بائبل کی سچائیاں


ہمارے جدید ترین کالم   |   
موضوع کے مطابق   |    تمام کالم   |    سبسکرائب   |    ہوم   

 

 

 

 

نشان زد کریں اور دوسروں کو شریک کریں

 

 

  PDF version (printer friendly)

 

 

یسعیاہ58باب

 

       جب سے میں مسیحی بنا ہوںکئی سالوں تک میںنے یسعیاہ58باب کا کئی بار مطالعہ کیا اور یقینا یہ میرے پسندیدہ حوالہ جات میں سے ایک ہے۔ تاہم،  یہ اتنے پر زور انداز سے میرے ساتھ نہیں بولا جتنا آج صبح ہوا۔  اور یقینا یہ ایک بلند آواز والا باب ہے۔ حتیٰ کہ یہ پہلی آیت میں کہتا ہے:

 

یسعیاہ58باب1آیت:
گلا پھاڑ کر چلا۔  دریغ نہ کر۔  نرسنگے کی مانند اپنی آواز بلد کر اور میرے لوگوں پر ان کی خطا اور یعقوب کے گھرانے پر ان کے گناہوں کو ظاہر کر۔

 

       گلا پھاڑکر چلا! یہ پیغام کسی پوشیدہ مقام میں چھپنے کا نہیں۔ یہ ایسا پیغام ہے جو بلند آواز پکارنا چاہئے۔  یہ وہپیغام ہے جو نرسنگے کی مانند سنا جانا چاہئے۔ کیونکہ میں یہ مانتا ہوں کہ بنی اسرائیل کی مانند،  ہم میں سے بھی بہت سے لوگوں کے ساتھ وہی مسئلہ ہوسکتا ہے جو ان کے ساتھ تھا جس کا ذکر پہلی تین آیات میں کیا گیا ہے:

 

یسعیاہ58باب1تا3آیت:
”گلا پھاڑ کر چلا۔
 دریغ نہ کر۔  نرسنگے کی مانند اپنی آواز بلد کر اور میرے لوگوں پر ان کی خطا اور یعقوب کے گھرانے پر ان کے گناہوں کو ظاہر کر۔ وہ روز بروز میرے طالب ہیں اور اس قوم کی مانند جس نے صداقت کے کام کئے اور اپنے خدا کے احکام کو ترک نہ کیا میری راہوں کو دریافت کرنا چاہتے ہیں۔  وہ مجھ سے صداقت کے کام طلب کرتے ہیں۔  وہ خدا کی نیکی چاہتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں ہم نے کس لئے روزے رکھے جب کہ تو نظر نہیں کرتا اور ہم نے کیوں اپنی جان کو دکھ دیا جب کہ تو خیال نہیں کرتا؟ "

 

       اسرائیل خدا کی تلاش کر رہے تھے! بنی اسرائیل کو خدا کی راہوں میں مسرت حاصل ہوئی! وہ خدا تک رسائی پانے میں خوشی محسوس کرتے تھے۔  آپ جانتے ہیں! یہ لوگ خدا کے قریب ہونا چاہتے تھے!وہ زیادہ سے زیادہ خدا کو جاننا چاہتے تھے۔  انہوں نے روزہ رکھا! انہوں نے ”اپنی جان کو دکھ دیا“! اور تاہم۔ ۔ ۔  ایسا لگتا تھا کہ خدا نکی طرف سے بہرہ ہو گیا تھا! ایسا تھا کہ خدا ان کے جواب میں جو وہ کر رہے تھے اندھا اور سخت ہو گیا تھا اور کوئی توجہ نہیں سے رہا تھا۔ اگر آج وہ ہوتے تو وہ چرچ جاتے،  سیمنار میں شرکت کرتے اور ”منسٹری“ کے کام کرتے۔ اور پھر بھی اگر خدا نہ سنتااور ان پر توجہ نہ دیتا۔ کیا آج ہم یہ نہیں دیکھتے، شاید ہماری اپنی زندگیوں میں بھی؟ شاید ہمکسی طرح خدا کو مس کرتے ہیں۔  ہم روزہ رکھنے،  زیادہ سے زیادہ علم حاصل کرنے سے وغیرہ وغیرہ خدا تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ”ہم اس کی راہوں کو دریافت کرنے میں خوش ہوتے ہیں۔ “ تاہم،  خدا کی راہوں کو جاننے سے یہ مراد بالکل نہیں کہ ہم خدا کو جانتے ہیں، نہ ہی اس کا یہ مطلب ہے کہ ہم ان راہوں کی پیروی کرتے ہیں ۔  روزہ رکھنا اور خدا تک پہنچنے میں خوشی محسوس کرنے سے یہ ہر گز مراد نہیںکہ ہمارے دل لازماً نرم ہوگئے ہیں۔ اور یہیں پر تبدیلی کی ضرورت ہے۔ یہیں پر توبہ کا داخل ہونا جروری ہے۔ یہیں پر تبدیلی ہونا ضروری ہے۔  عقل کی تجدید (رومیوں 12باب2آیت) دل کی تجدید ہے۔ جیسا کہ خداوند ہمیں 1سیموئیل 16باب7آیت میں کہتا ہے:

