بائبل کی سچائیاں


ہمارے جدید ترین کالم   |   
موضوع کے مطابق   |    تمام کالم   |    سبسکرائب   |    ہوم   

 

 

 

 

نشان زد کریں اور دوسروں کو شریک کریں

 

 

  PDF version (printer friendly)

 

 

 

 

وہ جلایا گیا!

 

         جیسے کہ ہم سب جانتی ہیں کہ پچھلا مہینہ ہم نے یسوع کے جی اٹھنے کی خوشی منانے کا مہینہ منایا تھا۔  اس لئے آج میں اس واقعہ کے بارے میں بات کرنا چاہوں گا۔  بہت سے ایسے حوالہ جات سے جن میں خدا کا کلام اس واقعہ کی بات کرتا ہے، ہم چند ایک پہاڑی وعظوں پر غور کریں گے جو اعمال کی کتاب میں ہیں۔   آغاز کےلئے اعمال2باب پر جائیں گے۔ 

 

 1اعمال2باب14تا36آیت:

       اعمال2باب14تا36آیت میں ، روح القدس کے نازل ہونے اور اس کے بعد غیر زبانوں کے اظہار کے کچھ دیر بعد، پینتیکوست کے دن پطرس کی تعلیم کا ریکارڈ ہے۔   ہم 22آیت سے پڑھنا شروع کریں گے:

 

اعمال2باب22تا24آیت:
”اے اسرائیلیو !یہ با تیں سنو کہ یسوع نا صری ایک شخص تھا جسکا خدا کی طرف سے ہو نا تم پر ان معجزوں اور عجیب کاموں اور نشانوں سے ثابت ہوا جو خدا نے اس کی معرفت تم میں دکھائے ۔
  چنانچہ تم آپ ہی جانتی ہو ۔  جب وہ خدا کے مقررہ انتظام اور علم سابق کے موافق پکڑوایا گیا تو تم نے بے شرع لوگوں کے ہاتھ سے اسے مصلوب کروا کر اسے مار ڈالا ۔   لیکن خدا نے موت کے بند کھول کر اسے جلایا کیو نکہ ممکن نہ تھا کہ وہ اس کے قبضہ میں رہتا ۔ 

 

       وہ لوگ جو پطرس کے سامعین تھے، غیر ملکی نہ تھے۔   بلکہ وہ لوگ وہیں رہتی تھے اور وہ ان معجزات سے واقف تھے جو خدا نے یسوع کے وسیلہ سے ظاہر کئے۔   تاہم، اس کے وسیلہ سے بڑے بڑے معجزات کے باوجود، انہوں نے اسے مصلوب کر دیا ۔   لیکن یہ کہانی کا اختتام نہ تھا، کیونکہ مصلوب کرنے کے ٹھیک دن بعد ایک ابنہونی تبدیلی ڈرامائی انداز میں رونما ہوئی، یہ کیا تھا؟ جی اٹھنا! یسوع مسیح ، حقیقتاً، تین دن اور تین رات قبر میں رہنے کے بعد ، دوبارہ جی اٹھا! لوقا24باب1تا7آیت ہمیں بتاتی ہے:

 

لوقا24باب1تا7آیت:
”سبت کے دن تو انہوں نے حکم کے مطابق آرا م کیا ۔
  لیکن ہفتہ کے پہلے دن وہ صبح سویرے ہی ان خوشبودار چیزوں کو جو تیار کی تھیں لے کر قبر پر آئیں ۔  اور پتھر کو قبر پر سے لڑھکا ہوا پایا ۔  مگر اندر جا کر خداوند یسوع کی لاش نہ پائی ۔  اور ایسا ہوا کہ جب وہ اس بات سے حیران تھیں تو دیکھو دو شخص براق پوشاک پہنے انکے پاس آکھڑے ہوئے ۔  جب وہ ڈر گئیں اور اپنے سر زمین پر جھکائے تو انہوں نے ان سے کہا کہ زندہ کو مردوں میں کیو ں ڈھونڈتی ہو ؟وہ یہاں نہیں بلکہ جی اٹھا ہے ۔  یاد کرو کہ جب وہ گلیل میں تھا تو اس نے تم سے کہا تھا ۔  ضرور ہے کہ ابن آدم گناہگاروں کے ہاتھ میں حوالہ کیا جائے اور مصلوب ہو اور تیسرے دن جی اٹھے ۔ 

