بائبل کی سچائیاں


ہمارے جدید ترین کالم   |   
موضوع کے مطابق   |    تمام کالم   |    سبسکرائب   |    ہوم   

 

 

 

 

نشان زد کریں اور دوسروں کو شریک کریں

 

 

  PDF version (printer friendly)

 

 

 

ساﺅ ل بمقابلہ داﺅد

 

 

        حال ہی میں میں 1سیموئیل میں ،  ساﺅل بادشاہ کی سلطنت کی ابتدا کے بارے میں پڑھ رہا تھا۔  ساﺅل کو بہت کم عرصے میں ہی بادشاہ بنا دیا گیا تھا۔  حتیٰ کہ اس سے قبل کہ وہ سمجھتا کہ کیا ہو رہا تھا،  اسے پتہ چلا کہ وہ بادشاہ تھا۔  اس میں ضروری خاصیت اور قابلیت نہیں تھی۔  وہ ابتدا میں بہت حلیم شخص تھا۔   یہاں تک کہ جب اس کا نام پکارہ گیا تو وہ باہر آنے کی ہمت بھی نہیں رکھتا تھا(1سیموئیل 10باب22آیت)۔   مگر بنی اسرائیل اس قدر جلدی میں تھے اور وہ بادشاہ مانگ رہے تھے۔   میں شرطیہ کہہ سکتا ہوں کہ وہ مزید انتظا ر نہیں کر سکتے تھے۔   وہ ایک بادشاہ چاہتے تھے اور وہ ابھی چاہتے تھے۔  اس لئے جس طرح سے ساﺅل کا دور ختم ہوا وہ حیرانگی والی بات نہیں۔   ہم میں سے اکثر لوگ اسی طرح سے ختم ہوتے ہیں۔   ہم نہیں جاتے کہ کیا کریں،  ہمارا غرور اٹھ کھڑا ہوگا،  اور ہم اسی کشمکش میں رہیں گے کہ ہمارے پاس ضروری قابلیت اور خاصیت نہیں ہے۔   یہ جاننا ضروری نہیں کہ کیا کیا جائے،  بلکہ انتظار کرنے اور تلاش کرنے کی خاصیت کا ہونا ضروری ہے کہ کیا کیا جا سکتا ہے۔  مجھے ایسا لگتا ہے کہ ساﺅل اسرائیلیوں کی ضد کا شکار ہوا تھا۔  لیکن پھر داﺅد آیا۔   داﺅد بطور بادشاہ نہیں آیا۔  اس کے پاس ابتدا سے خدا کا کلام تھالیکن پھر بہت سال گزر گئے اور ایسا لگتا تھا کہ یہ کلام کبھی بھی نہیں جانا جائے گا۔  وہ صحراﺅں اور پہاڑیوں میں جدوجہد کر رہا تھا ،  اور ایسا لگتا تھا کہ وہ کلام اس کے لئے صرف مصیبتیں ہی لائے گا۔  اس نے اپنے دوست احباب،  اپنا سکھ چین،  اپنے خاندان کے ساتھ روابط ختم کر لئے صرف اسی کلام کی وجہ سے۔   خدا نے اس سے وہ کلام کیوں کیا؟ کیوں اس نے اسے جلدی سے بادشاہ نہیں بنایا؟ خدا نے اس کے ساتھ”بد سلوکی“  کیوں کی؟ اگر کسی شخص کے ان کیوں کے جوابات نہیں تھے تو وہ تھا داﺅد۔  تاہم پھر بھی،  مقررہ وقت آیا۔  ساﺅل،  اسرائیلیوں کی جلد بازی کا نتیجہ،  مر گیا۔  اس کے لئے مجھے افسوس ہے۔  یہ خدا کی غلطی نہیں تھی؛ اور شاید اس کی اپنی غلطی بھی نہیں تھی۔   یہ زیادہ تر اس کے اپنے لوگوں کی غلطی تھی جنہوں نے یہ سب کیا۔  ساﺅل مر جاتا ہے اور داﺅد بادشاہ بن جاتا ہے۔   اس میں کافی سال لگ گئے۔   اس میں بہت سی تکالیف آئیں۔  اس میں بہت سے کیوں آئے۔  اس کے دوران بہت سے مصائب آئے۔  وہ ان برسوں میں جان بحق ہو سکتا تھا۔  اس کی زندگی متواتر طور پر کاٹھ پر لٹکی تھی۔  یقینا جو کچھ اس نے خدا ،  اپنی زندگی اور اس کلام سے متعلق سوچا تھاجو اسے پیش کیا گیا وہ یہ سب نہیں تھا۔  اور تاہم اس کا مقصد واضح تھا: ان سب کے بعد،  داﺅد اب بادشاہ بننے کےلئے تیار تھا۔  اس نے اسے چھوڑا نہیں۔   کیونکہ وہ تربیت یافتہ تھا۔   وہ نرم تھا۔   اس کی خواہشات خدا کی مرضی کی تابع تھیں اور اس کے ہاتھ میں سونپی گئیں تھیں۔   جو کچھ اس کے ساتھ ہوا وہ خوفناک تھا،  مگر یہ سب حوصلہ بخش بھی ہے۔   کیونکہ یہ ہماری زندگیوں میں بھی ہوسکتا ہے۔   ہم بس یہ سوچتے رہتے ہیں کہ فلاں کیوں اور فلاں کیوں۔  خدا یہ سب ابتدا ہی سے کیوں ٹھیک نہیں کر دیتا؟ لیکن خدا ہمیں داﺅد کی مانند بنانا چاہتا ہے،  تاکہ ہم اس سے لطف اٹھائیں جو وہ ہمارے سامنے کھول کر رکھتا ہے۔  ساﺅل کے پاس یہ ابتدا میں تھا مگر بعد میں اس یہ برباد کر لیا۔  میں خدا کی راہوں سے محبت رکھتا ہوں اگر چہ بعض اوقات یہ دردناک محسوس ہوتی ہیں اور صحرا کی مانند لگتی ہیں۔  کیونکہ صحرا اختتام پذیر ہوتا ہوتا ہے اور ایک نیا روشن دن طلوع ہوتا ہے۔ 

 

تسسوس کولچوگلو

اردو  Fahim Qaiser, Napoleon Zaki :