بائبل کی سچائیاں


ہمارے جدید ترین کالم   |   
موضوع کے مطابق   |    تمام کالم   |    سبسکرائب   |    ہوم   

 

 

 

 

نشان زد کریں اور دوسروں کو شریک کریں

 

 

  PDF version (printer friendly)

 

 

”عزیزو! ہم اس وقت خدا کے فرزند ہیں“

 

          میں گلتیوں 3باب23آیت سے 4باب کی 7آیت بہت پسند کرتا ہوں۔  23 اور 24 آیات میں پولوس واضح کرتا ہے کہ شریعت کا کیا کردار تھا: کہ یہ ایمان آنے سے قبل ایک استاد تھا۔ پھر یہ آگے بڑھتا ہے اور ہمیں بتاتا ہے کہ جب ایمان آیا تو کیا ہوا:

 

گلتیوں 3باب25اور 26آیت:

”مگر جب ایمان آچکا تو ہم استاد کے ماتحت نہ رہے۔ کیونکہ تم سب اس ایمان کے وسیلہ سے جو مسیح یسوع میں خدا کے فرزند ہو۔ “

 

          ”تم سب ایمان کے وسیلہ سے جو یسوع مسیح میں ہے خدا کے فرزند ہو“! یسوع مسیح میں ایمان، یہ ایمان رکھنا کہ وہ خدا کا بیٹا ہے، مسح کیا ہوا، مسیحا، اس سے ہم خدا کے فرزند بنتے ہیں، اس کے بیٹے اور بیٹیاں! انجیل کا مطلب ہے خوشخبری اور یہ حقیقتاً خوشخبریاں ہیں!” یسوع مسیح پر ایمان لا تو تم نجات پا گے“، جیسا کہ پولوس اور سیلاس نے فلپی میں قید خانے کے سردار سے کہا(اعمال 16باب31آیت)۔ ”تم سب ایمان کے وسیلہ سے جو یسوع مسیح میں ہے خدا کے فرزند ہو“ ۔ ہر بار جب میں یہ حوالہ پڑھتا ہوں تو یہ حقیقت میری دل کو پر مسرت بناتی ہے۔ پھر گلتیوں 4باب جاری رہتا ہے:

 

گلتیوں 4باب1تا7آیت:

”لیکن میں یہ کہتا ہوں کہ وارث جب تک بچہ ہے اگر چہ وہ سب کا مالک ہے اس میں اور غلام میں کوئی فرق نہیں ہے لیکن جو معیاد باپ نے مقرر کی ہے اس وقت تک سر پرستوں اور مختاروں کے پاس رہتا ہے۔ اسی طرح جب ہم بھی بچے ہی تھے تو دنیوی ابتدائی باتوں کے پابند ہو کر غلامی کی حالت میں رہے۔ لیکن جب وقت پورا ہوگیا تو خدا نے بیٹے کو بھیجا جو عورت سے پیدا ہوا اور شریعت کے ماتحت پیدا ہوا۔ تا کہ شریعت کے ماتحتوں کو مول لیکر چھڑائے اور ہم کو لے پالک ہونے کا درجہ ملے۔  اور چونکہ تم بیٹے ہواس لئے خدا نے اپنے بیٹے کا روح ہمارے دلوں میں بھیجا ۔  جو ابا اے باپ ! کہہ کر پکارتا ہے۔  پس اب تو غلام نہیں بلکہ بیٹا ہے اور جب بیٹا ہوا تو خدا کے وسیلہ سے وارث بھی ہوا۔ “

 

6اور 7آیت ایک بار پھر ہمیں ،خدا کے بیٹے، فرزند پکارتی ہے۔  خدا نے اس کی تصدیق اپنے بیٹے کی روح ہمارے دلوں میں ڈالتے ہوئے کی ہے جو چلاتا ہے،ابا یعنی اے باپ[1]! میں نے یہ حوالہ بہت بار پڑھا ہے اور ہر بار یہ مجھے بہت خوشی عطا کرتا ہے۔  تاہم، اس میں کچھ ایسی چیز ہے جو مجھے الجھن میں ڈال دیتی ہے۔  اور 5آیت میں یہ لفظ ہے”لے پالک“۔  جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ لے پلکا بچے پیدائش سے اپنے ماں باپ سے منسلک سے منسلک نہیں ہوتے۔ یہی ایک لے پالک بچے اور ایک غیر لے پالک بچے میں فرق ہے۔  ایک غیر لے پالک بچہ پیداش سے منسلک ہے، ماں باپ سے وہ خون کا رشتہ رکھتا ہے، جبکہ ایک لے پالک پالنے کی وجہ سے منسلک ہوتا ہے۔  میں مانتا ہوں کہ ہم سب اس بات سے اتفاق کریں گے کہ خدا کا فرزند ہونا بہت بڑی بات ہے، ایک لے پالک ہونا الگ بات ہے۔  لہٰذہ اس کالم کے ساتھ میں آپ کے ساتھ کتاب مقدس کھولنا چاہتا ہوں کہ دیکھیں کہ خدا کا کلام خدا کے فرزند ہونے کے معاملے میں کیا کہتا ہے۔

 

کوئی شخص خدا کا بیٹا کیسے بنتا ہے؟

اس کے لئے کیا چیز درکار ہے؟

کیا یہ پیدائشی ہے یا یہ لے پالک ہونے کے باعث ہے؟

 

 

میں مانتا ہوں کہ اس کالم کے اختتام تک ہمیں ان تمام تر سوالات کے واضح جواب مل جائیں گے جو ہمیں صرف ایک ہی مضبوط وسیلہ سے ملیں گے: خدا کے کلام سے۔ بعض اوقات ہمیں کئی یونانی الفاظ بھی دیکھنے ہوں گے۔  جب ہم یہ کرتے ہیں تو صبر سے کام لیں کیونکہ یہ ایک اہم کوشش ہوتی ہے۔

