بائبل کی سچائیاں


ہمارے جدید ترین کالم   |   
موضوع کے مطابق   |    تمام کالم   |    سبسکرائب   |    ہوم   

 

 

 

 

نشان زد کریں اور دوسروں کو شریک کریں

 

 

  PDF version (printer friendly)

 

 

 

1 کرنتھیوں 14 باب کی پیشنگو ئی

 

          کچھ عرصہ قبل میں مجھے ایک مطالعہ کرنے والے کی جانب ایک پیغام ملا جو 1کرنتھیوں 14باب کی پیشنگوئی کے حوالے سے تھا۔ میں اس موقع کو استعمال کرو ں گا اور اس کالم میں اسی موضوع پر غور کروں گا۔

 

 

 1.1. کرنتھیوں14باب میں پیشنگوئی: تعریف:

 

1کرنتھیوں12اور 14باب کے مطابق پیشنگوئی روح القدس کا اظہار ہے جو خدا کا پیغام ایمانداروں کے جماعت میں موجود بدن کی ہدایت کیلئے دیتا ہے اور جس کا مقصد ان کی تسلی، ترقی اور نصیحت ہوتا ہے۔  جیسا کہ 1کرنتھیوں 14باب3اور4آیت کہتی ہے:

 

1کرنتھیوں 14باب3اور4آیت:

”لیکن جو نبوت کرتا ہے وہ آدمیوں سے ترقی اور نصیحت اور تسلی کی باتیں کہتا ہے۔  ۔ ۔  اور وہ جو نبوت کی باتیں کرتا ہے وہ کلیسیا کی ترقی کرتا ہے۔ “

 

یہاں آپ کے پاس دونوں سننے والے اور پیشن گوئی کا مقصد بھی موجود ہے۔  سامعین کلیسیا ، جماعت میں موجود ایمانداروں کا بدن ہے[1]۔  پیشن گوئی کا مقصد سامعین، ایمانداروں کے بدن کی ترقی، تسلی اور نصیحت ہے۔ چرچ کی جماعت میں اسی لئے ایک پیش گوئی ہونی چاہئے ، یعنی، خدا کی طرف سے وہ پیغام ایمانداروں کیلئے ترقی، نصیحت اور کلیسیا کی تسلی لاتا ہے۔

 

 

2.1 کرنتھیوں14باب میں پیشنگوئی:بالکل نبیوں کی منسٹری کی مانند نہیں(افسیوں 4باب11آیت):

 

          اب ہمیں 1کرنتھیوں14باب میں پیش کی گئی پیشن گوئی کو نبیوں کی منسٹری کے ساتھ الجھانا نہیں چاہئے۔  جیسے کہ افسیوں 4باب 11 آیت کہتی ہے:

 

افسیوں 4باب11آیت:

”اور اسی نے بعض کو نبی اور بعض کو مبشر اور بعض کو چرواہا اور استاد بنا کر دے دیا۔ “

 

          میرے خیال میں افسیوں 4باب11آیت کا نبی 1کرنتھیوں 4باب سے مختلف ہے۔ گو کہ دونوں خدا کا پیغام لاتے ہیں، 1کرنتھیوں 14باب کی نبوت کے اظہار کا مقصد مقامی کلیسیا کی تسلی، نصیحت اور ترقی ہے۔ میرا مطلب ہے کہ جو چیزیں اس پیشنگوئی کے احاطہ میں شامل نہیں ہیں وہ مستقبل میں ہونے والی چیزوں کی پیش بینی یا کسی قوم کے ساتھ کیا ہوگا یا کسی خاص شخص کو ملنے والی پیشن گوئی کی بات ہے۔  شاید ایسی پیشن گوئیاں ابھی بھی موزوں پیش گوئیاں ہیں۔ تاہم، جب 1کرنتھیوں 14باب پیشن گوئی کی بات کرتا ہے تو اس کا مطلب اس قسم کی پیشن گوئیاں نہیں ہیں۔  کلیسیا میں بے شک نبوت کی منسٹری والے لوگ ہو جن کے بارے میں افسیوں 4باب11آیت بات کرتی ہے۔ لیکن نبوت کی با ت کرتے ہوئے 1کرنتھیوں 14باب یہ بات نہیں کرتی۔ جیسے کہ 1کرنتھیوں 14باب5آیت کہتی ہے کہ:

 

1کرنتھیوں 14باب5آیت:

”میں یہ چاہتا ہوں کہ تم سب بیگانہ زبانوں میں باتیں کرو لیکن زیادہ تر یہی چاہتا ہوں کہ نبوت کرو۔ “

 

          پولوس کی خواہش تھی، وہ چاہتا تھا، کہ سب غیر زبانیں بولیں اور خاص طور پرسب نبوت کریں۔  جیسے کہ وہ اسی باب میں کہتا ہے:

 

1کرنتھیوں 14باب31آیت:

”کیونکہ تم سب کے سب ایک ایک کر کے نبوت کر سکتے ہو۔ ۔ ۔ “

 

اور 1کرنتھیوں 14باب1آیت میں :

”محبت کے طالب رہو اور روحانی نعمتوں کی بھی آرزو رکھو۔  خصوصاً اس کی کہ نبوت کرو۔ “

 

          ہم سب نبوت کر سکتے ہیں یعنی کہ، مقامی کلیسیا کیلئے خدا کا تسلی، ترقی اور نصیحت کا پیغام لا سکتے ہیں۔ لیکن اس کا مطلب یہ ہر گز نہیں ہے کہ ہم سب کو افسیوں 4باب11کے مطابق نبوت کی منسٹری ملی ہے۔  مسیح کے بدن میں ہم میں سے چند ایک کو نبوت کی منسٹری ملی ہے لیکن سب کو نہیں(دیگر منسٹریوں کی بھی ضرورت ہے)، گو کہ 1کرنتھیوں 14باب کے لحاظ سے مقامی کلیسیا کی ترقی، نصیحت اور تسلی کیلئے ہر ایماندار نبوت کر سکتا ہے۔

 

 

3.1. کرنتھیوں14باب میں پیشنگوئی:نہ وعظ

 

          آیئے یہ بھی واضح ہو جائے کہ نبوت کرنا وعظ دینا نہیں ہے۔ مجھے یہ کہنے کی ضورت اس لئے محسوس ہوئی کیونکہ میں نے سنا ہے کہ اکثر اوقات لوگ سمجھتے ہیں کہ نبوت غالباً کسی مبلغ کا وعظ پیش کرنا ہے۔ لیکن نبوت کرنا وعظ دینا یا تعلیم دینا نہیں ہے۔ نبوت خدا کے منہ سے نکلنے والا وہ پیغام ہے جو مکاشفہ کی بدولت آتا ہے اور ان ایمانداروں کو ملتا ہے جو وہاں موجود ہوتے ہیں۔ نبوت میں خدا ہی، پہلے شخص میں براہ راست، بات کرتا ہے۔ نبوت کرنا اور تعلیم دینا دو مختلف چیزیں ہیں اور دونوں ہی لازمی ہیں۔ آیئے ان باتوں میں ہم نہ الجھیں جن میں خدا کا کلام ہمیں نہیں الجھاتا۔ اس کے ساتھ ساتھ جب ہم 1کرنتھیوں پڑھتے ہیں تو ہمیں یہ بات ذہن میں رکھنی چاہئے کہ پولوس رسول جنہیں کلیسیا کے اجتماع کہتا ہے، کلام میں میرے فہم کے مطابق، یہ وہ جماعت ہے جو گھروں میں کی جاتی تھیں۔  وہاں کوئی بڑا ہال نہیں ہوتا تھا جہاں 500سے50000تک لوگ بیٹھ سکتے اور ان کے بیچ میں ایک منبر ہوتا اور چھوٹے میزوں پر بیٹھے ہوئے لوگ سامنے دیکھتے، جہاں کاہن یا مبشر تعلیم دے رہا ہوتا۔  لوگ پوچھتے ہیں کہ ہماری کلیسیائی جماتوں میں وہ سب کیسے ہوسکتا ہے جو پولوس رسول 1کرنتھیوں 14باب میں کہہ رہا ہے؟ ”کلیسیائی جماعت“ سے ان کی مراد وہی جماعت ہے جیسے آج کل عبادت ہوتی ہے۔ ہم کسی لحاظ سے ان سب چیزوں کو جو پولوس کہہ رہا ہے اپنے عبادتی انداز اور عبادتی ڈھانچے میں پورا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔  لیکن ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ جو پولوس رسول یا نیا عہد نامہ کلیسیائی عبادت کی تعریف کر رہا ہے اس کا تعلق ہمارے اتوار کی عبادات کی نسبت گھریلو عبادات اور ان میں ہر کسی کی جانب سے بھر پور شمولیت سے ہے۔ جیسے کہ 1کرنتھیوں 14باب26آیت کہتی ہے:

 

1کرنتھیوں 14باب26آیت:

”پس اے بھائیو! کیا کرنا چاہئے؟جب تم جمع ہوتے ہو تو ہر ایک دل میں مزمور یا تعلیم یا مکاشفہ یا بیگانہ زبان یا ترجمہ ہوتا ہے۔  سب کچھ روحانی ترقی کیلئے ہونا چاہئے۔ “

 

          پہلی صدی کی کلیسیا میں عبادات کے دوران ایمانداروں کی (”ہر ایک “کی)بھرپور اور فطری شمولیت عام تھی۔ نہ صرف اس کی اجازت تھی، بلکہ اس کی توقع کی جاتی تھی! پولوس کہتا ہے،” تم میں سے ہر ایک“۔ ہر کوئی عبادت میں جو کچھ اس کے پاس تھا لے کر آتا، کوئی مزمور، تعلیم، بیگانہ زبان کا ترجمہ، یا مکاشفہ۔ اس کا مقصد؟ ایمانداروں کے بدن کی ترقی۔ وہ سب اس چیز کے ساتھ شمولیت کرتے تھے جو خدا نے انہیں عطا کیا تھا۔ یہ عبادات ہماری اتوار کی عبادات کی مانند خشک یا بد مزہ نہیں تھیں۔ نہ ہی یہ عبادات جماعت کے کسی ایک رکن کی تیار کردا ہوتی ، جو ہر جماعت میں پیش پیش ہوتا، جیسے ہمارے ہاں اب ہوتا ہے، اور باقی اراکین سینما میں بیٹھے ہوئے بے جان سامعین کی مانند بیٹھے ہوتے ہیں۔

 

4.1.  کرنتھیوں14باب میں پیشنگوئی:میرا تجربہ:

 

          درج بالا وضاحت اور 1کرنتھیوں 14باب پڑھنے سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ پہلی صدی کی کلیسیا کے اجتماع میں نبوت اور بیگانہ زبانوں کا ترجمہ عمومی تھا۔ ان اکثر اجتماعات میں جہاں میں بھی شامل تھا ، یہ نعمتیں جو خدا نے کلیسیا کی ترقی کیلئے دی ہیں استعمال میں نہیں لائی جاتیں۔ یہ صرف نعمتوں کے طور پر موجود ہیں۔ تاہم ان کو کبھی بھی بروئے کار نہیں لایا گیا۔ سچائی یہ ہے کہ بہت سی جماعتوں میں ان کیلئے جگہ ہی نہیں ہے۔ اگر کوئی شخص سمجھتا ہے کہ خدا کے پاس اس جماعت کیلئے کوئی پیغام ہے، تو بہت سی کلیسیایوں میں وہ پیغام پہنچانے کا کوئی طریقہ ہے ہی نہیں۔ عملی طور پر لوگوں کی شمولیت ممنوع ہے۔ چند دیگر جماعتوں میں یہ پیغام پہنچانے کیلئے، اس شخص کو پہلے پاسٹر یا ایلڈر کو بتانا ہوگا، پھر انہیں اس پر غور کرنا ہوگا کہ آیا کہ یہ خداوند کی طرف سے ہے اور پھر اجازت دینا یا نہ دینا کہ وہ لوگوں کو پہنچایا جائے۔  لیکن پہلی صدی کی کلیسیا میں، وہ کلیسیا جن کے بارے میں رسولوں نے بات کی، اس طرح نہیں ہوتا تھا۔ پس پولوس کہتا ہے:

 

1کرنتھیوں 14باب29تا31آیت:

”نبیوں میں سے دو یا تین بولیں اور باقی ان کے کلام کو پرکھیں۔ لیکن اگر کسی دوسرے پاس بیٹھنے والے پر وحی اترے تو پہلا خاموش ہوجائے۔  کیونکہ تم سب کے سب ایک ایک کر کے نبوت کر سکتے ہو تا کہ سب سیکھیں اور سب کو نصیحت ہو۔ “

 

          کوئی بھی اٹھ سکتا ہے اور (ترقی، نصیحت اور تسلی کیلئے)نبوت کر سکتا ہے اور باقی لوگ اس پیغام کو پرکھیں۔ یہ عام تھا، اور ہر کسی کیلئے یہ کرنے کی آزادی تھی اور یہ ہوتا بھی تھا۔

 

          اب ، میں نے اور بھی جتماعات میں شمولیت اختیار کی ہے، جہاں بہت سے شامل ہونے والے لوگ عجیب طرح سے پیش آتے ہیں۔ یہاں جماعت کے دوران ایک متواتر کشمکش ہوتی ہے،لوگ اونچی آواز سے چلاتے ہیں، دوسرے لوگ ترجمہ کے بغیر غیر زبانیں بولتے ہیں، یا ایسا ”مکاشفہ“ پیش کرنا شروع کردیتے ہیں جس کا کلیسیا کی”ترقی، نصیحت اور تسلی“ کے ساتھ کوئی واسطہ نہیں ہوتا یا وہ خود کو پیچھے کی طرف زمین پر گراتے ہیں اور وہاں پڑے رہتے ہیں کہ جیسے وہ مد ہوش ہو چکے ہیں، اور کہتے ہیں کہ ”روح نے یہ کیا“۔  قانون کے انحراف اور اس قسم کی عبادات کے شور کے باعث، پڑوس میں رہنے والے پویس کو بلا لیتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ، اس قسم کی عبادات کی مثالیں وہ پہلی قسم کی کلیسیائیں ( جن کا میں نے پہلے ذکر کیا تھا) اپنے زبردست کنٹرول کی حمایت کرنے کیلئے پیش کرتی ہیں۔ لیکن 1کرنتھیوں14باب کے مطابق یہ نبوت نہیں ہے۔ عبادت کے دوران بیگانہ زبان کو ترجمہ کے ساتھ پیش کرنے اور نبوت کرنے کا ایک سلیقہ ہونا چاہئے۔ یہاں خدا کا کا کلام کہتا ہے:

 

1کرنتھیوں 14باب27تا33آیات:

”اگر بیگانہ زبانوں میں باتیں کرنا ہو تو دو دو یا تین تین شخص باری باری بولیں اور ایک شخص ترجمہ کرے۔ اور اگر کوئی ترجمہ کرنے والا نہ ہو تو بیگانہ زبان بولنے والا کلیسیا میں چپ رہے اور اپنے دل سے اور خدا سے باتیں کرے۔  نبیوں میں سے دو یا تین بولیں اور باقی ان کے کلام کو پرکھیں۔ لیکن اگر کسی دوسرے پاس بیٹھنے والے پر وحی اترے تو پہلا خاموش ہوجائے۔  کیونکہ تم سب کے سب ایک ایک کر کے نبوت کر سکتے ہو تا کہ سب سیکھیں اور سب کو نصیحت ہو۔  اور نبیوں کی روحیں نبیوں کے تابع ہیں۔ کیونکہ خدا ابتری کا نہیں بلکہ امن کا بانی ہے۔  جیسا کہ مقدسوں کی سب کلیسیاں میں ہے۔ “

