بائبل کی سچائیاں


ہمارے جدید ترین کالم   |   
موضوع کے مطابق   |    تمام کالم   |    سبسکرائب   |    ہوم   

 

 

 

 

نشان زد کریں اور دوسروں کو شریک کریں

 

 

  PDF version (printer friendly)

 

 

چند حقائق

 

         حال ہی میں میں ایک چینی مصنف،  واچ مین نی ( Watchman Nee )  کی ایک بہت اچھی کتاب ،  “ نیا عہد نامہ  ( The New Covenant )   پڑھ رہا تھا اور اس کے پہلے باب میں مصنف حقائق اور وعدوں میں امتیاز کو واضح کرتا ہے۔  میں نے اس کی وضاحتوں کو بہت سادہ اور روشن پایا ہے۔  یہ حقیقتا ً بہت زبردست بات ہے کہ یہ جانا جائے کہ حقیقت کیا ہے اور وعدہ کیا ہے۔  وعدہ اپنے ساتھ اس بات کا امکان بھی لاتا ہے کہ یہ تب تک پورا نہیں ہوگا جب تک کہ خاص قسم کے حالات نہ ہوں۔  اسی لئے یہ ایک وعدہ ہے۔  اس کالم میں ہم نے ایسا وعدہ ایک دیکھا تھا: اچھی اور دراز زندگی کا وعدہ۔  اس وعدہ کی شرط ماں اور باپ کی عزت کرنا ہے۔  دوسری جانب جب خدا کہتا ہے کہ اگر ہم اپنے گناہوں کا قرار کریں تو وہ ہمارے گناہ ہمیں معاف کرے گا اور ہماری ساری ناراستی سے ہمیں پاک کرے گا ( 1یوحنا1باب 9 آیت ) یہ وعدہ نہیں ہے۔  یہ ایک حقیقت ہے۔  یونہ آپ نے اپنے گناہوں کا اقرار کیا،  آپ کو مزید یہ سوچنے کی ضرورت نہیں ہے کہ آیا کہ وہ معاف ہو چکے ہیں یا آپ کے ساتھ ہی ہیں۔  وہ معاف ہو چکے ہیں۔   یہ وعدہ نہیں ہے۔   یہ ایک حقیقت ہے۔   اس کے علاوہ جب خدا کا کلام ہمیں بتاتا ہے کہ وہ لوگ جو یسوع مسیح پر ایمان رکھتے ہیں وہ خدا کے بیٹے اور بیٹیاں ہیں اور وہ خدا سے پیدا ہوئے ہیں ،  یہ دوبارہ ایک وعدہ نہیں ہے۔  یہ ایک حقیقت ہے۔   اگر آپ ایمان رکھتے ہیں کہ یسوع خداوند ہے اور خدا نے اسے مردوں میں سے جلایا تو آپ خدا کے بیٹے ہیں اور اپ ابھی بیٹے ہیں۔  یہ ایک زبردست حقیقت ہے۔  میرا ایک دوست حال ہی میں مجھے بتا رہا تھا کہ خدا کے ہتھیار کے تمام تر حصے مسیح میں ہماری شناخت کے حصے ہیں۔   شیطان کو جو چیز سب سے زیادہ ڈراتی ہے وہ یہ کہ ہم اسی کے مطابق چلیں جو کہ ہم ہیں۔  اسی جو چیز خوف زدہ کرتی ہے وہ یہ ہے کہ ہم ان باتوں کو جانیں جو خدا کا کلام کہتا ہے کہ ہم میںہیں۔  آپ کو یہ محسوس ہوتا ہے کہ آپ رستباز ہیں یا نہیں اس سے یہ حقیقت نہیں بدل سکتی کہ آپ راستباز ہیں۔  تاہم اس سے آپ کی روز مرہ کی زندگی میں اثر ہوگا۔  شاید آپ راستباز ہوں لیکن اگر آپ اس حقیقت پر یقین نہیں کرتے یا آپ اس سے آگاہ نہیں ہوتے تو آپ فوراً اپنا راستبازی کا بکتر کھو دیتے ہیں ( افسیوں 6 باب14آیت ) شیطان کی توجہ کا مرکز سادہ ہے:  یعنی مسیح میں جو آپ ہیں اسے شک کے وسیلہ سے بھول جائیں یا انکار کر دیں۔ 

 