 

 

لفظ لے پالک

 

          ”لے پالک بیٹے“ کا فقرہ جو درج بالا حوالہ میں استعمال کیا گیا ہے ایک یونانی لفظ کا ترجمہ ہے، یہ لفظ ہے uiothesia۔  یہ لفظ” uios“ سے جس کا مطلب ہے بیٹا اور ”thesis“ سے اخذ کیا گیا ہے جس کا مطلب ہے رکھنا۔ اسلئے، Uiothesia“ کا مطلب ہے کہ ”بیٹے کے طور پر رکھنا“۔ گلتیوں 4باب میں اس کے مطلب کو سمجھنے کیلئے، آیئے متن پر غور کریں۔ گلتیوں 3باب23تا4باب کی4آیت ان بچوں کے بارے میںبات کرتی ہے جو ایک سکول ماسٹر کی سرپرستی میں تھے۔  وہ بچے جو وارث تو تھے مگر ان میں اور غلاموں میں کوئی فرق نہ تھا۔  دیگر الفاظ میں ، ان بچوں کی حیثیت غلاموں کی سی تھی۔

 

گلتیوں 4باب 1تا 4آیت:

”لیکن میں یہ کہتا ہوں کہ وارث جب تک بچہ ہے اگر چہ وہ سب کا مالک ہے اس میں اور غلام میں کوئی فرق نہیں ہے لیکن جو معیاد باپ نے مقرر کی ہے اس وقت تک سر پرستوں اور مختاروں کے پاس رہتا ہے۔ اسی طرح جب ہم بھی بچے ہی تھے تو دنیوی ابتدائی باتوں کے پابند ہو کر غلامی کی حالت میں رہے۔ “

 

          گلتیوں 3باب1اور 2آیت ہمیں ایک وارث کی مثال دیتی ہے جو باپ کے دیئے ہوئے مقررہ وقت تک سرپرستوں اور مختاروں کی نگہبانی میں ہے۔ جتنی دیر تک وہ اسی حالت میں ہے، جب تک باپ کا مقررہ وقت نہیں آتا، وہ بچہ ایک غلام کی حیثیت رکھتا ہے۔ ”اسی طرح ہم بھی“، گلتیوں 4باب3آیت کہتی ہے: باپ کی معیاد سے قبل، ہماری حیثیت غلاموں کی سی ہے، ہم دنیاوی عناصر کی غلامی میں تھے۔ پھر 4اور5آیت ہمیں بتاتی کہ آگے کیا ہوا:

 

گلتیوں 4باب4اور5آیت:

”لیکن جب وقت پورا ہوگیا تو خدا نے بیٹے کو بھیجا جو عورت سے پیدا ہوا اور شریعت کے ماتحت پیدا ہوا۔ تا کہ شریعت کے ماتحتوں کو مول لیکر چھڑائے اور ہم کو لے پالک ہونے کا درجہ ملے۔ “

 

4آیت کے شروع میں لفظ”لیکن“ اس میں تضاد پیدا کرتا ہے جو آگے کہا جا رہا ہے۔ اس سے پہلے کیا تھا؟باپ کا مقررہ وقت ابھی نہیں آیا؛ ہماری حیثیت غلاموں کی سی ہے؛ہم دنیاوی عناصر کی غلامی میں تھے؛ ہم استادوں، سرپرستوں اور مختاروں کی نگہبانی میں تھے۔ لفظ ”لیکن“ اس صورتِ حال میں تبدیلی لاتا ہے۔ یہ تبدیلی کیا ہے؟وقت کا پوار ہونا، باپ کا مقررہ وقت آگیا! خدا نے اپنے بیٹے کو بھیجا، تاکہ اس لوگوں کو نجات ملے جو شریعت کے ماتحت ہیں، اور انہیں غلاموں سے بیٹے کی حیثیت ملے۔ ہم گلتیوں 3باب23تا 26آیات کے الفاظ استعمال کرتے ہوئے بالکل یہی چیز دیکھ سکتے ہیں:

 

 گلتیو ں3باب23تا26آیت:

ایمان کے آنے سے پیشتر شریعت کے ماتحتی میں ہماری نگہبانی ہوتی تھی اور اس ایمان کے آنے تک جو ظاہر ہونے والا تھا ہم اسی کے پابند تھے۔ پس شریعت مسیح تک پہنچابنے کو ہمارا استاد بنی تا کہ ہم ایمان کے سبب سے راستباز ٹھہریں۔ مگر جب ایمان آچکا تو ہم استاد کے ماتحت نہ رہے۔ کیونکہ تم سب اس ایمان کے وسیلہ سے جو مسیح یسوع میں خدا کے فرزند ہو۔ “

 

          ”ایمان آنے سے پیشتر“ کا ایک وقت تھا۔ یہ گلتیوں 4باب کی شریعت کا وقت،استادوں کا وقت، سرپرستوں اور مختاروں کا وقت تھا۔ وہ وقت جب ہماری حیثیت غلاموں کی سی تھی۔ لیکن پھر ایمان آیا،وقت پورا ہوا۔ مسیح آیا! استاد، سر پرست، مختار اور شریعت سب جاتے رہے۔ ہم مزید اس کے ماتحت نہیں ہیں اور مزید ہماری حیثیت غلاموں کی سی نہیں ہے۔ بلکہ اب ہماری حیثیت بیٹے کی ہے۔