 

       یسوع مسیح بالکل اسی مردوں میں سے جی اٹھا جیسے کہ اس نے اپنے شاگردوں سے وعدہ کا اور جیسے کہ خدا نے پرانے عہد نامہ میں وعدہ کیا تھا۔  پطرس کے اسی وعظ میں یسوع کے جی اٹھنے کے بارے میں ایک پیشن گوئی کا حوالہ دیا گیا ہے:

 

اعمال2باب25تا31آیت:
”کیو نکہ داﺅد اسکے حق میں کہتا ہے کہ میں خداند کو ہمیشہ اپنے سامنے دیکھتا رہا ۔
  کیو نکہ وہ میری دہنی طرف ہے تا کہ مجھے جنبش نہ ہو ۔   اسی سبب سے میرا دل خوش ہوا اور میری زبان شاد بلکہ میرا جسم بھی امید میں بسا رہیگا ۔  اس لئے کہ تو میری جان کو عالم ارواح میں نہ چھو ڑے گا اور نہ اپنے مقدس کے سڑنے کی نوبت پہنچنے دےگا ۔  تو نے مجھے زندگی کی راہیں بتائیں۔  تو مجھے اپنے دیدار کے باعث خوشی سے بھر دے گا۔  اے بھائیو!میں قوم کے بزرگ داﺅد کے حق میں تم سے دلیری کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ وہ موا اور دفن بھی ہوا اور اسکی قبر آج تک ہم میں موجود ہے ۔  پس نبی ہو کر یہ جان کر کے خدا نے مجھ سے قسم کھائی ہے کہ نسل سے ایک شخص کو تیرے تخت پر بٹھاﺅنگا ۔  اس نے پیشنگوئی کے طور پر مسیح کے جی اٹھنے کا ذکر کیا کہ نہ وہ عالم ارواح میں چھوڑا گیا نہ اس کے جسم کے سڑنے کی نوبت پہنچی اسی یسوع کو خڈا نے جلایا جس کے ہم سب گواہ ہیں۔  پس خدا کے دہنے ہاتھ سے سر بلند ہوکر اور باپ سے وہ روح القدس حاصل کر کے جس کا وعدہ کیا گیا تھا او نے یہ نازل کیا جو تم دیکھتے اور سنتے ہو ۔ 

 

       بہت بہت سال قبل، خدا نے داﺅد کے ذریعے سے یہ وعدہ کیا تھاکہ یسوع مسیح مردہ نہیں رہے گا اور نہ ہی اس کا بدن سڑنے کی نوبت کو پہنچے گا۔   جی اٹھنے کے دن یہ وعدہ پورا ہوا! یسوع مسیح ہی وہ واحد شخص ہے جو، مردہ تھا اور پھر جی اٹھا اور اب ہمیشہ تک زندہ رہے گا[1]۔  اور نہ صرف یہ: وہ ایک دن دوبارہ واپس آئے گا اور وہ سب جو اس پر اور اس کے جی اٹھنے پر ایمان لائے تھے ہمیشہ تک زندہ رہیں گے۔  جیسے کہ 1کرنتھیوں 20باب23آیت ہمیں بتاتی ہے:

 

1کرنتھیوں15باب20تا23آیت:
لیکن فی الواقع مسیح مردوں میں سے جی اٹھا ہے اور جو سو گئے ہیں ان میں پہلا پھل ہوا ۔  کیو نکہ جب آدمی کے سبب سے موت آئی تو آدمی ہی کے سبب سے مردوں کی قیامت بھی آئی ۔  اور جیسے آدم میں سب مرتی ہیں ویسے ہی مسیح میں سب زندہ کئے جائیں گے۔  لیکن ہر ایک اپنی اپنی باری سے ۔  پہلا پھل مسیح ۔  پھر مسیح کے آنے پر اس کے لوگ ۔ 

 

