ یہ ابھی تک ظاہر نہیں ہوا(یہ مسیح کی واپسی کے ساتھ ظاہر ہو گا)۔ تاہم، چونکہ آپ مسیح یسوع پر یمان لائے ، خدا نے اسے آخری کام تصور کیا۔ یہ زبردست کام رونما ہونے کیلئے آپ کے اعمال نہیںچاہئیں۔ اگر مسیح یسوع پر ایمان لانے سے زیادہ کسی اور چیز کی آپ کو ضرورت ہوتی تو خدا اس کے لئے فعل ماضی استعمال نہ کرتا، کیونکہ فعل ماضی اس چیز کو ظاہر کرتا ہے جو ماضی میں ہو چکی ہے اور ختم ہو چکی ہے۔ یہ اس لئے کیونکہ یہ سب حاصل کرنے کیلئے جس چیز کی ضرورت ہے وہ صرف یسوع مسیح پر ایمان لانا ہے کہ یہ سب چیزیں اختتام پذیر سمجھی جاتی ہیں اور اسی لئے فعل ماضی استعمال کیا گیا ہے۔ کیونکہ یہ کہتا ہے کہ،” تم نے فضل ہی کی بدولت نجات پائی ہے(فعل حال۔  اب تم نے نجات پائی ہے)ایمان کے وسیلہ سے (ایمان لانے سے)۔ ۔ ۔  نہ کہ اعمال کی بدولت“ اب آپ گناہگار نہیں ہیں (آپ گناہگار تھے خدا کی نظر میں آپ نجات یافتہ ہیں۔ خدا کی نظر میں آپ پہلے سے ہی آسمانی مقاموں پر بیٹھے ہیں۔ خدا کی نظر میں آپ کو زندہ کیا گیا ہے اور آپ کو مسیح میںشامل کیا گیا ہے۔ یہ خدا کا نقطئہ نظر ہے اور اگر ہمارا کوئی اپنا نقطئہ نظر ہے تو وہ اس سے قدرِ مختلف ہوگا، یہ ہماری سوچ کو تبدیل کرنے کا اچھا وقت ہے اور خود کے بارے میں اسی طرح سوچنے کا وقت ہے جیسے خدا ہمارے لئے سوچتا ہے۔

         