          دیگر الفاظ میں ،گلتیوں 4باب میں استعمال کیا گیا لفظ ”uiothesia“اور جس کا ترجمہ لے پلاک بیٹے کے طور پر کیا گیا ہے، اسکا ترجمہ اگر ”بیٹوں کی حیثیت“ کیا جاتا تو بہتر ہوتا۔  اس لفظ کو استعمال کرنے کا مقصد یہ بتانا نہیں تھا کہ خدا ہمارا لے پالک باپ ہے، جیسے کہ ترجمہ اسے ظاہر کرتا ہے، بلکہ ہم، خداوند یسوع مسیح کے آنے سے، ایمان کے آنے سے، ہماری حیثیت بدل لیتے ہیں، غلاموں کی سی حیثیت سے بیٹوں کی حیثیت پاتے ہیں۔ یہ خدا کے ساتھ ہمارے تعلق کو لے پالک بالمقابل پہلوٹھے ہونے کی اصطلاحات میں بات نہیں کرتا بلکہ غلاموں کی حیثیت سے بیٹوں کی حیثیت میں تبدیلی کی بات کرتا ہے۔

 

خدا سے پیدا ہوا نہ کہ لے پالک۔

 

          یہ حقیقت کہ درج بالا گلتیوں کا حوالہ اور لفظ ”uiothesia“ کا مطلب یہ نہیں کہ خدا ہمارا لے پالک باپ ہے اس کی تصدیق بائبل کے ان بے شمار حوالہ جات سے بھی ہو سکتی ہے جو اس بات کو واضح کرتے ہیں کہ ہم خدا کے لے پلاک نہیں بلکہ اس سے پیدا ہوئے فرزند ہیں۔ ہم یوحنا1باب12آیت سے شروع کرتے ہوئے پڑھتے ہیں:

 

یوحنا 1باب12آیت:

”لیکن جتنوں نے اسے قبول کیا اس نے انہپیں خدا کے فرزند ہونے کا حق بخشا یعنی انہیں جو اس کے نام پر ایمان لاتے ہیں۔ “

 

          یہاں لفظ ”فرزند“ یونانی لفظ ہے (tekna) جس کا مطلب ہے ”پیدا ہوا(جنماں[2])“۔  یہ وہ لفظ ہے جو”پیدائش کی حقیقت کو اہمیت دیتا ہے[3]۔ “در حقیقت اگلی آیت اسے شیشے کی مانند واضح کرتی ہے۔  آیئے اسے درج بالا آیت کے ساتھ ہی پڑھتے ہیں:

 

یوحنا 1باب12تا 13آیت:

”لیکن جتنوں نے اسے قبول کیا اس نے انہپیں خدا کے فرزند ہونے کا حق بخشا یعنی انہیں جو اس کے نام پر ایمان لاتے ہیں۔ وہ نہ جسم کی خواہش سے نہ انسان کے ارادہ سے بلکہ خدا سے پیدا ہوئے ہیں۔ “

 

          آیت 12کے فرزند کس سے پیدا ہوئے؟13آیت جواب دیتی ہے: وہ خدا سے پیدا ہوئے!اس لئے، اگر ہم خدا سے پیدا ہوئے ہیں، یہ پیدائش ہے نہ کہ لے پالک ہونا ہے جو کہ ہمیں اس کے ساتھ منسلک کرتا ہے۔ اور کلام اسے واضح کرتا ہے اورہم اسے مزید حوالہ جات میں بھی دیکھیں گے۔

          اگلی آیت یوحنا 3باب3تا8آیت ہے جو خدا کو ہمارا ظاہری باپ بناتے ہوئے،یہ دکھاتی ہے کہ یہ لے پالک ہونا نہیں بالکہ پیدائش ہی ہے جس ہمیں خدا کے ساتھ جوڑے رکھتی ہے۔ یہاں ہم یسوع اور نیکیدیمس(ایک یہودی استاد) کودوسری پیدائش کے بارے میں بات کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔

 

یوحنا3باب3تا 8آیت:

”یسوع نے جواب میں اس سے کہا میں تجھ سے سچ کہتا ہوں کہ جب تک کوئی نئے سرے سے پیدا نہ ہو وہ خدا کی بادشاہی کودیکھ نہیں سکتا نیکیدیمس نے اس سے کہا آدمی جب بوڑھا ہو گیا تو کیونکر پیدا ہو سکتا ہے ؟کیا وہ دوبارہ اپنی ماں کے پیٹ میں داخل ہو کر پیدا ہو سکتا ہے؟ یسوع نے جواب دیا کہ میں تجھ سے سچ کہتا ہوں جب تک کوئی آدمی پانی اور روح سے پیدا نہ ہو وہ خدا کی بادشاہی میں داخل نہیں ہو سکتا۔  جو جسم سے پیدا ہوا ہے جسم ہے اور جو روح سے پیدا ہوا ہے روح ہے۔  تعجب نہ کر کہ میں نے تجھ سے کہا تمہیں نئے سرے سے پیدا ہونا ضرور ہے۔ ہوا جدھر چاہتی ہے چلتی ہے اور تو اس کی آواز سنتا ہے مگر نہیں جانتا کہ وہ کہاں سے آتی ہے اور کہاں کو جاتی ہے۔  جو کوئی روح سے پیدا ہوا ایسا ہی ہے۔ “

 

          جیسے کہ یسوع واضح کرتا ہے کہ دو پیدائشیں دستیاب ہیں۔ پہلی پیدائش پانی یا جسم کی پیدائش ہے۔  یہ جسمانی پیدائش ہے جو ان تمام لوگوں کو ملی جو اس زمین پر کبھی رہتے تھے۔ تاہم، اس پیدائش سے ہٹ کر، ایک اور پیدائش ہے جو یسوع نے بتایا ، جس کے بغیر کوئی شخص خدا کی بادشاہی میں داخل نہیں ہو سکتا۔ یہ ”نئے سرے کی پیدائش “ ہے۔ بہت سے ترجمہ نگاروں نے اس کا ترجمہ کیا ”دوبارہ پیدا ہونا“۔ چونکہ یہ دوسری پیدائش ہے اس لئے اسے نئے سرے سے پیدا ہونا کہا جا ئے تو مناسب ہے[4]۔  یونانی اسے ”آسمان سے پیدا ہونا “ کہتے ہیں، جو یہ کہنے کا ایک اور انداز ہے کہ ”خدا سے پیدا ہونا جو آسمان پر ہے۔ “

