بائبل کی سچائیاں


ہمارے جدید ترین کالم   |   
موضوع کے مطابق   |    تمام کالم   |    سبسکرائب   |    ہوم   

 

 

 

 

نشان زد کریں اور دوسروں کو شریک کریں

 

 

  PDF version (printer friendly)

 

 

 

کرسمس اور مسیح کی پیدائش پر (حصہ اول)

  

1     لوقا1باب26تا28آیت: حمل کا پیغام:

        مسیح کی پیدائش کے حوالے سے بائبل جو باتیں کہتی ہیں ان کا تجزیہ کرنے کا آغاز کرنے کےلئے،  ہم لوقاکے پہلے باب پر جائیں گے ۔   یہاں 5تا25آیت ہمیں ذکریا سے یوحنا بپتسمہ دینے والے کی پیدائش کی خوشخبری کے بارے میں ،  اور اس کی ماں الیشبع کا خود کو حمل کے بعد پانچ مہنے تک چھپائے رکھنے کے بارے میں بتایا جاتا ہے ۔  پھر اگلی آیات ہمیں یہ بتاتی ہیں کہ یوحنا کے حمل میں لئے جانے کے چھ مہینوں میں کیا ہوا:

 

لوقا1باب26تا33آیت:
”چھٹے مہینے میں جبرائیل فرشتہ خدا کی طرف سے گلیل کے ایک شہر میں جس کا نام ناصر
ة تھا ایک کنواری کے پاس بھیجا گیا ۔   جس کی منگنی داد کے گھرانے کے ایک مرد یوسف نام سے ہوئی تھی اور اس کنواری کا نام مریم تھا ۔  اور فرشتے نے اس کے پاس اندر آ کر کہا سالم تجھ کو جس پر فضل ہوا ہے! خداوند تیرے ساتھ ہے ۔  وہ اس کلام سے بہت گھبرا گئی اور سوچنے لگی کہ یہ کیسا سلام ہے ۔  فرشتے نے اس سے کہا کہ اے مریم! خوف نہ کر کیونکہ خدا کی طرف سے تجھ پر فضل ہوا ہے ۔   اور دیکھ تو حاملہ ہو گی اور تیرے بیٹا ہوگا۔   اس کانام یسوع رکھنا ۔   وہ بزرگ ہو گا اور خدا تعالیٰ کا بیٹا کہلائے گا اور خداوند خدا اس کے باپ داد کا تخت اسے دے گا ۔   اور وہ یعقوب کے گھرانے پر ابد تک بادشاہی رے گا اور اس کی بادشاہی کا آخر نہ ہوگا ۔ 

 

       درج بالا حوالہ کے مطابق،  جبرائیل،  خدا کے دو مقرب فرشتوں میں سے ایک(دوسرا میکائیل ہے)،  ناصرة کے شہر میں مریم کو یہ پیغام دینے کےلئے بھیجا گیا کہ وہ یسوع کی ماں ہوگی ۔   اس کے علاوہ،  فرشتے نے یسوع کے متعلق چند دلچسپ باتیں بھی کیں ۔  پس ،  اس نے کہا کہ یسوع عظیم ہوگااور وہ ”قادرِ مطلق کا بیٹا“ یعنی خدا کا بیٹا کہلائے گا ۔   اس نے یہ بھی کہا کہ خدا سے اس کے باپ داد کا تخت اسے دے گا ۔   اس آخری بیان کے یقینا دو معنی ہیں: پہلا یہ کہ یسوع داد کی نسل سے تھا اور دوسرا یہ کہ اسے داد کے تخت پر قانونی حق حاصل تھا یعنی کہ وہ داد بادشاہ کا قانونی تخت نشین تھا ۔   ان بیانات کی حقیقت ان دو نسب ناموں کے باعث واضح کی گئی ہے جو متی1باب1تا 17 آیت اور لوقا3 باب23تا38آیت میںبیان کئے گئے ہیں ۔  پہلا نسب نامہ یسو ع کے ظاہری باپ یوسف کا حوالہ دیتا ہے اور یہ بتاتا ہے وہ داد بادشاہ کی شاہی نسل سے براہِ راست پیدا ہوا ۔   اس لئے قانونی نقطہ نظر سے [1]یسوع کے پاس داد کے تخت کا قانونی حق تھا ۔  اس قانونی حق کے علاوہ، اور چونکہ یسوع یوسف کا اصل بیٹا نہ تھا، اسے داد کے گھرانے میں جسمانی حیثیت بھی چاہئے تھی ۔  یہ اسے اس کی ماں مریم کی بدولت ملی ۔  حقیقتاً،  اس کا نسب نامہ جو لوقا3باب 23تا 38آیت میں بیان کیا گیا ہے ظاہرع کرتا ہے کہ وہ داد کے گھرانے سے تھی۔   اس لئے دونوں جسمانی اور قانونی لحاظ سے،  یسوع داد کے گھانے سے تھا اور اسے داد کے تخت پر قانونی حق حاصل تھا[2] ۔ 

 

