بائبل کی سچائیاں


ہمارے جدید ترین کالم   |   
موضوع کے مطابق   |    تمام کالم   |    سبسکرائب   |    ہوم   

 

 

 

 

نشان زد کریں اور دوسروں کو شریک کریں

 

 

  PDF version (printer friendly)

 

 

یوحنا بپتسمہ دینے والا :  خدا کا ایک سالار

       حال ہی میں میں کتاب  “ خدا کے سالار “  کا مطالعہ کیا۔   ان لوگوں کےلئے جنہوں نے یہ نہیں پڑھی،  یہ کتاب ان معروف وزرا کے حوالے سے بات کرتی ہے جنہوں نے انیسویں اور بیسویں صدی میں کام کیا۔  ہر ایک شخصیت کےلئے ان کے اچھے اور برے وقت کی سوانح عمری کے ساتھ مصنف کے اپنے خیالات بھی شامل ہیں۔  اس سے متاثر ہو کر،  آج میں بھی بائبل کے مطالعہ نگاروں کے درمیان خداکے ایک سالار کے بارے میں غور کریں جس کا ذکر بائبل میں ہے،  یعنی یوحنا بپتسمہ دینے والے کے بارے میں۔ 

 

1خاص انسان نہیں:

        میرا یقین ہے کہ خدانے ایسے لوگوں کی کہانیاںبائبل میں ہمیں سکھانے کےلئے اور ان کی زندگیاں ہمارے لئے مثال بنانے کےلئے لکھی ہیں جیسے یوحنا ،  پولوس،  ایلیاہ وغیرہ۔  بہت سے لوگ سمجھتے ہیں کہ یہ لوگ خاص قسم کے انسان تھے اور باقی لوگوں کے ساتھ ان کی مشابہت بہت تھوڑی یا بالکل نہیں ہے۔  تاہم یہ معاملہ نہیں ہے۔  جیسا کہ یعقوب ایلیاہ کے بارے میں خاص طور پر کہتا ہے:

 

یعقوب5باب17آیت:
“ ایلیا
ہمارا ہم طبیعت انسان تھا۔   “

 

       اور جیسا کہ پطرس نے کرنیلیس کو کہا جب وہ اس کے آگے جھکا:

 

اعمال10باب26آیت:
“ کھڑا ہو،  
میں بھی تو انسان ہوں۔   “

 

       اور اس سے پہلے،  ایک مفلوج کی شفا کے بعد،  جب لوگ پطرس اور یوحنا کو گھور رہے تھے،  تو پطرس نے کہا:

 

اعمال3باب11تا13اور16آیت:
“ ۔ 
۔  ۔   اس پر تم کیوں تعجب کرتے ہو او ہمیں کیوں اس طرح دیکھ رہے ہو کہ گویا ہم نے اپنی قدرت اور دینداری سے اس کو چلتا پھرتا کر دیا ؟  ابراہام اور اضحاق اور یعقوب کے خدا یعنی ہمارے باپ دادا کے خدا نے اپنے خادم یسوع مسیح کو جلال دیا۔  ۔  ۔  ۔  اسی کے نام نے اس ایمان کے وسیلہ سے جو اس کے نام پر ہے اس شخص کو مضبوط کیا جسے تم دیکھتے اور جاتے ہو۔  ۔  ۔   “

 

       خدا کے جن بندوں کے بارے میں ہم بائبل میںسے پڑھتے ہیں اور جو عجیب کام وہ خدا کے وسیلہ سے کرتے تھے،  وہ کسی بھی طرح سے سپر انسانوں کے کام نہیں تھے۔   وہ سب  “ اسی محبت کے خادم تھے جس کے ہم ہیں۔   “  پولوس 2کرنتھیوںمیں کہتا ہے:

 

2کرنتھیوں3باب4تا6آیت:
“ ہم مسیح کی معرفت خدا پر ایسا ہی بھروسہ رکھتے ہیں۔   
یہ نہیں کہ بذاتِ خود ہم اس لائق ہیں کہ اپنی طرف سے کچھ خیال بھی کر سکیں بلکہ ہماری لیاقت خدا کی طرف سے ہے۔  جس نے ہم کو نئے عہد کے خادم ہونے کے لائق بھی کیا۔  لفظوں کے خادم نہیں بلکہ روح کے کیونکہ لفظ مار ڈالتے ہیں مگر روح زندہ کرتی ہے۔   “