       پرانے عہد نامہ میں سے یسوع مسیح کے جی اٹھنے کی تصدیق پانے کے علاوہ،پطرس نے یہ بھی کہا کہ یسوع مسیح نے ہی خدا سے روح القدس کا وعدہ پایااور اسے نازل کیا۔  اس بات سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اگر یسوع مسیح مردوں میں سے نہ جی اٹھتا تو وہ روح القدس پانے اور اسے نازل کرنے کا وعدہ بھی نہ پاتا اور اس طرح نہ ہی شاگرد اور نہ کوئی اور ہی روح القدس پاتا اور اس کا اظہار کرتا۔  دوسری طرف غور کرتی ہوئے،ہمارے پاس روح القدس ہونے کی حقیقت کی وجہ یہ ہے کہ یسوع مسیح مردوں میں سے جی اٹھا اور اس نے روح القدس نازل کیا اور یہی جی اٹھنے کا ثبوت ہے۔  کتنے ایسے واقعات آپ جانتی ہیں جو اس طرح ان کے پورے ہونے کاایسا زندہ ثبوت پیش کرتی ہیں؟ذاتی طور پر میں ایسا کوئی اور واقعہ نہیں جانتا۔  ماضی کے واقعات کو رونما ہونا تاریخ سے تصدیق پاتا ہے۔  جی اٹھنے کی بھی اپنی ہی تاریخی گواہیاں ہیں: وہ لوگ جنہوں نے جی اٹھے یسوع مسیح کو دیکھا اور جن کی گواہی خدا کے کلام میں درج ہے۔   اس کی بھی ایک زندہ گواہی ہے: آپ کے اندر روح القدس کا موجود ہونا۔   اعمال 5باب32آیت میں پطرس نے خصوصاً کہا:

 

اعمال5باب30اور32آیت:
”ہمارے باپ داﺅد کے خدا نے یسوع کو
جلایا جسے تم نے صلیب پر لٹکا کر مار ڈالا تھا ۔  اور ہم ان باتوں کے گواہ ہیں کہ اور روح القدس بھی جسے خدا نے انہیں بخشا ہے جو اسکا حکم مانتی ہیں ۔ 

 

       یہاں اس ”اور“ پر غور کریں۔  شاگرد اور دوسرے لوگ جنہوں نے جی اٹھے یسوع کو دیکھا تھا،صرف وہی جی اٹھنے کے گواہ نہیں ہیں ان کے علاوہ ایک اور گواہ بھی ہے: روح القدس جو خدا ہر اس شخص کو دیتا ہے جو خداودند یسوع مسیح اور اس کے جی اٹھنے پر ایمان لاتا ہے، اور جس کا اظہار 1کرنتھیوں 12باب8تا10آیت میں درج نو طریقوں سے کیا جا سکتا ہے۔  حقیقتاً جب بھی آپ روح القدس سے کام کرتی ہیں، تو آپ یہ بات جانتی ہیں کہ مسیح مردوں میں سے جی اٹھا ہے۔  کیونکہ اگر وہ نہ جی اٹھتا، تو آپ کو روح القدس بھی نہ ملتا اور آپ اس سے کام بھی نہ کر پاتی۔  پس کیا ہمارے پاس جی اٹھنے کا زندہ ثبوت ہے؟ جی ہاں: روح القدس اور اس کو ظاہر کرنے والے عناصر۔ 

 

 

 2اعمال13باب14تا49آیت اور دیگر حوالہ جات:

       گو کہ ہم نے درج بالا تحریر میں اس بات پر غور کیا کہ روح القدس کی موجودگی اور اس کا اظہار جی اٹھنے کے زندہ گواہ ہیں۔   اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ عینی گواہ غیر ضروری ہیں۔  جو باتیں بائبل مقدس اس قسم کے گواہوں کے ارے میں کہتی ہے ان کے بارے میں جاننے کےلئے آیئے اعمال 13باب پر چلتی ہیں۔   یہاں پطرس انطاکیہ کے عبادتخانے میں، جو کہ ایشیائے کوچک کا ایک شہر ہے، میں تعلیم دے رہا ہے۔  27آیت سے شروع کرتی ہوئے ہم پڑھتی ہیں:

 