       یہ تمام چیزیں اتفاقیہ نہیں تھیں ۔   بلکہ،  یہ مسیحا کےلئے تیار کردہ تھیں،  چانکہ پرانے عہد نامہ کی پیشن گوئیوں کے مطابق موعودہ مسیحا ابراہیم کی نسل سے آنا تھا(دیکھیں پیدائش 21باب12آیت اور گلتیوں3باب16آیت) اور داد کے گھانے سے آنا تھا(دیکھیں 132زبور،  11 آیت اور اعمال2باب29اور30آیت) ۔   اس لئے،  چونکہ یسوع ہی مسیحا تھا،  وہ ابراہیم اور داد کی نسل کے عالوہ کہیں اور سے نہیں ہو سکتا تھا ۔   اورایسا ہی تھا ۔  متی 1باب1آیت بہت واضح طور پر بیان کرتی ہے:

 

متی1باب1آیت:
”یسوع مسیح
ابنِ داد ابنِ ابراہام ۔   ۔   ۔   ۔ 

 

       اس لئے یسوع مسیح کے نسب نامے تاریخی فہرستیں نہیں ہیں بلکہ ان میں اس بات کا ثبوت ہے کہ یسوع مسیحا ہے،  مسیح،  موعودہ ہے ۔  اس کی بدولت خدا نے نہ صرف ابراہیم اور داد سے کیا ہوا وعدہ پورا کیا (پیدائش 21 باب 12آیت ،  132زبور  11آیت بلکہ ساری انسانی نسل سے کیا ہو اپنا وعدہ بھی پورا کیا (پیدائش3باب15آیت) کہ جو گناہ کے بعد اس واحد ہستی کے منتظر تھے جو اس ساری صورتِ حال کو ٹھیک کرے گا: مسیح کے منتظر تھے ۔ 

 

       فرشتے کے پیغام کی طرف آتے ہوئے،  مریم کا ایک سوال تھا:

 

لوقا1باب34آیت:
”مریم نے اس سے کہا کہ یہ کیونکر ہو گا جب کہ میں مرد کو نہیں جانتی؟“

 

       یہ فقرہ کہ”میں مرد کو نہیں جانتی) طاہر کرتا ہے کہ مریم نے کبھی کسی کے ساتھ ابھی تک جنسی تعلق نہیں رکھا تھا ۔  اس کی وجہ یہ تھی کہ اس کی یوسف کے ساتھ منگنی کے سوا کچھ بھی نہیں تھا،  جبکہ اس کے ساتھ جنسی تعلق رکھنے کےلئے، شادی کرنا ضروری تھا ۔  تاہم،  تمام تر معملات کی بجائے،  مریم کے علاوہ اس بچے کے حمل کےلئے کسی دورے انسان کی مداخلت کی ضرورت نہیں تھی ۔  بلکہ نیچے بیان کی گئی فرشتے کی وضاحت ظاہر کرتی ہے کہ، خدا باقی سب کچھ سنبھال لے گا ۔ 

 

لوقا1باب35تا37آیت:
”اور فرشتے نے جواب میں اس سے کہا کہ روح القدس تجھ پر نازل ہوگا اور خدا تعالیٰ کی قدرت تجھ پر سایہ ڈالے گی اور اس سبب سے وہ مولودَ مقدس خدا کا بیٹا کہلائے گا ۔
   اور دیکھ تیری رشتہ دار کے بھی بڑھاپے میں بیٹا ہونا ہونے والا ہےاور اب اس کو جو بانجھ کہلاتی تھی چھٹا مہینہ ہے ۔   کیونکہ جو قول خداوند کی طرف سے ہے وہ ہر گز بے تاثیر نہ ہوگا ۔ 

 

       فرشتے کی وضاحت کے مطابق،  یہ بچہ قادرِ مطلق،  یعنی خدا کے معجزانہ کام کے نتیجے سے حمل میں پڑے گا ۔  اس لئے وہ خدا کا بیٹا یا قادرِ مطلق کا بیٹا کہلائے گا ۔ 

       وضاحت سننے کے بعد،  مریم نے وہ سب قبول کیا جو فرشتے نے اس سے کہا تھا:

 

لوقا1باب38اور39آیت:
”مریم نے کہا کہ دیکھ میں خداوند کی بندی ہو ۔
   میرے لئے تیرے قول کے موافق ہو ۔   تب فرشتہ اس کے پاس سے چلا گیا ۔ 

 

       مریم سے اس منصوبے کی تصدیق پانے کے بعد، فرشتہ اس کے پاس سے چلا گیا[3] ۔ 

 

 

2.   متی1باب18تا25آیت: یوسف کا ردِ عمل:

       یوسف کی منگیتر ہونا اور اس بچے کو جنم دینا جس یوسف کا نہیں مریم کے لئے بہت مشکل تھا،  اور یوسف کی تنقیدی اہمیت کا ردِ عمل بھی ۔   یہ ردِ عمل متی1باب18تا25اایت مین بیان کئے گئے ہیں اور یہی اس حصے کا موضوع ہیں ۔   18آیت سے شروع کرتے ہوئے ہم پڑھتے ہیں:

 

متی1باب18آیت:
”اب یسوع مسیح کی پیدائش اس طرح ہوئی کہ جب اس کی ماں مریم کی منگنی یوسف کے ساتھ ہوگئی تو
ان کے اکٹھے ہونے سے پہلے وہ روح القدس کی قدرت سے حاملہ پائی گئی ۔ 

 

