بائبل کی سچائیاں


ہمارے جدید ترین کالم   |   
موضوع کے مطابق   |    تمام کالم   |    سبسکرائب   |    ہوم   

 

 

 

 

نشان زد کریں اور دوسروں کو شریک کریں

 

 

  PDF version (printer friendly)

 

 

خدواند میں آرام کرو

 

          ہماری دنیا میں منتشر ہو جانا بہت آسان ہے۔ آج کل مصروفیت بہت بڑی بیماری ہے جس کے ہم سب شکار ہیں۔ آرام اس کا اور ان چیزوں کا مخالف ہے جو خداوند ہمیں پیش کرنے کو آیا۔ متی 11باب 28تا 30آیات میں وہ کہتا ہے:

 

متی11باب 28تا 30آیت:

”اے محنت اٹھانے والو! اور بوجھ سے دبے ہوئے لوگو میرے پاس آ میں تم کو آرام دو ں گا میرا جوا اپنے اوپر اٹھا لو اور مجھ سے سیکھو کیونکہ میں حلیم ہوں اور دل کا فروتن۔  تو تمہاری جانیں آرام پائیں گی۔  کیونکہ میرا جوا ملائم اور میرا بوجھ ہلکا ۔ “

 

          یسوع مسیح واحد وہ ہستی ہے جو ہماری روح کو آرام دیتاہے۔ اگر آپ کی روح خطرے میں ہے، اگر ااپ کی روح تھکی ہے، اگر ااپ کی روح بوجھ سے دبی ہوئی ہے، تو آپ درست حوالہ پڑھ رہے ہیں۔  یسوع آپ کو آرام دینے کیلئے آیا! جب آپ کے بچے بڑے ہو جائیں گے تب آپ کو آرام نہیں ملے گا۔  یا جب آپ کی شادی ہو جائے گی، یا جب آپ کا بنک اکانٹ کافی مظبوط ہو جائے گا۔  آگر آپ یسوع کے پاس جاتے ہیں تو آپ کو آرام ملے گا۔  اگر آپ اپنا بوجھ اس کے ہاتھوں میں دیتے ہیں اور اس کا نرم اور ہلکا جوا اٹھا لیتے ہیں صرف تب ہی آپ آرام پائیں گے۔ جیسا کہ کلام پاک فلپیوں میں کہتا ہے:

 

فلپیوں 4باب6اور 7آیت:

”کسی بات کی فکر نہ کرو بلکہ ہر ایک بات میں تمہاری درخواستیں دعا اور منت کے وسیلہ سے شکرگزاری کے ساتھ خدا کے سامنے پیش کی جائیں۔  تو خدا کا اطمینان جو بالکل سمجھ سے باہر ہے تمہارے دلوں اور خیالوں کو مسیح یسوع میں محفوظ رکھے گا۔ “

 

          کسی بات کی فکر نہ کرو! جی ہاں کسی بات کی بھی نہیں!!! آپ کے بچے، آپ کی نوکری، آپ کی صحت ،آپ کے دکھ درد، آپ کا پیسہ،اور آپ کے باقی چیزیں سب اس میں شامل ہیں۔ اس بیان میں کچھ بھی نکالا نہیں گیا۔ ایسا اس میں کچھ بھی ہمیں جو ہمیں پریشان کر سکے۔ اور یہ آیت ہمیں یہ بتاتے ہوئے کہ فکر مند نہ ہونے کی بجائے کیا کربنا چاہئے آگے بڑھتی ہے:”بلکہ ہر ایک بات میں تمہاری درخواستیں دعا اور منت کے وسیلہ سے شکرگزاری کے ساتھ خدا کے سامنے پیش کی جائیں۔  تو خدا کا اطمینان جو بالکل سمجھ سے باہر ہے تمہارے دلوں اور خیالوں کو مسیح یسوع میں محفوظ رکھے گا۔ “سلامتی!!! سلامتی پانے کیلئے یا فلاں فلاں برکات حاصل کرنے کیلئے آپ کو فلاں یا فلاں کام مکمل نہیں کرنا پڑےگا یا بلکہ فکر مند ہونے کی بجائے ہر چیز شکر گزاری کے ساتھ درخواستوں اور منتوں کی بدولت پیش کریں۔ جب آپ اس میں آرام کریں گے توں آپ کی حفاظت کرنا اس کا کام ہے۔ اور اس میں آرام پنے سے آپ میں طاقت پیدا ہوتی ہے! یسعیاہ 30باب 15تا 18آیت میں یہ کیا کہتا ہے:

 

یسعیاہ30باب 15آیت:

”کیونکہ خداوند یہوواہ اسرائیل کا قدوس یوں فرماتا ہے کہ واپس آنے اور خاموش بیٹھنے میں تمہاری سلامتی ہے۔  خاموشی اور توکل میں تمہاری قوت ہے پر تم نے یہ نہ چاہا۔ “

 