اعمال13باب27تا31آیت:
”کیونکہ یرو شلیم کے رہنے والوں اور ان کے سردار وں نے نہ اسے پہچانا اور نہ نبیوں کی باتیں سمجھیں جو ہر سبت کو سنائی جاتی ہیں۔
  اس لئے اس پر فتویٰ دے کر ان کو پورا کیا ۔  اور اگر چہ اس کے قتل کی کوئی وجہ نہ ملی تو بھی انہوں نے پیلاطس سے اس کے قتل کی درخواست کی ۔  اور جو کچھ اس کے حق میں لکھا تھا جب اس کو تمام کر چکے تو اسے صلیب پر سے اتار کر قبر میں رکھا ۔  مگر خدا نے اسے مردوں میں سے جلایا ۔  اور وہ بہت دنوں تک ان کو دکھائی دیا جو اس کے ساتھ تھے ۔  امت کے سامنے اب وہی اس کے گواہ ہیں ۔ 

 

       خدا نے مسیح کو مردوں میں سے جلایا۔  سردار کاہنوں اور فریسیوں نے قبر کی رکھوالی کےلئے پہریدار بٹھائے۔  انہوں نے اس قبر پر پتھر بھی رکھا۔  لیکن یہ سب بے کار ثابت ہوا۔  کیونکہ مسیح مردوں میں سے زندہ کیا اور” بہت دنوں تک ان کو دکھائی دیا جو اس کے ساتھ گلیل سے یروشلیم آئے تھے"۔   یہاں میں لفظ  ”بہت“ کی طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں جو اس حوالے میں استعمال کیا گیا ہے، اور جو ، ہم جانتی ہیں، کہ ہمیشہ، کثرت کو ظاہر کرتا ہے۔   اس معاملے میں یہ لفظ ان ایام کی کثرت کو ظاہر کرتا ہے جب زندہ ہوا مسیح لوگوں کو دکھائی دیتا رہاجی اٹھنے سے متعلقہ ثبوتوں کی کثرت کی جانب یہ پہلا اشارہ ہے:جی اٹھا مسیح،اپنے جی اٹھنے کو کوئی بھی شک نہ چھوڑتی ہوئے،”بہت دنوں تک“ دکھائی دیتا رہا۔  تاہم، گواہیوں کی صرف یہی کثرت ہمارے پاس نہیں ہے۔  اعمال کی کتاب کی پہلی تین آیات ہمیں بتاتی ہیں کہ:

 

اعمال1تا1تا3آیت:
”اے تھیفلس !میں میں نے پہلا رسالہ ان سب باتوں کے بیان میں تصنیف کیا جو یسوع شروع میں کرتا اور سکھاتا رہا ۔
  اس دن جس میں وہ ان رسولوں کو جنہیں اس نے چنا تھا رو ح القدس کے وسیلہ سے حکم دے کر اوپر اٹھایا گیا ۔  اس نے دکھ سہنے کے بعد بہت سے ثبوتوں سے اپنے آپ کو ان پر زندہ ظاہر بھی کیا ۔  چنانچہ وہ چالیس دن تک انہیں نظر آتا اور خدا کی بادشاہی کی باتیں کہتا رہا ۔ 

 

       یسوع مسیح نے خود کو بہت سے سچے ثبوتو ں سے پیش کیا۔   سچے ثبوتوں کا مطلب سمجھنے کےلئے، فرض کریں میں نے کچھ غلط کام کیا اور پولیس مجھے اسی وقت لے گئی جب یہ غلط کام ہوا۔  عدالت میں یہ ایک سچا ثبوت ہوگا۔   یہ توڑا نہیں جاسکتا۔  حتیٰ کہ اگر میں کچھ جھوٹے گواہ خرید لوں کہ کوئی جھوٹ بولیں، ان کی گواہی پھر بھی اہمیت نہیں رکھتی، کیونکہ سچے ثبوتوں سے یہ بات ثابت ہو چکی ہے۔   تاہم ، یسوع مسیح کا جی اٹھنا سچے ثبوتوں پر بنیاد رکھتا ہے یعنی ایسے ثبوتوں پر جن کو توڑا نہیں جاسکتا۔   اور در حقیقت اس کی بنیاد ایک یا دو ثبوتوں پر نہیں بلکہ بہت سے ثبوتوں پر ہے۔ 