       اس حوالے کے شروع میں لفظ ”اب“ یونانی حرف عطف ”de“ ہے جس استعمال کیا جاتا ہے1) ایک موضوع سے دوسرے موضوع کی طرف جانے کو ظاہر کرنے کےلئے ۔   اس سلسلے میںاس کا ترجمہ ”اور“ یا ”اب“ ہونا چاہئے اور 2) پہلے جو کچھ ہوا اس کے درمیان اور جو کچھ اس کے بعد ہونے والا ہے اس کے درمیان امتیاز پیدا کرنے کےلئے ۔  اس بعد والے معاملے میں ،  اس کا ترجمہ”لیکن“ کے طور پر ہونا چاہئے ۔   2,870دفعہ یہ حرفِ عطف استعمال ہونے میں سے ،  کنگ جیمز ورژن(KJV)1,237دفعہ اس کا ترجمہ ”لیکن“ اور934 دفعہ اس کا ترجمہ ”اور“ کے طور پر استعمال کرتا ہے،  جبکہ 300 دفعہ یہ اس کا ترجمہ بالکل نہیں کرتا ۔   چاہے اس کا ترجمہ ”اور“،  ”لیکن“ یا ”اب“ کیا گیا ہو یہ ایسا حرف ہے جو متن کے حوالے سے نظر آنا چاہئے ۔  ہمارے اس سبق میں ،  اس کا ترجمہ  ”لیکن“ ہونا چاہئے اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ اس انداز سے جیسے یسوع مسیح نے حمل لیا اس انداز سے امتاز رکھتا ہے جو نسب نامہ میں اس سے پچھلی آیات میں پایا جاتا ہے (متی 1باب1تا17آیت) ۔   درحقیقت،  اگر چہ اس نسب نامہ میں ہم نے پڑھا : ”ابراہیم سے اضحاق پیداہوا،  اضحاق سے یعقوب پیدا ہوا ۔   ۔   ۔  “ تاہم یسوع مسیح انسانی باپ سے پیدا نہیںہوا ۔   دیگر تمام لوگوں سے ہٹ کر،  یسوع کا باپ خدا تھا،  اور یہ حرف عطف یہ امتیاز پیدا کر کے اس بات کو واضح کرنا چاہتا ہے ۔  یہ سب واضح کرنے کے بعد،  ہم اسی حوالہ میں جاری رکھتے ہیں جہاں ہم پڑھتے ہیں کہ یوسف اور مریم کے ”ایک ہونے “ سے پہلے یعنی اس سے قبل کہ وہ جنسی تعلق رکھتے،  مریم حاملہ پائی گئی ۔  ایسے حالات میں مریم کی حالت بہت نازک تھی اور وہ یوسف کے ردِ عمل پر انحصار کرتی تھی ۔  در حقیقت،  اگر اسکی بنا پر،  یسوع یہ فیصلہ کرتا کہ اپنے الفاظ سے ”اسے بدنام کرتا“(استثنا 22 باب14آیت)تو،  شریعت کے مطابق،  مریم کےلئے موت کی سزا ہوتی (استثنا 22 باب13تا21آیت) ۔  اس کے باوجود،  اس بعد والے معاملے میں بھی،  مریم اور بچے کی حالت بہت مشکل ہوتی کیونکہ معاشرہ اسے باپ کے بنا پیدا ہونے والے بچے کی کبھی اجازت نہ دیتا ۔   19آیت ہمیں بتاتی ہے کہ یوسف کن دو انتخابات کا بارے میں سوچ رہا تھا:

 

متی1باب19آیت:
”پس اس کے شوہر یوسف نے جو راستباز تھا اور اسے بدنام نہیں کرنا چاہتا تھا اسے چپکے سے چھوڑ دینے کا رادہ کیا ۔
 

 

       یوسف کو ایک شریف آدمی بیان کیا گیا ہے یعنی کہ شریعت کا ماننا والا ۔  دو انتخابات میں سے جو اس نے شریعت سے سیکھے تھے وہ دوسرے کو اپنانے کا سوچ رہا تھا یعنی کہ،  مریم کو چپکے سے چھوڑ دے ۔  تاہم،  اس نازک لم؟حے خدا نے مداخلت کی تا کہ مریم کو اور اس کے ساتھ ساتھ یسوع کو بچا سکے:

 

متی1باب20اور21آیت:
”وہ ان باتوں کو سوچ ہی رہا تھا کہ خدا کے فرشتے نے اسے خواب میں دکھائی دے کر کہا اے یوسف ابنِ دا
د ! تو اپنی بیوی مریم کو اپنے ہاں لے آنے سے نہ ڈر کیونکہ جو اس کے پیٹ میں ہے وہ روح القدس کی قدرت سے ہے ۔   اس کے بیٹا ہوگا اور تو اس کا نام یسوع رکھنا کیونکہ وہی اپنے لوگوں کو ان کے گناہوں سے نجات دے گا ۔ 

 