اب، یہ جاننے کے بعد کہ ہم اس سلوک کے حقدار نہیں تھے (ہم گناہوں میں مردہ تھے) سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ خدا نے پھر یہ سب کچھ کیوں کیا۔ اس کا مقصد کیا تھا؟ہم نے پہلے یہ رومیو 5باب میں دیکھا تھا اور اب یہاں دوبارہ دیکھیں گے:” خدا اپنی محبت کی خوبی ہم پر یوں ظاہر کرتا ہے کہ جب ہم گناہگار ہی تھے ۔ ۔ ۔ “ اس کی وجہ کہ خدا نے ہمارے لئے یہ سب زبردست کام کئے یہ ہے کہ وہ ہم سے محبت کرتا ہے۔  اس نے ہم سے تب محبت کی جب ہم گناہوں میں مردہ تھے۔  اور ہمارے لئے اس کے پیار کو عظیم کہا گیا ہے۔ خدا نے ہم سے بے پناہ پیار کے ساتھ محبت رکھی، اور اس کی یہ محبت اس سے ظاہر ہوئی کہ اس نے اپنا اکلوتا بیٹا ہمارے لئے بخش دیا تا کہ اس پر ایمان لائیں ، آسمانی مقاموں پر بیٹھیں،راستباز ٹھہریں، مسیح کے ساتھ شامل ہوں اور کچھ اور باتیں جو ہم اگلے اسباق میں مطالعہ کریں گے۔  لیکن جو میں یہاں بیان کرنا چاہتا ہوں وہ خدا کا مقصد ، اس بات کی وجہ کہ اس نے یہ سب کیوں کیا، اس بات کی وجہ کہ اس نے ہمارے گناہوں کی اتنی بھاری قیمت کیوں دی(کہ اپنا اکلوتا بیٹا بخش دیا) ہے۔ اکثر مسیحی آج کل اس بات کو جاننے کیلئے وقت ضائع کر دیتے ہیں کہ کیا خدا واقعی ان سے محبت کرتا ہے ۔ آیئے فرض کریں آپ کے کمرے میں ایک ٹیلی ویژن ہے جس کی آپ نے 8000روپے قیمت ادا کی ہے ، اور آپ چھٹیوں پر چلے گئے۔ آیئے فرض کرتے ہیں کہ آپ کے کمرے میں صرف ایک چیز یہی ٹیلی ویژن ہے۔  تو کیا آپ اپنے کمرے کو بغیر تالا لگائے چلے جائیں گے؟میرا یہ خیال نہیں ہے۔ کیوں؟کیونکہ وہاں پر ٹیلی ویژن ہے، جس کیلئے آپ نے قیمت ادا کی ہے۔ خدا نے آپ کی اور میری روپوں میں نہیں بلکہ اپنے اکلوتے بیٹے کے خون کی قیمت، بلکہ بہت بہت بڑی قیمت ادا کی ہے۔ اس کی وجہ کہ اس نے ایسا کیوں کیا یہ ہے کیونکہ اس نے ہم سے محبت رکھی جب ہم گناہوں میں مردہ تھے۔  کیا یہ اس کیلئے ممکن ہے کہ وہ ہم سے صرف ایک سیکنڈ کیلئے پیار نہ کرے؟ یہ ناممکن ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہس نے ہمارے لئے بہت بہت بھاری قیمت ادا کی ہے اور یہ تب کیا تھا جب ہم گناہوں میں مردہ تھے۔  خدا ہم سے 24گھنٹے پیار کرتا ہے، اور ایسی کوئی چیز نہیں ہے جو ہمارے لئے اس کے پیار کو کم کر سکے۔

ختم کرتے ہوئے: اگر ہم حیران ہو کہ خدا نے ہمارے لئے یہ سب زبر دست کام کیوں کئے، صرف یسوع مسیح پر ایمان لانے سے، تو جواب یہ ہے کیونکہ اس نے ہم سے محبت رکھی۔

 

 

2     خدا ہم سے محبت کرتا ہے_ اس نے ہمیں اس کے فرزند بنایا۔

 

          ایک اور شعبہ جہاں خدا نے ہم سے اپنی محبت کا اظہار کیا وہ 1یوحنا 3باب1اور 2آیت میں بیان کی گئی ہے:

 

1یوحنا 3باب1اور2آیت:

”دیکھو باپ نے ہم سے کیسی محبت کی ہے کہ ہم خدا کے فرزند کہلائے اور ہم ہیں بھی۔  دنیا ہمیں اس لئے نہیں جانتی کہ اس نے اسے بھی نہیں جانا۔  عزیزو! ہم اس وقت خدا کے فرزند ہیں ۔ ۔ ۔ “

 

          اس آیت کے مطابق، خدا نے ہم سے ایسی محبت رکھی کہ جب ہم مسیح یسوع پر ایمان لائے تو اس نے ہمیں اپنے فرزند بنا لیا۔ پس اگر ہم حیران ہوں کہ خدا نے ہمیں اپنے فرزند کیوں بنایا تو جواب یہ ہے کہ کیونکہ اس نے ہم سے محبت رکھی۔ آپ دیکھیں کہ، لوگ کوشش کرتے ہیں کہ کسی ایسے شخص کے ساتھ تعلق بنائیں جس کے پاس کوئی طاقت ہے، اور یہاں خدا ،جس کے پاس صرف کسی قسم کی طاقت ہی نہیں بلکہ ساری قدرت اسی کی ہے، ہمارے لئے مفت اس کے فرزند بننے کا موقع دستیا ب کرتا ہے۔ جب کوئی یسوع مسیح پر ایمان لاتا ہے وہ خدا کا بیٹا یا بیٹی بن جاتا ہے(گلتیوں 3باب26آیت دیکھیں)۔ مگر یہ سب کیوں؟دوبارہ اسی عظیم پیار کی وجہ سے جو خدا ہم سے کرتا ہے۔ اس کے ساتھ آیئے رومیوں 5باب5آیت پر چلتے ہیں:

 

رومیوں 5باب5آیت:

روح القدس جو ہم کو بخشا گیا ہے اسی کے وسیلہ سے خدا کی محبت ہمارے دلوں میں ڈالی گئی ہے۔ “

 

          پہلے ہم نے دیکھا کہ جب ہم ایمان لائے تو ہم خدا کے فرزند بن گئے، اور ہم نے یہ بھی دیکھا کہ یہ خڈا کے اس عظیم پیار کی بدولت ہوا جو وہ ہم سے کرتا ہے۔ یہاں رومیوں 5باب5آیت میں ہم بالکل یہی بات دیکھتے ہیں۔  خدا نے، اپنے پیار کے باعث ، ہمیں اپنا پاک روح دیا۔ اگر ہم خدا کے فرزند ہونے کا ثبوت دینا چاہیں تو یہی اس کا ثبوت ہے۔ جس طرح ہمیں ہمارے زمینی ماں باپ اپنا خون دیتے ہیں جو ہمارے جسموں میں ہے اور یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ہم ان کی اولاد ہیں، اسی طرح خدانے، جب ہم مسیح یسوع پر یمان لائے ، ہمیں وہ عطا کیا جو وہ خود تھا یعنی روح۔ اور درج بالا ہمیں کیا بتاتی ہے کہ یہ کیا ہے؟ یہ ہمیں بتاتی ہے کہ یہ اس پیار کی ضمانت ہے جو خدا ہم سے کرتا ہے۔ خدا ہم سے محبت کرتا ہے اور اس کی محبت کا ایک ثبوت یہ ہے کہ جب کوئی یسو ع مسیح پر ایمان لاتا ہے تو وہ روح القدس پاتا ہے۔

 

 

3     خدا ہم سے محبت کرتا ہے_ وہ ہماری تربیت کرتا ہے۔

 

          ایک اور مقام جہاں خدا کی محبت ظاہر ہوتی ہے وہ ہماری تربیت اور تنبیہ ہے۔ میرا خیال ہے کہ ہم سے اکثر لوگ مجھ سے اتفاق کریں گے کہ تربیت اور تنبیہ زیادہ تر خوشگوار نہیں ہوتی، یہ صرف وہی لوگ کر سکتے ہیں جو ہم سے پیار کرتے ہیں، اور جب یہ ایمانداری سے کی جاتی ہے، تو یہ اس پیار کا ثبوت ہوتی ہیں جو وہ ہم سے کرتے ہیں۔ اس خاندان کا تصور کریں جس میں بچوں کی تنبیہ نہیں کی جاتی۔  تو بچے پھر کیسے سیکھیں گے کہ جو وہ کرتے ہیں وہ اچھا نہیں ہے؟مثال کے طور پر اگر کوئی بچہ وہ خطرناک دوائی کھانا چاہتا ہو جو میز پر پڑی ہو ، اگر ماں باپ اس بچے سے پیار کرتے ہیں تو انہیں کیا کرنا چاہئے؟ انہیں اسے بتانا چاہئے کہ وہ اس کے لئے ٹھیک نہیں ہے یعنی بچے کی تنبیہ کرنی چاہئے۔  دوسرا متبادل یہ ہے کہ بچے کو چھوڑ دیا جائے کہ وہ جو چاہے کرے ، غلط یا صحیح۔  تاہم میرا یہ خیال نہیں ہے کہ ہم میں سے زیادہ تر لوگ اس متبادل چیز کو پیار تصور کرتے ہوں گے۔ پس محبت کے اظہار کا ایک شعبہ تربیت اور تنبیہ بھی ہے اور خدا ایک مہربان باپ کے طور پر اس شعبہ کے ذریعے بھی اپنا پیار ظاہر کرتا ہے یعنی وہ ہماری اصلاح کرتا اور ہماری تربیت کرتا ہے۔  پس عبرانیوں 12باب پر جاتے ہیں:

 

عبرانیوں 12باب6آیت:

”کیونکہ جس سے خدا محبت کرتا ہے اسے تنبیہ بھی کرتا ہے۔۔ ۔ “

 

          خدا پنے بچوں کی تربیت کرتا اور ان کی تنبیہ کرتا ہے ہے جیسے کہ ہمارے زمینی ماں باپ نے کیا۔ اور وہ یہ کیوں کرتا ہے؟ کیو وہ ہمیں پسند نہیں کرتا؟جی نہیں۔  اگر وہ ہمیں پسند نہ کرتا تو وہ ہماری تنبیہ کبھی نہ کرتا، وہ ہماری کبھی اصلاح نہ کرتا۔  وہ والدین جو اپنے بچوں سے محبت نہیں کرتے وہ اپنے بچوں کو ترک کر دیتے ہیں، وہ ان کاخیال نہیں کرتے کہ جو وہ کر رہے ہیں وہ درست ہے یا غلط ہے۔ لیکن ہمارا باپ ہم سے محبت کرتا ہے، وہ ہمیں تنبیہ کرتا ہے، وہ ہماری اصلاح کرتا ہے، وہ ہمارے تربیت کرتا ہے۔

 

4     خدا ہم سے محبت کرتا ہے_ہم اس سے خوف نہیں رکھتے ؛ بلکہ اسکی تعظیم کرتے ہیں۔

 

          یہ دیکھنے کے بعد کہ خدا ہم سے کتنا پیار کرتا ہے اب سوال یہ ہے کہ ہم اس کے پاس کیسے جاتے ہیں؟ کیا ہم اس کے پاس ایسے جا رہے ہیں جیسے کہ وہ کوئی بدمعاش ہے یا جیسے کوئی بہت برا شخص ہے جو ہمیں نقصان پہنچائے گا؟ اگر ہم ایسے جاتے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم اسے سمجھے نہیں ہیں یا ہم نے یہ قبول نہیں کیا کہ خدا ہم سے محبت کرتا ہے۔ خدا نہیں چاہتا کہ ہم اس سے خوف کھائیں۔ وہ چاہتا ہے کہ ہم اس سے پیار کریں،اس کی تعظیم کریں، اس کی عزت ایسے باپ کی مانند کریں جو ہزاروں سالوں سے ہم سے پیار کرتا تھا اور جس نے اپنے اکلوتے بیٹے کی خون کی قیمت ادا کی ، جو ہم سے پیار کرتا ہے اور اس کیلئے اس نے ہمیں اپنے فرزند بنایا ، اس نے اپنا پاک روح ہم میںڈالا، اس نے ہمیں نجات دی، اس نے ہمیں آسمانی مقاموں میں بٹھایا وغیرہ وغیرہ۔ کسی شخص سے خوف کھانا اور اس کی عزت و تعظیم کرنا الگ الگ چیزیں ہیں۔  1یوحنا ہمیں اس کے بارے میں بتاتا ہے کہ:

 

1یوحنا4باب18اور19آیت:

محبت میں خوف نہیں ہوتا بلکہ کامل محبت خوف کو دور کر دیتی ہے کیونکہ خوف سے عذاب ہوتا ہے اور کوئی خوف کرنے والا محبت میں کامل نہیں ہوا۔ ہم اس لئے محبت رکھتے ہیں کہ پہلے اس نے ہم سے محبت رکھی۔ “

 