        جیسا کہ درج بالا تحریر سے یہ ظاہر ہے کہ جی اٹھنا کوئی خفیہ واقعہ نہ تھا جس کے بارے میں ہمارے پاس جو معلومات ہے اس میں کوئی شک ہو سکتا ہے۔  اس کی بجائے، پطرس اعمال10باب39تا41آیت میں کہتا ہے:

 

اعمال10باب39تا41آیت:
”اور ہم ان سب کاموں کے گواہ ہیں جو اس نے یہودےوں کے ملک اور یروشلم میں کئے اور انہوں نے اس کو صلیب پر لٹکا کر مار ڈالا۔
  اس کو خدا نے تیسرے دن جلایا اور ظاہر بھی کر دیا ۔  نہ کہ ساری امت پر بلکہ ان گواہوں پر جو آگے سے خدا کے چنے ہوئے تھے یعنی ہم پر جنہوں نے اسکے مردوں میں سے جی اٹھنے کے بعد اسکے ساتھ کھایا پیا۔ 

 

       خدا نے یسوع کو کھلے طور پر ظاہر کیا۔  جی اٹھنا کوئی پوشیدہ واقعہ نہ تھا۔   بلکہ یسوع مسیح کے بکثرت ظاہر ہونے سے، خدا نے اس بات کو ثابت کیا کہ اس کا بیٹا زندہ تھا۔ 

       گو کہ اب تک ہم نے دیکھا کہ بہت دنوں تک مسیح ظاہر ہوتا رہا، اور بہت سے سچے ثبوتوں سے ظاہر ہوتا رہا، ہم نے ابھی تک یہ نہیں دیکھا کہ کتنے لوگوں پر وہ ظاہر ہوتا رہا یعنی کہ، اس کے جی اٹھنے کے عینی شواہدین کتنے تھے۔   اس سوال کا جواب پانے کےلئے، آیئے 1کرنتھیوں 15باب3تا8آیت پر چلتی ہیں[2]۔   یہاں ہم پڑھتی ہیں:

 

1کرنتھیوں15باب3تا8آیت:
”چنانچہ میں نے سب سے پہلے تم کو ہی بات پہنچا دی جو مجھے پہنچی تھی کہ مسیح کتا ب مقدس کے مطابق ہمارے گناہوں کے لئے موا اور دفن ہوا
اور تیسرے دن کتاب مقدس کے مطابق جی اٹھا ۔  اور کیفا کو اور اسکے بعد ان بارہ کو دکھائی دیا ۔  پھر پانچ سو زیادہ بھائیوں کو ایک ساتھ دکھائی دیا ۔  جن میں سے اکثر اب تک موجود ہیں اور بعض سو گئے ۔  پھر یعقوب کو دکھائی دیا ۔  پھر سب رسولوں کو ۔  اور سب سے پیچھے مجھ کو جو گویا ادھورے دنوں کی پیدائش ہوں دکھائی دیا ۔ 

 

       اپنے ظاہر ہونے واقعات میں سے ایک میں وہ پانچ سو لوگوں کو ایک ساتھ دکھائی دیا۔  اگر یہ عینی شواہدین کی کثرت نہیں تو اور کیا ہے؟ عدالت والی مثال کی طرف جاتی ہوئے،کسی بھی واقعہ کی سچائی ظاہر کرنے کےلئے ایک گواہ ہی کافی ہوتا ہے۔   یسوع مسیح ےک جی اٹھنے کے ایک یا دو نہیں بلکہ پانچ سو سے بھی زیادہ گواہ ہیں۔ 

 

       اس لئے ختم کرتی ہوئےیسوع مسیح کے جی اٹھنے کے دو قسم کے گواہ ہیں۔   پہلا روح القدس اور اس کا اظاہر۔   اس کے علاوہ، جی اٹھنے کے عینی شواہدین ہیں،جن کی گواہی خدا کے کلام میں درج ہے۔   جیسا کہ ہم نے درج بالا میں پڑھا:جی اٹھا مسیح بہت دنوں تک، بہت سے سچے ثبوتوں کے ساتھ بہت سے لوگوں کو دکھائی دیتا رہاتا کہ اس کے جی اٹھنمے کا کوئی شک نہ رہے۔ 

 