       خدا نے اپنی مداخلت میں یوسف کو بتایا کہ مریم کا بچہ اس کا بیٹا تھا اور اسے حوصلہ دیا کہ وہ کام نہ کرے جو وہ کرنے کا سوچ رہا تھا ۔  اس نے اسے وہ نام بھی بتایا جو اسے اس بچے کو دینا تھا ۔   یہ دوسری بار ہے جہاں بچے کے نال کا ذکر کیا گیا ہے[4] ۔  تاہم،  اس بار کلام ہمیں بتاتا ہے کہ اس کی وجہ کہ وہ بچہ یسوع کہلائے گا یہ تھی کیونکہ وہ اپنے لوگوں کو ان کے گناہوں سے نجات دے گا ۔  اس نام کے حوالے سے، یہ کہنا چاہئے کہ یہ نام خود منفرد نہیں کیونکہ یہ پہلی بار استعمال کیا گیا ہے ۔   درحقیقت،  یشوع ،  نان کا بیٹا(یشوع1باب1آیت) کا نام بھی بالکل یہی ہے گو کہ انگریزی ترجمہ اس کو مختلف انداز میں لکھتا ہے[5] ۔   اس طرح لوقا3باب29آیت میں یشوع نامی شخص کے ساتھ ہوتا ہے ۔  اس آدمی کا نام یونانی متن میں ”Iesous“ ہے جیسا کہ یسوع کا نام ہے ۔  اس لئے اس نام کی اہمیت اس بات میں نہیں ہے کہ یہ پہلی بار استعمال ہونے والا نام ہے،  کیونکہ ایسا نہیں تھا ۔  بلکہ،  اس کی اہمیت اسکے معنوں میں تھی جو عبرانی میں ہیں کہ:”خداوند(یہوواہ)ہماری نجات ہے ۔  “ حقیقتاً یسوع مسیح ہی تھا جس کی بدولت یہوواہ،  لوگوں کو نجات دلائے گا اور ان کے گناہوں سے بچائے گا ۔  اس نام کی یہی خاص اہمیت ہے ۔   یوسف اور اس کے ردِ عمل کی طرف آتے ہوئے،  24اور25آیت ہمیں بتاتی ہےں کہ خدا کی مداخلت نے اس کا ارادہ بدلہ یا نہیں:

 

متی1باب24آیت:
”پس یوسف نے نیند سے جاگ کر
ویسا ہی کیا جیسا خداوند کے فرشتہ نے اسے حکم دیا تھا اور اپنی بیوی کو اپنے ہاں لے آیا ۔ 

 

       خدا کی مداخلت کے بعد،  یوسف نے فیصلہ کیا کہ مریم کو نہ بھیجے ۔  اس طرح خدا نے مریم اور اس کے بچے کو اس مشکل وقت میں بچایا ۔   اس طرح خدا نے بہت زبردست انداز میں مریم کےلئے بغیر شوہر کے ایسے معاشرے میں بچے کو جنم دینے کا منصوبہ بنایا جہاں ایسی بات کو بالکل قبول نہ کیا جائے ۔   یقینا اس سب میں مریم اور یوسف کا کردار بہت اہم تھا ۔  خدا نے جو کچھ کہا اس کو قبول کرنے کا حوصلہ ہمارے لئے ایک مثال ہے ۔   گو کہ نسب نامے کے اعتبار سے وہ دونوں مسیحا کے لئے ایک کامل خاندان تھا،  مگر ایسا نہیںہوتا اگر ان دونوں میں سے کوئی ایک یا دونوں خدا کی بات ماننے سے انکار کرتے یا اسے قبول کرنے سے انکار کرتے ۔   یہ سب دیکھنے کے بعد آیئے 25آیت پر جاتے ہیں:

 

متی1باب25آیت:
”اور (یوسف نے) اس کو(مریم کو) نہ جانا
جب تک کہ اس کے پہلوٹھا بیٹا نہ ہوا اور اس کا نام یسوع رکھا ۔ 

 

       اگرچہ یہ آیت یسوع کے بارے میں بہت سی نئی باتیں نہیں کہتی،  مگر یہ مریم کے بارے میں بہت کچھ کہتی ہے ۔  پس،  گو کہ لاکھو ں لوگوں کےلئے مریم اپنی پوری زندگی کنواری رہی،  خدا کا کلام ہمیں یہ بتاتا ہے کہ یوسف یسوع مسیح کے پیدا ہونے تک ”اسے نہیں جانتا تھا“ یعنی اس نے اس کے ساتھ جنسی تعلق نہ رکھا ۔  یہ بیان واضح کرتا ہے کہ اس نے مسیح کی پیدائش کے بعد اسے ” جانا“ یعنی اس کے ساتھ جنسی تعلق رکھا ۔  یقیناً اس میں کوئی بھی چیز عمومی نہیں:یوسف اور مریم ایک شادی شدہ جوڑا تھے اور خدا کے کلام کے مطابق جنسی تعلق شادی کا حصہ ہے(1 کرنتھیوں 7 باب1تا5آیت) ۔ 

 

       اس بیان کے علاوہ، مریم کے خاص بیان کردہ کنوار پن کے خلاف ایک اور ثبوت یہ ہے کہ یسوع کو اس کا پہلوٹھا بیٹا کہا گیا ہے ۔  اگر یسوع مریم کا صرف ایک ہی بیٹا ہوتا تو کیا اسے پہلوٹھا کہا جاتا؟یقینا نہیں کیونکہ یہ خطاب ایک سے زیادہ بچوں کے درمیان کسی ایک کو پہلوٹھا قرار دیتا ہے ۔   اس لئے مریم کے یوسف کے ساتھ شادی کے نتیجے میں یسوع کی پیدائش کے بعد اور بھی بچے تھے ۔  در اصل،  بائبل نہ صرف ہمیں یہ بتاتی ہے بلکہ ان بچوں کے نام بھی بتاتی ہے ۔  اس سے متعلقہ حوالہ متی 13باب میں ہے جہاں ہم پڑھتے ہیں:

 