 

       خدا ہی ہماری لیاقت ہے۔  یوحنا،  پولوس،  ایلیاہ ہم سے زیادہ  “ لیاقت “  نہیں رکھتے تھے۔  وہ کام سر انجام دینے کےلئے جس کےلئے خدا نے آپ کو بلایا ہے سپر انسان بننا ،  زیادہ لیاقت رکھنا ضروری نہیں۔  زیادہ لیاقت صرف اسی کی ہے اور وہ یقینا اسی طرح ہمارے لئے بھی لیاقت رکھتا ہے جیسے کہ وہ ماضی میں ان لوگوں کے لئے رکھتا تھا جو اس کی مرضی کے مطابق چلنے کی خواہش رکھتے تھے۔ 

 

2یوحنا بپتسمہ دینے والا

       اس مختصر سے تعارف کے بعد،  آئیے اب یوحنا بپتسمہ دینے والے کی طرف آتے ہیں۔  اس فشتہ نے جس نے اس کے باپ کو اس کی پیدائش کی خبر سنائی ، اس کے بارے میں یہ کہا:

 

لوقا1باب15تا17آیت:
“ کیونکہ
وہ خداوند کے حضور میں بزرگ ہوگا اور ہرگز نہ مے نہ کوئی اور شراب پئے گا اور اپنی ماں کے بطن ہی سے روح القدس سے بھر جائے گا۔   اور بہت سے بنی اسرائیل کو خداوند کی طرف جو ان کا خدا ہے پھیرے گا۔  اور وہ ایلیا کی روح اور قوت میں اس کے آگے آگے چلے گا کہ والدوں کے دل اولاد کی طرف اور نافرمانوں کو راستبازوں کی دانائی پر چلنے کی طرف پھیرے اور خداوند کےلئے ایک مستعید قوم تیار کرے۔   “

 

       اور جیسا کہ یسوع نے بعد میں کہا:

 

متی11باب9تا11:
“ تو پھر کیوں گئے تھے؟  کیا ایک نبی دیکھنے کو؟  ہاں میں تم سے کہتا ہوں بلکہ نبی سے بڑے کو۔   یہ وہی ہے جس کی بابت لکھا ہے کہ دیکھ میں اپنا پیعمبر تیرے آگے بھیجتا ہوں جو تیرے آگے تیری راہ تیار کرے گا۔   میں تم سے سچ کہتا ہوں
کہ جو عورتوں سے پیدا ہوئے ہیں ان میں یوحنا بپتسمہ دینے والے سے بڑا کوئی نہیں ہوا لیکن جو آسمان کی بادشاہی میں چھوٹا ہے وہ اس سے بڑا ہے۔   “

 

       آخری بیان یوحنا کی اہمیت کم کرنے کےلئے نہیں ہے۔  وہ  “ خداوند کی نظر میں بڑھا ہوگا۔   “ عورتوں میں سے جو پیدا ہوئے ہیں،  کوئی بھی اس سے بڑا نہیں تھا۔  یوحنا کی زندگی کے لئے ایک بلاوا تھا۔  وہ خداوند یسوع مسیح کا نقیب تھا۔   “ تا کہ خداوند کے لئے لوگوں کو تیار کرے۔   “ اسے ایک مشن پورا کرنا تھا،  اور وہ اس کےلئے اس کی پیدائش سے قبل مخصوص کیا گیا تھا۔   تاہم،  یہ صرف اسی کےلئے حقیقت نہیں تھا۔  جیسا کہ کلام کہتا ہے،  خدا ہمیں پہلے سے جانتا ہے ( رومیوں8باب29آیت ) ،  اور ہم میں سے ہر کوئی اسی کے وسیلہ سے مسیح کے بدن میں ایک مخصوص کام کےلئے رکھے گئے ہیں ( 1کرنتھیوں12باب 8 آیت ) ۔   جیسا کہ یوحنا کا کام مسیح کا نقیب ہونا تھا اور یہ کام اسے خدا کی طرف سے ملا تھا،  اسی طرح بدن میں ہمارا بھی کام ہے،  ایک بلاوا،  جو خدا نے خاص طور پر ہم میں سے ہر کسی کےلئے مخصوص کیا ہے۔  بے شک،  ہم اتفاقاً اس دنیا میں نہیں آئے۔  بلکہ،  ہمیں پہلے سے جانا جاتا تھا،  شاید انسانوں کے وسیلہ سے نہیں بلکہ خدا ہمارے باپ کے وسیلہ سے۔ 