       حقیقتاً آپ کتنے ایسے واقعات جانتی ہیں جو ثبوتوں کی کثرت کو پیش کرتی ہیں، اور جس کے پاس ایک بھی زندہ گواہی ہے؟ذاتی طور پر، جی اٹھنے کے علاوہ، میرے پاس کوئی ایک نہیں ہے۔ 

 

 3اعمال3باب26آیت:

       جی اٹھنے کے گواہ دیکھنے کے بعد، اور اس حقیقت کو جاننے کے بعد کہ اسی کی بدولت ایسا ہوا کہ روح القدس دستیاب ہوا۔   آیئے اب اس کے مزید چند اثرات دیکھتی ہیں۔  شروع کرنے کےلئے ہم اعمال3باب25آیت پر جاےئں گے۔  اس سے متعلقہ حوالہ پطرس کے یہودیوں کو وعظ کرنے کا ایک حصہ ہے۔ 

 

اعمال3باب26آیت:
خدا نے اپنے خادم کو اٹھا کر پہلے تمہارے پاس بھیجا تاکہ تم میں سے ہر ایک کو اسکی بدیوں سے ہٹا کر برکت دے ۔ 

 

       خدا نے یسوع مسیح کو ہمیں برکت دینے کےلئے زندہ کرنے کے بعد بھیجا۔  اس سے صرف کسی شخص کو برکت ہی مل سکتی ہے۔  تاہم، جی اتھنے کے بعد یہ نہ ہو پاتا۔  اور نہ صرف یہ بلکہ، 1کرنتھیوں15باب17آیت واضح کرتی ہے:

 

1کرنتھیوں15باب17آیت:
”اور اگر مسیح نہیں جی اٹھا تو تمہارا ایمان بے فائدہ ہے تم اب تک اپنے گناہوں میں گر فتار ہو۔
 

 

       اس سے قبل کہ کوئی خداوند یسوع مسیح اور اس کے جی اٹھنے پر ایمان لائے،اسے”گناہوں اورقصوروں میں مردہ“ بیان کیا جاتا ہے (افسیوں 2 باب 1آیت)۔  یہ صورتِ حال صرف اس کے ایمان لانے سے تبدیل ہوتی ہے۔  تاہم، جیسے کہ درج بالا حوالہ بیان کرتا ہے، کہ اگر مسیح نہ جی اٹھتا تو یہ ایمان لانا اور ایمان بے فائدہ اور بے کار ہوتا۔   اس کے علاوہ ہم ابھی بھی اپنے گناہوں میں ہوتی۔  لیکن خوش قسمتی سے، یہ سب کچھ تبھی ہوتا اگر مسیح مردوں میں سے نہ جی اٹھتا۔   اور میں اس لئے خوش قسمتی سے کہہ رہا ہوں کیونکہ:

 

1کرنتھیوں15باب20آیت:
لیکن فی الواقع مسیح مردوں میں سے جی اٹھا ہے اور جو سو گئے ہیں ان میں سے پہلا پھل ہوا۔ 

 

       مسیح مردوں میں سے جی اٹھاہے۔   ہم مزید اپنے گناہوں میں نہیں ہیں۔   ہمارا ایمان لانا بے فائدہ نہیں ہے جیسے کہ افسیوں 2باب 1اور 4 تا8آیت کہتی ہے:

 

افسیوں2باب1اور4تا8آیت:
”اور اس نے تمہیں بھی زندہ کیا جب اپنے قصوروں اور گناہوں کے سبب سے مردہ تھے ۔
  ۔  ۔  مگر خدا نے اپنے رحم کی دولت سے اس بڑی محبت کے سبب سے جو اس نے ہم سے کی ۔  جب قصوروں کے سبب سے مردہ ہی تھے تو ہم کو مسیح کے ساتھ زندہ کیا (تم کو فضل ہی سے نجات ملی ہے )اور مسیح یسوع میں شامل کر کے اس کے ساتھ جلایا اور آسمانی مقاموں پر اس کے ساتھ بٹھایا ۔  تا کہ وہ اپنی اس مہربانی سے جو مسیح یسوع میں ہم پر ہے آنے والوں زمانوں میں اپنے فضل کی بے نہاےت دولت دکھائے ۔  کیو نکہ تم ایمان کے وسیلہ سے فضل ہی سے نجات ملی ہے اور یہ تمہاری طرف سے نہیں خدا کی بخشش ہے ۔ 