متی13باب54اور55آیت:
”اور (یسوع) اپنے وطن میں آکر ان کے عبادتخانہ میں ان کو ایسی تعلیم دینے لگا کہ وہ حیران ہو کر کہنے لگے اس میں یہ حکمت اور معجزے کہاں سے آئے ؟ کیا یہ بڑھئی کا بیٹا نہیں؟
اور اس کی ماں کا نام مریم اور اس کے بھائی یعقوب،  یہوداہ اور یوسف اور شمعون نہیں؟ اور کیا اس کی سب بہنیں ہمارے ہاں نہیں؟ ۔   ۔   ۔   ۔ 

 

       خدا کا کلام یسوع مسیح کے 4سوتیلے بھائیوں کا نام لیتا ہے اور ہمیں اس کی سوتیلی بہنوں کے بارے میں جمع کے صیغے میں بیان کرتا ہے ۔   درج بالا سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ روایت جس کے مطابق مریم اپنی زندگی بھر کنواری رہی بائبل کی نہیں ہے اور اس لئے اسے رد کردینا چاہئے ۔ 

 

 

3.   لوقا2باب1تا20آیت: پیدائش کی رات:

 

       مریم کو یسوع کی پیدائش کا پیغام اور اس پر اس کے شوہر یوسف کا ردِ عمل دیکھنے کے بعد ،  اگلی چیز جو ہم دیکھنے جارہے ہیں وہ یہ ہے کہ پیدائش کیا ہوا ۔  شروع کرنے کےلئے ہم لوقاکے دوسرے باب پر جائیں گے جہاں ہم 1تا3آیت میں پڑھتے ہیں:

 

لوقا2باب1تا3آیت:
”ان دنوں میں ایساہوا کہ قیصر اگستس کی طرف سے یہ حکم جاری ہوا کہ ساری دنیا کے لوگوں کے نام لکھے جائیں
 ۔   یہ پہلی اسم نویسی سوریہ کے حاکم کورینس کے عہد میں ہوئی ۔   اور سب لوگ نام لکھوانے کےلئے اپنے اپنے شہر کو گئے ۔ 

 

       اس حوالے میں بہت سی تاریخی معلومات پوشیدہ ہے جو ہمیں اس سال اور سال کے اس وقت کے بارے میں بتاتی ہے جس یسوع مسیح پیدا ہوا ۔   پہلی معلومات ”ساری دنیا“ یعنی رومیوں کے ماتحت دنیا کی اسم نویسی کے متعلق ہے ۔  تاریخی ذرائع کے مطابق یہ اسم نویسی تقریباً3 قبل مسیح میں ہوئی تھی ۔   اس کی وجہ کہ خدا کا کلام اس اسم نویسی کو ”پہلی“ اسم نویسی کہتا یہ ہے کہ ہم اسے دوسری اسم نویسی جو 6یا7بعد از مسیح میں ہوئی کے ساتھ الجھن کا شکار نہ ہو جائے ۔  یسوع مسیح اس فرض کئے گئے سال سے قبل پیدا ہوا تھا یہ بھی اس حقیقت سے ظاہر ہوتا ہے جو متی2باب1آیت ہمیں بتاتی ہے کہ جب یسوع پیدا ہوا تو یہودیہ کا بادشاہ ہیرودیس تھا ۔  دوبارہ،  تاریخی ذرائع کے مطابق یہ بادشاہ غالباً 5قبل مسیح سے1قبل مسیح کے درمیان فوت ہوا ۔  اس لئے یہ واضح ہے کہ اگر یہ ذرائع درست ہیں ،  تو یقینا یسوع مسیح 1قبل مسیح سے پہلے پیدا ہوا تھا ۔   اور اگر اسم نویسی کا فرض کردہ سال بھی درست ہے تو وہ 3قبل مسیح میں پیدا ہوا تھا ۔   اب سال کے اس وقت کے حوالے سے جب یسوع مسیح پیدا ہوا یہ ناقابلِ یقینی بات ہے کہ وہ 25دسمبر کو پیدا ہوا ۔  یہ اس حقیقت سے ظاہر ہے کہ اسم نویسی سردیوں کے درمیانی وقت میں نہیں کی جاسکتی تھی کیونکہ موسم کی صورتِ حال لوگوں کے لئے اپنے آبائی شہروں[6] میں جانے کےلے سفر میں مشکلات پیدا کر سکتی تھی ۔   حتیٰ کہ ہمارے جدیدتیز ترین ذرائع آمدورفت کے دور میں بھی مردم شماری اس وقت رکھی جاتی ہے جب موسمی حالات اس کے لئے مشکل کا باعث نہ بنیں ۔  اس لئے،  مسیح کی فرض کی جانے والی پیدائش 25دسمبر کو اور ساری دنیا کیااسم نویسی اس تاریخ میں نہیں ہو سکتی ۔   اس کے ساتھ ساتھ چرواہوں کا کھیتوں میںگلے کی نگہبانی کرنے کےلئے موجود ہونے کی حقیقت جس کے بارے میں 8آیت بات کرتی ہے ایک اور اشارہ ہے کہ یسوع مسیح 25دسمبر کو پیدا نہیں ہوا تھا، کیونکہ موسم کے باعث،  گلہ کبھی بھی اس وقت باہر کھیتوں میں نہیں ہو سکتا ۔   جیسا کہ Adam Clark عمومی طور پر کہتا ہے:

 

”کیونکہ یہ چرواہے اپنے گلے کو گھر نہیں لے کر گئے تھے،  یہ ایک مضبوط بیان ہے کہ اکتوبر ابھی شروع نہیں ہوا تھا،  اور یہ کہ،  نتیجتاً ،  ہمارا خداوند 25دسمبر کو پیدا نہیں ہوا تھا، جب کوئی گلہ باہر نہیں ہوتا ۔   ۔   ۔  اس بنیاد پر دسمبر میں ایسے کام ختم کر دئے جاتے ہیں  ۔ 