حقائق بمقابلہ وعدے:  رومیوں 6باب6آیت کا اطلاق

 

         حقائق کی طرف واپس آتے ہوئے، یہاں ایک اور بھی ہے: جب خدا کا کلام کہتا ہے کہ ہمیں یہ بھی شامل کرنا چاہئے کہ ہماری پرانے انسانیت مسیح کے ساتھ مصلوب ہوےءیہ ایک وعدہ نہیں ہے: آپ خدا سے اپنی پرانی انسانیت کے مصلوب ہونے کی دعا نہیں کرتے۔   پرانی انسانیت مصلوب ہو چکی ہے۔  خدا س سے زیادہ نہیں کر سکتا! خدا نے یہ کر دیا ہے!اس نے اسے مصلوب کر دیا ہے۔  اب آپ کی پرانی انسانیت مصلوب ہوچکی ہے۔  بعض لوگ یہ کہیں گے کہ  “ تو پھر ہم ابھی بھی گناہ کیوں کرتے ہیں؟  “ یہاں واچ مین نی اس کا جواب دیتا ہے،   “ بعض لوگوں نے پوچھا “ اگر یہ بات ہے،  تو ہم گناہ کیوں کرتے ہیں؟  اگر پرانی انسانیت پہلے ہی مصلوب کر دی گئی ہے اور اگر ہماری نئی انسانیت ہے،  تو ہم ابھی بھی گناہ کیوں کرتے ہیں؟   یہ ہمیں ایک نئے سوال پر لے جاتا ہے۔   ہمیں خدا کے کامل حقائق کے پہچاننے کےلئے کیا کرنا چاہئے؟  ایک غلطی جو بہت سے لوگ کرتے ہیں وہ یہ کہ وہ خدا کے حقائق کو وعدوں میں تبدیل کر دیتے ہیں۔  پرانی انسانیت مصلوب ہو چکی ہے۔  تاہم،  کچھ لوگ یہ سوچتے ہیں کہ خدا نے پرانی انسانیت کو مصلوب کرنے کا صرف وعدہ کیا تھا۔   وہ سمجھتے ہیں کہ انہیں پرانی انسانیت کو مصلوب کرنے کے لئے خدا سے مانگانا چاہئے۔  جب بھی وہ گناہ کرتے ہیں،  وہ سمجھتے ہیں کہ ان کی پرانی انسانیت ابھی مصلوب نہیں کی گئی۔  پس وہ دوبارہ خدا سے اسے مصلوب کرنے کی دعا کرتے ہیں۔  جب بھی وہ کسی آزمائش میں پڑتے ہیں تو وہ سوچتے ہیں کہ پرانی انسانیت کو ختم نہیں کیا گیا اور وہ خدا سے دعا کرتے ہیں کہ اس کو ختم کرے۔  وہ اس بات کو نہیں جانتے کہ خدا کے حقائق اس کے وعدوں سے مختلف ہیں۔  خدا نے بہت سے کام کئے ہیں۔  حقائق وہ کام نہیں ہیں جو خدا نے کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ 

 