          ہم نے پہلے یوحنا کی انجیل میں دیکھا کہ کلام ان لوگوں کی بات کرتا ہے جو یسوع مسیح پر خدا کے بیٹے کے طور پر ایمان لائے۔ یہاں خدا ” آسمان سے پیدا ہونے“ کی بات کرتا ہے۔ دونوں ایک جیسی باتیں ہی ہیں اور ایک ہی حقیقت کو بیان کرتی ہیں کہ یہاں ایک دوسری پیدائش بھی ہے جو خدا کی بادشاہی میں داخل ہونے کے لئے ضروری ہے۔ یہ خدا کی طرف سے یا آسمان کی طرف سے یا روح کی پیدائش ہے، جیسا کہ درج بالا یوحنا 3باب کے حوالہ میں یہ کہا گیا ہے۔ دوبارہ غور کریں کہ خدا کا کلام لے پالک ہونا نہیں کہتا۔  یسوع یہ نہیں کہتا کہ ہمیں خدا کی طرف سے لے پالک ہونا ہوگا بلکہ خدا کی طرف سے پیدا ہونا ہوگا۔ یہی وہ پیدائش ہے جو ہمیں خدا کے فرنزد بناتی اور ہمیں خدا کو اپنا ابا یرنیا ے باپ کہنے کا حق دیتی ہے۔ بے شک اگر ہم لے پالک ہوتے تو بھی ہم باپ کہہ سکتے تھے، لیکن یقینایہاں ہم لے پالک نہیں بلکہ پیدا ہوئے ہیں۔  لیکن آیئے ہم جاری رکھتے ہوئے یوحنا کے پہلے خط پر غور کرتے ہیں۔  یہاں ہم 1یوحنا 5باب1آیت میں پڑھتے ہیں:

 

1یوحنا 5باب1آیت:

جس کا یہ ایمان ہے کہ یسوع ہی مسیح ہے وہ خدا سے پیدا ہوا ہے اور جو کوئی والد سے محبت رکھتا ہے وہ اس کی اولاد سے بھی محبت رکھتا ہے۔ “

 

          پہلے ہم نے یوحنا اور گلتیوں میں دیکھا کہ کوئی شخص یسوع مسیح پر ایمان لانے سے خدا کا فرزند بن سکتا ہے۔ یہاں یہ دوبارہ دوہرایا گیا ہے۔  جو کوئی یہ ایمان رکھتا ہے یسوع ہی المسیح ہے یعنی مقرر کردہ، مسیحا، جو خدا سے پیدا ہوا۔ یہ اس قدر سادہ اور اس قدر بہتر ہے!یہ دنیا کیلئے ایک خوشخبری بھی ہے۔ انجیل کا مطلب ہے خوشخبری اور یہ حقیقتا خوشخبریاں ہی ہیں۔ مذہب نے سچائی اور انجیل کی خوبصورتی کو پوشیدہ کر دیا۔ کئی سالوں تک میں ایک مذہب کے بارے میں سنتا آیا ہوں ۔  بہت کچھ سنتا تھا کہ خدا کے ساتھ بہتر تعلق استوار کرنے کیلئے مجھے کیا کرنا چاہئے۔ مگر کسی نے مجھے یہ نہیں بتایا کہ صرف یسوع مسیح پر ایمان لانے سے کہ وہ خدا کا اکلوتا بیٹا ہے، میں خدا کا فرزند بن جاں گا اور اسےمیرا ابا یعنی اے میرے باپ کہہ سکوں گا۔ جب فلپی کے قید خانے کے سردار نے پولوس اور سیلاس سے پوچھا کہ ”جناب میں کیا کروں کہ نجات پاں؟“ تو انہوں نے کہا ”یسوع مسیح پر ایمان لا اور تم نجات پا گے۔ “(اعمال 16باب30اور31آیت)۔ آج خدا کا کلام بھی آپکو یہی کہتا ہے۔ اگر آپ خداوند یسوع مسیح سے نہیں ملے، میں آپ کو یہ بتانا چاہتا ہوں کہ وہ آپ سے ملنا چاہتا ہے اور آپ کو خدا کے پاس لانا چاہتا ہے۔ آپ کو مختلف روایات کی پیروی کرنے کی ضرورت نہیں جن کے بارے میں آپ نے بچپن سے سنا ہے۔ جو کام آپ کو کرنا ہے وہ یہاں آپ کی آنکھوں کے سامنے ہے: جو کوئی یہ ایمان رکھتا ہے کہ یسوع ہی المسیح ہے، جو خدا سے پیدا ہوا! اور جیسے کہ رومیوں 10باب9آیت کہتی ہے:

 

رومیوں 10باب9آیت:

”کہ اگر تو اپنی زبان سے یسوع کے خداوند ہونے کا اقرار کرے اور اپنے دل سے ایمان لائے کہ خدا نے اسے مردوں مٰن سے جلایا تو نجات پائے گا۔ “

 

          یہ اتنا لازمی ہے!یہ اس قدر ہی سادہ ہے! یہ اتنا ہی حیرانکن ہے! جیسے کہ ہم رومیوں 10باب میں دوبارہ پڑھتے ہیں:

 

رومیوں 10باب12اور 13آیت:

”کیونکہ یہودیوں اور یونانیوں میں کچھ فرق نہیں اس لئے کہ وہی سب کا خداوند ہے اور اپنے سب دعا کرنے والوں کیلئے فیاض ہے۔ کیونکہ جو کوئی خداوند کا نام لے گا نجات پائے گا۔ “

 

          خداوند دولت مند ہے، وہ ان سب کیلئے سخی ہے جو اکے پاس آتے ہیں۔ اور وہ سب جو خداوند کے نام سے آتے ہیں وہ نجات پاتے ہیں۔

 

اور 1یوحنا 4باب15آیت:

” جو کوئی اقرار کرتا ہے کہ یسوع خدا کا بیٹا ہے خدا اس میں رہتا ہے اور وہ خدا میں۔ “

 

          ہر ایک چیز یسوع کے گرد احاطہ کرتی ہے اور ہر چیز یسوع پر ایمان لانے اور اس ایمان کا اقرار کرنے سے تعلق رکھتی ہے۔ یسوع مسیح پر ایمان، یہ ایمان کہ وہ مخصوص مسیح ہے، یہ ایمان کہ وہ خدا کا کلوتا بیٹا ہے، یہ ایمان کہ خدا نے اسے مردوں میں سے زندہ کیا، اقرار کرنا کہ وہ ہمارا خداوند ہے۔  اعمال کی بدولت کوئی شخص خدا کے خاندان کا حصہ نہیں بن سکتا۔ بلکہ ایمان اور یقین کی بدولت۔ اور لے پالک ہونا اسے اس خاندان میں شامل نہیں کرتا بلکہ پیدائش سے یہ ہوتا ہے، خدا کی طرف سے پیدائش، جو ابا یعنی باپ بن جاتا ہے۔

 

          آگے بڑھتے ہوئے، ہم یہ سچائی، نئی پیدائش کی سچائی بھی 1پطرس1باب 23آیت میں دیکھ سکتے ہیں، جہاں ہم پڑھتے ہیں:

 

1پطرس 1باب23آیت:

”کیونکہ تم فانی تخم سے نہیں بلکہ غیر فانی تخم سے خدا کے کلام کے وسیلہ سے جو زندہ اور قائم ہے نئے سرے سے پیدا ہوئے ہو۔ “

 

          یہاں دوبارہ پطرس ایک نئی پیدائش کی بات کرتا ہے ، خدا کی طرف سے پیدائش جس کے بارے میں یوحنا بات کرتا ہے۔ یہ پیدائش فانی تخم سے نہیں بلکہ غیر فانی تخم سے ہے اور اس پیدائش کا وسیلہ خدا کا کلام ہے جوہمیشہ تک زندہ رہتا ہے۔ رومیوں 10باب17آیت، اس حوالے کی چند آیات کے بعد جو ہمیں بتاتی ہیں کہ کوئی شخص اعمال سے نہیں بلکہ خداوند یسوع مسیح پر ایمان لانے سی اور اپنے دل سے اقرار کرنے سے کہ خدا نے اسے مردوں میں سے جلایا نجات پا سکتا ہے ، ہمیں بتاتی ہے کہ ایمان کہاں سے آتا ہے:

 

رومیوں 10باب17آیت:

”پس ایمان سننے سے پیدا ہوتا ہے اور سننا مسیح کے کلام سے۔ “

 

          ایمان سننے سے آتا ہے۔  مذہبی وعظ یا انسانی روایات کو سنے سے نہیں۔ وہ سننے سے نہیں جو لوگ کہتے ہیں کہ خدا کہتا ہے۔ بلکہ وہ سننے سے جو خدا کا کلام کہتا ہے۔ جو خود خدا کہتا ہے۔ آج لاکھوں لوگ ایسے ہیں جو کہتے ہیں کہ وہ جانتے ہیں کہ خدا کیا سوچتا ہے یا کیا کہتا ہے،یا تو یہ اسلئے ہے کہ انہوں نے اس کا تصور ذہن میں بنا لیا ہے، یا کیونکہ یا کسی مذہبی شخص نے انہیں بتایا ہے کہ وہ اس طرح سوچتا ہے، یا ان کی کلیسیاءنے انہیں یہ بتایا ہے۔ سچائی یہ ہے کہ ہر تعلیم کو خدا کے کلام کے ساتھ پرکھا جانا چاہئے۔  میں یونان میں پلا بڑھا ہوں جو ایک مذہبی ملک ہے۔  اسی طرح بائبل متی 7باب7تا 11آیات میں کہتی ہے کہ:

 

متی 7باب7تا 11آیت:

”مانگو تو تمکو دیا جائے گا۔  ڈھونڈو تو پا گے۔  دروازہ کھٹکھٹا تو تمارے واسطے کھولا جائے گا۔  کیونکہ جو کوئی مانگتا ہے اسے ملتا ہے اور جو ڈھونڈتا ہے وہ پاتا ہے اور جو کھٹکھٹاتا ہے اس کے واسطے کھولا جائے گا۔ تم میں سے ایسا کون سا آدمی ہے کہ اگر ا س کا بیٹا اس سے روٹی مانگے تو وہ اسے پتھر دے؟ یا اگر مچھلی مانگے تو اسے سانپ دے؟ پس جبکہ تم برے ہو کر اپنے بچوں کو اچھی چیزیں دینا جانتے ہو تو تمہارا باپ جو آسمان پر ہے اپنے مانگنے والوں کو اچھی چیزیں کیوں نہ دے؟“

 