 

3بیابان میں:

       یوحنا کی تبلیغ سے قبل بہت زیادہ چیزیں نہیں لکھی گئیں تھیں۔   لوقا1باب 80آیت اس دور کا خلاصہ درج ذیل بیان کرتی ہے:

 

لوقا1باب80آیت:
“ اور وہ لڑکا بڑھتا اورروح میں قوت پاتا گیا اور
اسرائیل پر ظاہر ہونے کے دن تک جنگلوں میں رہا۔   “

 

       یوحنا اسرائیل پر اپنے ظہور کے دن تک بیابان میں رہا۔  اس کا بلاوا بہت شروع سے تھا۔  تاہم ،  اس کے ظاہر ہونے کا ایک مخصوص وقت تھا۔  مسیح کے بدن میں ہم سب کا کوئی نہ کوئی کاہے،  تاہم خدا ہی یہ کام ہمیں مختص کرتا ہے اور یہ بتاتا ہے کہ یہ کام کیسے ظاہر ہوگا۔  جیسا کہ 1کرنتھیوں12باب18آیت میں کہا جاتا ہے:

 

1کرنتھیوں12باب18آیت:
“ مگر فی الواقع خدا نے ہر ایک عضو کو بدن میں
اپنی مرضی کے موافق رکھا ہے۔   “

 

       مسیح کے بدن میں آپ کو جگہ تلاش کرنے کی ضرورت نہیں۔  اس نے پہلے سے ہی آپ کو وہی جگہ دی ہے جو وہ اپنی مرضی کے مطابق آپ کو دینا چاہتا تھا۔  اس نے اکیلے نے آپ کےلئے کام مقرر کیا ہے،  اس نے آپ کو اس کام کےلئے مخصوص کیا اور اس کےلئے آپ کو تیار بھی کیا۔  اس کے علاوہ اس نے یہ ظاہر کیا ہے کہ آپ وہ کا م کیسے اور کیا کریں گے۔  یوحنا کا کام خداوند کےلئے راہ تیار کرنا تھا اور وہ یہ کام شروع سے جانتا تھا۔   کوئی شخص یہ تصور کرے گا کہ جونہی اس نے یہ جانا اسے باقی سب کام چھوڑ کر تبلیغ کا کام شروع کر دینا چاہئے تھا۔  تاہم یوحنا نے یہ اس وقت کیا  “ جب خد ا کلام اس پر نازل ہوا“  ( لوقا3باب1تا6آیت ) ۔   جونہی اسے یہ ملا،  اس نے یہ کام سرانجام دینے کےلئے قدم بڑھایا۔   حقیقتاً لوقا3باب1تا6آیت ہمیں بتاتی ہے:

 

لوقا3باب1تا6آیت:
“ تبریس قیصر کی حکومت کے پندرھویں برس جب پینطوس پلاطوس یہودیہ کا حاکم تھا اور ہیرودیس گلیل کا اور اس کا بھائی فلپس اتوریہ اور ترخونی تس کا اور لسانیاس ابلینے کا حاکم تھا۔   اور کائفا سردار کاہن تھے اس وقت
خدا کا کلام بیابان میں زکریاہ کے بیٹے یوحنا پر نازل ہوا۔   
اور وہ یردن کے سارے گردو نواح میں جا کر گناہوں کی معافی کےلئے توبہ کے بپتسمہ کی منادی کرنے لگا۔  جیسا یسعیاہ نبی کے کلام کی کتاب میں لکھا ہے کہ:  بیابان میں پکارنے والے کی آواز آتی ہے کہ خداوند کی راہ کو تیار کرو۔   اس کے راستے سیدھے بناﺅ۔   ہر ایک گھاٹی بھر دی جائے گی اور ہر ایک پہاڑ اور ٹیلہ نیچا کیا جائے گا اور جو ٹیڑھا ہے سیدھا اور جو اونچا ہے ہموار راستہ بنے گا۔   اور ہر ایک بشر خدا کی نجات دیکھے گا۔   “

 