         اس لئے ہمیں دعا کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔  ہمیں اور زیادہ جذبے کے ساتھ دعا کرنے کی نہیں بلکہ ایمان لانے کی ضرورت ہے۔  خدا کے حقائق کےلئے،  ہمیں صرف ایمان لانے کی ضرورت ہے۔  اگر ہم ایمان رکھتے ہیں،  تو ہمیں تجربہ بھی ہوگا۔  حقیقت،  ایمان ،  تجربہ۔   یہ وہ ترتیب ہے جو خدا نے مرتب کی ہے،  اور ہماری روحانی زندگی میں یہ بہت بڑا اصول ہے۔  ہمیں صرف یہ کرنے کی ضرورت ہے:  پہلے،  ہمیں خدا کے حقائق کو جاننا چاہئے۔  خدا کو انہیں ہم پرروح القدس کے وسیلہ سے ظاہر کرنا چاہئے۔  دوسرا،  کسی خاص معاملے میں خدا کے حقائق کو جاننے کے بعد،  ہمیں خدا کے کلام کو مضبوطی سے تھام لینا چاہئے اور اس بات کو ماننا چاہئے کہ ہم پہلے ہی اس کے کلام کے مطابق ہیں۔  خدا کی حقیقت یہ کہتی ہے اور اہم وہی ہیں جو اس کا کلام کہتا ہے۔  تیسرے،  ہمیں اس ایمان کو عمل میں لانا چاہئے اور خدا کا شکر ادا کرنا چاہئے کہ ہم ہی ہیں جو اس کا کلام کہتا ہے کہ ہم ہیں اور ہمیں پہلے سے اسی کے مطابق زندگی گزارنی چاہئے جو ہم ہیں۔  چوتھے جب بھی آزمائشیں اور مصیبتیں آتی ہیں،  ہمیں اس بات پر یقین رکھنا چاہئے کہ خدا کے حقائق اور کلام ہمارے تجربات سے زیادہ قابل بھروسہ ہیں۔  ہمیں بس یہ کرنا ہے کہ مکمل طور پر خدا کے کلام پر ایمان رکھیں؛ وہ ہمیں تجربہ دینے کا ذمہ دار ہوگا۔  اگر ہم صرف اپنے تجربہ پر توجہ دیں گے تو ہم ناکام ہو جائیں گے۔  ہمیں خدا کے حقائق پر ایمان لانے کی طرف توجہ دینی چاہئے۔  ہماری یہی ذمہ داری ہے۔   ہم اپنا تجربہ خدا کو سونپ سکتے ہیں کیونکہ یہ اسی کی ذمہ داری ہے۔ 

 

         ایک مسیحی شخص کے تجربے کی بنیاد رومیوں6باب6آیت ہے۔   ہمیں بس یہ کرنے کی ضرورت ہے کہ ہم خدا کے روح کو اس بات کی اجازت دیں کہ وہ ہم پر یہ ظاہر کرے کہ ہماری پرانی انسانیت مصلوب ہو گئی ہے۔  پھر ہمیں خدا کے کلام کو تھام لینا چاہئے اور ایمان لانا چاہئے کہ ہم گناہ کرنے کےلئے مردہ ہیں۔  اس کے بعد ہمیں اسی طرح زندہ رہنا ہے کہ جیسے ہم پہلے ہی مر چکے ہیں۔  حتیٰ کہ جب آزمائشیں آتی ہیں اور ہمیں بتاتی ہیں کہہم ابھی مرے نہیں ہیں،  ہمیں پھر بھی اپنے تجربے اور احساسات کی بجائے اس سب پر ایمان رکھنا چاہئے جو خدا نے ہمارے لئے کیا۔  اگر ہم یہ کرتے ہیں ،  تو اس کے بعد تجربہ ہوگا۔  ہمیں اس بات پر غور کرنی چاہئے کہ یہ سب کرنے سے خدا کے حقائق حقیقی نہیں بن جاتے۔  بلکہ ہم یہ اس لئے کرتے ہیں کیونکہ خدا کے حقائق پہلے سے ہی حقیقی ہیں۔ 

 

         اگر ہماری پرانی انسانیت نہیں مری،  ہم دعا کرسکتے اور اس سے یہ مانگ سکتے ہیں کہ وہ اسے مصلوب کرے۔  لیکن اگر مصلوبیت ایک مکمل کاحقیقت ہے،  اورہم پھر بھی خدا سے اسے پورا کرنے کا دعا مانگتے ہیں،  تو مزید کہنے کچھ کی کوئی ضرورت نہیں سوائے یہ کہ ہم میں مکمل طور پر ایمان کی کمی ہے۔  خدا کرے کہ خدا کے حضور ہمارا ایمان بڑا ہو۔  میں اس بات کا اقرا کرتا ہوں کہ اگر میں ماضی کے تین سالوں میں ذاتی طور پر بیماری میں سے نہ گزرتا،  مین یہ نہ جان پاتا کہ ایمان کیا ہے۔  بہت سی جگہوں پر میں نے بہت سے بھائیوں کو دیکھا ہے۔  لیکن میں نے بہت کم ایسا کوئی شخص دیکھا ہے جو خدا پر ایمان رکھتا ہے۔  ایمان کیا ہے؟  ایمان سے مراد جو کچھ خدا نے کہا ہے وہ بالکل اسی طرح سے ہے جیسا اس نے کہا ہے۔  یہ ایمان لانا ہی ہے کہ ہر چیز خدا کے کلام کے مطابق ہے۔  خدا نے کہا ہے کہ ہمری پرانی انسانیت مر چکی ہے۔  اس سے مراد یہ ہے کہ ہماری پرانی انسانیت مر چکی ہے۔  ایک حقیقت وہ ہے جو خدا نے مسیح کے وسیلہ سے مکمل کی ہے۔  کوئی بھی شخص مزید اس کے بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتا۔  خدا نے اپنا اکلوتا بیٹا بھیجا کہ ہماری خاطر سب کچھ پورا کرے اور اس نے ہمیں بتایا،  بائبل وسیلہ سے،  کہ اس نے کیا پورا کیا ہے۔   اب جو اس نے پورا کیا تھا وہ ختم ہو چکا ہے؛خدا مزید کچھ نہیں کرسکتا، اور ہمیں اس سے زیادہ کچھ نہیں کرنا چاہئے کہ ایک فروتن دل کے ساتھ اس کے حضور اسے قبول کریںاور ایمان لائیں کہ اس کا کلام حقیقی ہے۔  خدا کرے کہ ہمارے سینکڑوں دل اورغیر ایمانداروں کے بدکار دل ختم کئے جائیں تاکہ ہمیں خڈا کا فضل حاصل ہو۔      ( Watchman Nee, The New Covenant, Living Stream ministry, pp. 19-21 ) ۔   

