بائبل کی سچائیاں


ہمارے جدید ترین کالم   |   
موضوع کے مطابق   |    تمام کالم   |    سبسکرائب   |    ہوم   

 

 

 

 

نشان زد کریں اور دوسروں کو شریک کریں

 

 

  PDF version (printer friendly)

 

 

 

کلیسیا اور اس کا سر

 

           سر جسم کا وہ حصہ ہے جو سارے جسم کی راہنمائی کرتا ہے۔ ہم اور بہت سی باتوں میں بھی اس کا تجزیہ کرتے ہیں۔ پس میرے شعبہ کا جو ڈائریکٹر ہے اسے شعبے کا ہیڈ کہا جاتا ہے۔ یا ہم خاندان کے سربراہ کی یا ریاست کے سربراہ کی بات کرتے ہیں۔ ہم یہ جو اصطلاح ”سر“ استعمال کرتے ہیں اس سے مراد یہ ہے کہ یہ حصہ، یہ شخص، کام کے دوران، خاندان میں ، ریاست وغیرہ میں فیصلہ کرنے کیلئے ہدایات دینے کا ذمہ دار ہے۔ اگر کوئی سربراہ نہیں یا اگر ماتحت لوگ سربراہ کی بات نہ مانیں تو پھر کوئی سمت نہیں ہوگی۔

 

خدا کا لکھا ہوا کلام ،بائبل ، ہمیں بتاتی ہے کہ ہم مسیح کے بدن، یعنی کلیسیا کے اعضا ہیں۔ لفظ”چرچ“ سے نہ تو میری مراد اور بہ بائبل کی مراد ، عمارتیں یا انسانی ڈھانچے ہیں بلکہ اس سے مراد ان لوگوں کا گروہ ہے جو ایمان لاتے ہیں کہ یسوع مسیح خداوند ہے اور خدا نے اسے مردوں میں سے جلایا(رومیوں 10باب9آیت)۔ ہر کوئی جو اس بات پر ایمان لاتا ہے وہ خودبخود خدا کے خاندان، مسیح کے بدن، کلیسیا کا حصہ بن جاتا ہے۔ بائبل بھی ہمیں بتاتی ہے کہ اس بدن کا سربراہ یا ہیڈ کون ہے۔  یہ خدا کے اکلوتے بیٹے، خداوند یسوع مسیح کے علاوہ اور کوئی نہیں ہے۔  آیئے یہ دیکھتے ہیں:

 

افسیوں 1باب22آیت:

”اور سب کچھ اس کے پاں تلے کردیا اور اس کو سب چیزوں کا سردار بنا کر کلیسیا کو دے دیا۔ “

 

 

افسیوں 4باب15اور16آیت:    

”بلکہ محبت کے ساتھ سچائی پر قائم رہ کر اور اس کے ساتھ جو سر ہے یعنی مسیح کے ساتھ پوستہ ہو کر ہر طرح سے بڑھتے جائیں۔  جس سے سارا بدن ہر ایک جوڑ کی مدد سے پوستہ ہو کر اور گٹھ کر اس تاثیر کے موافق جو بقدرِ ہر حصہ ہوتی ہے اپنے آپ کو بڑھاتا ہے تا کہ محبت میں اپنی ترقی کرتا جائے۔ “

 

افسیوں 5باب23آیت:

مسیح کلیسیا کا سر ہے ۔ ۔ ۔ “

 

کلسیوں 1باب17اور18آیت:

”اور وہ سب چیزوں سے پہلے ہے اور اسی میں سب چیزیں قائم رہتی ہیں۔ اور وہی بدن یعنی کلیسیا کا سر ہے۔ ۔ ۔ “

 

          اور یہاں چند ایسے حوالہ جات ہیں جو اس بات کو واضح کرتے ہیں کہ ہم، خدا کے بیٹے پر ایمان لانے والے، اس بدن کے اعضا ہیں ، جس کا سر خداوند یسوع مسیح ہے۔

 

رومیوں 12باب4اور 5آیت:

”کیونکہ جس طرح ہمارے ایک بدن میں بہت سے اعضاءہوتے ہیں اور تمام اعضا کا کام یکساں نہیں اسی طرح ہم بھی جو بہت سے ہیں مسیح میں شامل ہو کر ایک بدن ہیں۔ اور آپس میں ایک دوسرے کے اعضا ہیں۔ “

 

 

1کرنتھیوں 12باب12تا 27آیت:

”کیونکہ جس طرح بدن ایک ہے اس کے اعضا بہت سے ہیں اور بدن کے سب اعضا گو کہ بہت سے ہیں مگر باہم مل کر ایک ہی بدن ہیں اسی طرح مسیح بھی ہے۔ کیونکہ ہم سب نے خواہ یہودی ہوں یا یونانی خواہ غلا خواہ آزاد، ایک ہی روح کے وسیلہ سے ایک بدن ہونے کیلئے بپتسمہ لیا اور ہم سب کو ایک ہی روح پلایا گیا۔ چنانچہ بدن میں ایک ہی عضو نہیں بلکہ بہت سے ہیں۔  اگر پاں کہے کہ چونکہ میں ہاتھ نہیں اس لئے بدن کا نہیں تو وہ اس سبب سے بدن سے خارج تو نہیں۔ اگر سارا بدن آنکھ ہی ہوتا تو سننا کہاں سے ہوتا؟ اگر سننا ہی سننا ہوتا تو سونگھنا کہاں ہوتا؟ لیکن فی الواقع خدا نے ہر ایک عضو کو بدن میں اپنی مرضی کے موافق رکھا ہے۔ اگر وہ سب ایک ہی عضو ہوتے تو بدن کہاں ہوتا؟مگر اب اعضا تو بہت سے ہیں مگر بدن ایک ہی ہے۔ پس آنکھ ہاتھ سے نہیں کہہ سکتی کہ میں تیری محتاج نہیں اور نہ سر پاں سے کہہ سکتا ہے کہ میں تمہارا محتاج نہیں۔  بلکہ بدن کے وہ اعضا جو اوروں سے کمزور معلوم ہوتے ہیں بہت ہی ضروری ہیں۔ اور بدن کے وہ اعضا جنہیں ہم اوروں کی نسبت ذلیل جانتے ہیں انہی کو زیادہ عزت دیتے ہیں اور ہمارے نا ذیبا اعضا بہت ذیبا ہو جاتے ہیں۔ حالانکہ ہمارے ذیبا اعضا محتاج نہیں مگر خدا نے بدن کو اسی طرح مرتب کیا ہے کہ جو عضو محتاج ہے اسی کو زیادہ عزت دی جائے۔ تاکہ بدن میں تفرقہ نہ پڑے بلکہ اعضا ایک دوسرے کی برابر فکر کریں۔ پس اگر ایک اعضا دکھ پاتا ہے تو سب اعضا اس کے ساتھ دکھ پاتے ہیں اور اگر ایک اعضا عزت پاتا ہے تو سب اس کے ساتھ خوش ہوتے ہیں۔ اسی طرح تم ملکر مسیح کا بدن ہو اور فرداً فرداً اعضا ہو۔ “

 

افسیوں 5باب30آیت:

”اس لئے کہ ہم اس کے بدن کے عضو ہیں۔ “

 

          ان نئے عہد نامے کے دو حوالہ جات میں ، تین سوالات کے واضح جوابات دیئے گئے ہیں:

 

 

 i     مسیح کا بدن: کیا یہ ایک ہے یا بہت سے ہیں؟

 