          ہماری قوت خداوند میں آرام کرنے سے ہے۔ خاموشی اور توکل میں ! میں اسے RRQCکلب کہتا ہوں : واپسی، آرام، خدا کے حضور خاموش اور توکل رکھو۔  خاموشی کو دیکھتے ہوئے ہم مثال کے طور پر اس کی اہمت یسوع مسیح کی زندگی میں دیکھ سکتے ہیں: اور صبح سویرے وہ اٹھ کر نکلا اور ایک ویران جگہ پر گیا اور دعا کی(مرقس 1باب35آیت)۔ اسے خدا کے ساتھ خاموشی میں وقت چاہئے تھا۔ ہمیں بھی ایسے اوقات کی ضرورت ہے۔ ہمیں بہت سے کاموں والا اوقات نامہ نہیں چاہئے۔ ہمیں کاموں میں سے قوت نہیں بلکہ خدا کے ساتھ خاموشی اور توکل رکھنے سے قوت ملے گی۔ یہ خاموشی اور توکل والا وقت ہی ہوتا ہے جب خدواند ہماری سن سکتا ہے۔

 

          یسعیاہ 16آیت پر واپس آتے ہیں یہ ہمیں لوگوں کی خدا کے آگے واپسی، آرام ،خاموشی اور توکل کی التجا اور اس پر خداوند کے جواب کے بارے میں بتاتی ہے:

 

یسعیاہ 30باب16آیت:

”تم نے کہا نہیں ہم تو گھوڑوں پر چڑھ کر بھاگیں گے اس لئے تم بھاگو گے اور کہا ہم تیز رفتار جانوروں پر سوار ہوں گے پس تمہارا پیچھا کرنے والے تیز رفتار ہوں گے۔  ایک کی جھڑکی سے ایک ہزار بھاگیں گے ۔  پانچ کی جھڑکی سے تم ایسا بھاگو گے کہ تم اس علامت کی مانند جو پہاڑ کی چوٹی پر اور اس نشان کی مانند جو کوہ پر نصب کیا گیا ہو رہ جا گے۔ “

 

          ان لوگوں کا منصوبہ تھاکہ وہ یہ کام کیسے کرتے۔ آپ بھی کہہ سکتے ہیں کہ ”نہیں۔ ۔ ۔ “ آپ سارا دن سخت محنت کر سکتے اور خیال رکھ سکتے ہیں۔ آپ اس کی قیمت جانتے ہیں کیا؟کمزوری، خوف، مایوسی، شکست۔  جتنا زیادہ اپنے” گھوڑے کی قوت“ پر اعتماد کریں گے اتنا زیادہ ہی آپ کمزور اورخشک ہوجائیں گے۔ قوت، زندگی اور آرام پانے کا صرف ایک ذریعہ خداوند میں آرام پانا ہے۔ اس کے حضور خاموش اور توکل رکھنا۔ کسی بات کی فکر نہ کرنا اور اپنی پریشانیاں اس کی حفاظت میں دینا۔ صرف یہی ایک ذریعہ ہے۔

 

یرمیاہ 6باب16اور 17آیت

 

          ہمارے موضوع کی طرف بڑھتے ہوئے، آیئے یرمیاہ 6باب16اور 17آیت پر جاتے ہیں بالکل یسعیاہ کی طرح یرمیاں 6باب 16اور17آیت بھی ہمیں بتاتی ہے کہ:

 

یرمیاہ 6باب16اور 17آیت

”خداوند یوں فرماتا ہے کہ راستوں پر کھڑے ہو اور دیکھو اور پرانے راستوں کی بابت پوچھو کہ اچھی راہ کہاں ہے؟اسی پر چلو اور تہماری جان راحت پائے گی پر انہوں نے کہا ہم اس پر نہ چلیں گے۔  اور میں تم پر نگہبان بھی مقرر کئے اور کہا نرسنگے کی آواز سنو پر انہوں نے کہا ہم نہ سنیں گے۔ “

 

          ”پرانے راستے۔  پرانے راستوں پر چلو۔  ہمارا خدا کہتا ہے کہ ، پرانے سیدھے راستوں پر چلو تو تمہاری جان راحت پائے گی۔ “واپس آ، آرام پا اور خدا میں خاموشی اور توکل رکھو۔ آج ہی RRQCکلب میں آجا۔  یسوع راہنما ہے اور وہ آپ کو آرام اور سلامتی دے گا۔ اس کیلئے قیمت کچھ بھی نہیں سوائے آپ کی حفاظت کے!آپ کو اپنی تمام تر پریشانیاں خداوند کو دینی ہوں گی اور آپ وک سلامتی عطا کی جائے گی۔ آپ کس بات کو ترجیح دیں گے:مصروفیت اور انتشار کو یا آرام اور سلامتی کو؟خشکی اور کمزوری کو یاپھلداری اور مظبوطی کو؟ موت یا زندگی کو؟حقیقتاً یہ اتنا ہی پچیدہ ہے۔ خداوند میں آرام کا معاملہ ایک روحانی جنگ ہے! پھلداری اور غیر پھلداری میں ایک تضاد۔  جیسے 37زبور 7آیت ہمیں دوبارہ یہ بتاتا ہے کہ:

 

37زبور 7آیت :

”خداوند میں مطمین رہ اور صبر سے اس کی آس رکھ۔ “

 

          آئیے صبر سے خداوند میں آس رکھیں اور اس میں آرام پائیں! آیئے کسی بھی دیسی تخم کو ہمارے باغیچہ میں نہ پھلنے دیں اور ہمارے درخت کو پھلدار بنائیں۔

 

تسسوس کولچوگلو

اردو  Fahim Qaiser, Napoleon Zaki :