 

         ایمان اس بات پر یقین رکھنا ہے کہ جو کچھ خدا نے کہا ہے وہ پورا ہوگا! کیا خدا نے کہا ہے کہ ہماری پرانی انسانیت مردہ ہے؟  یہی سچ ہے۔   خدا رومیوں10باب 9اور10آیت میں کہتا ہے کہ اگر کوئی شخص اپنے منہ سے یسوع کے خداوند ہونے کا اقرار کرتا ہے اور اور یہ ایمان رکھتا ہے کہ خدا نے اسے مردوں میں سے جلایا تو وہ نجات پائے گا۔  تو اگر آپ نے یہ کیا ہے،  آپ کو یہ جاننے کی ضرورت نہیں کہ آیا کہ آپ نجات یافتہ ہیں یا نہیں۔   آپ نجات یافتہ ہیں! یہ حقیقت ہے!جب خدا کا کلام ہمیں بتاتا ہے کہ وہ لوگ جو ایمان لاتے ہیں کہ یسوع ہی خداوند ہے وہ خدا سے پیدا ہوئے ہیں  ( 1یوحنا5باب1آیت )  اس سے مراد یہی ہے جو یہ کہتا ہے! اگر آپ اس پر ایمان رکھتے ہیں،  آپ خدا سے پیدا ہوئے ہیں! یہ حقیقت ہے! یہاں اب کی بار افسیوں2باب میں سے کچھ اور حقائق بھی ملتے ہیں:

 

افسیوں2باب1تا10،  19اور20آیت:
“ اور اس نے تمہیں بھی زندہ کیا جب اپنے قصوروں اور گناہوں کے سبب سے مردہ تھے۔
   جن میں تم پیشتر دنیا کی روش پر چلتے تھے اور ہوا کی عملداری کے حاکم یعنی اس روح کی پیروی کرتے تھے جو اب نافرمانی کے فرزندوں میں تاثیر کرتی ہے۔   ان میں ہم بھی سب کے سب پہلے اپنے جسم کی خواہشوں میں زندگی گزارتے اور جسم اور عقل کے ارادے پورے کرتے تھے اور دوسروں کی مانند طبعی طور پر غضب کے فرزند تھے۔   مگر خدا نے اپنے رحم کی دولت سے اس بڑی محبت کے سبب سے جو اس نے ہم سے کی جب قصوروں کے سبب سے مردہ ہی تھے تو ہم کو مسیح کے ساتھ زندہ کیا۔   ( تمکو فضل ہی سے نجات ملی ہے ) ۔  اور یسوع مسیح میں شامل کر کے اس کے ساتھ جلایا اور آسمانی مقاموں میں ا س کے ساتھ بٹھایا۔   تا کہ وہ اپنی اس مہربانی سے جو مسیح یسوع میں ہم پر آنے والے زمانوں میں اپنے فضل کی بے نہایت دولت دکھائے۔   کیونکہ تم کو ایمان کے وسیلہ سے فضل ہی سے نجات ملی ہے اور یہ تمہاری طرف سے نہیں خدا کی بخشش ہے۔  اور نہ اعمال کے سبب سے ہے تا کہ کوئی فخر نہ کرے۔   کیونکہ ہم اسی ی کاری گری ہیں اور مسیح یسوع میں ان نیک اعمال کے واسطے مخلوق ہوئے جن کو خدا نے پہلے سے ہمارے کرنے کےلئے تیار کیا تھا۔  ۔  ۔  ۔  پس اب تم پردیسی اور مسافر نہیں رہے بلکہ مقدسوں کے ہموطن اور خدا کے گھرانے کے ہوگئے ۔   اور رسولوں اور نبیوں کی نیو پر جس کے کونے کے سرے کا پتھر خود مسیح یسو ع ہے تعمیر کئے گئے ہو۔  