 

          اکثر اوقات ان بے ترتیب عبادات میں ، لوگ اپنے رویے کی حمایت کرنے کیلئے کہتے ہیں کہ ”روح مجھ پر غالب ہوگیا اور اسی نے مجھے فلاں فلاں کرنے پر مجبور کیا“۔ لیکن یہ آپ نئے عہد نامے میں سے تلاش کریں گے؟ نئے عہد نامے میں سے جو مجھے ملا وہ ہے ترتیب۔  جب کوئی بیگانہ زبان میں بولتا ہے تو اس کا ترجمہ ہونا چاہئے۔ ورنہ، ”اور اگر کوئی ترجمہ کرنے والا نہ ہو تو بیگانہ زبان بولنے والا کلیسیا میں چپ رہے اور اپنے دل سے اور خدا سے باتیں کرے۔  “ کتنے لوگوں کو غیر زبانوں میں بولنا یا ترجمہ کرنا اور نبوت کرنا چاہئے؟کیا ایک ہی وقت میں سب کو؟جی نہیں۔ ”اگر بیگانہ زبانوں میں باتیں کرنا ہو تو دو دو یا تین تین شخص باری باری بولیں اور ایک شخص ترجمہ کرے۔ ۔ ۔  نبیوں میں سے دو یا تین بولیں اور باقی ان کے کلام کو پرکھیں۔ “”روح مجھ پر غالب آیا؟“ میں اپنی بائبل مین سے ایسا کچھ نہیں دیکھتا۔  اس کی بجائے میں اپنی بائبل میں سے پڑھتا ہوں کہ،”اور نبیوں کی روحیں نبیوں کے تابع ہیں۔ کیونکہ خدا ابتری کا نہیں بلکہ امن کا بانی ہے۔ “ کیا کسی عبادت میں ابتری ہو سکتی ہے؟خدا پر یا س کی روح پر الزام تراشی مت کریں۔ خدا نے اپنے کلام میں واضح طور پر روح القدس کے اظہار بیان کئے ہیں۔ اگر اب کوئی ان ہدایات پر عمل نہیں کرتا تو یہ خدا کا یا اس کی روح کا قصور نہیں ہے۔ اس کا ابتری کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔ اس وجہ سے خدا کی نعمتوں کو مت ٹھکرا۔ بالکل ان کی پیروی کرو۔ خدا کا کلام کہتا ہے کہ ”روحانی نعمتوں کی تلاش میں رہو“۔ اس لئے خوشی سے ان کی تلاش کرو اور انہیں ہدایات کے مطابق استعمال کرو۔

 

          آخر کار، اور بھی یہاں اجتماعات ہوتے ہیں جہاں میں شامل ہوا، اس بار میرے اپنے وطن یونان میں۔ یہاں، ہم گھروں میں اکٹھے ہوتے تھے اور باقی چیزوں کے ساتھ ساتھ ہم درج ذیل کام سر انجام دیتے تھے:ہم جماعت کے دوران وقت لیتے تھے اور انتظار کرتے تھے کہ خداوند ہمیں کیا کہنا چاہتا ہے اور ہم خدا کی طرف سے نبوت اور ترجمہ کے ساتھ غیر زبانوں کی بدولت پیغامات لیتے تھے۔  خدا کا بیان کردہ پیغامات کا متن بے شک ہمیشہ ترقی، نصیحت اور تسلی بخش تھا۔ یہ خدا کا پدرانہ دل ظاہر ہوا تھا۔ ترجمہ کے ساتھ غیر زبانوں میں بولنے اور نبوت کرنے کے اظہار کے میں بہت زیادہ قریب تھا جیسے کہ 1کرنتھیوں 12تا14ابواب بیان کرتے ہیں۔ حال ہی میں میں نے ایک یونانی آرتھوڈوکس کاہن Eusebious Stefanouکی زبردست کتاب پڑھی۔  کتاب کا نام ہے "the charismatic movement from an Orthodox point of view"۔  یہ یونانی زبان میں ہے۔ یہاں مصنف حقیقی نبوی پیغامات کی مثالیں پیش کرتا ہے۔ میں پڑھنے والوں کے لئے 1کرنتھیوں 14باب کی نبوت کی فطرت کو سمجھنے کیلئے چند ایک کو ذیل میں کاپی کر رہا ہوں:

 

 

 ”تم میرے فرزند ہو اور میں تم سے خوش ہوں“

 

”باپ اپنے بچوں کو جانتا ہے اور ہر ایک کی حفاظت کرتا ہے۔ “

 

”میرے فرزندو! اپنا آپ مجھے سونپ دو۔  اپنے ڈر مجھ پر عیاں کرو۔  خود کو میری نگہبانی میں رکھو۔ “

 

 ”میرا غضب تمہارے واسطے نہیں ۔ “

 

”میں تمہیں میرے بیٹے کے تابع کرنا چاہتا ہوں اور مجھے اپنا باپ جانو۔ “

 

 ”مجھے تم میں اور تم پر ظاہر ہونے دو۔  مجھے تمہیں مکمل پیار دینے دو۔ “

 

”میرے کلام سے مت گھبرا۔ میرے لئے اپنے دلوں کو کھول دو۔ “

 

”خداوند یوں کہتا ہے، اپنا آپ مجھے دو تو میں تمہیں تھام لوں گا اور تمہاری حفاظت کروں گا اور تم میری حفاظت کو سمجھو گے۔ “

 

          ایک فقرے میں کہتے ہوئے: نبوت، خود خدا کی طرف سے، کلیسیا یعنی ایمانداروں کی جماعت کی ترقی، نصیحت اور تسلی پیدا کرنے کا ذاتی کام ہے۔

          گزشتہ سات سالوں سے میں جرمنی میں ہوں اور سوائے ایک دوبار میں نے کبھی بھی نبوت یا ترجمہ کے ساتھ غیر زبانوں میں بولنے کے باعث خدا کی ایمانداروں کے لئے تیار کردہ ترقی، نصیحت اور تسلی کا مشاہدہ نہیں کیا۔ نبوت ایک زبردست نعمت ہے جو اکثر اوقات، اور یہ میرا ذاتی تجربہ ہے، یا تو استعمال ہوتی ہے یا اس کی بے حرمتی (عبادات ابتری سے بھر پوراور لوگوں کے عجیب و غریب رویوں سے )ہوتی ہے۔ یہ بہت افسوسناک ہے کیونکہ جب تک یہ نہیں ہوتا یہ خدا کی آواز کی بے حرمتی ہے جو خدا نے خود ذاتی طور پر ایمانداروں کی جماعت کی ترقی، نصیحت اور تسلی کیلئے تیار کی ہے ختم ہو جاتی ہے۔

          یہاں میں خدا کے کلام سے اس حوالے کے ساتھ ختم کرتا ہوں:

 

1کرنتھیوں 14باب1آیت:

”روحانی نعمتوں کی بھی آرزو رکھو۔  خصوصاً اس کی کہ نبوت کرو۔ “

 

          یہ خدا کی مرضی ہے جیسے کہ اس کے کلام سے یہ ظاہر ہوئی ہے۔ لوگ شاید اس کے بارے میں بہت کچھ کہتے ہوں گے۔ لیکن صرف ایک بات سے فرق پڑتا ہے: جوخدا کا کلام کہتا ہے!

 

تسسوس کولچوگلو

اردو  Fahim Qaiser, Napoleon Zaki :

 

 


[1] 1کرنتھیوں 14باب پڑھنے سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ اس باب میں پولوس کا موضوع ایمانداروں کا اجتماع ہے۔ مثال کے طور پر 1کرنتھیوں 14باب 23اور 24آیت دیکھیں