          ایک اور صرف ایک ہی مسیح کا بدن ہے۔ کلسیاء مسیح کا بدن ہے اور صرف ایک ہی ہے۔ یہاں میں عالمگیر کلیسیا کی بات کر رہا ہوں نہ کہ مختلف شہروں میں مقامی کلیسیاں کی۔  اپنے موضوع پر قائم رہتے ہوئے، ہر ایک مقامی کلسیاء میں بائبل کے مطابق شہر میں ایک اور صرف ایک ہی کلیسیا ہے۔ یہ کلسیاء کرنتھس میں تھی۔ یہ کلسیوں کی کلیسیا تھی، یہ یروشیلم کی کلیسیا تھی وغیرہ وغیرہ۔ جو آج ہمارے پاس ہے اس کی حمایت کے حوالے سے بائبل میں کچھ نہیں ہے:بہت سے چرچز، جن کا آپس میں کوئی تعلق نہیں اور سب کے سب ایک ہی شہر میں ۔ اس کے ساتھ ساتھ کلام کے برعکس یہاں جماعتوں کا نظریہ بھی پایا جاتا ہے۔ کلام ِ پاک میں بیپٹسٹ، پریسبٹیریئن، پیتیکوسٹل، آرتھوڈیکس، کیتھولک یا اس قسم کی کوئی جماعت کا ذکر نہیں ہے۔ بائبل صرف ایک سادہ سی بات ہے: ”اور انطاکیہ میں شاگرد پہلے مسیحی کہلائے“(اعمال 11باب26آیت)۔ مختصراً: کلام پاک میں جو آپ دیکھتے ہیں وی ایک بدن ہے جس میں ہر وہ شخص شامل ہے جو ایمان لاتا ہے کہ یسوع مسیح خداوند ہے اور خدا نے اسے مردوں میں سے جلایا(رومیوں 10باب9آیت)۔ ایک اور چیز جو آپ دیکھتے ہیں اس بدن کا ایک ہی سر، خودخدا کا اکلوتا بیٹا، خداوند یسوع مسیح ہے۔

 

 

ii     مسیح کے بدن میں ہم: کیا ایمانداروں کے درمیان کوئی وراثتی تعلق ہے؟

 

          درج بالا نئے عہد نامے کے حوالہ جات میں ایک اور چیز جو واضح کی گئی ہے وہ یہ ہے کہ ہم مسیح کے بدن کے اعضا بھی ہیں اور ایک دوسرے کے اعضاءبھی ہیں۔ اس لئے ہمارا ایک دوسرے کا ساتھ تعلق وراثتی نہیں ہے بالکل جیسے کہ ہمارے بدن میں موجود اعضا کا ایک دوسرے کے ساتھ تعلق وراثتی نہیں ہے۔ پاں یہ نہیں کہہ سکتا کہ میں ہاتھ سے زیادہ اہمیت رکھتا ہوں لیکن پھر بھی کان سے تعلق رکھنا ہے۔ پاں خوش ہے کہ وہ پاں ہے، کیونکہ خدا نے اسے یہی بنایا ہے اور خدا نے ہی اسے بدن میں رکھا ہے۔ اور وہ اس لئے خوش بھی ہے کہ ہاتھ وہ کام کر رہا ہے جو کرنے کے لئے اسے بنایا گیا ہے۔ ہاتھ اور پاں ایک ہی بدن کے دو اعضا ہیں اور اس لئے آپس میں بھی تعلق رکھتے ہیں۔ ہاتھ بدن سے جدا، اکیلا نہیں رہ سکتا۔ اسی طرح مسیح کے بدن کے اعضا، خداوند یسوع مسیح پر ایمان لانے والے ہیں۔ وہ ایک دوسرے کے ساتھ وراثتی انداز میں نہیں جڑے جہاں X ایماندار وراثتی طور پر Yایماندار سے بہتر ہے اور پھر بھی اسے Z ایماندار سے تعلق نبھانا پڑے گا۔ بدن میں کوئی مقابلہ بازی بھی نہیں ہے۔ ہر کوئی جو یسوع مسیح پر اور اس کے جی اٹھنے پر ایمان لاتا ہے وہ خدا کی طرف سے کسی خاص کام کیلئے مسیح کے بدن میں رکھا گیا ہے۔ اور بدن کے سارے اعضاءقدر رکھتے ہیں۔ جیسا کہ پولوس نے درج بالا حوالہ میں کہا کہ،”بلکہ بدن کے وہ اعضا جو اوروں سے کمزور معلوم ہوتے ہیں بہت ہی ضروری ہیں“۔

 

 

iii    بدن کا سر: کلیسیا کا سر، راہنما کون ہے؟

 