(یہ حوالہ Woodrow: "Babylon Mystery Religion", Ralph Woodrow Evangelistic Association Inc., 1966, this printing 1992 p.141میں سے لیا گیا ہے)  ۔ 

 

       درج بالا سے یہ ظاہر ہے کہ یہ بہت ناقابلِ یقینی بات ہے کہ یسوع مسیح 25دسمبر کو پیدا ہوا ۔   تو پھر اس کی پیدا ئش اس تاریخ پر کیوں منائی جاتی ہے؟ اس کی وجہ غیر قوموں کی وہ روایات ہیں جو انہی غیر قوموں نے مسیحت میں تبدیل ہوتے ہوئے متعارف کروائی تھیں ۔   جیسے کہ J. Frazer کہتا ہے:

 

”سب بڑا غیر قوموں کا مذہبی گروہ جس نے سارے رومہ اور یونان میں 25دسمبر کے جشن کی چھٹی کوفروغ دیا آفتاب پرست غیر قوم تھی ۔  سردی کا یہ تہوار ”میلاد“ کہلاتاتھا ۔   ”سورج کا میلاد“(دیکھیں J. Frazer: "The Golden Bough", New York, Macmillan Co., 1935 p.471. The quotation is taken from R. Woodrow op.cit. p. 143)

 

حتیٰ کہ ”The Catholic Encyclopaedia“ جیسا محدود قسم کا ذریعہ بھی اس بات کو قبول کرتا ہے کہ یہی وہ لادین تہوار تھا جس نے 25دسمبر کو مسیح کی پیدائش کے دن کے طور پر منانے کا نظریہ پیدا کیا:

 

Natalis Invicti (ناقابل شکست سورج کی پیدائش)کا مشہور تہوار25دسمبر کو منایا جاتا تھا،  اسی کا ہماری دسمبر کی اس تاریخ پر گہرا اثر ہے“(دیکھیں The Catholic Encyclopaedia", New York, Robert Appleton Co., 1911, p.725. This quotation was taken from R. Woodrow, op. cit. p.143) ۔ 

 

       درج بالا سے[7]،  یہ بات واضح ہے کہ 25دسمبر مسیح کی پیدائش کا دن نہیں ہے بلکہ غیر قوموں کےلئے سورج کی پیدائش کا دن ہے ۔   جب یہ غیر قومیں مسیحت میں تبدیل ہوئے،  وہ اپنی بے دین روایات بھی لے کر آئے ۔   کلیسیاءنے ان روایات کا مقابلہ کرنے کی بجائے انہیں ”مسیحت“ میں شامل کرنا مناسب سمجھا ۔  پس،  ”سورج دیوتا کی پیدائش“ ”خدا کے بیٹے کی پیدائش “ میں تبدیل ہوگئی ۔   بد قسمتی سے یہ ان بے دین روایات میں سے ایک ہے جن کی پیروی بہت سے مسیحی آج بھی کر رہے ہیں ۔ 

 

       یقیناان سب کا مطلب یہ ہر گز نہیں ہے کہ ہمیں 25دسمبر کو یسوع مسیح کی پیدائش کا دن منانے کے خلاف بات کرنی چاہئے یا اس کےلئے اپنے گھر والوں سے جھگڑا شروع کرنا چاہئے ۔  یسوع مسیح کی پیدائش کی تاریخ اس سے زیادہ اہم نہیں کہ وہ پیدا ہوا تھا ۔  تاہم،  ہمیں ان سب باتوں کو اپنے ذہن میں رکھنا چاہئے جو اس دوران ہوتی رہتی ہیں اور انسانی بنائی گئی روایات کے پیچھے نہیں بھاگنا چاہئے ۔  مسیح کی پیدائش کی تاریخ کے حوالے سے اس سفر کے بعد اب لوقا 2باب کو جاری رکھنا چاہئے ۔   پس 1تا3 آیت ہمیں اسم نویسی کے حوالے سے تاریخی معلومات فراہم کرنے کے بعد،  4تا7آیت ہمیں بتاتی ہے کہ مریم اور یوسف نے کیا کیا:

 

لوقا2باب4تا7آیت:
”پس یوسف بھی گلیل کے شہر ناصر
ة سے داد کے شہر بیت الحم کو گیا جو یہودہ میں ہے ۔   اس لئے کہ وہ داد کے گھرانے اور اولاد سے تھا ۔   تاکہ اپنی منگیتر مریم کے ساتھ جوحاملہ تھی نام لکھوائے ۔   جب وہ وہاں تھے تو دیکھو کہ اس کے وضع حمل کا وقت آ پہنچا ۔   اور ا س کا پہلوٹھا بیٹا پیدا ہوا اور اس نے اس کو کپڑے میں لپیٹ کر چرنی میں رکھا کیونکہ ان کے واسطے سرای میں جگہ نہ تھی ۔ 

 