 

         جو باتیں درج بالا آیات میں بیان کی گئیں ہیں وہ وعدے نہیں یا ایسی باتیں نہیں جنہیں ہم حاصل کر سکیں یا نہیں۔  اس کی بجائے یہ واضح حقائق ہیں! یہ سچ نہیں ہے کہ آپ گناہوں میں مردہ ہیں! یہ سچ تھا! سچ یہ بات ہے کہ اگر چہ گناہوں اور قصوروں میں مردہ تھے “ خدا نے ہمیں مسیح میں اس کے ساتھ زندہم کیا ( فضل ہی سے تمکو نجات ملی ہے ) ،  اور ہمیں اس کے ساتھ جلایا،  اور مسیح میں آسمانی مقاموں پر اس کے ساتھ بٹھایا۔  یہ حقائق ہیں۔   یہ باتیں وہی کچھ ہیں جو ہم ہیں اور جہاں اب ہم ہیں! یہ ایسی چیز نہیں جس کےلئے آپ کو دعا کرنے کی ضرورت ہے۔  یہ ایسی چیز ہے جس کےلئے آپ کو خدا کا شکر ادا کرنا چاہئے! یہ ہو چکی ہے! درج ذیل کےلئے بھی ایسا ہی ہے:  “ کیونکہ تم کو ایمان کے وسیلہ سے فضل ہی سے نجات ملی ہے اور یہ تمہاری طرف سے نہیں خدا کی بخشش ہے۔  اور نہ اعمال کے سبب سے ہے تا کہ کوئی فخر نہ کرے۔   کیونکہ ہم اسی کی کاری گری ہیں اور مسیح یسوع میں ان نیک اعمال کے واسطے مخلوق ہوئے جن کو خدا نے پہلے سے ہمارے کرنے کےلئے تیار کیا تھا۔   “ آپ کو نجات یافتہ بننے کےلئے انتظار کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔   اگر آپ یسوع پر اور اس کے جی اٹھنے پر ایمان لائے ہیں تو آپ نجات یافتہ ہیں! آپ مزید پردیسی نہیں ہیں۔  یہ آپ تھے! اب آپ خدا کے گھرانے کے ہیں۔  اس بات کا اقرار کریں۔  اس بات پر ایمان رکھیں۔  شیطان جو چاہتا ہے وہ یہ ہے کہ آپ کبھی نہ جانیں کہ آپ مسیح میں کیا ہیں۔  ایک بار اگر آپ جان جاتے ہیں تو وہ اس بات کے پیچھے پڑ اجاتا ہے کہ آپ اس بات پر یقین نہ رکھیں۔  ان میں سے کسی چیز کے شکار مت ہو جائیں۔  خدا کے حقائق ضامن ہیں اور اب یہ آپ کےلئے ہیں۔  ان کے ساتھ جئیں! جیسا کہ واچ مین نی نے کہا:  “ ہمیں اس بات پر غور کرنی چاہئے کہ یہ سب کرنے سے خدا کے حقائق حقیقی نہیں بن جاتے۔  بلکہ ہم یہ اس لئے کرتے ہیں کیونکہ خدا کے حقائق پہلے سے ہی حقیقی ہیں۔   وہ کہتے ہیں نہ کہ دیکھنے سے یقین ہوتا ہے۔  آپ نے یہ خدا کے کلام میں دیکھا،  تو اب یقین رکھیں۔  آپ وہی ہیں جو خدا کہتا ہے کہ آپ ہیں! اس سے کم نہیں۔ 

 

تسسوس کولچوگلو

اردو  Fahim Qaiser, Napoleon Zaki :