          آخر میں، اور یہ ہم نے اس کالم کے شروع سے ہی غور کیا تھا، یہ بات واضح ہے کہ کلام پاک ایک اور صرف ایک ہی بدن کے سر کو بیان کرتا ہے۔ یہ خدا کے اکلوتے بیٹے، خداوند یسوع مسیح کے علاوہ کوئی اور نہیں ہے۔ وہ کلیسیا کا سر ، راہنما ہے۔ وہ کلیسیا،اپنے بدن ، کی راہنمائی کرتا ہے، اور بدن کو بھی صرف اسی سے ہدایات اور راہنمائی طلب کرنی چاہئے۔

 

           اختتام:

 

          یہ ایک مختصر سا کالم ہے اور اس میں ابھی بھی بہت سی چیزیں واضح کرنے والی ہیں۔ ، میرا یہ خیال نہیں ہے کہ کلسیای کے حوالے سے کلام میں پائی جانے والی سچائی کو ہمیں کسی کتابچے میں ڈھالنے کی ضرورت ہے۔ ہم سب بھی اکثر ہمارے واسطے فیصلہ کرنے کیلئے انسانی وراثت پر انحصار کرتے ہیںاکثر اوقات ہم بھی کسی شخص، کسی پروفیشنل، کا انتظار کر رہے ہوتے ہیں کہ وہ ہمارے لئے وہ کام کرے جو ہمیں کرنا چاہئے یا وہ ہمیں بتائے کہ ہمیں کیا کرنا چاہئے۔ ہم فانی کلسیاء کی تلاش میںہیں جو ہر شخص کو انفرادی طور پر لے گا اور اسے بتائے گا کہ اسے کیا کرنا چاہئے جیسے کہ ہماری کاروباری دنیا میں ہمارے شعبے کے سربراہان کرتے ہیں۔ ہمیں تاہم ایک بات پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔ کلام کہتا ہے کہ خدا نے مسیح کو ”کلیسیا کی سب چیزوں کا سربننے کیلئے“دے دیا۔ ان ”سب چیزوں “ پر غور کریں۔ اب اندازہ کریں؟سب چیزوں سے مراد ساری چیزیں ہیں۔ اس ”سب چیزوں “ میں کوئی بھی چیز باہر نہیں ہے!کلیسیا کی” سب چیزوں“پر مسیح نہ کہ کوئی فانی آدمی ، چاہے کتنا ہی ذہین و فتین کیوں نہ ہو، حاکم ہے اور مالک ہے۔

          یہ بھی دیکھیں کہ بدن ”بقدرِ ہر حصہ“ بڑھتا ہے۔  ہر حصہ!دوبارہ اندازہ کریں؟”ہر حصہ“ سے راد ہر حصہ۔ یہاں کوئی ریات نہیں ہے۔ بائبل میں ایسا کچھ بھی جنہیں ہے جو اس بات کی صلاح دیتا ہو کہ ایک حصہ ہی سارے افعال سر انجام دیتا ہے اور دوسرا حصہ کچھ نہیں کرتا۔ ہم سب کو خداوند کے پاس جانا چاہئے اور بطور کلیسیا کے پوچھنا چاہئے : ”اے خداوند تو کیا چاہتا ہے کہ میں کروں؟تو سر ہے۔  میری ہدایت کر جیسے تو چاہتا ہے اور جہاں تو چاہتا ہے۔ “آیئے فانی انسان پر ہدایت کیلئے انحصار کرنا چھوڑ دیں۔ ہدایات صرف ایک سربراہ سے مل سکتیں ہیں اور وہ سربراہ صرف ایک ہی ہے: خداوند یسوع مسیح!آیئے ہدایت کیلئے اس کے پاس جائیں اور اسی کی تلاش کریں۔

 

متی7باب8آیت:

”کیونکہ جو کوئی مانگتا ہے اسے ملتا ہے اور جو ڈھونڈتا ہے وہ پاتا ہے اور جو کھٹکھٹاتا ہے اس کے واسطے کھولا جائے گا۔ “

 

 

تسسوس کولچوگلو

اردو  Fahim Qaiser, Napoleon Zaki :