       مسیح کی بیت الحم میں پیدائش اتفاقیہ نہیں ہے ۔  پرانے عہد نامے (میکاہ 5 باب 2آیت) کے مطابق مسیح کی پیدائش بیت الحم میں ہونی تھی ۔   خدا نے اتنی خوبصورتی سے حیران کن انداز میں چیزوں کو اس طرح ترتیب دیا کہ پیشن گوئی کو ممکن بنائے ۔   یوسف اور مریم بیت الحم میں نہیں رہتے تھے ۔   در حقیقت،  بیت الحم ناصرة کے شہر سے بہت دور تھا[8] اور ایسی صورتحال (مریم حاملہ تھی) میں صرف اسم نویسی ہی ان کے لئے وہاں جانے کا بہترین حل ہوسکتی تھی ۔   لیکن جب صحیح وقت آیا،  یہ وجہ سامنے آئی اور دونوں،  مریم اور یوس،  کو وہاں جانا پڑا ۔   اور وہاں یسوع کی پیدائش ہوئی اور خدا کا وعدہ پورا ہوا ۔   وعدہ پورا کرنے کےلئے خدا نے انہیں اٹھا کر بیت الحم میں نہیں پہنچا دیا ۔   ملکیت بنا نا خدا کا انداز نہیں ہے ۔   بلکہ،  جب کوئی کام اسکی مرضی سے ہوتا ہے،  وہ صورتِ حال پیدا کرتا ہے تا کہ وہ کام پایہءتکمیل کو پہنچ سکے ۔  مگر آیئے جاری رکھتے ہیں:

 

لوقا2باب8تا14آیت:
”اسی علاقہ میں چرواہے تھے جو رات کو میدان میں رہ کر اپنے گلہ کی نگہبانی کر رہے تھے ۔
   اور خداوند کا فرشتہ ان کے پاس آکھڑا ہوا[9] اور خداوند کا جلال ان کے چوگرد چمکا اور وہ نہایت ڈر گئے ۔  مگر فرشتہ نے ان سے کہا کہ ڈرو مت دیکھو میں تمہیں بڑی خوشی کی بشارت دیتا ہوں جو ساری امت کے واسطے ہوگی ۔   کہ آج دا
د کے شہر میں تمہارے لئے ایک منجی پیدا ہوا ہے یعنی مسیح خداوند ۔   اور اس کا تمہارے لئے یہ نشان ہے کہ تم ایک بچہ کو کپڑے میں لپٹا اور چرنی میں پڑا ہوا پا گے ۔  اور یکایک اس فرشتہ کے ساتھ آسمانی لشکر کی ایک گروہ خدا کی حمد کرتی ہوئی اور یہ کہتی ہوئی ظاہر ہوئی کہ: عالمِ بالا پر خدا کی تمجید ہو اورزمین پر ان آدمیوں میں جن سے وہ راضی ہے صلح ۔ 

 

       اپنے بیٹے کی پیدائش کی خوشخبری خدا نے جن کو سب سے پہلے دی وہ چرواہے تھے ۔  اور کیا آپ جانتے ہیں کہ خدا نے انہیں یہ خبر کیوں دی اور ہیرودیس یا فریسیوں یا اس وقت کے حاکموں کو یہ خبر کیوں نہ دی؟ کیونکہ چرواہے اس پر ایمان رکھتے تھے ۔  کیونکہ وہ ایمان لائے تھے کہ یہ بچہ مسیح ہے،  جیسا کہ فرشتے نے انہیں بتایا تھا ۔   آیت بیس ہمیں بتاتی ہے کہ، ”اور چرواہے جیسا ان سے کہا گیا تھا ویسا ہی سب کچھ سن کر اور دیکھ کر خدا کی تمجید اور حمد کرتے ہوئے لوٹ گئے ۔  “وہ ان سب باتوں پر ایمان رکھتے تھے جو خدا نے فرشتہ کی بدولت اس بچے کے بارے میں انہیں بتائی تھی اور اسی کی وجہ سے وہ بہت خوش تھے ۔  ہیرودیس ،  اس کے ساتھ ساتھ اس وقت کے مذہبی لوگ،  اس بات پر ایمان نہ لائے ۔   انہوں نے اس بچے پر ظلم کیا اور اس کی آمد ان کےلئے صرف مشکلات پیدا کر سکتی تھی ۔  اس لئے خدا نے اس بچے کی خبر ان کو نہ دی ۔   حتیٰ کہ آج بھی: خدا ان لوگوں پر اپنے بیٹے کو ظاہر کرنے کو تیار ہے جن کے پاس اس پر ایمان لانے کےلئے دل ہے اور حقیقتاً ہر ایک روح جو خدا کے کلام کی پیاسی ہے وہ سیر کی جائے گی ۔  دوسری جانب،  وہ لوگ جو کلام کے دشمن ہیں ،  وہ لوگ جو کلام ناپسند کرتے ہیں،  وہ اسے نہیں پا سکیں گے،  خدا کے کلام کی زبردست خبر ان کو نہیں سنائی جائے گی یا اگر ان کو خبر دی جائے گی تو اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا،  جیسا کہ یہ فریسیوں کے ساتھ ہوا ۔  اس لئے ہمیں اپنے کان وہ سننے کےلئے کھلے رکھنے چاہئیں جو خدا چاہتا ہے بجائے کہ ہم خدا کے کلام کو اپنے ذہنوں کی مانند سمجھیں ۔  اگر ہمارے کان کھلے ہیں تو خدا ہمیں ”چرواہوں“ کے پاس بھیجے گا،  ان لوگوں کے پاس جو خدا کے کلام کے بھوکے ہیں تا کہ وہ بھی سیر ہوں ۔  اگر ہم اپنے کان کھلے نہ رکھیں اور اپنی حواس خمسہ کی بنیاد پر خدا کا کام کریں تو ہم یقینا ہمارا خد اکےلئے ا ور ہمارے لئے قیمتی وقت ان ”فریسیوں “ کے ساتھ ضائع کریں گے جو کلام کی خوراک سے نفرت رکھتے ہیں ،  جبکہ ”چرواہے“ خوراک پانے کےلئے کسی کی تلاش میں رہتے ہیں ۔   مگر آیئے یہ جاری رکھتے ہیں:

 

لوقا2باب15تا20آیت:
”جب فرشتے ان کے پاس سے آسمان پر چڑھ گئے تو ایسا ہوا کہ چرواہوں نے آپس میں کہا کہ آ
ہم بیت الحم تک چلیں اور یہ بات جو ہوئی ہے اور جس کی خداوند نے ہمیں خبر دی ہے دیکھیں  ۔  پس انہوں نے جلدی سے جاکر مریم اور یوسف کو دیکھا اور اس بچہ کو چرنی میں پڑا پایا ۔  اور انہیں دیکھ کر وہ بات جو اس لڑکے کے حق میں کہی گئی تھی مشہور کی ۔   اور سب سننے والوں نے ان باتوں پر کو ان چرواہوں نے ان سے کہیں تعجب کیا ۔  مگر مریم ان سب باتوں کو اپنے دل میں رکھ کر ان پر غور کرتی رہی ۔  اور چرواہے جیسا ان سے کہا گیا تھا ویسا ہی سب کچھ سن کر اور دیکھ کر خدا کی تمجید اور حمد کرتے ہوئے لوٹ گئے ۔ 

 

       چرواہے ایمان لائے اوت وہ وہاں گئے اور یسوع کو کپڑے میں لپٹا اور چرنی میں پایا جیسا کہ فرشتہ نے ان سے کہا تھا ۔  یہی وہ نقطہ ہے جہاں روایت بیان کرتی ہے کہ یہ ”مجوسی“ تھے،  یہ بھی کہتی ہے کہ وہ تین تھے،  وہ وہاں آئے تھے ۔   آیا کہ یہ روایات درست ہیں یا غلط یہ ہم اگلے سبق میں دیکھیں گے ۔ 

 

تسسوس کولچوگلو

اردو  Fahim Qaiser, Napoleon Zaki :



[1] اس علاقے کی ریت روج کے مطابق ،  یسوع مسیح کی معاشرے میں عزت کا دارومدار اس شخص کی تصدیق پر منحصر تھی جسے لوگ اس کا باپ سمجھتے تھے یعنی کہ یوسف کو

[2] مسیح یسوع کے نسب نامہ کے حوالے سے کوئی بھی چیز جاننے کے واسطے مزید مطالعہ کےلئے ہم مطالعہ کرنے والے کو ہمارے کالم ”یسوع مسیح کا نسب نامہ“ کا حوالہ دیں گے

[3] اس بات پر غور کرنا نہایت دلچسپ ہے کہ خدا کا کلام کہیں بھی یہ نہیں کہتا کہ فرشتہ نے مریم کو  ۔   ۔   کوئی پھول پیش کئے یا فرشتہ کے پر تھے یا اس کے یا مریم کے یا کسی کے بھی سر کے گرد ایک دائرہ تھا  ۔   یقینا یہ انسانی تصور سے بڑھ کر اور کچھ نہیں ہے

[4] پہلی بار مریم کے حاملہ ہونے کی خبر پر کہا گیا تھا(لوقا1باب 31 آیت)

[5] یشوع یونانی لفظ ”Iesous“ کا عبرانی حصہ ہے ۔   انگریزی ترجمہ نگار اسے پرانے عہد نامہ میں عبرانی سے اخذ کرتے ہیں اورنئے عہد نامہ میں یونانی سے اخذ کرتے ہیں ۔   یہی فرق ہے ۔   بائبل ک قدیم یونانی متن میں یشوع اور یسوع ایک ہی نام ہیں: Iesous،  یسوع

[6] فلسطین کا موسم میرے ملک،  یونان کے موسم سے زیادہ فرق نہیں ہے ۔  پس اگر چہ سال کا گرم حصہ جنوبی یورپ سے زیادہ لمبا نہیں ہوتا ،  تاہم نومبر سے مارچ ان درجہ حرارتوں کے ساتھ جو اکثر منفی ہوتے ہیں کم سرد نہیں ہوتا

[7] مزید گواہی کےلئے مطالعہ کرنے والے کو Ralph Woodrow op. cit کے زبردست کام کا حوالہ دیا جاتا ہے

[8] نقشہ کے مطابق یہ 108کلو میٹر کے فاصلے پر ہے

[9]  خدا کا فرشتہ چرواہوں کے ارد گرد ہوا میں نہیں اڑ رہا تھا بلکہ یہ ان کے ساتھ کھڑا تھا ۔   اس کے ساتھ 13آیت میں چونکہ آسمانی فرشتوں کا لشکر اس ایک فرشتے کے ساتھ تھے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ بھی چرواہوں کے ساتھ کھڑے تھے ۔  اگر اس سے ہم انسان کی اس سوچ کو فرق کریں جس کے مطابق فرشتوں کے پر ،  یا موسیقی کے آلات یا ان کے سروں کے گرد دائرے ہوتے ہیں،  تو آپ کے سامنے ایک انوکھا منظر ہوگا