 

1سیموئیل16باب7آیت:
”انسان ظاہری صورت کو دیکھتا ہے پر خداوند دل پر نظر کرتا ہے۔ “

 

       یہ دل ہی ہے جہاں خدا نظر رکھتا ہے۔  یہ کوئی روایت نہیں ہے جس کی پیروی ہم نے خداوند تک پہنچنے کےلئے کرنی ہے:  فلاں وقت پر اٹھنا ہے،  فلاں کام فلاں کام کرنا ہے،  ہر اتوار چرچ جانا ہے،  فلاں فلاں منسٹری کا کام کرنا ہے۔  اس سے ہم خدا کے قریب نہیں ہوں گے، اگر دل میںکوئی تبدیلی نہیںہے۔ اگر ہم چرچ جاتے ہیں،  فلاں فلاں منسٹری کے کام کرتے ہیں،  اور ہماری ذاتی زندگیوں میں،  ہمارے دلوں میں،  ہم کسی اور طرح سے زندگی جیتے ہیں،  تو جو کچھ بھی ہم کر لیں اس سے کوئی فائدہ نہیں ہونے والا۔  شاید ہم اسرائیل کی مانند بہت اچھی طرح چلا سکتے ہیں کہ، ” تو کیوں نہیں دیکھتا؟ “ اور اس کی وجہ کہ وہ ہمیں کیوں نہیں دیکھتا مارے دلوں میں پائی جاتی ہے۔  یہاں ہے جو اس نے بنی اسرائیل کو جواب میں کہا:

 

یسعیاہ58باب3تا5آیت:
”دیکھو تم اپنے روزہ کے دن میں اپنی خوشی کے طالب رہتے ہو اور سب طرح کی سخت محنت لوگوں سے کراتے ہو۔
 دیکھو تم اس مقصد کےلئے روزہ رکھتے ہو کہ جھگڑا گڑا کرو اور شرارت کے مکے مارو۔  پس اب تم اس طرح کا روزہ نہیں رکھتے ہو کہ تمہاری آواز عالم بالا پر سنی جائے۔  کیا یہ وہ روزہ ہے جو مجھ کو پسند ہے؟  ایسا دن کہ اس میں آدمی اپنی جان کو دکھ دے اور اپنے سر کو جھاﺅ کی طرح جھکائے اور اپنے نیچے ٹاٹ اور راکھ بچھائے؟  کیا تو اس کو روزہ اور ایسا دن کہے گا جو خداوند کا مقبول ہو؟

 

       وہ لوگ روزہ رکھتے تھے مگر بالکل اسی روز وہ اپنے کام کرنے والوں پر سختی کرتے تھے۔ وہ روزہ رکھتے تھے مگر اس کے ساتھ ساتھ وہ جھگڑا گڑا کرتے تھے۔ ۔ ۔ ۔  اور درحقیقت وہ اسی کےلئے روزہ رکھتے تھے۔ ”اے خداوند اس شخص کے ذہن میں تبدیلی پیدا کر،  دیکھ میں تو ٹھیک ہوں۔ “وہ اپنی جان کو دکھ دیتے تھے اور اپنے سروں کو جھاﺅ کی مانند جھاکاتے تھے اور ٹاک بچھاتے اور راکھ ڈاکتے تھے مگر ان کے دل ابھی بھی ویسے ہی سخت تھے۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ خداوند نے کیا کہا:  یہ روزہ نہیں ہے! حقیقی روزے کا تعلق دل کی تبدیلی سے ہے۔  جتنے دن مرضی کھانے کے بغیر رہ لیں۔ ۔ ۔ ۔ اگر دل تبدیل نہیں ہو ا تو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔  اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ عموماً روزے کا کوئی فائدہ نہیں۔  اس کا مطلب یہ ہے کہ دل کی تبدیلی کے بنا روزے کا کوئی فائدہ نہیں۔  اور پھر خداوند اپنے لوگوں کو یہ بتاتے ہوئے آگے بڑھتا ہے کہ حقیقی روزہ کیا ہے:

 

یسعیاہ58باب6اور7آیت:
”کیا وہ روزہ جو میںچاہتاہوں یہ نہیں کہ ظلم کی زنجیریں توڑیں اور جوئے کے بندھن کھولیں اور مظلوموں کو آزاد کریں بلکہ ہر ایک جوئے کو توڑ ڈالیں؟ کیا یہ نہیں کہ تو اپنی روٹی بھوکے کو کھلائے اور مسکینوں کو جو آوارہ ہیں اپنے گھر میں لائے اور جب کسی کو ننگا دیکھے تو اسے پہنائے اور تو اپنے ہم جنس سے روپوشی نہ کرے؟

 

       دیکھیں،  کہ یہ کوئی مختلف قسم کا بیان نہیںہے۔  جو خداوند یہاں کہتا ہے وہ کام ہے۔  تاہم،  مذہبی امور میں کام نہیں بلکہ انصاف کے معاملے میں کام،  اس کی مرضی کو پورا کرنا۔  یہ کسی ایسے شخص کی تصویر نہیں جس نے دنیا سے دوستی کی اور خود کے لئے بہتر زندگی گزاری اور دوسروں کی بالکل پروا نہ کی۔  اور پھر بھی ایسے بہت سے چرچ میں جانے ولے بھائی ہیں جو یہ کام کرتے ہیں۔ وہ اپنی مذہبی ذمہ داریاں پوری کرتے اور منسٹری کے کام کرتے اور سمجھتے ہیں کہ اب وہ جیسے چاہیں زندگی گزار سکتے ہیں۔  ایسے بہت سے لوگ ہیں جو دوہری زندگی گزارتے ہیں۔ ۔  ۔  ایک زندگی ان کے ساتھ جو باہر ہیں اور دوسری زندگی اپنے گھر والوں کے ساتھ۔ آپ جیسے چاہیں اپنی زندگی گزار سکتے ہیں مگر یہ کرنےکیآپ کو اجازت نہیں اور نہ ہی اس سے آپ کو کوئی فائدہ ہونے والا ہے۔ بہت سے لوگ ہیںجو کہتے ہیں کہ، ” میں دہ یکی دیتا ہوں،  میں ”منسٹری کے کام “ کرتا ہوں مگر میں نہیں جانتا کہ خدا کو مجھ سے کیا مسئلہ ہے۔ “اس کی وجہ یہ ہے کہ ذمہ داریاں پوری کرنے کے علاوہ دل کی تبدیلی نہیں ہے۔  اس کےلئے دل کی تبدیلی کی ضرورت ہے،  اس کےلئے حلیم دل کی ضرورت ہے،  کہ اپنا کھانا بھوکوں کے ساتھ بانٹا جائے،  اور اسے اپنے گھرلے جایا جائے۔  اس کام کو نہ کرنے کےلئے جو اس دنیا میں کرنا بہت آسان ہے دل کی تبدیلی کی ضرورت ہے:  مختلف ہونا۔  بدی کے جوئے سے آزاد ہونا اور بوجھ کو تونے کےلئے دل کی تبدیلی کی ضرورت ہے۔  اس کےلئے ہمارے مذہنی کاموں کو تبدیل کرنے کی ضرورت نہیں۔  اس کےلئے دل کی تبدیلی کی ضرورت ہے۔ اور اگر چہ خدا کی مدد کے بنا کچھ بھی ممکن نہیں، مگر اس کے لئے ہم ہی واحد زمہ دار ہیں۔ ہم ہی اس کا فیصلہ کرنے والے ہیں کہ ہم نے کون سی راہ پر چلنا ہے۔ ہم ہی ہیں جو یہ فیصلہ کریں گے اور کہیں گے:  میں تبدیل ہونا چاہتا ہوں۔ “تب خدا ہماری مدد کرے گا۔ خدا تب تک ہمارے معاملے میں مداخلت نہیں کرے گا جب تک ہمارا دل اسے نہیں چاہتا۔ ہم ابھی یہ پڑھیںگے کہ ”خدا کے نزدیک جاﺅ تو وہ تمہارے نزدیک آئے گا۔ “خدا صرف اسی صورت ہمارے پاس آئے گا اگر ہم چاہیںگے کہ وہ ہمارے پاس آئے۔  خدا کا کلام یعقوب 4باب میں کہتا ہے:

 

یعقوب4باب1تا10آیت:
”تم میں لڑائیاں اور جھگڑے کہاں سے آگئے؟
 کیا ان خواہشوں سے نہیں جو تمہارے اعضا میں فساد کرتی ہیں؟  تم خواہش کرتے اور تمہیں ملتا نہیں۔  خون اور حسد کرتے ہو اور کچھ حاصل نہیں کر سکتے۔ تنم جھگڑتے اور لڑتے ہو تمہیں اس لئے نہیں ملتا کہ تم مانگتے نہیں۔  تم مانگتے ہو اور پاتے نہیں اسلئے کہ بری نیت سے مانگتے ہو تا کہ اپنی عیش و عشرت میں خرچ کرو۔  اے زنا کرنے والیو! کیا تمہیں نہیں معلوم دنیا سے دوستی رکھنا خدا سے دشمنی کرنا ہے؟  پس جو کوئی دنیا کا دوست بننا چاہتا ہے وہ اپنے آپ کو خدا کادشمن بناتا ہے۔  کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ کتاب مقدس بے فائدہ کہتی ہے؟  جس روح کو اس نے ہمارے اندر بسایا ہے کیا وہ ایسی آرزو کرتی ہے جس کا انجام حسد ہو؟  وہ تو زیادہ توفیق بخشتا ہے۔  اسی لئے یہ آیا ہے کہ خدا مغروروں کا مقابلہ کرتا ہے مگر فروتنوں کو توفیق بخشتا ہے۔  پس خدا کے تابع ہو جاﺅ اور ابلیس کا مقابلہ کرو تو وہ تم سے بھاگ جائے گا۔  خدا کے نزدیک جاﺅ تو وہ تمہارے نزدیک آئے گا۔  اے گناہگارو! اپنے ہاتھوں کو صاف کرو اور اے دو دلو! اپنے دلوں کو پاک کرو۔  افسوس اور ماتم کرو اور روﺅ۔  تمہاری ہنسی ماتم سے بدل جائے اور تمہاری خوشی اداسی سے۔  خداوند کے سامنے فروتنی کرو۔  وہ تمہیں سر بلند کرے گا۔ “

 

       کیا آپ نے کبھی یہ غور کیا ہے کہ یہ دنیاکے لوگوں سے نہیں بلکہ مسیحیوں،  ایماندار بھائیوں اور بہنوں سے کہا گیا ہے(یعقوب1باب 2اور3 آیت)؟ !!!ان میں لڑائیاں،  شہوتیں،  دشمنیاں،  قتل و غارت اور ایسی بہت سی برائیاں تھیں جنہیں گلتیوں5باب19تا21آیات میں جسم کے پھل بیان کیا گیا ہے۔  اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ خدا تک نہیں پہنچ سکتے تھے۔  آپ دل کی غیر تبدیلی اور اس کے ساتھ ساتھ خدا کا آپ کے قریب آنے کی توقع نہیں کر سکتے، صرف اس لئے کہ آپ اسے جاننے اور اس تک پہنچنے میں خوشی محسوس کرتے ہیں۔ اس تک پہنچنے کا ارادہ رکھنا کافی نہیں۔  نیک ارادے رکھنا ہی کافی نہیں! آپ کو یہ کرنے کی ضرورت ہے۔  آپ کو تبدیل ہونے کی ضرورت ہے۔  آپکو ایک دن سے دوسرے دن تک جانے سے باز آنے کی ضرورت ہے،  بلکہ رکیں اور فیصلہ کریں۔ خدا تک پہنچنے کی حقیقی رسائی تب ہوتی ہے جب دل اس سمت میں تبدیل ہوتا ہے۔  یعقوب یہ نہیں کہتا کہ ”زیادہ سے زیادہ چرچ جاﺅ۔ ۔ ۔  مزید سر گرمیاں شروع کرو۔ ۔ ۔  کچھ دن تک روزہ رکھو اور ہر روز کلام کے چار ابواب کا مطالعہ کرو۔ “ وہ یہ نہیں کہتا! اس لئے نہیں کہ یہ چیزیں بری،  بدی یا غلط ہیں۔  بالکل نہیں۔  وہ آپ کو یہ ہدایات اس لئے نہیں دیتا کیونکہ صرف یہ ہدایات آپ کو خدا کے قریب نہیں لے جاتیں،  جب کہ دل تبدیل نہیں ہوا۔  اس کے برعکس یہاں ہے جو وہ،  خداوند کے روح کے وسیلہ سے،  ہمیں بتاتا ہے:

 

یعقوب4باب7تا10آیت:
”پس خدا کے تابع ہو جاﺅ اور ابلیس کا مقابلہ کرو تو وہ تم سے بھاگ جائے گا۔
  خدا کے نزدیک جاﺅ تو وہ تمہارے نزدیک آئے گا۔  اے گناہ گارو!  اپنے ہاتھوں کو صاف کرو اور اے دو دلو! اپنے دلوں کو پاک کرو۔  افسوس اور ماتم کرو اور روﺅ۔  تمہاری ہنسی ماتم سے بدل جائے اور تمہاری خوشی اداسی سے۔  خداوند کے سامنے فروتنی کرو۔  وہ تمہیں سر بلند کرے گا۔ “

 

       خدا کے تابع ہو جاﺅ! ابلیس کا مقابلہ کرو۔  اپنے ہاتھوں کو صاف کرو،  اور یہ جسمانی صفائی نہیں بلکہ اس سے تعلق رکھتی ہے جو ان ہاتھوں نے کام کیا ہے۔ ۔ ۔ ۔  یہ اعمال سے تعلق رکھتی ہے! اپنے دلوں کو پاک کرو۔  یہ نہیں کہا گیا کہ، ” آپ جیسے ہیں ویسے ہی رہیں اور خدا آپ کو تبدیل کرے گا!“ یہ کہتا ہے، ” آپ،  اپنے دل کو پاک کریں۔  ہم ہیں جو یہ کر سکتے ہیں۔  کیا آپ خداوند کے ساتھ بہترین تعلق رکھنا چاہتے ہیں؟  اس کا حل صرف یہ ہے :  دل کی تبدیلی۔

 

       یسعیاہ اور بنی اسرائیل کی طرف آتے ہوئے،  یہ بتانے کے بعد کہ انہیں کیا کرنا چاہئے،  خداوند انہیں بتاتا ہے کہ جب وہ ن سب باتوں کی پیروی کریں گے جو اس نے ان سے کہیں تو کیا ہو گا،  یعنی اگر وہ اپنے دلوں کو تبدیل کریں تو کیا ہوگا:

 

یسعیاہ58باب8تا14آیت:
”تب تیری روشنی صبح کی مانند پھوٹ نکلے گی اور تیری صحت کی ترقی جلدی ظاہر ہو گی۔
 تیری صداقت ہراول ہوگی اور خداوند کا جلال تیر ا چنڈاول ہو گا۔  تب تو پکارے گا اور خداوند جواب دے گا۔  تو چلائے گا اور وہ فرمائے گا میں یہاں ہوں،  اگر تو اس برے کو اور انگلیوں سے اشارہ کرنے کو اور ہر زہ گوئی کو درمیان سے دور کرے گا اور اگر تو اپنے دل کو بھوکے کی طرف مائل کرے اور آزردہ دل کو آسودہ کرے تو تیرا نور تاریکی میں چمکے گا اور تیری تیرگی دوپہر کی مانند ہو جائے گی۔  اور خداوند سدا تیری راہنمائی کرے گا اور خشک سالی میں تجھے سیر کرے گا اور تیری ہڈیوں کو قوت بخشے گا۔  پس تو سیراب باغ کی مانند ہو گا اور اس چشمہ کی مانند جس کا پانی کم نہ ہو۔  اور تیری لوگ قدیم ویران مکانوں کو تعمیر کریں گے اور تو پشت در پشت کی بنیادوں کو بر پا کرے گا۔ اور تو رخنہ کو بند کرنے والا اور آبادی کےلئے راہ کا درست کرنے والا کہلائے گا۔  اگر تو سبت کے روز اپنا پاﺅں روک رکھے اور میرے مقدس دن مین اپنی کوشی کا طالب نہ ہو اور سبت کو راحت اور خداوند کا مقدس اور معظم کہے اور اس کی تعظیم کرے،  اپنا کاروبار نہ کرے اور اپنی کوشی اور بے فائدہ اتوں سے دست بردار رہے۔  تب تو خداوند میں مسرور ہوگااور مین تجھے دنیا کی بلندیوں پر لے چلوں گا اور میں تجھے تیرے باپ یعقوب کی میراث سے کھلاﺅں گا کیونکہ خداوند ہی کے منہ سے یہ ارشاد ہوا ہے۔ “