       یوحنا ایک خاص کام کےلئے خدا کی طرف سے مقرر کیا گیا تھا۔  وہ خداوند یسوع مسیح کا نقیب تھا کہ اس کی راہ تیار کرے اور توبہ کے بپتسمہ کی منادی دے۔  وہ شروع ہی سے آگے بڑھ سکتا تھا اور وہ کام کر سکتا تھا جو وہ اپنے مشن کی کامیابی کےلئے بہتر تصور کرتا تھا۔  وہ ایک ہزار خیالات کے ساتھ آ سکتا تھا، کہ وہ اپنے مشن کو کیسے بہتر طور پر انجام دے سکتاتھا۔  اس کی بجائے اس نے خدا کے کلام کے نازل ہونے کا انتظار کیا۔  اور جونہی اس نے یہ پایا بغیر کچھ اور سوچے اس نے وہ کام کرنا شروع کر دیا جو اسے کہا گیا تھا: گناہوں کی معافی کےلئے توبہ کے بپتسمہ کی منادی۔  خدا نے ہمں مسیح کے بدن میںایک خاص کام کے ساتھ مخصوص کیا ہے۔   یہ بیان کرتے ہوئے کہ ہمیں کیسے اور اس کام میں کیا کرنا ہے۔  یوحنا نے تب تک منادی کا آغاز نہی کیا جب تک  “ خدا کا کام اس پر نازل نہ ہوا۔   “ اور یہ ۔  ۔  ۔  ۔  ۔  بیابان میں ہوا۔  یہ یوحنا کی  “ تربیت گاہ“  تھی۔  ایسے اوقات جو ہمیں اچھے نہیں لگتے،  بیابان میں گزارے جانے والے اوقات،  خدا کی طرف سے ہمارے لئے تربیت کا وقت ہوسکتا ہے۔  پھر جب جسم اور اس کے کاموں کو توڑاجاتا ہے ،  تو ہم وہ کام کرنے کےلئے تیار ہو ں گے،  جو ہم اس کےلئے کرنا بہتر سمجھتے ہیںنہیں بلکہ جو اس نے شروع سے کرنے کےلئے ہمیں بلایا ہے۔   

 

4 “ ان لوگوں سے جو اس کے پاس نکل آتے تھے

        اور لوقا کی انجیل جاری رہتی ہے:

 

لوقا3باب7تا9آیت:
“ پس جو لوگ اس سے بپتسمہ لینے کو نکل کر آتے تھے وہ ان سے کہتا تھا اے سانپ کے بچو! تمہیں کس نے جتایا کہ آنے والے غضب سے بھاگو؟  پس توبہ کے موافق پھل لاﺅ اور اپنے دلوں میں یہ کہنا شروع نہ کرو کہ ابراہام ہمارا باپ ہے کیونکہ میں تم سے کہتا ہوں کہ خدا ان پتھروں سے ابراہام کےلئے اولاد پیدا کر سکتا ہے۔  اور اب تو درختوں کی جڑ پر کلہاڑا رکھا ہے پس جو درخت اچھا پھل نہیں لاتا وہ کاٹا اور آگ میں ڈالا جاتا ہے۔   “

 

        “ لوگ یوحنا سے بپتسمہ لینے کو نکل آتے تھے۔   “  یہ یوحنا نہیں تھا جس نے انہیں متوجہ کیا تھا۔  یقینا جب اس نے ان کی نسلوں کو  “ سانپ کے بچے کہا تو وہ سیاسی بندہ نہیں تھا۔  یقینا اس نے انہیں خوش کرنے کی کوشش نہیں کی۔  بلکہ،  اس نے وہی کہا جو خدا چاہتا تھا کہ وہ کہے اور اسی بلند آواز سے کہا جیسی بلند آواز خدا چاہتا تھا کہ اس کی ہو۔ 

 

       جو کچھ خدا نے اسے کرنے کو کہا تھا اس کی پیروی کرنے سے یوحنا کا کام ترقی پاتا گیا۔  اس نے کوئی معجزیہ نہیں کیا ( یوحنا10باب4آیت ) ،  کم از کم اس کا کوئی اندراج بھی نہیں ہے۔  اس نے خود کی شہرت نہیں کی۔  تاہم،  لوگ یہ جانتے تھے کہ ان کے بیچ ایک نبی تھا۔  ہمارے ارد گرد ایسے لوگ ہیں جو کہتے ہیں کہ  “ میں استاد ہوں “  یا  “ میں نبی ہوں۔   “ یوحنا نے ایسا نہیں کیا۔  اس نے خود کو نبی ظاہر کرنے کےلئے کوئی اشتہار یا نعرہ نہیں بنایا۔  در حقیقت آپ کو کہیں بھی یہ نہیں ملے گا کہ وہ خود کو نبی کہتا ہو۔  پھر بھی لوگ یہ جانتے تھے۔  خود نے اس کی تصدیق کی۔ 