          جب میں نے یہ پڑھا تو کیا آپ جانتے ہیں کہ میں نے کیا کیا؟میں نے خدا سے ہر چیز کے بارے میں پوچھنا شروع کر دیا! ہر ضرورت کے لئے میں نے اس سے مانگنا شروع کر دیا۔ اور کیا آپ جانتے ہیں؟ معجزات ہونا شروع ہونا شروع ہو گئے! خدا نے اپنی بانہیں کھولیں اور مجھ تک پہنچ گیا۔ آسمان کھلا اور مجھے ملا۔ خدا پر ایمان لانا صرف ایک دماغی مشق نہیںہے۔ یہ ایک زندہ خدا کے ساتھ زندہ تعلق کی شروعات ہے۔ یہی وہ خدا ہے جس کی میں بات کر رہا ہوں۔ اور اس نے اپنے بیٹے یسوع سیح کو بھیجا کہ وہ ہمارے گناہوں کو صلیب پر اٹھا لے جائے تا کہ آج جو کوئی بھی اس پر ایمان لاتا ہے کہ وہ مسیح، خدا کا بیٹاہے، اور خدا نیا سے مردوں میں سے جلایا، وہ نجات پاتا ہے اور قادرِ مطلق کا فرزند بن جاتا ہے۔ خدا سے تنگ آگیا؟ میں بھی تنگ آگیا تھا۔ لیکن اندازہ کرو؟ آپ نے حقیقی خدا کو نہیں جانا۔ کیونکہ حقیقی خدا زندہ ہے اور اس کا کلام بھی زندہ ہے، اور جو کوئی اس سے ملتا ہے وہ کبھی اس سے تنگ نہیں آتا۔ جس سے آپ ملیں ہیں وہ مذاہب کا مردہ خدا ہے اور ہاں یہ خدا کسی شخص کواکتاہٹ دینے کے علاوہ کچھ نہیں دے سکتا۔  

          اس طرح سے میں ایک ایماندار بنا۔ اور ایسے ہی میں بھی مانتا ہوں کہ کوئی شخص ایماندار بنتا ہے۔ اسے خدا کے کلام ، انجیل کی خوشخبری کا تجربہ ہونا چاہئے۔ سننا پہلا کام ہے۔ پھر ایمان آتا ہے۔ اس کالم کو پڑھنے والو: اگر آپ یسوع مسیح پر ایمان لانے والے نہیں ہو تو آج آپ نے انجیل سنی ہے،یعنی ایمان سے وسیلہ سے نجات پانے والوں کیلئے خوشخبری۔ خدا کا فرزند بننے کی خوشخبری، خدا کو اپنا باپ کہنے کی خوشخبری۔ خدا کا کلام کہتا ہے:

 

یعقوب 4باب8آیت:

”خدا کے نزدیک جا تو وہ تمہارے نزدیک آئے گا۔ “

 

          خدا کے نزدیک آ تو وہ تمہارے نزدیک آئے گا۔ وہ ااپ سے محبت کرتا ہے ، وہ آپ کا انتظار کرتا ہے اوراس نے آپ کیلئے ایک منصوبہ تیار کیا ہے۔ اس کے خاندان میں آپ کیلئے جگہ بھی ہے۔ باپ آپ کیلئے بھی منتظر ہے۔  جیسے کہ 1تمیتھیس 2باب4آیت کہتی ہے:”وہ(خدا) چاہتا ہے کہ سب آدمی نجات پائیں اور سچائی کی پہچان تک پہنچیں“۔ اور اس میں آپ سب بھی شامل ہوتے ہیں۔ اس حصے کو ختم کرتے ہوئے آیئے 1یوحنا3باب1اور 2آیت کھولتے ہیں جہاں ہم پڑھتے ہیں:

 

1یوحنا 3باب1اور 2آیت:

”دیکھو باپ نے ہم سے کیسی محبت کی ہے کہ ہم خدا کے فرزند کہلائے اور ہم ہیں بھی۔ دنیا ہمیں اس لئے نہیں جانتی کیونکہ اس نے اسے بھی نہیں جانا۔  عزیزو! ہم اس وقت خدا کے فرزند ہیں اور ابھی تک یہ ظاہر نہیں ہوا کہ ہم کیا کچھ ہو ں گے۔  

 

          اب ہم خدا کے فرزند ہیں۔  کیسے؟ یسوع مسیح ، خدا کے بیٹے ، مسیحاپر ایمان لانے سے۔ یہ کویہ ایسی چیز نہیں ہے جو مستقبل کیلئے وعدہ کی گئی ہے۔ یہ موجودہ حقیقت ہے اور یہ آپ کیلئے ابھی بھی موجود ہے! جیسے پولوس 2کرنتھیوں6باب2آیت میں کہتا ہے کہ:

 

2کرنتھیوں 6باب2آیت:

”کیونکہ وہ فرماتا ہے کہ میں نے قبولیت کے وقت تیری سن لی اور نجات کے دن تیری مددکی۔  دیکھو اب قبولیت کا وقت ہے۔  دیکھو یہ نجات کا دن ہے۔“

 

”فرزند ہونے کی راہ دیکھتے ہیں“۔   رومیوں 8باب23آیت

 

          ہمارے اصلی ،وضوع کی طرف ااتے ہوئے اور یہ دیکھتے ہوئے کہ 1یوحنا ہمیں کیا بتاتا ہے، اور یہ کہ اب ہم یسوع مسیح پر ایمان لانے کے سبب سے، خدا کے فرزند ہیں، آیئے رومیوں 8باب23آیت پر جاتے ہیں۔  جہاں ہم پڑھتے ہیں:

 

رومیوں 8باب 23آیت:

”اور نہ فقط وہی بلکہ ہم بھی جنہیں روح کے پھل ملے ہیں آپ اپنے باطن میں کراہتے ہیں اور لے پالک ہونے یعنی اپنے بدن کی مخلصی کی راہ دیکھتے ہیں۔ “

 