          خدا چاہتا ہے کہ ہم اس کا احترام کریں نہ کہ اس سے خوف کھائیں۔  آپ اس خوف کھاتے ہیں جو آپ کو نقصان پہنچاتا ہے اور آپ نہیں جانتے کہ اس کا سامنے کیسے کیا جائے یا ایسا شخص جس کے مقاصد اور ارادوں کے بارے میں آپ نہیں جانتے۔ اس کے برعکس، آپ خوف زدہ نہیں بلکہ احترام کرتے ہیں، آپ اس شخص کا احترام کرتے ہیں جو آپ سے پیار کرتا ہے، اور اس نے یہ عملی طور پر ثابت کیا ہے۔ خدا اپنے کلام میں یہ اعلان کرتا ہے کہ وہ ہم سے پیار کرتا ہے اور اس نے یہ ان تمام اعمال سے یہ ثابت کیا جو ہم نے دیکھے ہیں۔ پس کیا ہم خدا سے خوف زدہ ہوں گے؟جی نہیں ، کیونکہ اس کا مطلب یہ ہوگا کہ ہم اس سے کامل طور پر محبت نہیں کرتے کیونکہ،” کامل محبت خوف کو دور کر دیتی ہے“اور ”کوئی خوف کرنے والا محبت میں کامل نہیںہوا۔ “اس کے برعکس، ہم خدا کی عزت و احترام کرتے ہیں کیونکہ وہ ہم سے محبت کرتا ہے اور اس کی محبت الفاظ سے نہیں (جیسے اکثر دوسرے لوگوں نے ہم سے ” محبت کی“)بلکہ اعمال سے ظاہر ہوتی ہے۔

 

 

5     خدا ہم سے محبت کرتا ہے_اس کی محبت سے ہمیں کوئی چیز جد ا نہیں کر سکتی۔

 

          ان بے شمار طریقوں کو جاننے کے بعد جن کی بدولت خدا ہم سے اپنی محبت ظاہر کرتا ہے اور یہ جاننے کہ بعد کہ جو پیار خدا ہم سے کرتا ہے اس کی وجہ سے ہم اس سے خوف نہیں کھاتے بلکہ تعظیم کرتے ہیں اور اس سے محبت کرتے ہیں، اب یہ جاننے کا وقت ہے کہ خدا نہ صرف ہم سے محبت کرتا ہے بلکہ کوئی بھی چیز ہمیں اس کی محبت سے جدا نہیں کر سکتی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ خدا ہم سے محبت کرتا تھا، محبت کرتا ہے اور ہمیشہ تک محبت کرتا رہے گا۔  آیئے یہ جاننے کیلئے رومیوں 8باب 38اور39 آیت دیکھیں:

 

رومیوں 8باب38اور39آیت:

”کیونکہ مجھ کو یقین ہے کہ خدا کی جو محبت ہمارے خدوند یسوع مسیح میں ہے اس سے ہم کو نہ موت جدا کر سکے گی نہ زندگی۔ نہ فرشتے نہ حکومتیں،نہ حال کی نہ استقبال کی چیزیں ۔  نہ قدرت نہ بلندی۔  نہ پستی نہ کوئی اور مخلوق۔ “

 

          خدا ہم سے محبت کرتا ہے اور ایسی کوئی چیز ممکن نہیں ہے جو اسے ہم سے مزید پیار کرنے سے روک سکے۔ یہ اس کی محبت ہی تھی جس نے اسے یہ سب زبردست کام کرنے کیلئے قائل کیا جب ” ہم ابھی گناہگار ہی تھے“۔  یہی وہ پیار ہے جو آج اسے قائل کرتا ہے جب وہ ہم ، اپنے فرزندوں سے پیار کرتا ہے۔  اور یہی پیار اسے ہمیشہ تک، ہر روز قائل کرے گا۔

 

تسسوس کولچوگلو

اردو  Fahim Qaiser, Napoleon Zaki :