       اگر آج یوحنا زندہ ہوتا، لاکھوں لوگ اس کے پاس آتے۔  تاہم یوحنا لوگوں کے گروہوں کا بھوکا نہ تھا۔  جب اس کا کام آسمان کی بلندیوں پر تھا،  لوگ گروہ در گروہ اس کے پاس آتے تھے اور جب ہر کوئی یہ سمجھتا تھا کہ وہ مسیح ہے تو اس نے  “ اقرار کیا اور انکار نہ کیا۔   “

 

یوحنا1باب21تا23آیت:
“ میں تو مسیح نہیں ہوں۔   انہوں نے اس سے پوچھا پھر کون ہے؟  کیا تو ایلیاہ ہے؟  اس نے کہا میں نہیں ہوں۔  کیا تو وہ نبی ہے؟  اس نے جواب دیا کہ نہیں۔  پس انہوں نے اس سے کہا کہ پھر تو کون ہے؟  تاکہ ہم اپنے بھیجنے والے کو جواب دیں ۔   تو اپنے حق میں کیا کہتا ہے؟ اس نے کہا میں جیسا یسعیاہ نبی نے کہا ہے بیابان میں پکارنے والے کی آواز ہوں کہ تم خداوند کی راہ کو سیدھا کرو۔   “

 

       یوحنا نے خود کےلئے مسیح،  ایلیاہ،  یا نبی جیسا خطاب لینے کی کوشش نہیں کی،  اگر چہ نبی اور ایلیاہ کا خطاب اس پر پورا پورا اترتا تھا۔   وہ یہ تھا۔   مگر یہ اہم نہیں تھا۔  اہم بات یہ تھی کہ وہ وہی کام کر رہا تھا جس کےلئے اس کو مخصوص کیا گیا تھا۔  اسے بیابان میں پکارنے والے کی آواز بننا تھا اوربالکل وہ یہی تھا۔   ہماری توجہ خطاب پر یا شہرت میں نہیں ہونی چاہئے بلکہ اس کام میں ہونی چاہئے جس کےلئے خدا نے ہمیں مقرر کیا ہے،  چاہے یہ کوئی بھی کام ہے اور اس کا چاہے کوئی بھی نام ہے۔ 

 

 

5 “ سب اس کے پاس آتے ہیں “

        یوحنا کی شہرت بہت زیادہ تھی۔  وہ بہت معروف تھا۔  ۔  ۔  جب تک کہ یسوع کا کام شروع نہ ہوا۔  ایسا لگتا ہے کہ جب یسوع کا کام شروع ہوا،  یوحنا کا کام ختم ہو چکا تھا۔  ایک معروف منسٹر گروہ در گروہ لوگوں کو اسے چھوڑ کر اب خداوند کی طرف جاتے ہوئے دیکھ رہا تھا۔   اس کا ردِ عمل کیا ہوا ہوگا؟ یوحنا3باب ہمیں بتاتا ہے:

 

یوحنا3باب26تا30آیت:
“ انہوں نے یوحنا کے پاس آکر کہا اے ربی! جو شخص یردن کے پار تیرے ساتھ تھا جس کی تو نے گواہی دی ہے دیکھ وہ بپتسمہ دیتا ہے اور
سب اس کے پاس آتے ہیں۔  یوحنا نے جواب میں کہا کہ انسان کچھ نہیں پا سکتا جب تک اس کو آسمان سے نہ دیا جائے۔  تم خود میرے گواہ ہو کہ میں نے کہا کہ میں مسیح نہیںمگر اس کے آگے بھیجا گیا ہوں۔  جس کی دلہن ہے وہ دلہا ہے مگر دلہا کا دوست جو کھڑا ہوا اس کی سنتا ہے دلہا کی آواز سے بہت خوش ہوتا ہے۔   پس میری یہ خوشی پوری ہوگئی۔   ضرور ہے کہ وہ بڑھے اور میں گھٹوں۔   “