          جب ہم درج بالا حوالہ کو پڑھتے ہیں تو یہ بہت الجھا دینے والا ہے جیسے کہ یہ سامنے آتا ہے، رومیوں ہمیں بتاتا ہے کہ ہم ابھی بھی فرزند ہونے کی راہ دیکھتے ہیں جب کہ گلتیوں نے ہمیں بتایا کہ یسوع مسیح اس لئے آیا کہ ہم فرزند ہونے کی حیثیت حاصل کریں اور یوحنا نے ہمیں بتایا کہ اب ہم خدا کے فرزند ہیں۔ درج بالا حوالہ میں الجھن کو دور کرنے کی کنجی ہے لفظ ”uiothesia“۔ اگر کوئی شخص اس لفظ کو لے پالک کے طور پر سمجھتا ہے، جیسے کہ انگریزی ترجمہ اس کا کا ترجمہ اسی طرح کرتا ہے، تو ہم بہت الجھ جاتے ہیں۔ لے پالک ہونا بھی اسی طرح ہے جیسے کہ پیداہونا ہے۔ اس کا کوئی خاص وقت نہیں تھا جب ہم پہلی پیدا ہوئے تھے، لیکن جب ہم دورسی بار پیدا ہوئے تو یہ ایک مخصوص وقت تھا۔ اور کسی کے لا پالک ہونے کا بھی ایک مخصوس وقت ہے۔ پس اگر ہمیں لفظ ”uiothesia“ کا ترجمہ لے پالک ہونا کرنا چاہئے ، تو یہ مخصوص وقت، رومیوں 8باب کے مطابق ابھی نہیں آیا۔ حتیٰ کہ ہم ابھی خدا کے لے پالک بھی نہیں ہیں کیونکہ ہم ابھی بھی اسکے منتظر ہیں۔  لیکن یہ غلط فہمی مصنوعی ہے اور لفظ ”uiothesia“ کا ترجمہ لے پالک کرنے سے پیدا ہوئی ہے۔ درست ترجمہ ہے ”فرزندوں کی حیثیت رکھنا“ اور اس کا مطلب سمجھنے کیلئے ہمیں ، 18آیت سے شروع کر تے ہوئے،متن پر غور کرنا ہوگا۔

 

رومیوں 8باب18تا25آیت:

”کیونکہ میری دانست میں اس زمانے کے دکھ درد اس لائق نہیں کہ اس جلال کے مقابل ہوں سکیں جو ہم پر ظاہر ہونے والا ہے۔  کیونکہ مخلوقات کمال آرزو سے خدا کے بیٹوں کے ظاہر ہونے کی راہ دیکھتی ہے اسلئے کہ مخلوقات بطالت کے اختیار میں کر دی گئی تھی۔ نہ اپنی خوشی سے بلکہ اس کے باعث سے جس نے اس کو اس امید پر بطالت کے اختیار میں کر دیا کہ مخلوقات بھی فنا کے قبضہ سے چھوٹ کر خدا کے فرزندوں کے جلال کی آزادی میں داخل ہو جائے گی کیونکہ ہم کو معلوم ہے کہ اب ساری مخلوقات ملکر اب تک کراہتی ہے اور دردزہ میں پڑی تڑپتی ہے۔  اور نہ فقط وہی بلکہ ہم بھی جنہیں روح کے پھل ملے ہیں آپ اپنے باطن میں کراہتے ہیں اور لے پالک ہونے یعنی اپنے بدن کی مخلصی کی راہ دیکھتے ہیں۔ چنانچہ ہمیں امید کے وسیلہ سے نجات ملی مگر جس چیز کی امید ہے جب وہ نظر آجائے تو پھر امید کیسی؟ کیونکہ جو چیز کوئی دیکھ رہا ہے اسکی امید کیا کرے گا؟ لیکن ہم جس چیز کو نہیں دیکھتے اگر ہم اس کی امید کریں تو صبر سے اسکی راہ دیکھتے ہیں۔ “

 

          پولوس رسول مخلوقات کے حوالے سے ہمیں بتاتا ہے کہ یہ بطالت کا شکار ہے۔ یہ فنا کے قبضہ میں ہے۔  یہ دردِ زہ میں تڑپتی اور کراہتی ہے۔ یہ بہت بڑی تکالیف ہیں!اور نہ صرف مخلوقات بلکہ ہم سب جو روح کا پہلا پھل ہیں ! ہم اپنے آپ پر کراہتے ہیں، اور ہم اس وقت کا انتظار کرتے ہیں ، جب کچھ بہترہو گا، جب خداوند دوبارہ واپس آئے گا اور ہمارے فانی بدنوں کو لافانی بنا دے گا۔ ہم کراہتے ہیں اور اس وقت کا انتظار کرتے ہیں جب رو برو دیکھیں گے۔ کیونکہ پولوس رسول کہتا ہے:

 

1کرنتھیوں 13باب12آیت:

اب ہم کو آئینے میں دھندلا سا دکھائی دیتا ہے مگر اس وقت روبرو دیکھیں گے۔ اس وقت میرا علم ناقص ہے مگر اس وقت ایسے پورے طور پر پہچانوں گا جیسے میں پہچانا گیا ہوں ۔ “

 