 

       اب یسوع مسیح زندہ ہے۔  ہم مزید اپنے گناہوں میں مردہ نہیں ہیں۔  جب مسیح زندہ ہوا، تو ہم اس کے ساتھ جی اٹھے۔  جب اسے زندہ کیا گیا تو ہمیں بھی زندہ کیا گیا۔  جب وہ آسمانی مقاموں میں بیٹھ تو ہم بھی اس کے ساتھ بیٹھے۔  ان سب فقرات میں فعل ماضی کا استعمال یہ ظاہر کرتا ہے کہ خدا کی نظر میں یہ سب باتیں اسی دن ہو چکی ہیں جب مسیح مردوںمیں سے زندہ ہوا۔   ظاہری بات ہے، اگر مسیح نہ جی اٹھتا تو ان میں سے کچھ بھی رونما نہ ہوتا۔ 

 

اختتام:

       اس مطالعہ کو ختم کرتی ہوئے میں یہ جانتا ہوں کہ جی اٹھنے کی حقیقت اور اس کی بدولت ہونے والی چیزوں کی حقیقت پہلے سے ہی واضح ہو جانی چاہئے۔   جی اٹھنے کی بدولت ہمارے پاس روح القدس ہے، جو اس کے اظہار اور عینی شواہدین کے ساتھ اس بات کا ثبوت ہے کہ یسوع زندہ ہے۔   جی اٹھنے کی بدولت ہم مسیح کے ساتھ زندہ ہوئے اور آسمانی مقاموں میں اس کے ساتھ بیٹھے ہوئے تصور کئے جاتی ہیں۔   جی اٹھنے کی بدولت مسیح ہمارے پاس ہمیں برکت دینے کےلئے ہے(کلسیوں1باب27آیت)۔  جی اٹھنے کی بدولت ہمارا ایمان لانا بیفائدہ نہیں اور ہم مزید گناہگار نہیں ہیں۔  جی اٹھنے کی بدولت، جو لوگ مسیح پر ایمان لاتی ہوئے مر گئے، سڑیں گے نہیں بلکہ اس کی دوبارہ آمد پر جی اٹھیں گے۔   یہاں صرف چند ایک چیزیں ہیں جو جی اٹھنے کی بدولت ہیں اور مطالعہ کرنے والے کو یہ تلقین کی جاتی ہے کہ خدا کے کلام میں سے مزید تلاش کرنے کےلئے کلا م پڑھے[3]۔   تاہم، میرا خیال ہے کہ اس واقعہ کی اہمیت جاننے کےلئے یہ کافی ہیںمسیحت کا راہنما، جسکی تعلیم کی ہمکو پیروی کرنی ہے ،مردہ راہنمانہیں ہے۔   جس کی تصدیق خدا نے اسے مردوں میں سے زندہ کرنے سے کی( رومیوں 1باب1 اور 3 تا 4 آیت، اعمال17باب29تا31آیت)اور جو ایک دن دوبارہ واپس آنے والا ہے کہ ان لوگوں کو جوا سکے منتظر ہیں اور ان میں سے ہمیں بھی چن لے اور اپنے ساتھ لے جائے۔ 

 

تسسوس کولچوگلو

اردو  Fahim Qaiser, Napoleon Zaki :

 

 

[1] دوسرے لوگ بھی مردوں میں سے زندہ کئے گئے تھے، مثال کے طور پر لعذر ، لیکن وہ دوبارہ مر گئے۔

[2] کلسیوں 15باب3تا8آیات میں درج کردہ ظاہر ہونے والے واقعات کے علاوہ، کچھ اور واقعات بھی تھے جو ان اناجیل میں درج نہیں ہیں، جیسے کہ مریم مگدلینی کو دکھائی دینا، ان دو آدمیوں کو دکھائی دینا جو عماس کی راہ کو جا رہے تھے اور ”ہفتی کے پہلے دن“ شام کے وقت ، توما کے بغیر، گیارہ کو دکھائی دینا۔

[3] دیکھیں: کیا دن ہے!۔