 

       یوحنا گروہوں کا دیوانہ نہیں تھا پھر بھی وہ اپنے کام کو ختم ہوتے ہوئے دیکھ کر بے چین نہیں تھا۔  اس کی بجائے ،  جب وقت آگیا تو اس نے لوگوں کو اسے چھوڑ کر خداوند کی طرف جانے کی تعلیم دی اور یہ اس کی خوشی تھی۔  آخر میں یوحنا کا انجام قید خانہ میں ہوا،  جہاں اس کا سر قلم کر دیا گیا۔  جیسے عبرانیوں 11باب ان لوگوں کے بارے میں کہتا ہے جو اس کی طرح شہید ہوئے:

 

عبرانیوں11باب35تا38آیت:
“ بعض مار کھاتے کھاتے مر گئے مگر رہائی منظور نہ کی تا کہ ان کو بہتر قیامت نصیب ہو۔  بعض ٹھٹھوں میں اڑائے جانے اور کوڑے کھائے جانے اور قید میں پڑنے سے آزمائے گئے۔  سنگسار کئے گئے آرے سے چیرے گئے آزمائش میں پڑے۔   تلوار سے مارے گئے۔   بھیڑوں اور بکریوں کی کھال اوڑھے ہوئے محتاجی میں ۔   مصیبت میں بدسلوکی کی حالت میں مارے مارے پھرے۔   دنیا ان کے لائق نہ تھی۔   وہ جنگلوں اور پہاڑوں اور غاروں اور زمین کے گڑھوں میں آوارہ پھرے کئے۔   “

 

       یوحنا،  اور عبرانیوں 11باب 35تا38آیت کے لوگ بھی،  ہماری مانند انسان ہی تھے۔  تاہم ، وہ بہت پختہ عظم رکھتے تھے۔   وہ اپنے بلاوے سے انکار کر سکتا تھا اور بالکل اسی طرح زندگی گزار سکتا تھا جیسا کہ دوسرے اسکے ہم عمر لوگ گزارتے تھے ( وہ30سال کے لگ بھگ تھا ) ۔   یہ اس کےلئے بہت زیادہ آسان ہوتا۔   کیا نہیں ہوتا؟ پھر بھی،  اس نے خدا کی پیروی کو ترجیح دی۔  مسیحیوں کی راہوں میں بے چینی کا وقت آ سکتا ہے،  ایسا وقت جب آپ جانتے ہیں کہ دوسرے راستوں پر چلنا زیادہ آسان ہوتا ہے۔  ہم ان تنگ راستوں پر چلنے کے قابل ہوں گے،  صرف جب ہمارا مقصد،  جس پر ہم غور کر رہے ہیں،  خداوند یسوع مسیح ہے۔  جیسا عبرانیوں دوبارہ کہتا ہے:

 

عبرانیوں12باب1اور2آیت:
“ تو آﺅ ہم بھی ہر ایک بوجھ اور اس گناہ کو جو آسانی سے الجھا لیتا ہے دور کر کے اس دوڑ میں صبر سے دوڑیں جو ہمیں در پیش ہے۔   اور
ایمان کے بانی اور کامل کرنے والے یسوع کو تکتے رہیں جس نے اسی خوشی کےلئے جواس کی نظروں کے سامنے تھی شرمندگی کی پروا نہ کر کے صلیب کا دکھ سہا اور خدا کے تخت کے دہنی طرف جا بیٹھا۔   “

 

       روحانی دوڑ دوڑنے کا صرف ایک وسیلہ خداوند یسوع مسیح کو تاکتے رہنا ہے۔   دیدنی چیزوں کو دیکھتے ہوئے نہیں بلکہ نادیدنی چیزوں کو دیکھتے ہوئے، جو ابدی ہیں۔ 

 

2کرنتھیوں4باب18آیت:
“ ہم دیکھی ہوئی چیزوں پر نہیں بلکہ اندیکھی چیزوں پر نظر کرتے ہیں کیونکہ دیکھی ہوئی چیزیں چند روزہ ہیں اور اندیکھی چیزیں ابدی ہیں۔   “

 

تسسوس کولچوگلو

اردو  Fahim Qaiser, Napoleon Zaki :