          یہاں ”مگر“ اور ”اس وقت“ ہے۔  اب ہم آئینے میں دھندلا سا دیکھتے ہیں مگراس وقت رو برو دیکھیں گے! اب مخلوق کراہتی ہے اور ہم بھی ان کے ساتھ ہی، مگر اس وقت وہ فنا کے قبضہ سے آزاد ہو گے۔ اب ہمارے پاس روح کے پہلے پھل ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ ایک وقت آئے گا، اس وقت، کہ ہمارے پاس وقت کی معموری ہوگی! اب ہم خدا کے فرزند، خدا سے پیدا ہوئے، قادرِ مطلق کے بچے ، یسوع مسیح کے بھائی جیسے کہ وہ خود عبرانیوں 2باب 11اور 12آیت میں کہتا ہے، ہیں ، لیکن یہ مکمل حیثیت نہیں ہے۔ فرزند کے طور پر مکمل حیثیت تب ہے، جب ہم روبرو دیکھتے ہیں، جب ہم اسی طرح جانے گے جیسے ہم جانے گئے ہیں۔ پس اب ہم خدا کے بیٹے اور بیٹیوں کی حیثیت رکھتے ہیں، لیکن اس میں اور مزید بہت کچھ آنے والا ہے! جی ہاں ہمارے پاس روح کا پہلا پھل ہیلیکن جی ہاں یہ صرف پہلا پھل ہی ہے اور اسی لئے اور بہت کچھ آنے کو ہے۔ کب؟جب خداوند واپس آتا ہے۔ جب مخلوق آزاد ہوتی ہے! جب ہم رو برو دیکھیں گے! جب مسیح کے ساتھ ہماری نسبت (2کرنتھیوں 11باب2آیت) شادی بن جاتی ہے(مکاشفہ9باب)۔

          ہم یہ کالم رومیوں 8باب 14تا17آیت پر ختم کرتے ہیں:

 

رومیوں 8باب12تا17آیت:

”پس اے بھائیو! ہم قرضدار توہیں مگر جسم کے نہیں کہ جسم کے مطابق زندگی گزاریں۔ کیونکہ اگر تم جسم کے مطابق زندگی گزارو گے تو ضرور مرو گے اور اگر روح سے بدن کے کاموں کو نیست و نابود کرو گے تو جیتے رہو گے۔ اس لئے کہ جتنے خدا کی روح کی ہدایت سے چلتے ہیںوہی خدا کے بیٹے ہیں۔ کیونکہ تم کو غلامی کی روح نہیں ملی جس سے پھر ڈر پیدا ہو بلکہ لے پالک ہونے کی روح ملی جس سے ہم ابا یعنی اے باپ کہہ کر پکارتے ہیں ۔  روح خود ہماری روح کے ساتھ مل کر گواہی دیتا ہے کہ ہم خدا کے فرزند ہیں۔ اور اگر فرزند ہیں تو وارث بھی ہیں یعنی خدا کے وارث اور مسیح کے ہم میراث بشرطیکہ ہم اس کے ساتھ دکھ اٹھائیں تاکہ اس کے ساتھ جلال بھی پائیں۔ “

 

          ایمان کی بدولت ہم خدا کے فرزند بنتے ہیں اور ہم روح القدس پاتے ہیں۔ اس روح کے سبب سے ہمارا چال چل، اس روح کی بدولت ہماری زندگی سے ہم خدا کے فرزند بنتے ہیں۔ اور یہ روح قبضہ کی روح نہیں بلکہ بیٹے ہونے کی روح ہے، ایک ایسی مہر جس سے خدا ہمیں مخصوس کرتا ہے(افسیوں1 باب13آیت) اور وہ روح جس سے ہم چلاتے ہیں ابا! یعنی اے باپ۔ ہمیں ابھی بھی دکھ اٹھانے ہیں جیسے کہ ساری مخلوق کرتی ہے۔  خدا کا فرزند ہونے کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ ہم دکھوں سے آزاد ہیں، جیسے دوسرے یہ سمجھتے ہیں۔ کلام اس حوالے سے کوئی شک پیدا نہیں کرتا :نہ صرف مخلوقات کراہتی ہیں بلکہ ہم بھی۔ تاہم یہ شروعات ہے اور مزید اس میں کچھ آئے گا، جب ہم اپنے باپ کو رو برو دیکھیں گے۔ جب ہم اس مقام پر جائیں گے جو خدا ہمارے لئے تیار کر رہا ہے:

 

یوحنا14باب2اور3آیت:

”میرے باپ کے گھر میں بہت سے مکان ہیں اگر نہ ہوتے تو میں تم سے کہہ دیتا کیونکہ میں جاتا ہو ں تاکہ تمہارے لئے جگہ تیار کروں، اور اگر میں جا کر تمہارے لئے جگہ تیار کروں تو پھر آکر تمہیں اپنے ساتھ لے لوں گا تاکہ جہاں میں ہوں تم بھی ہو۔ “

 

 

تسسوس کولچوگلو

اردو  Fahim Qaiser, Napoleon Zaki :

 

[1] جیسے کہ Vineکی لغات کہتی ہے : ”ابا ایک آرامی لفظ ہے۔۔۔۔یہ ایک شیر خوار بچے کے ہونٹوں سے بنا ہوا ایک لفظ ہے۔”باپ“ اس رشتے کی عمدہ کاری گری بیان کرتا ہے“۔ایک اور ذریعہ بتات ہے کہ:جیسے کہ Rabbis کہتے ہیں: ”ایک چھوٹا بچہ ابا؟ یعنی اے باپ اور امی یعنی اے ماں کہنا سیکھتا ہے“۔ ابا مطلب باپ ۔باپ عموما وہ لفظ ہے جو ہم تب استعمال کرتے ہیں جب ہم اپنے زمینی باپ کے بارے میں بات کرتے ہیں۔ دونوں باپ اور ابا ایک ہی لفظ ہیں مگر ابا زیادہ جذباتی لفظ ہے۔یہ خود ہی ظاہر کرتا ہے کہ ایک باپ اپنے بیٹے سے کس قدر زیادہ حقیقی اور جذباتی تعلق رکھتا ہے۔

[2] دیکھیں E.W. Bullinger, A critical Lexicon and concordance to the English and Greek New Testament, Zondervan Publishing House, p. 148

[3] دیکھیں Vine's Expository dictionary, p. 189

[4] دراصل کلام ”نئے سرے سے پیدا“ ہونے کی اصطلاح استعمال کرتا ہے جیسے کہ ہم 1پطرس میں دیکھتے ہیں۔