 

       کیا آپ یہ کہنا کہ ”اے خدایا!۔ ۔ ۔  او ر اس سے یہ سننا چاہتے ہیں ” میں یہاں ہوں“ ؟  کیا آپ اسے بلانا اور اس کا جواب سننا چاہتے ہیں؟

       اس کا طریقہ کار سادہ سا ہے۔ ۔ ۔ جو کچھ یسعیاہ 58اور یعقوب نے ہمیں ایک اور انداز میں بتایا وہ کریں:

 

 ظلم کی زنجیریں توڑ

 اور جوئے کے بندھن کھولی

اور مظلوموں کو آزاد کر

 بلکہ ہر ایک جوئے کو توڑ ڈال۔

 تو اپنی روٹی بھوکے کو کھلا

 اور مسکینوں کو جو آوارہ ہیں اپنے گھر میں لا

 اور جب کسی کو ننگا دیکھے تو اسے پہنا اور تو اپنے ہم جنس سے روپوشی نہ کر۔

 تو اس برے کو اور انگلیوں سے اشارہ کرنے کو اور ہر زہ گوئی کو درمیان سے دور کر

 تو اپنے دل کو بھوکے کی طرف مائل کراور آزردہ دل کو آسودہ کر۔

 

       اگر خدا کے ساتھ رشتہ زندہ نہیں ہے،  اگر خدا کے ساتھ رشتہ کمزور ہے،  اگر خدا کے ساتھ وہ رشتہ نہیں جوہونا چاہئے،  تو اس کا صرف ایک اور واحد علاج ہے:  دل کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔  اور یہ آپ کےلئے ایک اسائنمینٹ ہے۔  آپکو یہ کرنے کا فیصلہ کرنے پڑے گا۔  خدا کسی بھی دوسری چیز سے زیادہ یہ چاہتا ہے۔  مگر آپکوتبدیل ہونے کا فیصلہ کرنا پڑے گا۔ جو آپ نے کرنے کا فیصلہ کیا ہے خدا س میں مداخلت نہیں کر سکتا۔  خدا سب آدمیوں کی نجات چاہتا ہے اور یہ کہ ہر کوئی سچائی تک پہنچے، مگر انسان ہی ہے جو فیصلہ کرتا ہے۔  اپنے دل کو پاک کریں،  دل کو تبدیل کریں اور پھر فیصلہ کریں،  آپ اسے بلائیں گے وہ وہاں آپ کے پاس ہوگا اور اس سے کہیں زیادہ قریب ہوگا جو آپ نے سوچا تھا۔  یہ کوئی خواب نہیں ہے۔  یہ بات یقینی ہے اور اس باب کی آخری آیت اس کی تصدیق کرتی ہے،  خداوند ہی کے منہ سے یہ ارشاد ہوا ہے۔ “ یہ اس کا آپ کے ساتھ وعدہ ہے،  یہ اس کے منہ سے کہی گئی بات ہے اور یہی ہوگا۔  اس کے برعکس یہی ہوتا ہے:  آپ تمام تر مذہبی سر گرمیاں سر انجام دے سکتے ہیں،  ہر روز روزہ رکھ سکتے،  ساری بائبل کو رٹ سکتے ہیں،  بہت سے سیمنار وںمیں جا سکتے ہیں وغیرہ وغیرہ۔  لیکن اگر آپ دل کو تبدیل نہیں کرتے کچھ نہیں ہوگا، کیونکہ خدا ظاہر کی پروا نہیں کرتا،  جو ہماری آنکھ دیکھتی ہے، مگر اندرون کو دیکھتا ہے،  دل کو۔  وہ وہاں،  ہمارے پورے دل سے محبت چاہتا ہے(متی22باب37آیت)! آئیے آنے والے ایام کو ہم سب کےلئے تبدیلی کے ایام بنائیں۔

 

تسسوس کولچوگلو

اردو  Fahim Qaiser, Napoleon Zaki :